دوپہر ڈھل رہی تھی، مگر سورج کی زردی میں گرمی کے بجائے ایک سرد سی پژمردگی گھلی ہوئی تھی۔ پرانی طرز کے اس خستہ حال مکان کا بڑا سا آنگن، جس کے وسط میں ایک پرانا نیم کا درخت اپنی سوکھی ٹہنیاں پھیلائے کھڑا تھا، اداسی کی تصویر بنا ہوا تھا۔ نیم کے پتوں پر ہلکی ہلکی گرد جمی تھی، اور ہوا کے ہر ہلکے جھونکے کے ساتھ پیلے پتے ٹوٹ کر نیچے گر رہے تھے، بالکل ویسے ہی جیسے اس گھر کے مکینوں کی امیدیں ایک ایک کر کے ٹوٹ رہی تھیں۔
بڑے کمرے کے روشن دان سے دھوپ کی ایک لکیر فرش پر ترچھی پڑ رہی تھی، جس میں اڑتے ہوئے گرد کے ذرے سست رفتاری سے ناچ رہے تھے۔ اس کمرے کے ایک کونے میں رکھی ہوئی پرانی چارپائی پر عادل لیٹا تھا۔ اس کا جسم ہڈیوں کا ڈھانچہ بن چکا تھا، اور اس کی سوجی ہوئی آنکھیں دیوار پر لگی گھڑی کی سوئیوں پر ٹکی تھیں، جو ٹک ٹک کر کے وقت کا زیاں گن رہی تھیں۔ ٹی بی کی موذی بیماری نے اس کے اندر کا سارا سجا سجایا انسان کھوکھلا کر دیا تھا۔ سانس کا ہر آنے والا جھونکا اس کے سینے سے ایک گھٹتی ہوئی سیٹی کی آواز پیدا کرتا، جسے سن کر دل دہل جاتا تھا۔
چارپائی کے بالکل قریب ایک چھوٹی سی لکڑی کی میز رکھی تھی، جس پر ادویات کی چند شیشیاں، پانی کا ایک میلا گلاس اور ایک پرانا کپڑا پڑا تھا۔ اس میز کے پاس ہی ایک مٹی کا موڑا (چھوٹی پیڑھی) پڑا تھا، جس پر زرینہ بیٹھی تھی۔ زرینہ، جو کبھی اس محلے کی ہنستی کھیلتی، خوش مزاج اور بانکی لڑکی ہوا کرتی تھی، آج اپنے ہی سایے کا عکس لگ رہی تھی۔ اس کے سفید دوپٹے کا پلو سر سے سرک کر کندھے پر گر چکا تھا، اور اس کے چہرے کی لکیریں عمر سے پہلے ہی گہری ہو گئی تھیں۔ اس کی آنکھیں رات بھر جاگنے اور مسلسل بہنے والے آنسوؤں کے باعث سرخ اور سوجی ہوئی تھیں۔
”پانی… زرینہ!“ عادل کی آواز اتنی مدھم اور دبی ہوئی تھی جیسے کسی گہرے کنویں کے اندر سے آ رہی ہو۔
زرینہ نے فوراً چونک کر اپنے آنسو جلدی سے آنچل سے پونچھے۔ چہرے پر ایک زبردستی کی جھوٹی مسکان سجائی، وہی مسکان جو اپنوں کو تسلی دینے کے لیے آخری ہتھیار ہوتی ہے، اور جھٹ سے اٹھ کر پانی کا گلاس اٹھایا۔ اس نے بڑے پیار اور احتیاط سے عادل کی گردن کے گرد بازوؤں کا سہارا دے کر اس کا سر اٹھایا اور گلاس اس کے خشک اور پپڑی زدہ ہونٹوں سے لگایا۔
عادل نے دو گھونٹ ہی لیے تھے کہ کھانسی کا ایک شدید دورہ اس پر ٹوٹ پڑا۔ وہ اپنے سینے کو زور زور سے دونوں ہاتھوں سے دبانے لگا۔ زرینہ نے گھبرا کر گلاس میز پر رکھا اور اس کی کمر تھپتھپانے لگی۔ ”آہستہ عادل… آرام سے… لمبی سانس لو۔“
کھانسی رکنے کے بعد عادل نڈھال ہو کر تکیے پر ڈھیر ہو گیا۔ اس کی سانسیں تیزی سے اوپر نیچے ہو رہی تھیں اور ماتھے پر پسینے کے ننھے ننھے قطرے چمک رہے تھے۔ اس نے ہانپتے ہوئے کمزور آواز میں کہا: ”زرینہ… اب مجھ سے یہ اذیت برداشت نہیں ہوتی۔ میں روز روز مرنے سے بہتر ہے کہ ایک بار مر جاؤں۔ میری وجہ سے تم دونوں… تم اور میری ننھی گڑیا میرب… کس عذاب میں مبتلا ہو گئے ہو۔“
