ہوم << ایک باپ کا بیٹی کی شادی پر لکھا گیا خط - سحر فاروق

ایک باپ کا بیٹی کی شادی پر لکھا گیا خط - سحر فاروق

سحر فاروق امی جی مجھے اسٹیج پر فل فریش فلاورز ارینجمنٹ چاہیے آپ ابو جی کو کہہ دیجیے بالکل تائی امی کی عذرا آپی کی شادی جیسا. چار بہنوں میں بڑی تانیہ نے اپنی شادی پر کی جانے والی فرمائشوں میں ایک اور کا اضافہ کرتے ہوئے بڑے رسان سے کہا تو اس کی والدہ بھی سوچ میں پڑ گئیں. ابھی جہیز کے لیے تانیہ کے سسرال والوں کی ڈیمانڈز بڑھتی ہی چلی جا رہی تھیں اور پہلی بیٹی کی شادی تھی، اس لیے وہ اس کو منع بھی نہیں کر سکتی تھیں کہ اس کے سسرال اور خاندان میں عزت کا سوال تھا۔ بات آگے پہنچائی تو تانیہ کے والد بھڑک ہی اٹھے ’’ زمین آسمان کا فرق ہے ہماری اور ان کی حیثیت میں، سمجھاؤ اپنی لاڈلی کو، آفس سے اور کتنا قرض لوں میں.‘‘
’’بلال بیٹا کچھ تو خیال کرو، ساری سوسائٹی اور خاندان میں دقیانوسی اور کنجوس مشہور ہوجائیں گے میں اور تمھارے بابا.‘‘ بلال کی امی عاجز آ کر بیٹے کو سمجھاتے ہوئے گویا ہوئیں، ان کے قابل اور اکلوتے بیٹے کی خواہش سادگی سے نکاح کی تھی جو سننے کے بعد ان کی راتوں کی نیند اور دن کا چین سب لٹ چکا تھا، شہر کے پوش علاقے میں رہتے ہوئے وہ کیسے اپنی حیثیت سے کم شادی کرنے پر راضی ہو سکتی تھیں؟
یہ دو اور اس جیسی کئی کہانیاں ہمارے معاشرے میں بکھری ہوئی ہیں. اپنی حیثیت سے کم یا زیادہ کرنا صرف بلال اور تانیہ کی امی کا ہی مسئلہ نہیں بلکہ پورے پاکستان کا ہے، کیونکہ ہم نے نکاح جیسے آسان اور مقدس بندھن کو مشکل ترین امر میں بدل لیا ہے۔ اول تو مناسب رشتوں کا حصول ہی پہاڑ سر کرنے سے کم نہیں۔ اللہ اللہ کرکے نوبت شادی تک پہنچے تو طرفین کی درجن بھر فضول رسومات، مختلف ڈیمانڈز، انواع و اقسام کے کھانے، اس سب کو خوش اسلوبی سے ادا کرتے کرتے اچھے خاصے صاحب حیثیت افراد بھی قرض کے جال میں پھنس جاتے ہیں۔
ہمیں بطور معاشرہ اس خود ساختہ مسئلے سے مل کر نبرد آزما ہونا ہے، جو کہ مسئلہ ہے ہی نہیں۔ آج میں آپ سے اپنے دادا کا لکھا گیا ایک خط شئیر کرتی ہوں جو انہوں نے میری بڑی پھوپھو کی شادی پر لکھا تھا۔ ہم سب کے لیے اس میں بہت واضح پیغام موجود ہے۔ اصل عکس کے ساتھ من و عن نقل کر رہی ہوں۔
تاریخ 7جون 1956ء
بسم اللہ الرحمن الرحیم
تمام تعریف اس ذات پاک کے لیے ہے جو زمین و آسمان اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے۔ کل کائنات کا خالق و مالک و نگران و محافظ ہے۔ قلم قاصر اور زبان عاجز ہے کہ اس کی ثناء اس کی شایان شان بیان کر سکے۔ اس نے آدم ؑو حوا کے ایک جوڑے سے اس زمیں پر بنی نوع انسان کو بسایا، نسل انسانی کو ترقی دی، آباد کیا اور اشرف المخلوقات کا درجہ عنایت فرمایا، ہدایت و رہنمائی کے لیے پیغمبروں کو ہمارے پاس بھیجا اور ہم کو اپنی توفیق سے مسلمان بنایا اور آخرت پر یقین ایمان عطا فرمایا۔
بعد حمد و ثناء آپ کو اس خط کے ذریعے مطلع کیا جاتا ہے کہ میری دختر شمیمہ خاتون کی نسبت شادی خانہ آبادی کا سلسلہ بابو بن غلام رسول سے طے ہوا ہے۔ اس لیے آپ مورخہ 17 جون56 بروز اتوار کو میرے غریب خانے پر تشریف لے آویں تاکہ اسلامی طریقے پر میں اپنی دختر کی شادی کی رسم انجام دے کر فارغ ہو جاؤں۔ اس تاریخ دینے کے علاوہ آپ سے یہ بھی عرض ہے کہ آپ بلاوجہ رسمی طریقے کے ماتحت کپڑے جوڑے کے علاوہ کسی اور نمائشی چیزوں میں پیسہ ضائع نہ کریں۔ البتہ اپنی حیثیت اپنی مرضی پر زیور وغیرہ لا سکتے ہیں۔ اس سے ہمارا مقصد صرف یہ ہے کہ ہم اپنے اندر سے ہر کام میں فضول رسموں اور طریقوں کو ختم کردیں جو غیر اسلامی ہوں۔ اور حلال کمائی کا پیسہ بلاوجہ ان چیزوں پر ضائع نہ ہو۔ ہم کو اپنا پیسہ ان ذرائع میں استعمال کرنا چاہیے جن کاموں کے کرنے سے خدا خوش ہو یا کسی غریب یا مستحق انسان کو سیراب کرسکیں تاکہ اس کے عوض نیکیوں کی شکل میں آخرت میں مل سکے۔ ہم آپ سے یہ بھی استدعا کرتے ہیں کہ آپ ہماری اس نیک جذبے میں مدد کریں تاکہ کوئی غیر اسلامی فضول رسم نہ ہو۔ خداوند تعالی ہمارے ایمان میں زیادتی اور شوق کا عنصر پیدا کریں۔ ہمارے اور آپ کے درمیان جو محبت اور ہمدردی پیدا ہوئی ہے اس کو بڑھاتے رہیں۔ ہم میں اور آپ میں کسی قسم کی رنجش اور نفرت کو نہ آنے دیں۔ آخرت کی بھلائی ان لوگوں کے لیے ہے جو زمین پر اکڑ کر نہیں چلتے نہ فتنہ فساد برپا کرتے ہیں۔ ہم اس خدائے مالک الملک سے اس رشتہ داری کے سلسلے میں آپس کی محبت و الفت اور خیر و برکت کی طلب کرتے ہیں۔ اور خدا ہم کو شیطان مردود کے شر سے محفوظ رکھے کہ وہ انسان کا کھلا دشمن ہے، اسی نے ہمارے باپ آدم ؑکو جنت سے نکلوایا۔ ہمیں اس دشمن سے ہر وقت ہوشیار رہنا چاہیے۔ آخر میں ہم اپنے آقا ﷺ پر درود و سلام بھیجتے ہیں اور آپ ﷺ کے پاک نام کی برکت سے خیر طلب کرتے ہیں۔ہزاروں رحمتیں اور برکتیں آپ ﷺ پر نازل ہوں۔ آمین
فقط والسلام

Comments

Click here to post a comment