مرزا اسد اللہ خان غالب کی فارسی نثری تصنیف ’دستنبو‘ (Dastanbu) ان کے نثری کارناموں میں ایک تاریخی، سیاسی اور ادبی شاہکار کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ کتاب نہ صرف 1857ء کے ہنگاموں اور جنگِ آزادی کے چشم دید حالات کا دستاویزی ریکارڈ ہے، بلکہ اس میں غالب کی سیاسی بصیرت، مشاہدے کی گہرائی اور فارسی نثر کا انوکھا اسلوب بھی پوری آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر ہے۔
‘دستنبو’ فارسی زبان کا لفظ ہے جس کا لغوی معنی ہاتھ میں سونگھنے کا پھول یا خوشبو دار گلدستہ ہے۔ مرزا غالب نے اس کتاب کا یہ نام اس مناسبت سے رکھا تھا کہ جس طرح پھول دل کو شگفتہ کرتا ہے، اسی طرح یہ کتاب ان کے دل کے غموں اور زمانے کے حوادث کا ایک گلدستہ ہے۔دستنبو کے واقعات کا احاطہ مئی 1857ء سے لے کر جولائی 1858ء کے دوران کے پرآشوب حالات پر ہے۔ یہ کتاب پہلی بار نومبر 1858ء میں دہلی کے مطبعِ مفید خلائق آگرہ سے شائع ہوئی۔ اس کے پہلے ایڈیشن کے ساتھ ہی غالب نے ملکہ وکٹوریہ کی تعریف میں لکھا گیا اپنا مشہور قصیدہ بھی شامل کیا تھا تاکہ انگریز حکام کو یہ باور کرایا جائےکہ وہ امن پسند شہری ہیں اور حکومتِ وقت کے مخالف نہیں۔دستنبو غالب کی زندگی میں تین بار شائع ہوئی۔ دوسری بار 1865ء میں منشی پھندن لال نے مطبع لٹریری سوسائٹی روہیل کھنڈ سے تیسری بار 1868ء مطبع نول کشور لکھنؤ سے کلیات نثر غالب کے نام سے شائع ہوئی۔
اردو میں پہلی بار خواجہ حسن نظامی کی فرمائش پر 1920ء میں مرزا یعقوب بیگ نے غالب کا روزنامچہ کے عنوان سے شائع کیا۔1961ء میں دستنبو کا ترجمہ مخمور سعیدی نے کیا۔ مخمور سعیدی کا ترجمہ تحریک کے شمارہ اپریل مئی 1961 ء میں افکار کراچی کے شمارے غالب نمبر میں شائع ہوا۔1857ء کا ہنگامہ برصغیر کی تاریخ کا ایک ایسا زلزلہ تھا جس نے مغل سلطنت کی بساط لپیٹ دی اور دہلی کو خون اور آگ کے دریا میں ڈبو دیا۔ مرزا غالب دہلی ہی میں مقیم تھے اور انہوں نے اس پورے المیے کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ جب انگریز فوجوں نے دہلی پر دوبارہ قبضہ کیا (ستمبر 1857ء)، تو شہر میں قتلِ عام، لوٹ مار اور مسلمانوں پر مظالم کا بازار گرم ہو گیا۔ اس دور میں کسی کے لیے بھی انگریزوں کے خلاف ایک لفظ کہنا تو دور کی بات، غیر جانبدار رہنا بھی محال تھا۔ غالب نے اپنے مستقبل کو محفوظ بنانے اور انگریز حکام کی نظروں میں اپنی وفاداری ثابت کرنے کے لیے اس کتاب کو لکھنے کا فیصلہ کیا۔
