ہوم << ‏ اقبال کا شاہین – عبیدالرحمن
600x314

‏ اقبال کا شاہین – عبیدالرحمن

نوجوانوں کو مری آہِ سحر دے
پھر ان شاہین بچوں کو بال و پر دے
خدایا! آرزو مری یہی ہے
مرا نورِ بصیرت عام کر دے

معزز اساتذہ اور میرے ہم مکتب دوستو! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
موقع کی مناسبت سے آج میرا موضوعِ سخن ہے: ”اقبال کا شاہین“

محترم سامعین! ہمارے قومی شاعر، علامہ محمد اقبال بچوں سے خاص لگاؤ رکھتے تھے۔ انھوں نے کئی نظمیں صرف ہم بچوں کے لیے تحریر کیں۔ وہ اپنی قوم کے بچوں کو شاہین کہہ کر مخاطب کرتے تھے۔ گویا وہ یہ چاہتے تھے کہ ہم شاہین کی طرح غیور بنیں، خوددار بنیں، سخت جان، بہادر اور جفاکش بنیں۔ شاہین کی مانند ہم میں بھی فقیری ہو، درویشی ہو، بہادری ہو، جفاکشی ہو۔ بلند کردار، بلند ہمت، بلند حوصلہ اور ہماری پرواز ہماری پہچان ہو۔

نہیں ترا نشیمن قصرِ سلطانی کے گنبد پر
تو شاہیں ہے، بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں

حاضرینِ محترم! اقبال کا شاہین کبھی مایوس نہیں ہوتا۔ وہ علم کا رسیا اور حقیقت کا متلاشی ہوتا ہے۔ وہ اپنی خودی کو ہمیشہ بلند رکھتا ہے۔ خدا کی ذات پر مکمل یقین رکھتا ہے۔ وہ اپنی دنیا آپ پیدا کرتا ہے۔ نیا زمانہ، نئی صبح و شام پیدا کرتا ہے۔ اس کا طریق امیری نہیں، فقیری ہوتا ہے۔ وہ خودی نہیں بیچتا، غریبی میں نام پیدا کرتا ہے۔ اسے اپنی منزل آسمانوں میں نظر آتی ہے۔ وہ ستاروں سے جہاں پیدا کرتا ہے۔

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
تو شاہیں ہے، پرواز ہے کام تیرا
ترے سامنے آسماں اور بھی ہیں

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

ویب ڈیسک

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment