کامیابی کی خواہش ہر انسان کے دل میں ہوتی ہے، مگر اس کا مفہوم طے کرتے ہوئے ہماری نگاہ اکثر دولت، منصب اور شہرت تک محدود رہ جاتی ہے۔ ان کے حصول کے باوجود دل بے سکون اور زندگی خوف و اضطراب کا شکار ہو تو کامیابی کا سوال اپنی جگہ باقی رہتا ہے۔ حقیقی فلاح کا تعلق انسان کے باطن، کردار اور انجام سے ہے۔ اس کا راز ایسے ایمان میں پوشیدہ ہے جو سوچ کو درست سمت دے، خواہشات کو حدود کا پابند بنائے اور عمل میں دیانت و خیرخواہی پیدا کرے۔
جمعہ، 6 نومبر 2026ء کو مسجد نبوی میں فضیلۃ الشیخ پروفیسر ڈاکٹر جسٹس حسین بن عبدالعزیز آل الشیخ نے خطبہ جمعہ میں اسی جامع تصورِ کامیابی کو موضوع بنایا۔ انہوں نے واضح کیا کہ دنیا و آخرت کی فلاح اللہ پر ایمان، خالص بندگی اور اس کی اطاعت سے حاصل ہوتی ہے۔ اس ایمان کے اثرات انسان کی پوری زندگی، اس کے معاملات اور دوسروں کے ساتھ برتاؤ میں ظاہر ہونے چاہییں۔ہر انسان کامیاب ہونا چاہتا ہے۔ کوئی دولت میں کامیابی ڈھونڈتا ہے، کوئی منصب، شہرت اور اثرورسوخ میں۔ ان خواہشات کے پیچھے آسودگی پانے اور نقصان سے بچنے کی طلب موجود ہوتی ہے۔ لیکن جب کامیابی کا پیمانہ صرف ظاہری ترقی بن جائے تو آدمی بہت کچھ حاصل کرکے بھی بے سکون رہ سکتا ہے۔ خطبے نے اسی بنیادی سوال کی طرف متوجہ کیا کہ ہماری خواہشات کی سمت کون طے کرتا ہے؟ اسلام انسان کو ایسا راستہ دکھاتا ہے جس پر دنیا کی بھلائی اور آخرت کی نجات ایک ہی مقصد کے دو پہلو بن جاتے ہیں۔
اس راستے کی ابتدا ایمان سے ہوتی ہے، اور ایمان کا اثر انسان کی سوچ، فیصلوں، معاملات اور تعلقات میں ظاہر ہونا چاہیے۔ غیب پر یقین، نماز کی پابندی، اللہ کے دیے ہوئے مال میں دوسروں کا حق ادا کرنا، وحی کی رہنمائی قبول کرنا اور آخرت کی جواب دہی کو سامنے رکھنا اسی زندگی کی بنیادیں ہیں۔ جب بندہ اپنی عبادت، محنت اور روزمرہ مصروفیات کو اللہ کی رضا کے تابع کرتا ہے تو زندگی منتشر خواہشات کا مجموعہ نہیں رہتی۔ اسے ایک واضح سمت مل جاتی ہے اور ہر ذمہ داری عبادت کا موقع بن سکتی ہے۔انہوں نے خالص توحید اور اخلاص کو فلاح کا بنیادی تقاضا قرار دیا۔ بندگی صرف اللہ کے لیے ہو اور عقیدہ اس پاکیزہ سمجھ سے وابستہ رہے جس پر صحابہ اور ان کے پیروکار قائم تھے۔ اس کے ساتھ کتاب و سنت کی رہنمائی زندگی کے ہر معاملے میں قبول کرنا ضروری ہے۔ اطاعت کا امتحان وہاں ہوتا ہے جہاں ذاتی پسند، مفاد یا خاندانی روایت دینی حکم سے مختلف ہو۔ ایسے موقع پر اپنی خواہش کو پیچھے رکھنا ایمان کی عملی شہادت ہے۔ سچی بات کہنا، تقویٰ اختیار کرنا اور گناہ سے بچنا اسی وفاداری کی صورتیں ہیں۔
قناعت بھی کامیابی کے اس تصور کا اہم جزو ہے۔ جائز ضرورت پوری ہونے پر شکر اور میسر رزق پر اطمینان انسان کو مسلسل مقابلے کی تھکن سے بچاتے ہیں۔ قناعت محنت ترک کرنے کا نام نہیں؛ یہ حلال کوشش کے ساتھ دل کو حرص کی گرفت سے آزاد رکھنے کا نام ہے۔ جس شخص کی خواہشات ہر حاصل شدہ چیز کے بعد مزید بڑھتی رہیں، اس کی آسودگی ہمیشہ مؤخر رہتی ہے۔ ایمان بندے کو اللہ سے تعلق مضبوط کرنے، اس کی حفاظت پر بھروسا رکھنے اور سکون پانے کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ یوں تحفظ کا احساس جنم لیتا ہے۔تزکیہ نفس کا مطلب اپنی ان کمزوریوں کو پہچاننا ہے جو عبادت کے باوجود کردار کو کھوکھلا کرسکتی ہیں۔ خطبے میں بخل اور حرص کے خطرے پر خاص توجہ دی گئی۔ جب ذاتی فائدہ سب سے بڑی ترجیح بن جائے تو دوسروں کے حقوق معمولی محسوس ہونے لگتے ہیں۔ یہی کیفیت ظلم، حرام کمائی اور خونریزی تک لے جاسکتی ہے۔ سیدنا عبدالرحمن بن عوف کا اپنے نفس کی حرص سے بچنے کی دعا کرنا اسی گہری بصیرت کو ظاہر کرتا ہے۔ جس دل کو اس بیماری سے حفاظت مل جائے، اس کے لیے حرام سے بچنے کی راہ آسان ہو جاتی ہے۔
