ہوم << جنت داخلہ ٹیسٹ- یوسف ثانی
600x314

جنت داخلہ ٹیسٹ- یوسف ثانی

ارسلان نے انجینئرنگ کے شعبہ میں پیشہ ورانہ تعلیم کے لیے این ای ڈی انجینئرنگ یونیورسٹی کا انتخاب کیا تھا، لہٰذا اُسے ایف ایس سی کے پرچوں کے ختم ہوتے ہی تعلیمی اداروں میں داخلہ کی اہلیت کے امتحان، المعروف انٹری ٹیسٹ، کی تیاری کے لیے شہر کے مشہور کوچنگ سینٹر کا رُخ کرنا پڑا۔

دو گھنٹوں پر محیط یہ انٹری ٹیسٹ متعلقہ نصاب کے اہم مضامین سے تیار کیے گئے MCQs پر مبنی ہوتے ہیں، یعنی ہر سوال کے کئی “چوائس” میں سے درست جواب کا انتخاب کرنا ہوتا ہے۔ جامعہ این ای ڈی کے انٹری ٹیسٹ میں پچاس فیصد نمبر حاصل کرنے والا طالب علم ہی اگلے مرحلہ میں میرٹ لسٹ کے لیے منتخب ہوتا ہے۔ این ای ڈی یونیورسٹی میں میرٹ لسٹ صرف ایف ایس سی کے نمبروں کی بنیاد پر مرتب کی جاتی ہے، یعنی اس میں داخلہ ٹیسٹ کے نمبروں کو شامل نہیں کیا جاتا۔

ارسلان کی بہن عائشہ کو ڈاکٹر بننے کے لیے ڈاؤ میڈیکل یونیورسٹی میں داخل ہونا تھا۔ ہمارے ہاں انجینئرنگ کے مقابلے میں میڈیکل کالجوں میں داخلہ ٹیسٹ کا معیار جدا اور نسبتاً مشکل ہے۔ گو کہ یہاں بھی داخلہ ٹیسٹ MCQs پر ہی مبنی ہوتے ہیں، لیکن یہاں منفی مارکنگ بھی کی جاتی ہے۔ یعنی اگر طالب علم نے کسی سوال کا درست جواب دیا تو اسے ایک نمبر ملے گا، اور اگر غلط جواب دیا تو اسے منفی ایک چوتھائی نمبر ملے گا۔اس بات کو یوں بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ پرچے کے کل ایک سو سوالوں میں سے اگر کسی طالب علم نے ساٹھ سوالات کے درست اور چالیس سوالات کے غلط جواب دیے، تو حاصل کردہ ساٹھ نمبروں میں سے چالیس غلط جوابات کے دس نمبر منہا بھی ہوں گے، اور یوں اُسے عملاً پچاس نمبر ملیں گے۔

میڈیکل کالجوں میں داخلہ کی میرٹ لسٹ میں انٹری ٹیسٹ کے نمبروں کا پچاس فیصد، ایف ایس سی کے صرف چار مضامین یعنی انگریزی، فزکس، کیمسٹری اور بائیولوجی کے کل حاصل کردہ مارکس کا چالیس فیصد، اور میٹرک کے حاصل کردہ فیصد مارکس کا دس فیصد نمبر شامل کیا جاتا ہے۔ گویا انجینئرنگ کے مقابلے میں میڈیکل میں داخلہ کا معیار اور بھی سخت ہے۔اسی لیے عائشہ نے اپنے بھائی سے بھی زیادہ محنت اور لگن سے داخلہ ٹیسٹ کی تیاری کی۔ دونوں نے مشق کی خاطر دیگر کالجوں اور جامعات کے انٹری ٹیسٹ بھی دیے۔ الحمدللہ، دونوں کی محنتیں رنگ لائیں اور وہ دونوں علی الترتیب جامعہ این ای ڈی اور ڈاؤ یونیورسٹی میں داخل ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ واضح رہے کہ ایف ایس سی میں ساٹھ فیصد سے کم نمبر لانے والے طالب علموں کو انجینئرنگ اور میڈیکل کی میرٹ کی دوڑ سے پہلے ہی خارج کردیا جاتا ہے۔

