خودی میں ڈوب جا غافل یہ سرِّ زندگانی ہے
نکل کر حلقہ شام و سحر سے جاوداں ہو جا
صاحب صدر و معزز سامعین !
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
آج مجھے جس موضوع پر لب کشائی کا موقع ملا ہے ٬ وہ ہے : ” اقبال کا تصورِ خودی ”
سامعین محترم ! خودی کا تصور ٬ اقبال کے پیغام کا وہ مرکزی نقطہ ہے ٬ جس کے گرد اقبال کا سارا پیغام گھومتا ہے ۔ اقبال کی تمام شاعری ٬ ساری کتابیں اسی ایک نقطہ کی تشریح کرتی نظر آتی ہیں ۔ اگر کوئی ہم سے کہے ٬ اقبال کے نظریے کو ٬ اقبال کے فلسفے کو ٬ اقبال کی سوچ کو ایک لفظ میں بیان کریں ؛ تو وہ ایک لفظ ” خودی ” ہوگا ۔ اگر کوئی پوچھے ٬ اقبال کیا چاہتے تھے ٬ تو جواب ہوگا ٬ اقبال ہماری خودی کو بیدار کرنا چاہتے تھے ۔ اگر کوئی سوال کرے ٬ اقبال کا انتہائی مقصد کیا تھا ٬ تو جواب ہوگا ٬ اقبال کا مقصد یہ تھا کہ ہم اپنی خودی کی اتنی تربیت کریں ٬ اسے اس قدر ترقی دیں ٬ اس قدر بلند کریں کہ ہماری رضا خدا کی رضا بن جائے ۔
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
حاضرین مکرّم ! اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ خودی کہتے کسے ہیں ؟ خودی کا مفہوم کیا ہے ؟ خودی کی تشریح کیا ہے ؟
تو سنیے !
خودی نام ہے ٬ خود آگاہی کا ۔ خودی نام ہے ٬ خود شناسی کا ۔ خودی نام ہے ٬ اپنی پہچان کا ٬ خدا کے عرفان کا ۔ خودی حیات بھی ہے ٬ راز حیات بھی ہے ٬ تحفظ حیات بھی ہے ٬ ترقی حیات بھی ہے ۔ خودی ایمان ہے ۔ خودی عشق ہے ۔ خودی ذوقِ تسخیر ہے ۔ خودی ذوقِ طلب ہے ۔ خودی یقین کی گہرائی ہے ۔ خودی سرچشمہِ جدّت و ندرت ہے ۔
خودی کیا ہے رازِ درونِ حیات
خودی کیا ہے بیداریِ کائنات
ازل اس کے پیچھے ابد سامنے
نہ حد اس کے پیچھے نہ حد سامنے
سامعین محترم ! خودی کی مزید وضاحت میں یوں کرتا ہوں ٬ کہ خودی کیا نہیں ہے ۔ خودی ٬ تن آسانی نہیں ۔ خودی ٬ بے ایمانی نہیں ۔ خودی ٬ جمود و بے حسی نہیں ۔ خودی ٬ جہالت و بے علمی نہیں ۔ کسی کے آگے ہاتھ پھیلانا ٬ خودی نہیں ۔ لکیر کا فقیر بننا ٬ خودی نہیں ۔ دوسروں کا دست نگر ہونا ٬ خودی نہیں ۔ اپنی صلاحیتوں سے غفلت ٬ خودی نہیں ۔
بے فیضی ٬ بے طلبی ٬ بے ذوقی ٬ بے سوزی ٬ بے کیفی ؛ الغرض بے علمی ٬ بے عملی اور بے یقینی کی کوئی بھی قسم خودی نہیں اور اس کی ہر ضد خودی ہے ۔
خودی کی جلوتوں میں مصطفائی
خودی کی خلوتوں میں کبریائی
زمین و آسمان و کرسی و عرش
خودی کی زد میں ہے ساری خدائی



تبصرہ لکھیے