فارینہ الماسفارینہ الماس کو لکھنے پڑھنے کا شوق بچپن سے ہی روح میں گھلا ہوا ہے۔ ساتویں جماعت میں خواتین پر ہونے والے ظلم کے خلاف افسانہ لکھا جو نوائے وقت میں شائع ہوا۔ پنجاب یونیورسٹی سے سیاسیات میں ایم۔اے کیا، دوران تعلیم افسانوں کا مجموعہ اور ایک ناول کتابی شکل میں منظر عام پر آئے۔

توہماتی خیالات اور ہمارے عامل بابے - فارینہ الماس

جو معاشرے جہالت کی دلدل میں دھنس جائیں، وہاں بدتہذیبی اور بد فعلی کا چرچہ بےاختیار و بے حساب ہونے لگتا ہے۔ معاشی و معاشرتی بد حالی، سماجی و سیاسی عدم استحکام جیسی مختلف صورتیں افلاس اور بیماری کی صورت اپنا اندھا ناچ ناچتے ناچتے، جرم و بےراہ روی کے راستوں کو استوار کرتی چلی جاتی ہیں۔ علمی و ادبی سوچ...

error: اس صفحے کو شیئر کیجیے!