فارینہ الماسفارینہ الماس کو لکھنے پڑھنے کا شوق بچپن سے ہی روح میں گھلا ہوا ہے۔ ساتویں جماعت میں خواتین پر ہونے والے ظلم کے خلاف افسانہ لکھا جو نوائے وقت میں شائع ہوا۔ پنجاب یونیورسٹی سے سیاسیات میں ایم۔اے کیا، دوران تعلیم افسانوں کا مجموعہ اور ایک ناول کتابی شکل میں منظر عام پر آئے۔

اعتدال پسند سوچ اور دلیل - فارینہ الماس

زخم زخم وجود کو تو سنبھال لینا شاید پھر بھی ممکن ہے لیکن احساس چھلنی ہو جائے تو پھر اک عمر گزر جاتی ہے، اس کے گھائل وجود سے اذیت کے نشتر نکالتے نکالتے۔ احساس کو بنانے اور سنوارنے کے علاوہ گھائل کرنے میں بھی لفظوں کا بہت ہاتھ ہوتا ہے۔ مطلب یہ کہ الفاظ شخصیت ساز بھی ہیں اور شخصیت کے لیے وجہ بگاڑ بھی۔...