صحرا کی وسعتوں میں ایک عجیب سی دہشت پوشیدہ ہوتی ہے. دن کے وقت سورج آگ کے گولے کی مانند زمین پر اتر آتا ہے اور رات کو خاموشی اس قدر گہری ہو جاتی ہے کہ انسان کو اپنی سانسوں کی آواز بھی اجنبی محسوس ہونے لگتی ہے۔
نواب بی بی اپنے گاؤں لوٹ رہی تھی۔ اس کے چہرے پر تھکن کے آثار تھے مگر آنکھوں میں گھر پہنچنے کی امید روشن تھی۔ وہ ایک قریبی قصبے سے واپس آ رہی تھی، جہاں وہ اپنی بیمار ماں کے لیے دوائیں لینے گئی تھی۔ راستہ لمبا ضرور تھا مگر اسے یقین تھا کہ سورج غروب ہونے سے پہلے وہ اپنے گاؤں پہنچ جائے گی۔مگر قسمت نے شاید اس کے لیے کچھ اور لکھ رکھا تھا۔
خود کلامی کرتی ہوئی وہ انجانے میں غلط سمت نکل گئی۔ ابتدا میں اسے احساس نہ ہوا۔ وہ چلتی رہی، چلتی رہی، لیکن اردگرد کے ٹیلے اسے اجنبی لگنے لگے۔ اس نے رک کر چاروں طرف دیکھا۔ ہر طرف ریت تھی، صرف ریت۔ کوئی درخت، کوئی جھونپڑی، کوئی چرواہا، کوئی نشان نہیں۔
اس کے دل میں خوف کی ایک لہر اٹھی۔ اس نے پانی کی بوتل نکالی۔ چند گھونٹ باقی تھے۔ اس نے احتیاط سے پانی پیا اور قدم تیز کر دیے۔ شاید آگے کوئی آبادی ہو، شاید کوئی مسافر مل جائے، شاید کوئی کنواں نظر آ جائے۔ سورج آسمان کے وسط میں پہنچ چکا تھا۔ گرمی کی شدت بڑھتی جا رہی تھی۔ ریت کے ذرے آگ کے انگاروں کی طرح محسوس ہوتے تھے۔ کچھ دیر بعد اس کی بوتل خالی ہو گئی۔ پیاس اب اس کے گلے میں کانٹے اگانے لگی تھی۔
وہ لڑکھڑاتے قدموں سے آگے بڑھ رہی تھی کہ اچانک اسے دور کچھ جھونپڑیاں دکھائی دیں۔ اس کی آنکھوں میں چمک دوڑ گئی۔ اس نے اپنی ساری باقی ماندہ طاقت سمیٹی اور اس سمت دوڑنے لگی۔ مگر جب وہ وہاں پہنچی تو کچھ نہ تھا۔وہ صرف سراب تھا۔ریت کے سمندر پر دھوپ نے دھوکے کا ایک منظر تخلیق کیا تھا۔نواب بی بی کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے، مگر آنسو بھی کتنی دیر ساتھ دیتے؟ جسم میں پانی باقی ہی کتنا تھا۔
وہ پھر چلنے لگی۔کچھ فاصلے پر اسے ایک بار پھر درختوں کا جھنڈ دکھائی دیا۔ اسے لگا شاید اس بار حقیقت ہو، شاید زندگی ابھی اس سے ناراض نہیں ہوئی۔ مگر یہ امید بھی صحرا کی ہوا میں بکھر گئی۔ وہاں بھی کچھ نہ تھا، صرف ریت تھی؛ خاموش اور بے رحم ریت۔اب اس کے قدم جواب دے رہے تھے۔
اس کے ہونٹ پھٹ چکے تھے۔ زبان خشک لکڑی کی طرح منہ میں پڑی تھی۔ آنکھوں کے سامنے دھند سی چھانے لگی۔اسے اپنی ماں یاد آئی۔اپنا گھر یاد آیا۔اپنے بچے یاد آئے، جو شاید اس کی راہ دیکھ رہے تھے۔
اس نے آخری بار آسمان کی طرف دیکھا۔ سورج بدستور چمک رہا تھا، گویا اسے کسی انسان کی موت سے کوئی سروکار نہ ہو۔
اسے لگا فطرت بے رحم، اپنے بنائے اصولوں پر چل رہی ہے۔
وہ گھٹنوں کے بل گری۔
پھر بیٹھ گئی۔
پھر ریت پر ڈھیر ہو گئی۔
اس کی ایڑیاں بے اختیار ریت پر رگڑ کھانے لگیں۔ اس کے اردگرد ویسے ہی نشان بن گئے جیسے سانپ کے رینگنے سے ریت پر بنتے ہیں۔ اس کے لبوں پر پانی کا نام آیا، مگر آواز نہ نکل سکی۔ ہوا کا ایک تیز، گرم جھونکا گزرا اور اس کے بالوں میں الجھ گیا۔ چند لمحوں بعد اس کی سسکیاں خاموش ہو گئیں۔
صحرا ویسا ہی خاموش کھڑا رہا۔
سورج ویسا ہی روشن رہا۔
ریت ویسی ہی بے حس رہی۔



تبصرہ لکھیے