دارالحکومت اسلام آباد میں کل رات بارش کی وجہ سے موسم میں خنکی آ گئی تھی۔ سردی کا احساس ہو رہا تھا۔ پہاڑوں میں گھِرے اس حسین شہر کی سڑکیں آج اتوار کے سبب سنسان دکھائی دے رہی تھیں۔ سورج کبھی بادلوں میں چھپتا، کبھی سامنے آ جاتا۔اس بنگلے کے باہر 18 بڑی گاڑیاں اور 20 بائیکس موجود تھیں۔ صبح سے قریب اتنی ہی گاڑیاں مختلف لوگوں کو چھوڑ کر جا چکی تھیں۔
یہاں صوفے نما کرسیوں پر بیٹھے 55 افراد ملک کے مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھتے تھے اور ملک کے مختلف حصوں سے آئے ہوئے تھے۔یہ تیسری اور آخری میٹنگ تھی۔ اس میں چیزیں طے کرکے آئندہ کا لائحۂ عمل بنانا تھا۔پہلی میٹنگ میں بنیادی تعارف، طریقۂ واردات اور مستقبل کے منصوبے پر بات ہوئی تھی، جبکہ دوسری میٹنگ میں کئی چہروں سے نقاب اٹھائے گئے۔ بالخصوص وہ تمام افراد، این جی اوز، اداروں، تنظیموں اور مولویوں کی تصویریں دکھا کر بتایا گیا کہ کس طرح یہ چاہتے نہ چاہتے ہوئے بھی مشرقی تہذیب کو ڈھانے اور مغربی تہذیب، الحاد اور جدیدیت کو بڑھانے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔آج آخری اور اہم ترین نشست تھی۔ گو کہ یہ مجلس اسلام آباد کے ریڈ زون میں تھی، لیکن پھر بھی باہر کئی سرکاری و پرائیویٹ اہلکار موجود تھے۔صوفے نما کرسیوں پر بیٹھے لوگوں کے ہاتھوں میں اس مسودے کی کاپی موجود تھی، جو پچھلے دو ہفتوں سے مسلسل راتوں کو جاگ کر، مسلسل غور و فکر اور باہمی مشاورت کے بعد تیار کیا گیا تھا۔
کلامِ پاک سے اجلاس شروع ہوا۔میزبان کی طرف سے پانی کی بوتلیں، جوس اور خشک میوے سب کے سامنے رکھے گئے تھے۔گزشتہ دونوں نشستوں کا خلاصہ بیان کیا گیا۔حاضرین کو کچھ وقت دیا گیا، جس میں وہ ان نکات کو ایک بار پھر پڑھ کر اپنے سائن کر دیں۔ ساتھ ہی اگر اس پر کچھ سوالات ہوں تو وہ بھی کر لیں۔کچھ نکات کو باہمی مشاورت سے شامل کیا گیا۔ چند ایک کو نکالا گیا۔ کئی گھنٹوں کی مسلسل بحث و مباحثہ، سوال و جواب اور چار ٹی بریک کے بعد بالآخر 27 نکات پر تمام کا اتفاق ہو گیا۔یہ نکات بنیادی طور پر اس سوال کا عملی حل تھے کہ ہم کس طرح اسلامی تہذیب کا پھر سے احیا کر سکیں، اپنی اور اپنی آنے والی نسلوں تک دین کی اصل پہنچا سکیں اور خدا کے حقیقی “خلیفہ فی الارض” بن سکیں۔صبح سے مغرب ہو گئی تھی۔ مغرب کی جماعت سب نے ایک امام کے پیچھے پڑھی۔اس کے بعد ان اہداف کو مختلف شعبہ جات اور مختلف جگہوں سے تعلق رکھنے والے افراد کس طرح حاصل کریں گے، کس طرح غیر اعلانیہ طور پر ایک دوسرے کی مدد کریں گے، اور اس راستے میں آنے والی مشکلات اور آزمائشوں کا مناسب حل کیا ہوگا، یہ سب پہلے ہی سوچ لیا گیا۔
اس بات پر سب متفق تھے کہ ہم بغیر الجھے، بغیر لڑے، خاموشی سے اپنا کام کرتے جائیں گے۔ اب چاہے وہ تعلیمِ قرآن ہو، سیرتِ رسول کے حلقے ہوں یا جدید علوم میں مہارت حاصل کرنا، ہمیں اپنے طے شدہ اہداف کی طرف بڑھتے رہنا ہے۔اس عزم کے ساتھ اس میٹنگ کا اختتام ہوا کہ:
“ہم گمنام ہو جائیں گے۔ کبھی خود سے اپنی شہرت نہیں چاہیں گے۔ کبھی اپنے مقصد سے منہ نہیں موڑیں گے۔ بسترِ مرگ تک رسول اللہ کے دین کی خدمت کریں گے۔ غلبۂ اسلام کی کوشش کرتے رہیں گے۔ اور اگر ہم کبھی اپنے مقصد سے منہ موڑنے کا سوچیں تو خدا ہماری سانسیں بند کر دے، ہماری روحیں ہمارے بدن کی قید سے آزاد ہو جائیں، ہم اپنے ہی خون نہلا دیے جائیں، ہمارے بچے یتیم ہو جائیں، ہماری مائیں ہم پر روئیں، ہماری ازواج بیوہ ہو جائیں۔”
یہ سابقہ کئی اجلاسوں کی طرح صرف ایک نشست نہیں تھی۔ یہاں باقاعدہ اہداف طے کیے تھے اور ان کے حصول کا طریقہ بھی سوچا گیا تھا۔اہداف کی کامیابی کو دیکھنے کا پیمانہ کیا ہوگا، کامیابی کیسے دیکھی جائے گی اور بڑے مقاصد کو چھوٹے چھوٹے حصوں میں تقسیم کرکے کیسے حاصل کیا جائے گا، ان سب پر بھی بات ہوئی تھی۔کیونکہ بہرحال اسلام غلبے کے لیے ہے۔ہم نہ ہوں، ہمارے بعد یا اس کے بعد والی نسل، اس جہان میں اسلام کا غلبہ ضرور دیکھے گی۔ ہمیں صرف اس کے لیے کوشش کرنی ہے۔ہمیں خود سے شروع کرنا ہے۔ اپنے گھروں میں قرآن و سیرت کی تعلیم عام کرنی ہے، اپنی نسلوں کو اسلامی تہذیب و تاریخ سے آگاہ کرنا ہے، جدید علوم میں مہارت حاصل کرنی ہے، اپنے کردار کو بہتر بنانا ہے اور ایسے ادارے قائم کرنے ہیں جو آنے والی نسلوں کی فکری و اخلاقی تربیت کر سکیں۔ان 27 نکات میں سے یادداشت کے مطابق دس اہم نکات یہاں لکھتا ہوں:
۱۔ تعلیمِ قرآن عام کریں گے۔
۲۔ سیرتِ رسول ﷺ پڑھیں گے، پڑھائیں گے۔
۳۔ صحابہ و اہلِ بیت سے محبت کریں گے۔
۴۔ اصل کو تھامیں گے اور اختلاف میں جمہور کا مؤقف اختیار کریں گے۔
۵۔ جدید علوم حاصل کریں گے اور تحقیق کو فروغ دیں گے۔
۶۔ دیانت، امانت، عدل اور حقوق العباد کو اپنی اجتماعی شناخت بنائیں گے۔
۷۔ شخصیت پرستی، فرقہ واریت، تعصب اور گروہی عصبیت کی حوصلہ شکنی کریں گے۔
۸۔ شوریٰ، مشاورت، احتساب اور امانتِ عامہ کے اصول اپنائیں گے۔
۹۔ مساجد کو تعلیم، تربیت اور سماجی خدمت کے مراکز بنائیں گے اور عوامی فلاح کے منصوبے شروع کریں گے۔
۱۰۔ کتابوں، لائبریریوں، علمی مجالس، ثقافتی سرگرمیوں، مکالمے اور باہمی تعاون کو فروغ دیں گے۔
یہ امید کی ایک کرن ہے۔آپ بھی اگر چاہیں تو ان نکات پر عمل کرکے اس تحریک کا حصہ بن سکتے ہیں۔یہ کام، یہ ذمہ داری کبھی کسی ایک فرد، جماعت یا ادارے کی نہ تھی، نہ ہوگی، بلکہ ہر وہ شخص جو قرآن سے محبت رکھتا ہے، رسول اللہ ﷺ کی سیرت کو اپنی زندگی میں اپنانا چاہتا ہے، اپنی نسلوں کو اسلام کے ساتھ بڑھتا دیکھنا چاہتا ہے اور معاشرے میں مثبت تبدیلی کا خواہش مند ہے، وہ اپنے دائرے میں یہ کام شروع کر سکتا ہے۔ہو سکتا ہے ہم اپنی زندگی میں اس کوشش کے واضح نتائج نہ دیکھ سکیں، لیکن ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کے لیے ایسی بنیادیں چھوڑ کر جائیں جن پر وہ ایک بہتر اسلامی معاشرہ تعمیر کر سکیں۔
ہم نہ ہوں، ہمارے بعد، یا ان کے بعد والی نسلیں سہی!
ہمیں کوشش کرنی ہے، اپنا کردار ادا کرنا ہے اور اس کام کو آگے بڑھانا ہے۔قرآن کریم کی آیت بھی ہے نا: جنہوں نے ہماری راہ میں کوشش کی، ضرور ہم ان کو اپنی راہ دکھلائیں گے۔اللہ کریم ہمیں کوشش کرنے والوں میں سے بنائے۔
وما علینا إلا البلاغ



تبصرہ لکھیے