یہ پیغام ہمارے معاشرتی معاملات پر بھی روشنی ڈالتا ہے۔ کاروبار میں دیانت، وراثت میں انصاف، کمزور کے حق کا احترام اور ضرورت مند کی مدد ایمان کی عملی صورتیں ہیں۔ دولت جمع کرنے کی خواہش جب اخلاقی حدود عبور کرتی ہے تو رشتوں میں تلخی اور معاشرے میں بے اعتمادی بڑھتی ہے۔ عبادت کی روح آدمی کو اپنے حصے سے آگے بڑھ کر دوسروں کی ضرورت دیکھنا سکھاتی ہے۔ سخاوت صرف مال دینے تک محدود نہیں؛ کسی کا حق خوش دلی سے ادا کرنا اور ذاتی مفادات کے موقع پر عدل قائم رکھنا بھی اس کی صورتیں ہیں۔اخلاقی پاکیزگی کے ضمن میں خطیب محترم نے شراب، جوئے، شرکیہ رسوم، فال گیری اور دوسری تباہ کن برائیوں سے اجتناب کی تاکید کی۔ ایسی عادتیں انسان کی قوت فیصلہ، گھر کے سکون اور اجتماعی اعتماد کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ جرائم اور جادو کے راستے بھی حقیقی فلاح تک نہیں پہنچاتے۔ نماز اور پاکیزہ زندگی بندے کے اندر وہ ضبط پیدا کرتی ہیں جو آزمائش کے وقت کام آتا ہے۔ تکلیف پر بے قابو ہوجانا اور خوش حالی میں دوسروں سے ہاتھ کھینچ لینا انسانی کمزوریاں ہیں؛ ایمان ان دونوں حالتوں میں ذمہ داری یاد دلاتا ہے۔
مشکل حالات میں ثابت قدمی اس خطاب کا ایک نمایاں موضوع تھا۔ اللہ سے مضبوط تعلق رکھنے والا شخص آزمائش میں حوصلے میں رہتا ہے۔ اس کیفیت میں ذکر دل کو اطمینان دیتا اور خوف کے غلبے میں امید زندہ رکھتا ہے۔ اس کے ساتھ عافیت مانگنا، غیرضروری تصادم کی خواہش سے بچنا اور ناگزیر مقابلے میں ثابت قدم رہنا بھی ضروری ہے۔ اس طرز فکر میں جوش کے ساتھ ضبط شامل ہے۔ بندہ اپنی ذمہ داری ادا کرتا ہے، اپنی استطاعت بھر تدبیر اختیار کرتا ہے اور نتیجے کے لیے اللہ پر بھروسا رکھتا ہے۔
فلاح کی کوشش میں توبہ کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہتا ہے۔ انسان سے لغزش ہوتی ہے، مگر اصلاح کا امکان اس وقت روشن ہوتا ہے جب وہ غلطی تسلیم کرکے اللہ کی طرف پلٹتا ہے۔ سچی توبہ کے ساتھ نیک عمل ضروری ہے تاکہ ندامت زندگی کی تبدیلی میں ڈھل سکے۔ خطیب نے مسلسل رجوع اور استغفار کی ضرورت واضح کی۔ رسول اکرم کی زندگی میں کثرت سے توبہ کا اہتمام بندے کو اپنے احتساب کی تعلیم دیتا ہے۔ اس لیے اصلاح کو کسی خاص موسم یا بڑے حادثے تک مؤخر کرنا اپنے ہی ساتھ غفلت برتنا ہے۔
اس انفرادی تربیت کا تقاضا اجتماعی خیرخواہی ہے۔ ایک دوسرے کو حق کی نصیحت کرنا، بھلائی میں تعاون دینا، نیکی کی دعوت عام کرنا اور برائی سے روکنا معاشرے کی ذمہ داری ہے۔ گھروں، بازاروں اور اجتماعی اداروں میں یہی رویے مضبوط ہوں تو دین و دنیا کی اصلاح کا راستہ کھلتا ہے۔ کامیابی کا طالب اپنے آس پاس کی خرابی سے بے تعلق نہیں رہ سکتا۔ اسے اپنے کردار کی حفاظت کے ساتھ دوسروں کی بھلائی کے لیے بھی حصہ ڈالنا ہے۔ خیر کی یہ مشترک کوشش خوف اور انتشار کے مقابلے میں اجتماعی قوت پیدا کرتی ہے۔دوسرے خطبے میں خطیب محترم نے سعودی عرب کی بنیادوں کو توحید، شریعت کی بالادستی اور مسلمانوں کے مسائل کی حمایت سے وابستہ قرار دیا۔ انہوں نے مملکت کے خلاف سازشوں کے مقابلے میں مسلمانوں کے اتحاد، صبر، استقامت اور تقویٰ پر زور دیا۔ ان کی اپیل تھی کہ مسلمان مشترک خطرات کے سامنے یکجا ہوں اور اللہ کی مدد پر یقین رکھیں۔ یوں خطاب میں اجتماعی سلامتی بھی اخلاقی ذمہ داری کے ساتھ سامنے آئی، اور کامیابی کا تعلق باہمی تعاون، ثابت قدمی اور اپنے دینی اصولوں سے وابستگی کے ساتھ قائم رہا۔ خطبے کا مجموعی پیغام واضح تھا: حقیقی کامیابی ایمان سے سمت پاتی ہے، اطاعت سے مضبوط ہوتی ہے، قناعت سے سکون حاصل کرتی ہے اور خیرخواہی سے معاشرے تک پہنچتی ہے۔ اس کی جستجو کا آغاز روزانہ اپنے عمل کا جائزہ لینے سے ہوتا ہے۔



تبصرہ لکھیے