اپنے دونوں بڑے بہن بھائیوں کے برعکس فرقان کو بزنس ایڈمنسٹریشن کا شوق تھا اور اس کی نگاہِ انتخاب مشہور تعلیمی ادارے انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن، آئی بی اے، پر تھی۔ آئی بی اے کے لیے درکار تعلیمی قابلیت میں کم از کم 65 فیصد مارکس ہونا ضروری ہیں۔ اس ادارے کا انٹری ٹیسٹ پیچیدہ اور مشکل ترین سمجھا جاتا ہے۔انٹری ٹیسٹ تین حصوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ تحریری حصہ میں تین ذیلی پرچے ہوتے ہیں، اور تینوں پرچوں میں الگ الگ کامیاب ہونے کے علاوہ تینوں پرچوں کا مجموعی نمبر بھی مطلوبہ پاسنگ مارکس کے برابر ہونا لازمی ہے۔

گروپ ڈسکشن میں گروپ کے ہر ممبر کو دیے گئے عنوان پر مقررہ وقت کے اندر اندر فی البدیہہ تقریر کرنی ہوتی ہے، پھر سارے ممبر مل کر اس موضوع پر اجتماعی بحث مباحثہ کرتے ہیں۔ اس سارے عمل کو ایک ممتحن مسلسل جانچتا رہتا ہے اور گروپ کے ہر ممبر کو اس کی انفرادی کارکردگی کی بنیاد پر نمبر دیتا ہے۔آئی بی اے کے انٹری ٹیسٹ کے تیسرے مرحلے میں ہر طالب علم کا پینل انٹرویو لیا جاتا ہے۔ جب تک طالب علم تینوں مرحلوں اور ہر مرحلے کے تمام ذیلی شعبوں میں علیحدہ علیحدہ کامیابی حاصل نہیں کرتا، وہ آئی بی اے میں داخلے کا مستحق قرار نہیں پاتا۔ فرقان آئی بی اے کا یہ پیچیدہ اور مشکل ترین داخلہ ٹیسٹ پاس کر لیتا ہے۔

میٹرک میں اعلیٰ اے ون گریڈ میں کامیاب ہونے والے متذکرہ بالا تینوں بہن بھائیوں کے سب سے چھوٹے بھائی عدنان کو یہ فکر لاحق ہے کہ اُس نے تو میٹرک سائنس میں محض اوسط اے گریڈ حاصل کیا ہے، اور مستقبل قریب میں پیشہ ورانہ تعلیمی ادارے میں داخل ہونے کے لیے اسے بھی انہی میں سے کسی ایک انٹری ٹیسٹ کا سامنا کرنا ہوگا۔عام انسانوں کے لیے دنیا میں کامیابی کی راہ ہموار کرنے میں مشہور و معروف تعلیمی ادارے اہم اور بنیادی کردار ادا کرتے ہیں، لیکن ان اداروں میں داخلے کے لیے درکار تعلیمی قابلیت کے ساتھ ساتھ ان کے انٹری ٹیسٹ میں کامیابی حاصل کرنا اولین شرط ہے۔

عموماً جب بچے انٹر پاس کر لیتے ہیں تو ان کے والدین پوچھتے ہیں کہ بیٹا آگے کیا کرنا ہے یا آگے کیا پڑھنا ہے، اور بچہ اپنے حاصل کردہ نمبروں کی بنیاد پر جواب دیتا ہے کہ وہ کیا کرنا چاہتا ہے یا وہ کیا کر سکتا ہے۔ممتاز ماہرِ تعلیم ڈاکٹر مبارک کاپڑیا کا کہنا ہے کہ والدین کا یہ رویہ سراسر غلط ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ والدین کو بچے کے انٹر میں داخل ہونے سے پہلے ہی باہم مشورہ کرکے یہ طے کر لینا چاہیے کہ بچہ انٹر کس مقصد کے تحت کرنا چاہتا ہے اور انٹر کے بعد اسے کس شعبہ یا کس تعلیمی ادارے میں داخل ہونا ہے، اور وہاں کے انٹری ٹیسٹ کے قواعد و ضوابط کیا ہیں۔

ارسلان، عائشہ اور فرقان کے معاملے میں ایسا ہی کیا گیا، چنانچہ انہوں نے مشہور و معروف تعلیمی اداروں کے انٹری ٹیسٹ میں احسن طریقے سے کامیابی حاصل کرلی۔عموماً ہم سب اس حقیقت کو مانتے ہیں کہ معروف تعلیمی اداروں کے انٹری ٹیسٹ میں کامیابی دنیا میں ترقی اور خوشحالی کی ضمانت ہے، لیکن بہت کم لوگوں کی توجہ اس جانب ہوتی ہے کہ اوسطاً پچاس ساٹھ سالہ دنیوی کیریئر کے اختتام پر ہم سب کو ایک اور انٹری ٹیسٹ، “جنت انٹری ٹیسٹ”، کا بھی سامنا کرنا ہوتا ہے۔ کامیاب ترین دنیوی زندگی کے اختتام پر ہمارے سامنے ایک اور نئی اور خوبصورت دنیا موجود ہوتی ہے، جسے جنت کہتے ہیں۔

