ہوم << کیا مذہب ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے؟ مفتی منیب الرحمن

کیا مذہب ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے؟ مفتی منیب الرحمن

پروفیسر مفتی منیب الرحمن گزشتہ کچھ عرصے سے ہمارے لبرل دانشوروں کو کوئی اور پرکشش موضوع ہاتھ نہ آئے تو مذہب اور اہلِ مذہب کی خبر گیری اور اصلاح کے درپے ہوجاتے ہیں۔ وہ یہ باور کراتے ہیں کہ ہماری تمام تر ناکامیوں اور زوال کے ذمے دار مذہبی طبقات ہیں اور مذہب ہی ہماری ترقی میں رکاوٹ ہے۔ پھر اچانک انہیں خیال آتا ہے کہ اجتہاد کا دروازہ بند کر دیا گیا ہے اورجمود طاری ہے، حالانکہ علامہ اقبال نے کہا تھا: اجتہاد جاری رہنا چاہیے۔
اصلاح کے اس مشن کے عَلَمبردار دانشوروں کے لیے یہ جاننا بھی ضروری نہیں ہے کہ اجتہاد کا معنی و مفہوم کیا ہے، اس کی ضرورت کب پیش آتی ہے اور اس کے لیے کس طرح کی علمی قابلیت اور اہلیت درکار ہے۔ پہلا سوال تو یہ ہے کہ ترقی سے کیا مراد ہے، اگر اس سے مادّی، سائنسی، علمی، معاشی اور سماجی ترقی مراد ہے، تو اس میں مذہب کہاں رکاوٹ بنتا ہے۔ کیا مذہب یا اہل مذہب نے کبھی آپ سے مطالبہ کیا ہے کہ آپ یونیورسٹیاں، کالج اور جدید علوم پر مشتمل اعلیٰ تعلیمی، تحقیقی اور تربیتی ادارے قائم نہ کریں۔ کیا آپ کی نظر میں سائنس اور مذہب کا کہیں ٹکراؤ ہے؟ کیا ہماری یونیوسٹیوں میں عالمی سطح کا تحقیقی کام اس لیے نہیں ہو رہا کہ ہم مسلمان ہیں یا اہلِ مذہب ہیں؟ کیا صنعتی ترقی کی راہ میں مذہب حائل ہوگیا ہے یا اہلِ مذہب نے اس کا راستہ بند کردیا ہے؟
سو جب تک ہم اپنے مسائل کا حقیقت پسندانہ انداز میں تجزیہ نہیں کریں گے، اُن کا تشفّی بخش حل بھی ہمیں سجھائی نہیں دے گا۔ ہماری نظر میں جدید سائنسی، فنی، طبی، معاشی، سماجی، ادبی، بحریات، فلکیات، ارضیات، حیاتیات، حیوانیات اور خلائی تحقیقات سمیت کسی شعبہ علم کا مذہب سے کوئی تعارض نہیں ہے، البتہ اتنی سی بات ہے کہ اسلام مالیاتی شعبے میں رِبا کی حرمت کا قائل ہے اور ادبی و سماجی علوم میں اخلاقی اَقدار کا عَلَم بردار ہے۔ پھر ریاستی وسائل جن تعلیمی شعبوں اور اداروں پر خرچ ہوتے ہیں، وہ سب کے سب جدیدیا عصری علوم سے متعلق ہیں اور اُن میں سے کسی کی باگ ڈور علماء کے ہاتھ میں نہیں ہے۔ حیرت کا مقام ہے کہ کسی شعبے میں کامیابی مل جائے تو اُس کا افتخار آپ کے حصے میں آئے اور ناکامی ہو تو اُسے مذہب کے سر تھوپ دیا جائے۔
ہمارے ہاں تو حال یہ ہے کہ کئی جدید علوم کے حامل پروفیسر، دانشور اور مذہبِ انسانیت کے دعوے دار پاکستان کے ایٹمی دھماکے اور ایٹم بم بنانے کے شدید مخالف تھے اور اس میں وہ امریکہ اور اس کے حلیف ممالک کے ہم نوا تھے، جبکہ کسی مذہبی شخصیت نے نہ صرف یہ کہ اس کی مخالفت نہیں کی بلکہ سب یک زباں ہوکر اس کی پرزور تائید کرتے رہے ہیں۔ آج پاکستان کے پاس ایٹمی صلاحیت اور ایٹم بم کا وجود ہی ظاہری اسباب کے تحت سدِّ جارحیت کا سب سے مؤثر ذریعہ یعنی Deterrent ہے۔ یہ امر مسلّم ہے کہ جذبہ جہاد اور شوقِ شہادت کا کوئی بدل نہیں ہے، مگر ہم عالَمِ اسباب میں جی رہے ہیں اور اگر ظاہری اسباب کی کوئی حیثیت نہ ہوتی تو آج امریکہ بلاشرکتِ غیرے دنیا پر اپنی شرائط کیسے مسلّط کرتا۔
درپیش مسائل میں اجتہاد کی اجازت خود رسول اللہ ﷺ نے عطا فرمائی ہے:
’’رسول اللہ ﷺ نے جب معاذ بن جبل کو یمن کی طرف حاکم بنا کر بھیجنے کا ارادہ کیا تو فرمایا: جب تمہارے سامنے کوئی مقدمہ پیش ہوگا تو کس طرح فیصلہ کروگے؟ انہوں نے عرض کی: کتاب اللہ سے فیصلہ کروں گا، آپ ﷺ نے فرمایا: اگر تمہیں درپیش مسئلے کا جواب کتاب اللہ میں نہ ملے تو (کیا کرو گے؟)، انہوں نے عرض کی: رسول اللہ ﷺ کی سنت کی روشنی میں فیصلہ کروں گا، آپ ﷺ نے فرمایا: اگر تمہیں اس کا جواب کتاب اللہ اور سنتِ رسول اللہ (دونوں) میں نہ ملے، (تو کیا کرو گے؟)، انہوں نے عرض کی: پھر میں اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا اور (کسی اورجانب) مڑ کر نہیں دیکھوں گا، پھر رسول اللہ ﷺ نے اُن کے سینے پر ہاتھ مارا اور فرمایا: اللہ کا شکر ہے کہ اُس نے اپنے رسول کے نمائندے کو ایسی توفیق عطا فرمائی جو رسول کی رضا کا باعث ہے. (ابودائود: 3592)‘‘۔
قرآنِ مجید میں سورۃ الانبیاء،آیت:78میں ایک مقدمے کے حوالے سے حضرتِ داؤد وسلیمان علیہما السلام کے اجتہادی فیصلے مذکور ہیں، اُن میں سے ایک کو ہم ’’حَسَن‘‘اور دوسرے کو ’’اَحسن‘‘ سے تعبیر کرسکتے ہیں۔ اسی طرح حالتِ احرام میں شکار کے حوالے سے المائدہ:95 میں اللہ تعالیٰ نے مُحرِم پر فدیے کے حوالے سے فرمایا: دو مُنصِف اس کا فیصلہ کریں، ظاہر ہے اُن کا یہ فیصلہ اجتہاد پر مبنی ہوگا۔ دین کا اصول یہ ہے کہ جن امور کے بارے میں قرآن و سنت میں صریح نصوص اور احکام موجود ہیں، اُن کے بارے میں اجتہاد کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ البتہ غیر منصوص مسائل میں اجتہاد کی گنجائش موجود ہے، ائمہ کرام کے اجتہادات اسی اصول کے تحت آتے ہیں۔ مزید یہ کہ اجتہاد مقاصدِ شرعیہ کو حاصل کرنے کے لیے ہوتا ہے، باطل کرنے کے لیے نہیں، ورنہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو رد کرنے کے لیے تو ابلیس نے اجتہاد ہی کیا تھا، قرآنِ مجید میں ہے:
(1)’’اللہ تعالیٰ نے فرمایا: (اے ابلیس!) جب میں نے تجھے (آدم کو) سجدہ کرنے کا حکم دیا، تو تم کو سجدہ کرنے سے کس چیز نے روکا تھا؟، اُس نے کہا: میں اُس سے بہتر ہوں، (اے اللہ!) تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا ہے اور اُس کو مٹی سے پیدا کیا ہے، (اعراف:12)‘‘۔
(2)اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’(اے ابلیس!) تجھے کیا ہوا کہ تو نے سجدہ کرنے والوں کا ساتھ نہیں دیا؟، اُس نے کہا: میں ایسے بشر کو سجدہ کرنے والا نہیں ہوں، جس کو تو نے بجتی ہوئی خشک مٹی کے سیاہ سڑے ہوئے گارے سے پیدا کیا ہے، (الحجر: 32-33)‘‘۔
سو ابلیس کا یہ اجتہاد اللہ تعالیٰ کے حکم کو رد کرنے کے لیے تھا اور جو اجتہاد اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسولِ مکرم ﷺ کے صریح حکم کو رد کرنے کے لیے کیا جائے، وہ باطل ہوگا۔
ہمارے بعض تجَدُّد پسند دوست کہتے ہیں کہ اجتہاد پارلیمنٹ کرے گی، سادہ سا سوال ہے کہ ہماری پارلیمنٹ جن عناصرِ ترکیبی کا مجموعہ ہے، کیا اُن میں کتاب وسنت سے احکام مستنبط کرنے اور اجتہاد کرنے کی صلاحیت موجود ہے؟ ہمارے دستور میں قوانین کے کتاب و سنت کے مطابق ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ کرنے کے لیے ایک آئینی ادارہ ’’اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان ‘‘ قائم کیا گیا ہے، لیکن پارلیمنٹ کے پاس فرصت ہی نہیں ہے کہ اِس ادارے کی سفارشات پر غور کرے، ان پر بحث کرے اور ان کی منظوری دے۔ اگر پارلیمنٹ کو کسی قانون کے بارے میں شرحِ صدر نہ ہو تو نظرِثانی کےلیے دوبارہ اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان کو بھیج سکتی ہے۔ ہمارے میڈیا میں بیٹھے ہوئے خود ساختہ (Pseudo) ماہرین زبان اور قلم کے زور پریہ اختیار خود ہی حاصل کرلیتے ہیں، وہ جس شعبے میں چاہیں، اپنے شوقِ اجتہاد کو پورا کر سکتے ہیں، ہر ایک کی نفی کرسکتے ہیں۔ ہر ایک کی تجہیل و تحقیر اُن کا پسندیدہ مشغلہ ہے۔ ہاں! جب وہ اسکرین سے آف ہوجائیں تو پھر ہم جیسے انسان ہوتے ہیں، لیکن جب تک اسکرین پر براجمان ہوں، تو پھر ماورائی مخلوق ہوتے ہیں۔
یقینا ہمارے مذہبی طبقات میں بھی کمزوریاں ہیں، کیونکہ وہ بھی اِسی سرزمین کی پیداوار ہیں اور ہمارے مجموعی قومی مزاج سے بالاتر نہیں ہیں، ماسوا اِس کے کہ کسی فرد یا افراد پر اللہ تعالیٰ کا خصوصی کرم ہوجائے، کیونکہ مستثنیات ہر طبقے میں ہوتی ہیں۔ فقہی اعتبار سے سحر و افطار کے اوقات میں معمولی تقدیم و تاخیر یا بعض نمازوں کے اوقات میں معمولی فرق ہماری علمی و سائنسی اور صنعتی و معاشی ترقی میں رکاوٹ پیدا نہیں کرتا۔ بعض دوستوں کو ہمیشہ دینی مدارس اور اہلِ مدارس سے گِلہ رہتا ہے، یقینا مدارس کے نظام میں بھی خامیاں اور کمزوریاں موجود ہیں اور اُن کی اصلاح اور معیار کی بہتری کے لیے کوشش جاری رہنی چاہیے اور اصلاح کی راہ میں رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے۔
لیکن حال ہی میں فیڈرل سروس کمیشن آف پاکستان نے سی ایس ایس یعنی سینٹرل سپیریر سروسز آف پاکستان کے امتحانات کے تحریری نتائج کا اعلان کیا ہے۔ پورے پاکستان سے 9643 طلبہ تحریری امتحان میں شریک ہوئے اور صرف 202 پاس ہوئے اور نتیجے کی شرح 2.09 فیصد رہی، اللہ ہی جانے کہ زبانی انٹرویو کے بعد اِن میں سے کتنے سرخرو ہوتے ہیں۔ یہ امر بھی ذہن میں رہنا چاہیے کہ ملک بھر سے ذہین طلبہ بھرپور تیاری کر کے مقابلے کے اِن امتحانات میں شریک ہوتے ہیں اور پھر یہی ہماری بیوروکریسی کی ریڑھ کی ہڈی بنتے ہیں۔ اِس سے ہمارے تعلیمی زوال کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے، لیکن اس کا ملبہ مدارس پر نہیں ڈالا جاسکتا، اس کے ذمہ دار ہمارے عصری تعلیم کے اسکول سے لے کر یونیورسٹی کی سطح تک کے ادارے ہیں، جن میں طرح طرح کے پرائیویٹ انگلش میڈیم ادارے بھی شامل ہیں۔ اِسی طرح حال ہی میں انٹرمیڈیٹ اور سیکنڈری تعلیمی بورڈز کے نتائج کے اعلانات ہوئے، کراچی کے نتائج بھی مُشتَبہ قرار پائے اور یہی صورتِ حال پنجاب کے مختلف بورڈز کے نتائج کی ہے۔
ہمارا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہم ناکامیوں کا ملبہ ایک دوسرے پر ڈال کر بریُ الذِّمہ ہوجائیں، نہ ہی ہم دوسرے کی ناکامی کو جواز بنا کر سرخرو ہوسکتے ہیں، ہر ایک کو اپنا حساب دینا ہے، کیونکہ ہم ایک ملّت اور ایک قوم ہیں۔ کسی بھی شعبے میں کامیابی سب کی کامیابی ہے اور ناکامی کا وبال بھی سب کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ آج کل ہم قومی سطح پر بھی انتشار کا شکار ہیں اور سیاسی قیادت اپنی اجتماعی دانش سے مسائل کا حل نکالنے میں ناکام ہے، اور ایسے عالَم میں کہ ہر جانب سے ہماری سرحدوں پر حالات حسّاس ہیں، ہمیں آپس کی جوتم پیزار سے ہی فرصت نہیں ہے۔

Comments

Click here to post a comment