اگرچہ غالب دل سے دہلی کی بربادی پر خون کے آنسو رو رہے تھے، لیکن ‘دستنبو’ میں انہوں نے واقعات کو بیان کرتے وقت ایک حد تک احتیاط اور سیاسی مصلحت سے کام لیا، کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ یہ کتاب براہِ راست انگریز حکام کے مطالعے میں جائے گی۔’دستنبو’ میں غالب نے مئی 1857ء کے اوائل سے لے کر جولائی 1858ء تک کے تمام اہم واقعات کو تاریخ وار (روزنامچے کی شکل میں) قلمبند کیا ہے۔ اس میں درج چند اہم موضوعات درج ذیل ہیں۔ مئی 1857ء میں جب میرٹھ سے سونت کے سپاہی دہلی پہنچے اور قلعے پر قبضہ کر کے بہادر شاہ ظفر کو اپنا بادشاہ تسلیم کیا، تو اس کے ابتدائی حالات اور شہر میں بے چینی کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں:
” 16 رمضان پیر کے دن دوپہر کے وقت 11 مئی 1857ء اچانک قلعے کےدرو دیوار اور دہلی کی فصلیں لرز اٹھیں۔ اور یہ زلزلہ چاروں طرف پھیل گیا۔ بات بھونچال کی نہیں اس منحوس دن، میرٹھ کی کینہ خواہ فوج کے چند بدبخت سر پھرے سپاہی شہر میں در آئے ۔سب کے سب بےشرم اور فسادی، انگریزوں کے خون کے پیاسے تھے۔“
انگریز فوجوں کی طرف سے دہلی کا محاصرہ، رسد کی کمی، عامتہ الناس کی پریشانیاں اور قلعے کے اندر بے بسی کا عالم ذکر کیا:
” دو تین دن شہر میں کشمیری دروازے سے چوک تک کا ہر راستہ میدان جنگ کا نمونہ با رہا ۔ اور اجمیری دروازہ ترکمان دروازہ اور دہلی دروازہ یہ تین دن دروازے اس طرف کی طرف کے قبضے میں رہے۔ ا س مردہ دل کا ماتم کدہ شہر کے وسط میں کشمیری دروازے اور دہلی دروازے کے درمیان اس طرح واقع ہوا کہ اس گلی سے دونوں دروازوں کا فیصلہ مساوی ہے۔ دروازہ کھولیں تاکہ عوام باہر نکلیں۔ اور کھانے پینے کا سامان لے آئیں .”
غالب نے ستمبر 1857ء میں انگریزوں کے ہاتھ دہلی کا دوبارہ زوال، شہر کا خالی کرایا جانا، بے گناہ شہریوں کا قتلِ عام اور املاک کی لوٹ مار کی مکمل تفصیل بیان کی۔پھر غالب نے انگریزوں کے ہاتھوں گرفتاری، کرنل برن کے سامنے پیشی، پنشن کی معطلی اور سامان کی بربادی کے صدمات کا دردناک تذکرہ کیا:
”زمانے کی نیرنگ سازی پر مرتا ہوں کہ اس لوٹ مار میں۔جب شہر کے کسی گھر میں مٹی تک نہیں بچی۔اس کے باوجود میرا گھر لٹیروں کی دراز دستی سے محفوظ رہا۔میں قسم کھا کر کہتا ہوں۔ کہ کپڑوں اور بستر کے علاؤہ کچھ نہیں بچا۔اس وقت جب کالوں ( فسادی فوج ) نے دہلی پر قبضہ کر لیا تو میری بیگم نے مجھے بتائے بغیر قیمتی سامان اور زیور جو کچھ تھا خفیہ طریقے سے پیر زادہ کالے خان کے گھر بھیج دیا وہاں محفوظ کر کے مٹی سے پاٹ دیا گیا۔بیگم نے جب مجھے اس راز و زار سے مطلع کیا تو جامن ہاتھ سے نکل چکا تھا ۔ میں چپ ہو رہا۔جولائی کا یہ مہینہ پندرہواں مہینہ ہے ۔ انگریزی حکومت سے جو قدیم پنشن ملتی تھی اب آنے کی امید نہیں۔ بستر اور کپڑے بیچ بیچ کر جسم وجان کی پرورش کررہا ہوں۔ گویا جب دوسرے لوگ روٹی کھاتے ہیں۔ میں کپڑے کھاتا ہوں۔ ڈرتا ہوں کہ جب سارے کپڑے کھا چکوں گا ۔ تو ننگا بھوکا مروں گا۔“
حکیم احسن اللہ خان کا تذکرہ کرتے ہوئے کہتے:
”ایک ایسا شخص جو تمرد کے سبب ، غلط پنداری میں مبتلا تھا ، اپنے مربی و محسن کا در پردہ حریف بن گیا۔ حکیم احسن اللہ خان کے بارے یہ شہرت پھیلا کر کہ طرف دار اور بہی خواہ انگریزوں کا ہے۔ ان کے اور باغیوں کے مابین آگ بھڑکا دی۔ حکیم احسن اللہ خان پر چڑھ دوڑے اگرچہ حکیم کو کوئی گزند نہیں پہنچا لیکن فتنہء ناروا جب تک ان کے خاندان کو برباد نہ کر چکا، نہ دبا ۔ ان کا محل کی نگار خانہء چین کی طرح خوشمنا اور آراستہ و پیراستہ تھا۔ لوٹ لیا گیا۔ محل کی چھت کو آگ لگا دی۔ہر شہتیر اور ہر تختہ جو اس وقت چھت میں جڑا ہوا تھا خاکستر ہوگیا۔“
‘دستنبو’ کی ادبی اور اسلوبی خصوصیات
‘دستنبو’ صرف ایک تاریخی روزنامچہ نہیں ہے، بلکہ یہ فارسی نثر کا ایک انوکھا اور شاہکار نمونہ ہے۔ اس کی ادبی خصوصیات درج ذیل ہیں:
غالب نے اس کتاب میں انتہائی مطلع اور مشکل فارسی الفاظ استعمال کیے ہیں۔ اس میں عربی اور فارسی کی ثقیل تراکیب اس کثرت سے ہیں کہ عام قاری کے لیے اس کا سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ غالب خود اس بات کے معترف تھے کہ انہوں نے فارسی میں آمد کے بجائے آورد سے کام لیا ہے ۔یعنی جان بوجھ کر خالص اور بوجھل فارسی لکھی ہے۔تاکہ عوام الناس اس کے اصل مندرجات اور بین السطور حقائق تک نہ پہنچ سکیں۔اور ان کی اپنی جان بھی اپنوں اور غیروں کے ہاتھوں محفوظ رہے ۔ ‘دستنبو’ کی نثر میں جابجا قافیے اور سجع پائے جاتے ہیں، جس سے یہ نثری تحریر شاعری کا گمان دیتی ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ الفاظ موسیقی کے سروں کی طرح ایک خاص آہنگ کے ساتھ ترتیب دیے گئے ہیں۔جیسے شروع میں لکھتے ہیں:
” آغاز اس خدا کے نام سے جو کامیابی بخشنے والا ہے جو چاند سورج اور رات دن کا پیدا کرنے والا ہے۔بڑی طاقت والا ہے وہ حاکم ، نو آسمانوں کو بلند کرنے والا سات سیاروں کو روشنی عطا کرنے والا اور بڑا علم والا ہے۔“
حالات کی ہولناکی کو بیان کرنے کے لیے غالب نے ایسے نادر اور بلیغ استعارے استعمال کیے ہیں جو قارئین کو ہلا کر رکھ دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر، انہوں نے غدر (جنگِ آزادی) کے لیے رستخیزِ بیجا (بے موقع قیامت) کا لفظ استعمال کیا۔ اس کے بارے میں لکھتے ہوئے کہتے ہیں:
”اس سال میں ، کہ جس کا تاریخی شمار ، بہ قاعدہ تخربہ رستخیز بےجا ہوگا۔“
1857ء کے حالات پر جتنی بھی کتابیں لکھی گئی ہیں، ان میں ‘دستنبو’ کو ایک مستند اور بنیادی ماخذ کی حیثیت حاصل ہے کیونکہ اس کا مصنف کوئی بیرونی مؤرخ نہیں بلکہ دہلی کا ایک حساس ترین شاعر تھا جس نے خود اس عذاب کو جھیلا تھا۔
غالب نے دستنبو انگریز کی تائید میں لکھی پے۔ خلیق احمد نظامی کے مطابق غالب کے دستنبو میں ذہنی مرعوبیت اور خوشامد کا پہلو غالب ہے ۔ اور وہ انگریزوں کی زبان میں بولے اور مصلحت کے قلم سے انہوں نے لکھا۔ یہ کتاب صرف باہر کے حالات کا بیان نہیں ہے، بلکہ یہ غالب کی داخلی کیفیات، ان کی خوف زدہ روح، ان کی بقا کی جنگ اور ان کی مصلحت کوشی کا بھی ایک سچا آئینہ ہے۔



تبصرہ لکھیے