جنت کاعیش و آرام دنیوی عیش و آرام سے بہت زیادہ ہے۔ دنیا میں کامیاب ترین، امیر ترین اور بلند ترین منصب تک پہنچنے والے فرد کی کہانی زیادہ سے زیادہ ایک صدی پر محیط ہوتی ہے، جب کہ مرنے کے بعد والی دنیا کی زندگی لا متناہی، یعنی نہ ختم ہونے والی زندگی ہے۔ اور اُس اُخروی دنیا کا سارا عیش و آرام اور مزہ جنت میں رکھ دیا گیا ہے۔ اور جنت میں داخلے کے لیے جنت انٹری ٹیسٹ پاس کرنا ضروری ہے۔

جو لوگ اس جنت انٹری ٹیسٹ میں ناکام ہوں گے، وہ نہ صرف یہ کہ جنت کی آرام و عیش سے محروم رہیں گے، بلکہ جنت سے محرومی کی صورت میں انہیں لازماً جہنم میں داخل ہونا پڑے گا۔ جہنم کے بارے میں یہ تو سب ہی جانتے ہیں کہ یہاں جنت کے بالعکس ماحول پایا جاتا ہے، اسی لیے کوئی بھی فرد جہنم میں داخل ہونے کو تیار نہیں ملتا۔ لیکن طُرفہ تماشہ یہ ہے کہ جہنم میں داخل نہ ہونے کے خواہش مند افراد بھی جنت انٹری ٹیسٹ کی تیاری کرنا تو درکنار، جنت انٹری ٹیسٹ کے پرچوں اور قواعد و ضوابط تک سے نا آشنا نظر آتے ہیں۔

ابھی ہم نے میڈیکل، انجینئرنگ اور بزنس ایڈمنسٹریشن کے اہم ترین تعلیمی اداروں کے انٹری ٹیسٹ کے طریقہ کار پر تفصیلی گفتگو کی ہے تاکہ ان تعلیمی اداروں میں داخلے کے خواہشمند انٹر کے طالب علم نہ صرف یہ کہ انٹری ٹیسٹ کے قواعد و ضوابط سے آگاہ ہو جائیں، بلکہ ان قواعد و ضوابط کے عین مطابق متعلقہ انٹری ٹیسٹ کی تیاری کے لیے ذہنی طور پر اپنے آپ کو تیار بھی کر لیں، کیونکہ انٹری ٹیسٹ میں کامیاب ہو کر ہی وہ دنیا میں کامیابی و کامرانی حاصل کر سکتے ہیں۔

آئیے اب جنت انٹری ٹیسٹ کی بات کرتے ہیں، تاکہ جب عمر کی نقدی ختم ہو جائے اور جنت انٹری ٹیسٹ میں کامیابی کا پروانہ، نامۂ اعمال کی صورت میں ہمارے ہاتھ میں ہو، تو ہم اس دنیا سے دوسری دنیا میں منتقل ہوتے ہی جنت کی سہولتوں سے استفادہ شروع کر سکیں۔جنت انٹری ٹیسٹ کے بارے میں سورۃ العصر میں زمانے کی قسم کھاتے ہوئے اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ بے شک تمام انسان خسارے میں ہیں، ماسوائے اُن لوگوں کے جو چار باتوں یعنی ایمان، عملِ صالح، حق کی تلقین اور صبر پر عمل پیرا رہے۔ یہ چار باتیں درحقیقت “جنت انٹری ٹیسٹ” کے چار الگ الگ پرچے ہیں۔ جنت میں داخلے کے لیے ان چاروں پرچوں میں الگ الگ کامیابی حاصل کرنا لازمی ہے۔

ایمان کے پرچے میں اللہ اور اُس کے آخری رسول ﷺ کی بتائی ہوئی تمام باتوں پر اسی طرح ایمان لانا ہے جیسا کہ ایمان لانے کا حکم دیا گیا ہے۔ اعمالِ صالحہ یعنی نیک اعمال والے پرچے میں وہ سب کچھ لازماً کرنا ہے جس کا قرآن اور حدیث میں امر بالمعروف کے ضمن میں حکم دیا گیا ہے، اور اُن تمام باتوں سے لازماً رکنا ہے جن کا ذکر نہی عن المنکر کے ضمن میں کیا گیا ہے۔اگر ہم اپنے ایمان کا جائزہ لیں تو کم و بیش تمام مسلمان کسی نہ کسی حد تک ایمان والے پرچے میں کامیاب ہوتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اسی طرح صالح اعمال والے پرچے میں بھی ہماری کچھ نہ کچھ کارکردگی ضرور ہوتی ہے، البتہ اس بات کا جائزہ لیتے رہنے کی ہر وقت ضرورت رہتی ہے کہ کہیں ہم ان پرچوں میں مطلوبہ پاسنگ مارکس سے بھی کم نمبر والی کارکردگی تو نہیں دکھا رہے۔

لیکن قابلِ غور بات یہ ہے کہ ہم بالعموم ایمان اور عملِ صالح کے مرحلے پر ہی رک جاتے ہیں اور اپنی ساری کاوشیں انہی دو پرچوں میں خوب سے خوب تر کارکردگی دکھانے میں صرف کر دیتے ہیں، اور یہ بھول جاتے ہیں کہ جنت انٹری ٹیسٹ کے دو مزید مراحل “حق کی تلقین” اور “صبر” بھی ہیں۔کیا آئی بی اے انٹری ٹیسٹ کے تین تحریری، دو گروپ ڈسکشن اور ایک انٹرویو، یعنی کل چھ مراحل میں صرف تین مراحل میں اعلیٰ کارکردگی دکھانے والا طالب علم آئی بی اے میں داخل ہو سکتا ہے، جبکہ باقی تین مراحل میں اس نے کوئی کارکردگی ہی ظاہر نہ کی ہو یا وہ ان میں ناکام رہا ہو؟

جب ایک دنیوی تعلیمی ادارے میں داخل ہونے کے تمام مراحل میں کم از کم کارکردگی دکھانا لازمی ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ جنت انٹری ٹیسٹ کے کل چار مراحل میں سے دو میں ہماری کوئی کارکردگی ہی نہ ہو اور ہم جنت میں داخل بھی ہو جائیں، جبکہ اللہ تعالیٰ صاف صاف فرما رہے ہیں کہ تمام لوگ خسارے میں ہیں ماسوائے اُن لوگوں کے جو ایمان لا کر عملِ صالح کرتے رہے، حق کی تلقین و تبلیغ کرتے رہے اور ان مراحل کی راہ میں پیش آنے والی مشکلات پر صبر کرتے رہے۔

حق کی تلقین کے بعد خصوصاً صبر کا ذکر اس لیے بھی کیا گیا ہے کہ حق کی تبلیغ یعنی فرامینِ قرآن و حدیث کی دعوت کا لازمی نتیجہ مشکلات و مصائب کو دعوت دینا ہے۔ حق کی تبلیغ کا سب سے زیادہ کام انبیاء علیہم السلام نے کیا اور انہیں ہی سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا، چنانچہ ہر مشکل اور تکلیف پر انہوں نے صبر سے کام لیا۔اگر کوئی انسان جنت انٹری ٹیسٹ میں کامیاب ہو کر جنت میں داخل ہونا چاہتا ہے تو اس کے لیے لازم ہے کہ وہ ایمان لا کر عملِ صالح اختیار کرے، ساتھ ساتھ اپنے گرد و پیش میں موجود لوگوں کو حق کی تلقین بھی کرتا رہے، اور اس تلقین و تبلیغ کی راہ میں مصائب و مشکلات پیش آئیں تو دل سے صبر بھی کرے۔

اللہ ہر انسان کو جنت انٹری ٹیسٹ کے چاروں پرچوں میں کامیابی عطا فرمائے تاکہ وہ ابدی خسارے سے بچ کر جنت میں داخلے کا آئی ڈی کارڈ حاصل کر سکے۔عدنان نے اپنے بہن بھائیوں کے برعکس اپنے لیے ایک منفرد راستہ منتخب کیا۔ اُس نے ایف ایس سی کی بجائے دوپہر کی شفٹ میں ڈپلومہ آف ایسوسی ایٹس انجینئرنگ میں اور صبح کی شفٹ میں ایک دینی جامعہ میں داخلہ لیا۔ تین سالہ ڈپلومہ کے بعد عدنان کے لیے انجینئرنگ میں گریجویشن اور دینی جامعہ سے مکمل عالمِ دین بننے کا راستہ کھلا ہے۔

اب آپ یہ بتائیے کہ جنت انٹری ٹیسٹ میں کامیابی کا راستہ عدنان کے لیے زیادہ آسان ہوگا یا اس کے بہن بھائی کے لیے؟

مصنف کے بارے میں

ویب ڈیسک

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment