ترقی - وقاص سلیم رانا

"اِس ٹوک سَے مَنے آٹھ بندے کاٹے ایں" ٹوکے کے دستے پر سے جمے ہوئے خون کی تہہ کو ناخنوں سے کھرچتے ہوئے اس نے کہا۔ "آٹھ!!" غلام محمد نے خوف سے جھرجھری لی۔ "ہاں، آٹھ" "آج والے کی تو بس لاتاں ای کاٹی، مَنا تو چودھری صاب سَے کیہا تھا کہ اس کا بِی قصہ کھتم کردو۔ پر چودھری صاب نَے پتا نی کیوں ترَس کھا لَیا...