وہ بڑی خاموش رات تھی۔ دادی نے مجھے اپنے پاس بلا لیا۔ اس رات اس نے مجھ سے ڈھیروں باتیں کیں۔ وہ رات بھر مجھ سے باتیں کرتی رہیں۔
کہنے لگی، بچے! جب بچے روتے ہیں تو ماں باپ ان کو چپ کرانے کے لیے کھلونے لا کر دیتے ہیں۔ بیٹا! کبھی کبھی بڑوں کو بھی رو لینا چاہیے۔ جو نیلی چھتری والے کے آگے تنہائی میں روتا ہے، تو رب اس کو پھر کسی کے آگے رونے نہیں دیتا۔ اس کی زندگی میں کبھی زرد خزاں نہیں آتی۔
سوہنا رب بھی رونے والے کو کھلونے دیتا ہے۔ کسی کو سکونِ قلب کا کھلونا، کسی رونے والے کو جنت کا کھلونا، اور جو ضدی بچہ بہت روتا ہے، اللہ اسے اپنے قرب کا تحفہ عطا فرما دیتے ہیں۔
موت کی تیاری مکمل رکھو، یہ اس کو بھی آ جاتی ہے جو وصیت نہیں کرتا۔ کوئی راستہ پوچھے تو خوشی سے بتا دیا کرو، کبھی کبھی انسان راستہ بتاتے بتاتے خود منزل بن جاتا ہے۔
مخلوق سے نفرت کرنے والا، خالق سے محبت نہیں کر سکتا۔
کہنے لگی، بیٹا! کچھ محبتیں سجدوں کی طرح ہوتی ہیں، زندگی کی پیشانی پر وفا کا نشان چھوڑ جاتی ہیں۔ جن سے روح کے تار جڑے ہوں، ان کے اندر کی سب بولیاں، سب الفاظ سنائی دینے لگتے ہیں۔ انسان وہ نظم بھی سن لیتا ہے، جو کسی نے ابھی سنائی ہی نہ ہو۔
منفی اور برے لوگوں کی زہریلی باتیں اَن سنی کر دیں۔ یاد رکھیں، سپیرے کی شاعری میں زہر کا ذکر ضرور ہوگا۔
صدقہ ضرور دیا کرو۔ علم کا صدقہ جاہل کی باتوں کو برداشت کرنا ہے، اور زندگی کا صدقہ زندوں کی تکریم ہے۔
کہنے لگی، محبت ناممکن کی نفی ہے۔ نفرت کی کوکھ میں پلنے والے ایک دن خود نامرادی کی قبر میں اتر جاتے ہیں۔
بچوں کی طرح مٹی میں پاؤں سے گھروندے بنایا کرو، تاکہ تمہیں یاد رہے، زندگی کتنی ناپائیدار ہے۔ لوگوں کو تقسیم نہ کرنا، یہ آفاقی گناہ ہے اور آفاقی گناہ کی کم از کم سزا دل کی بے اطمینانی ہے۔
جس شہر کے باسیوں کا شجرہ نسب یاجوج ماجوج سے ملتا ہو، وہاں دیوار پر نام لکھنے کا کوئی فائدہ نہیں۔
بولی، پتر! علم اس کمال کا حاصل کرنا کہ ذہن دل کا درجہ پا لے۔ جب کوئی ذہن دل کا مقام حاصل کر لیتا ہے تو کائنات سرشاری سے جھوم جاتی ہے۔ وقت کا بلیک ہول سب کچھ نگل جاتا ہے، سوائے ان لوگوں کے جن کا علم ذہن کو اس طرح روشن کر دیتا ہے کہ وہ دل کے مقام کو جا پہنچتا ہے۔
اور پھر تہجد کے وقت ان کی خاموشی موت میں بدل گئی۔ دادی موت کی اندھی گھاٹی اتر گئی۔
میری پھپھو کہتی تھی، دادی کی موت بڑی خوبصورت تھی۔ یہ بات مجھے اپنی کچی عمر میں عجیب لگی تھی۔ میں سوچنے لگ گیا، کبھی موت بھی خوبصورت ہوئی ہے؟ خوبصورت تو ہمیشہ زندگی ہوتی ہے، بشرطیکہ وہ محبت کے آنچل میں لپٹی اور مامتا کی صندل جھیل میں نہائی ہوئی ہو۔



تبصرہ لکھیے