ہوم << پیسے کا زمانہ – محمد یعقوب غازی
600x314

پیسے کا زمانہ – محمد یعقوب غازی

مجھے نہیں معلوم کہ یہ واقعہ آپ کے ساتھ شیئر کرنا مناسب ہے یا نہیں۔ یہی سوچتے سوچتے میں نے *ہدایۃ النحو* کا مطالعہ بھی کر لیا۔ کافی سوچ و بچار کے بعد اس نتیجے پر پہنچا کہ آپ کو تجسس میں نہ رکھوں۔ ممکن ہے ہمیں اس سے کوئی سبق ملے، اور جس کے بارے میں لکھ رہا ہوں وہ نہ مجھے جانتا ہے اور نہ میں اسے جانتا ہوں، اس لیے یہ غیبت کے زمرے میں بھی نہیں آئے گا۔

ہوا یہ کہ گزشتہ رات میری بیٹی بیمار تھی۔ میں اسے ڈاکٹر کے پاس لے جانے لگا تو راستے میں موٹر سائیکل پنگچر ہو گیا۔ آپ کو شاید عجیب لگے، میں نے ابھی تک “پنچر” ہی سنا تھا، لیکن چونکہ لغت کی کتاب میں “پنگچر” لکھا ملا، اس لیے پنگچر لکھ رہا ہوں۔ اب “نہ ادھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے” کی مثالِ کامل بنے کھڑے تھے۔ اگر میں اکیلا ہوتا تو کوئی جگاڑ چلا لیتا، مگر اب فیملی سمیت موٹر سائیکل پر بیٹھوں تو موٹر چلنے کا نام نہ لے۔ اگر فیملی کو اتنی رات گئے چھوڑ جاتا تو حالات کا آپ کو علم ہے، دورِ عمرؓ تو ہے نہیں۔

لہٰذا خالہ زاد بھائی کو فون کیا۔ تقریباً پندرہ کلومیٹر دور سے وہ اپنا موٹر سائیکل لے کر آ گیا۔ میں خالہ زاد بھائی کے موٹر سائیکل پر فیملی کو لے کر ڈاکٹر صاحب کی طرف روانہ ہوا اور اپنے خالہ زاد بھائی سے کہا:
“میرا موٹر سائیکل پیٹرول پمپ لے جاؤ، ہم تھوڑی دیر تک اسی پیٹرول پمپ پر آ جاتے ہیں۔”

ڈاکٹر صاحب کے پاس گیا، بیٹی کا چیک اپ کرایا، دوائی لی، اور جتنی رقم تھی وہ یا تو ڈاکٹر صاحب کے حوالے کی یا پھر دوائیوں کے کھاتے میڈیکل اسٹور والے کے نذر ہو گئی۔
اب خالہ زاد بھائی نے فون کیا: “آپ کہاں ہو؟”
میں نے کہا: “میں راستے میں ہوں۔”
اس نے پوچھا: “موٹر سائیکل کا کیا کرنا ہے؟”
میں نے کہا: “اسے پیٹرول پمپ پر کھڑا کر دو، کل دن میں کوئی حل نکال لوں گا۔”

خالہ زاد بھائی نے فون پر کہا: “ایک پنگچر والا ہے، اگر کہو تو میں پنگچر یا نئی ٹیوب کا کہہ دوں۔”
میں نے جواب دیا: “میرے پاس پیسے نہیں ہیں، اگر تیرے پاس پیسے ہیں تو دیر کس بات کی؟”
خالہ زاد بھائی بھی میری طرح خالی جیب تھا۔ میں نے اس سے کہا: “اگر پنگچر والا پنگچر لگا دے تو کل دن اس کے پیسوں کا بندوبست کر لوں گا۔”
اس کا جواب تھا: “پیسے اگر نقد ہیں تو میں لگا دیتا ہوں، نہیں تو میں نکل رہا ہوں۔”

اتنے میں میں فیملی سمیت پیٹرول پمپ پہنچا، موٹر سائیکل کو پیٹرول پمپ پر کھڑا کیا۔ پنگچر والے نے مجھے فیملی سمیت دیکھا۔ مجھے لگا شاید اب وہ میری مجبوری سمجھ گیا ہو۔ باوجود اس کے کہ اسے معلوم تھا کہ یہ شخص فیملی سمیت اتنی رات گئے گھر سے دور کھڑا ہے، اگر اس کے پاس دینے کے لیے کچھ ہوتا تو ضرور دے دیتا۔ باقی میں نے اصرار اس لیے نہیں کیا کہ میں بھی اسی معاشرے کا ایک فرد ہوں اور اپنی قوم کے مزاج سے واقف ہوں۔

مجھے نہیں معلوم اس کی مجبوری کیا تھی۔ یقیناً اس کی کوئی مجبوری ہوگی، اور مجبوری کچھ بھی ہو سکتی ہے۔ مگر مجھے پیارے آقا ﷺ کا فرمان یاد آ گیا، اور میں سوچتا رہا کہ پیارے آقا ﷺ نے یہ ارشاد اس زمانے میں فرمایا تھا جب آپ ﷺ ایک ایسی جماعت تیار کر چکے تھے جو دوسروں کے فائدے کو اپنے فائدے پر ترجیح دیتی تھی؛ اپنا نقصان ہو تو ہونے دو، لیکن دوسرے کا بھلا ہو جائے۔

پیارے آقا ﷺ نے فرمایا:
“لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ اس زمانے میں انہیں صرف دینار و درہم (پیسہ) ہی فائدہ دے گا۔” (الحدیث)

مصنف کے بارے میں

ویب ڈیسک

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment