ریاست جب قانون کے بجائے تماشے سے اپنی طاقت ثابت کرنے لگے تو سمجھ لیجیے کہ یہاں انصاف کا رہا سہا تصور بھی دم توڑ چکا ہے۔ پھر تھانے عدالت بن جاتے ہیں، پولیس جلاد کا کردار سنبھال لیتی ہے اور حکمران قانون کی بالادستی کے بجائے اپنی طاقت کے مظاہروں پر تالیاں بجانے لگتے ہیں۔
لاہور کے جوبلی ٹاؤن میں ایک پٹرول پمپ پر ایک نو دولتیے نے پمپ ملازم کے ساتھ دست درازی کی، اسے تھپڑ مارے اور اپنی لینڈ کروزر میں بیٹھ کر چلتا بنا۔ ریاست نے اسے گرفتار کر لیا۔ یہ وہ مقام تھا جہاں قانون کی عمل داری کا آغاز ہونا چاہیے تھا۔ ملزم کے خلاف مقدمہ درج ہوتا، تفتیش ہوتی، شواہد عدالت میں پیش کیے جاتے اور تعزیرات پاکستان کے مطابق سزا ملتی۔ مگر ہمارے ہاں ریاست کو شاید قانون کے اس طویل اور بورنگ راستے پر چلنے سے زیادہ دلچسپی فوری تماشے میں ہے۔چنانچہ تھانے میں پولیس کی موجودگی میں اسی زیرِ حراست ملزم کو پٹرول پمپ کے اسی ملازم سے جوابی تھپڑ لگوائے گئے۔یعنی ریاست نے انصاف کا نیا فارمولا دریافت کر لیا کہ جس نے تھپڑ مارا اسے بھی تھپڑ پڑواؤ اور پھر اس پورے عمل کی ویڈیو بنا کر دنیا کو بتاؤ کہ حکومت کتنی مستعد ہے۔
وزیراعلیٰ صاحبہ نے بھی اس منظر کو بڑے فخر سے سوشل میڈیا پر شیئر کیا اور اسے “فوری انصاف” کے طور پر پیش کیا۔ سوال یہ نہیں کہ پٹرول پمپ کے ملازم کے ساتھ زیادتی ہوئی یا نہیں۔ یقیناً ہوئی۔ سوال یہ ہے کہ اس زیادتی کا جواب دینے کے لیے ریاست نے خود کون سا راستہ اختیار کیا؟ وہی تشدد کا راستہ اور وہ بھی پولیس کی موجودگی میں اور پھر اس عمل کی وزیر اعلیٰ کے ٹویٹر ہینڈل سے تشہیر۔ریاست اور ہجوم میں بنیادی فرق یہی ہوتا ہے کہ ہجوم غصے میں فیصلہ کرتا ہے اور ریاست قانون کے مطابق۔ ہجوم مجرم کو پکڑ کر پیٹ سکتا ہے، اس کی تذلیل کر سکتا ہے اور اسے اپنے غصے کی تسکین کا ذریعہ بنا سکتا ہے۔ ریاست کا کام یہ نہیں۔ ریاست کو تو اس لیے اختیار دیا جاتا ہے کہ وہ انتقام کے اس چکر کو ختم کرے، نہ کہ اسے وردی، سرکاری عمارت اور حکومتی سوشل میڈیا اکاؤنٹ فراہم کرکے مزید معتبر بنا دے۔یہاں معاملہ صرف ایک تھپڑ کا نہیں، ریاستی ذہنیت کا ہے۔ جب حکومت کسی زیرِ حراست ملزم یا مجرم پر تشدد کو اپنی کامیابی کے طور پر پیش کرتی ہے تو وہ معاشرے کو یہ پیغام دیتی ہے کہ طاقت ور ہاتھ اگر سرکاری ہو تو اس کا اٹھنا قابلِ اعتراض نہیں۔یعنی یہ تو وہی بات ہو گئی کہ جس کے پاس اختیار ہے وہی طے کرے گا کہ کس کی عزت محفوظ ہے اور کس کی نہیں۔
اس طرزِ حکمرانی کا ایک خطرناک پہلو یہ بھی ہے کہ قانون کی اہمیت شخص کے جرم سے نہیں اس کی حیثیت سے طے ہونے لگتی ہے۔ لینڈ کروزر میں بیٹھا شخص جب ملازم کو تھپڑ مارتا ہے تو وہ اپنی سماجی حیثیت کے زعم میں قانون کو خاطر میں نہیں لاتا۔ جب ریاست اسے گرفتار کرتی ہے تو بظاہر اس زعم کو چیلنج کیا جاتا ہے لیکن پھر اسے تھانے میں سرکاری نگرانی کے تحت تھپڑ لگوا کر ایک دوسرے تماشے میں بدل دیا جاتا ہے۔ قانون کی حکمرانی کا مطلب یہ نہیں کہ طاقتور کو طاقت کے ذریعے ذلیل کیا جائے مطلب یہ ہے کہ طاقتور ہو یا کمزور دونوں کو ایک ہی قانون کے سامنے جواب دہ ہونا پڑے۔اور یہ بھی یاد رکھیں کہ ریاستی جبر ہمیشہ لاٹھی، گولی یا تشدد کی بڑی کارروائیوں کی صورت میں ظاہر نہیں ہوتا۔ کبھی وہ ایک چھوٹے سے منظر میں بھی اپنی پوری نفسیات سمیت سامنے آ جاتا ہے۔ جب کسی ملزم کی تذلیل کو سرکاری کامیابی بنا کر پیش کیا جائے اور جب قانون کی جگہ تالیوں کے لیے تیار کردہ منظر لے لے تو یہ اختیار کے اس تصور کی علامت بن جاتا ہے جس میں ریاست خود کو قانون سے بالاتر سمجھنے لگتی ہے۔
حکمرانوں کو شاید یہ فرق معمولی لگے مگر ریاست کی بنیاد اسی فرق پر کھڑی ہوتی ہے کہ قانون مجرم کو سزا دیتا ہے۔ ریاست اسے تماشا بنا کر اپنی طاقت کی نمائش نہیں کرتی۔اگر حکومت واقعی اپنی کارکردگی اور قانون کی حکمرانی چاہتی ہے تو اسے تھپڑوں کی ویڈیو نہیں بلکہ قانون کے مطابق کارروائی کی مثال پیش کرنی چاہیے۔میری رائے میں چیف منسٹر صاحبہ نے ایسی حرکت سے ثابت کیا کہ یہاں قانون نہیں ایسے کو تیسا فارمولہ رائج ہے۔اور یہ پہلو ہر قانونی شہری اور باشعور شخص کے لیے افسوسناک کے ساتھ شرمناک بھی ہے۔ میں جانتا ہوں پاپولر بیانئیہ یہی ہے کہ عدالتوں سے انصاف نہیں ملتا اور مجرم چھُوٹ جاتے ہیں لہذا اچھا ہوا۔ حکومت اگر واقعی سنجیدہ ہو تو عدلیہ اور پراسیکوشن میں ہنگامی ریفارمز لائے۔ وہ چونکہ مشکل کام ہے اس لیے آسان راہ یہی سوجھی کہ ایسے کو تیسا والا ماورائے قانون کام کیا جائے اور داد سمیٹی جائے۔ اگر حکومتوں نے یونہی آپریٹ کرنا ہے تو مافیا اور ان میں کیا فرق ہے ؟



تبصرہ لکھیے