صبح مرغے نے آذان دی تو کرمے نے آنکھیں کھولیں۔ دیکھا ہر طرف اندھیرا ہے، سناٹا اور خاموشی ہے۔ یہ دیکھ کر اس نے مرغے کو گالیاں دینا شروع کر دیں: “منحوس مارے! ابھی تو صبح ہوئی نہیں اور تجھے پہلے ہی آذان یاد آ گئی۔”
اس نے لائٹ جلا کر کچی دیوار پر لگی ایک پرانی سی گھڑی پر نظر ماری تو ابھی فجر میں ایک گھنٹہ باقی تھا۔ کرما اب عمر کے اُس حصے میں تھا جب ایک دفعہ آنکھ کھل جائے تو دوبارہ سونا ناممکن ہو جاتا ہے، یعنی وہ بوڑھا ہو چکا تھا۔
کہانی کو ذرا روک کر ایک بات کرتا ہوں، دوستو! جب ماں یا باپ بوڑھے ہو جائیں تو اُن کی نیند کے وقت کا خیال رکھیں اور کوشش کریں کہ اُنہیں نیند پوری کرنے دی جائے۔
اب کرمے نے سوچا، چائے ہی پی لیتے ہیں۔ اس نے چائے بنائی اور پی۔ اُسی وقت فجر کی آذان ہوئی۔ مرغے نے پھر آذان دی تو کرما بولا: “آج تیری خیر نہیں، صبر کر ذرا دن چڑھ لینے دے، تجھے چھری پھیرتا ہوں۔”
اس نے نماز کے لیے وضو کیا، سنتیں ادا کیں اور مسجد کی طرف چل پڑا۔ مسجد میں دو چار اور بوڑھے ہی نظر آ رہے تھے۔ امام صاحب بھی انتظار میں تھے کہ کچھ نمازی آ جائیں تاکہ جماعت ہو سکے۔ اکثر ایسا ہوتا کہ امام صاحب اور کرما ہی نماز کے لیے ہوتے تھے، اور امام صاحب کہتے: “کرمے، آ جا یار، آج پھر ہم دونوں ہی ہیں۔”
اس کی سب سے بڑی وجہ تو دین سے دوری تھی، لیکن دوسری وجہ یہ تھی کہ پورے گاؤں میں نمازی دس بارہ ہی تھے اور مسجدیں چھ ہو چکی تھیں۔
نماز کے بعد بابا کرما مسجد سے باہر چوک میں آیا تو چاچا فیقا دکان کھول رہا تھا۔ کرما رکا، سلام کیا۔ چاچا فیقے نے جھاڑو دیتے ہوئے جواب دیا: “وعلیکم السلام، بس ہو گیا یار، بیٹھو، میں آتا ہوں۔”
کرما کرسی سیدھی کر کے بیٹھ گیا۔ اتنے میں سامنے والی گلی سے چھینا مراثی بھی آتا ہوا نظر آ گیا۔ کرمے نے آہستہ سے فیقے کی طرف منہ کر کے کہا: “فیقے یار، بی بی سی آ رہا ہے۔ آج اس کو کہنا ہے نماز پڑھا کرے۔”
چھینا جیسے ہی آیا، سلام دعا کے بعد کرما بولا: “یار چھینے، نماز پڑھ لیا کرو۔ نماز سے منہ پر رونق آ جاتی ہے اور اللہ کے حضور صبح صبح حاضری بھی لگ جاتی ہے۔”
چھینا بولا: “اچھا یار، صبح شروع کرتا ہوں۔”
فیقا بولا: “وہ دن ڈوبا جب گھوڑی چڑھا کوبا۔” اور ہنس دیا۔
اتنے میں مسجد سے اعلان ہوا کہ آج ایم پی اے صاحب گاؤں میں آ رہے ہیں اور سب کو چوک میں آنے کے لیے کہا گیا۔
فیقا بولا: “ہاں، الیکشن قریب آ گئے ہیں، اس لیے جناب آ رہے ہیں۔ چار سال ہو گئے، پہلی دفعہ تشریف لا رہے ہیں۔”
کرما بولا: “ہاں یار، ہر دفعہ ایسا ہی ہوتا ہے۔ ایک سال پہلے آ کر پوچھتے ہیں کہ گاؤں کے کیا کیا کام ہیں، کروا لو، پھر ووٹ ہمیں دینا ہے۔”
چھینا بولا: “یار، آج آنے دو اس کو، اس سے سوال کریں گے کہ چار سال کہاں تھے، جب بارش کے بعد کوئی بندہ اپنے کپڑے بچا کر مسجد تک نہ جا سکتا تھا۔ چار سال ہو گئے، کوئی نالی، کوئی سڑک نہیں بنی۔ جو تھیں وہ بھی ٹوٹ گئیں۔ فون خراب ہو چکے ہیں۔ پانی کے سرکاری پائپ میں گندا پانی آ رہا ہے، جس کی وجہ سے بچے بیمار ہو رہے تھے اور ہم مجبور ہو گئے کہ موٹر کا پانی استعمال کریں، جو صحت کے لیے بالکل ٹھیک نہیں ہے۔”
کرما بولا: “اور ہاں یار، اُس سے یہ بھی پوچھنا ہے کہ اُس نے کہا تھا گیس کو گاؤں تک لے آئے گا، وہ وعدہ بھی پورا نہیں کیا۔”
خیر، دس بجے کا وقت دے کر بارہ بجے سرکاری گاڑی پر ایم پی اے صاحب، پیچھے پولیس کی گاڑیوں کے ساتھ، دھول اُڑاتے ہوئے چوک میں آ گئے۔ اُن کی گاڑی سے اُٹھی ہوئی دھول نے تمام گاؤں والوں کے سروں پر خاک کی تہہ بٹھا دی، لیکن کسی کو کوئی فرق نہیں پڑا، کیونکہ سب کی نظریں ایم پی اے کی گاڑی کی طرف تھیں۔
جیسے ہی ایم پی اے صاحب گاڑی سے نکلے، ایک نعرہ بلند ہوا: “ملک اشفاق صاحب!” سب نے جواب دیا: “زندہ باد!”
کرمے کی نظر پڑی تو دیکھا، نعرہ لگانے والا چھینا مراثی ہی تھا، جو کچھ دیر پہلے کہہ رہا تھا کہ میں سوال کروں گا، لیکن رعب دیکھ کر ایم پی اے کا سوال بھول گیا اور نعرے لگانے لگا۔
نمبردار صاحب نے آگے جا کر پھولوں کا ہار ایم پی اے کے گلے میں ڈال دیا۔ ایم پی اے نے خطاب شروع کیا اور وعدے خود ہی یاد کروا دیے، پھر کہا: “اب وقت آ گیا ہے کہ اُنہیں پورا کیا جائے، اس لیے حاضر ہوا ہوں۔”
تو ایک نوجوان لڑکا، جس کا نام ملک کریم علی تھا، جو حال ہی میں وکالت پاس کر کے آیا تھا اور ایم پی اے کی برادری کا بھی تھا، آگے آیا اور کہا:
“ایم پی اے صاحب! کچھ سوال جو تمام گاؤں والوں کے دل میں ہیں، اُن کا جواب دے دیں، کیونکہ گاؤں والے سوال کرنے کی ہمت نہیں رکھتے۔”
ایم پی اے صاحب نے سوالیہ نظروں سے نمبردار کی طرف دیکھا، جیسے کہہ رہے ہوں: “اس کو سمجھایا نہیں تھا؟ میں کسی کے باپ کا نوکر نہیں کہ جواب دیتا پھروں۔” لیکن بولے: “ہاں، بالکل پوچھو، کیا پوچھنا ہے؟”
ملک کریم بولا:
“پہلا سوال: گندے پانی کی وجہ سے ولی خان اور اللہ داد کے بچے فوت ہو گئے تھے۔ اُن کے ذمہ دار آپ ہیں۔ آپ نے وعدہ کیا تھا کہ جیت کر سب سے پہلے پانی کے پائپ ٹھیک کروا دیں گے۔
دوسرا سوال: گیس کا وعدہ تھا آپ کا، جو ابھی تک پورا نہیں ہوا۔
تیسرا سوال: فون لائن کے بارے میں آپ نے فرمایا تھا کہ یہ کون سا بڑا کام ہے، لیکن یہ چھوٹا سا کام ابھی تک نہ ہو سکا۔ تمام گاؤں والے اڈے پر جا کر اپنے پیاروں سے بات کر کے آتے ہیں۔
چوتھا سوال: سرکاری نوکریوں کا بھی وعدہ تھا آپ کا۔ میری طرح گاؤں کے بہت سے لڑکے تعلیم کے باوجود ابھی تک کسی کام پر نہ لگ سکے، لیکن آپ کے تینوں بیٹے تعلیم نہ ہونے کے باوجود سرکاری افسر کس طرح ہو گئے؟
پانچواں سوال: کیا آپ چار سال اتنے مصروف رہے کہ گاؤں کی کسی غمی خوشی میں شامل نہ ہو سکے؟
یہ گاؤں والے سمجھیں یا نہ سمجھیں، لیکن ہم نوجوان اور پڑھے لکھے لوگ سمجھ گئے ہیں۔ اب آپ ہمیں سڑکوں، نالیوں، گیس اور پانی کے نام پر خریدنے تشریف لائے ہیں، لیکن افسوس، ایسا اب ممکن نہیں۔ اس دفعہ ہم اپنا ووٹ کسی نیک اور کام کرنے والے انسان کو دیں گے، چاہے وہ فضل دین موچی کا ایم اے پاس بیٹا ہی کیوں نہ ہو، کیونکہ آپ جیسے میٹرک پاس لوگ سرکاری حکم نامہ لے کر اُس کے پاس آتے ہیں کہ دیکھنا یار، اس میں کیا لکھا ہے، اگر کسی اور سے پوچھ لیا تو عزت نہیں رہے گی۔”
ایم پی اے صاحب کی نظریں زمین پر تھیں۔ وہ اچانک کھڑے ہوئے اور کہا: “یہ مخالف پارٹی کا بندہ ہے، اس لیے ایسی باتیں کر رہا ہے۔”
چاچا فیقا آگے آیا اور بولا: “ایم پی اے صاحب! بندہ کسی بھی پارٹی کا ہو، لیکن سچ تو بول رہا ہے۔ جواب دیں، ہم بھی جاننا چاہتے ہیں۔”
کرما بولا: “ایم پی اے صاحب! آپ پہچان نہیں سکے، یہ آپ کی ہی برادری کا ہے اور آپ کی خالہ کی بیٹی کا لڑکا ہے، اس لیے بندہ اپنی پارٹی کا ہی ہے۔ آپ جواب دیں۔”
ایم پی اے صاحب بولے: “ہاں، مجھ سے غلطیاں ہوئی ہیں، میں مانتا ہوں، لیکن میں سب کر دوں گا۔ اب آ تو گیا ہوں نا۔” یہ کہتے ہوئے وہ مسکرائے اور بولے: “فکر نہ کرو، سب ٹھیک کر دوں گا، سارے غم دور کر دوں گا۔”
ملک کریم بولا: “اچھا، سب سے پہلے ولی خان اور اللہ داد کے بچے واپس لے آئیں، جو آپ کی غلطی کی نظر ہو گئے۔ گندہ پانی پینے کی وجہ سے بیمار ہو گئے تھے۔”
ایم پی اے صاحب کے ماتھے پر اس سرد موسم میں بھی پسینہ صاف نظر آ رہا تھا۔ وہ بولے: “وہ تو میں واپس نہیں لا سکتا، لیکن اس گاؤں کو گلزار بنا دوں گا۔”
چاچا فیقا آگے آیا اور بولا: “ایم پی اے صاحب! اس گاؤں کو گلزار ہم خود بنا لیں گے۔ ہمارا مالک اللہ ہے، وہ ہمیں ہمت دے گا۔ آپ نے حکومت کی ان پالیسیوں پر اجازت کی جو ہمارے شہر کے خلاف تھیں۔ اُن مہروں کے بارے میں کیا خیال ہے؟ کیا ووٹ آپ کو وزیراعلیٰ نے دیے تھے کہ اُن کی ہاں میں ہاں ملا کر اپنے شہر کے ترقیاتی منصوبوں کا بجٹ بھی اُن کے شہر کو دے دیا اور ہمارے پورے شہر کو محروم کر دیا؟”
ایم پی اے صاحب بولے: “کرم داد یار، تم گاؤں کی بات کرو، شہر کی بات کہاں سے آ گئی؟ تمہارا شہر سے کیا لینا دینا؟”
کرما بولا: “ایم پی اے صاحب! یہ گاؤں بھی میرا ہے، شہر بھی میرا ہے، صوبہ بھی میرا ہے اور ملک بھی میرا ہے۔ آپ سب ایم این اے اور ایم پی اے ہماری آواز ہیں، لیکن افسوس، آپ ہماری آواز نہیں، اپنی پارٹی کی آواز ہیں۔ ہم اب اُس انسان کو ووٹ دیں گے جو ہماری آواز بنے، نہ کہ حکمرانوں کے آگے پونچھ ہلاتا پھرے۔”
ملک کریم بولا: “ایم پی اے صاحب! اس دفعہ میں ایم پی اے کی نشست کے لیے فضل داد موچی کے بیٹے خرم داد کو کھڑا کر رہا ہوں۔ امید کرتا ہوں کہ آپ اُس کو سپورٹ کریں گے، کیونکہ وہ بہت لائق اور محنتی انسان ہے۔”
ایم پی اے صاحب بولے: “پتر، شام کو ڈیرے پر آنا، وہاں بات کرتے ہیں۔”
ملک کریم بولا: “گاؤں والو! ضروری اعلان سنو، اور امام صاحب کو بھی بولو کہ سپیکر میں اعلان کر دیں کہ ہم سب شام کو ملک صاحب کے ڈیرے پر جائیں گے۔ تیار رہنا۔”
ایم پی اے بولے: “اوے یار، تم اکیلے آ جانا، بات کرنی ہے۔ ہم نے کون سا جلسہ کرنا ہے؟”
ملک کریم بولا: “بات کرنی ہے یا میری قیمت لگانی ہے؟ اب جو بھی بات ہو گی، گاؤں کے سامنے ہو گی۔”
ایم پی اے بولے: “اچھا، پھر سن لو دھیان سے، آپ کے گاؤں کو کوئی گرانٹ نہیں آئے گی، اور ہم چلتے ہیں۔”
ملک کریم بولا: “جناب! گاؤں جانے کے لیے پیدل جائیں گے، کیونکہ سڑک پر چاچا رمضان کی ٹرالی کھڑی ہے۔ اُس کا بیئرنگ خراب ہو گیا ہے اور تین دن سے راستہ بند ہے۔ آپ واپس بھی پیدل ہی جائیں گے، کیونکہ موڑ پر میں نے گاؤں والوں کے ساتھ مل کر نئی پُلی بنانے کے لیے پرانی پُلی توڑ دی ہے۔”
ایم پی اے بولے: “اس کا مطلب ہے تم لوگوں نے مجھے ذلیل کرنے کے لیے بلایا تھا؟”
ملک کریم بولا: “نہیں، آپ کو دکھانا تھا کہ پُلی نہ ہونے کی وجہ سے ہم کس طرح ذلیل ہوتے ہیں۔”
اتنے میں بارش شروع ہو گئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے ہر طرف پانی اور کیچڑ ہو گیا۔ تمام گاؤں والے چوک میں نیم کے نیچے کھڑے ہو کر گاڑی میں بیٹھے ایم پی اے صاحب کو دیکھ رہے تھے، جو گھر کا رہا نہ گھاٹ کا۔
بارش رکی تو ملک کریم ایم پی اے صاحب کی گاڑی کے پاس گیا۔ ایم پی اے نے شیشہ نیچے کیا تو ملک کریم نے کہا: “جناب! پُلی ٹھیک ہے، آپ جا سکتے ہیں۔”
ایم پی اے نے گاڑی چلانے کا حکم دیا۔ گاڑی چلی، لیکن مسجد کے عین سامنے کیچڑ میں چھپے ایک گڑھے میں پھنس گئی۔
ملک کریم پھر آگے بڑھا اور بولا: “اسی گڑھے میں بارش میں موٹر سائیکل پر آتے ہوئے امام صاحب کا بیٹا گرا تھا، جو ابھی تک اپنی ٹوٹی ہوئی ٹانگوں سے آپ اور آپ کی حکومت کو دعائیں دے رہا ہے۔”
تمام گاؤں والے مسکرا دیے اور ایم پی اے کو جاتے ہوئے دیکھتے رہے، جہاں تک نظروں نے ساتھ دیا۔
کہاں تک لکھوں، کہاں تک سنو گے؟ ہزار کہانیاں ہیں، لاکھ حقیقتیں ہیں۔
تبدیلی میری نظر میں عوام لے کر آئیں گے۔ اپنے گاؤں، اپنے محلے سے کام شروع کریں، پھر شہر، پھر صوبہ، پھر ملک کو گلزار بنا دیں، کیونکہ آسمان سے فرشتے نہیں اُترنے والے ہماری حالت بدلنے کے لیے،
وسلام۔



تبصرہ لکھیے