زرینہ نے اس کا کانپتا ہوا، یخ بستہ ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں لے کر اپنے سینے سے بھینچ لیا، جیسے اسے دنیا کے ہر دکھ سے محفوظ کر لینا چاہتی ہو۔ اس کی پلکیں ایک بار پھر چھلک پڑیں، مگر اس نے آواز میں لرزش نہ آنے دی: ”یہ کیا کہہ رہے ہو جناب؟ ایسی نحوست بھری باتیں زبان پر مت لاؤ۔ تمھیں کچھ نہیں ہو گا، بس… بس تھوڑی سی دوا کا اثر ہو جائے گا تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔“
مگر وہ دونوں جانتے تھے کہ یہ محض خود کو اور ایک دوسرے کو دیا جانے والا فریب تھا۔ ڈاکٹر نے صاف کہہ دیا تھا کہ بیماری بہت پھیل چکی ہے اور اب علاج کے لیے جتنی رقم درکار ہے، وہ ان کے وسائل سے کوسوں دور تھی۔ اس گھر میں دو وقت کی روٹی کا انتظام مشکل سے ہوتا تھا، مہنگے انجکشن اور سیرپ تو دور کی بات تھے۔
اسی مکان کے ایک پچھلے چھوٹے سے کمرے میں، جسے باورچی خانے اور اسٹور کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا، گیارہ سالہ میرب ایک ٹوٹی ہوئی کرسی پر بیٹھی کتاب کھولے بیٹھی تھی۔ اس کے سامنے ایک مٹی کا چولہا تھا جس میں راکھ ٹھنڈی ہو چکی تھی۔ گھر میں نہ آٹا تھا، نہ دال، اور نہ ہی چولہا جلانے کے لیے لکڑی کا کوئی ٹکڑا۔
میرب کی کتاب پر اس کے اسکول کا ایک پرانا ہوم ورک کھلا تھا، مگر اس کی نگاہیں کتاب کے الفاظ پر نہیں بلکہ دیوار میں بنی ایک چھوٹی سی طاق پر رکھی ہوئی مٹی کی گُلک (بچت کا ڈبہ) پر جمی تھیں۔ وہ گُلک اس نے پچھلی عید پر ملی عیدی کے چند سکوں سے بھری تھی، جو اس نے اس امید پر بچا رکھی تھی کہ جب ابو کی طبیعت زیادہ خراب ہوگی تو وہ یہ پیسے نکال کر ان کے لیے کوئی اچھی سی دوا یا انگور لے کر آئے گی۔ مگر دو دن پہلے جب اس نے گُلک الٹا کر دیکھی تھی تو اس میں سے کل ملا کر پچاس روپے نکلے تھے—اتنی رقم جس سے ایک وقت کی روٹی بھی پوری نہیں آتی تھی۔
اسی دوران دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی اور ساتھ ہی پڑوسن بی بی جان کی دھیمی سی آواز آئی۔ بی بی جان اس محلے کی ایک غریب اور رحم دل ضعیف خاتون تھیں، جو اکثر ان کے دکھ سکھ میں شریک رہتی تھیں۔
زرینہ نے اندر سے دروازہ کھولا۔ بی بی جان کے ہاتھ میں ایک مٹی کے پیالے میں تھوڑا سا دلیہ اور دو روٹیاں تھیں۔ ان کے چہرے پر رحم اور شرمندگی کا ایک ملا جلا تاثر تھا، کیونکہ وہ جانتی تھیں کہ اس غریب گھرانے کے سامنے کھانا پیش کرنا بھی ان کی غیرتِ نفس پر کتنی بڑی چوٹ تھی۔
”زرینہ بیٹی… یہ ذرا میرب کے لیے لے آئی تھی، صبح کا بنا ہوا تھا۔“ بی بی جان نے جھجکتے ہوئے کہا۔
زرینہ نے ایک لمحے کے لیے نگاہیں اٹھا کر بی بی جان کو دیکھا۔ اس کے دل میں ایک کسک سی اٹھی، ایک شدید گھٹن نے اس کا گلا گھونٹ دیا۔ کبھی اس گھر میں بھی مہمانوں کی تواضع کے لیے طرح طرح کے کھانے پکتے تھے، لوگ ان کی سخاوت کی مثالیں دیتے تھے۔ آج نوبت یہاں تک پہنچ چکی تھی کہ دوسروں کی خیرات پر گزر بسر ہو رہی تھی۔ اس نے خود پر قابو پاتے ہوئے دھیمے لہجے میں کہا: ”شکریہ بی بی جان… آپ کی بڑی مہربانی ہے، زحمت کیوں کی آپ نے۔“
”زحمت کیسی بیٹی! ہم سب پڑوسی کس دن کے لیے ہیں؟“ بی بی جان نے اندر جھانک کر دیکھا، جہاں عادل کی کھانسی کی مدھم سی آواز آ رہی تھی۔ انہوں نے آہ بھر کر کہا: ”اللّٰہ…! عادل میاں کو جلد شفا دے، میرب بچی کا تو خدا ہی حافظ ہے۔ بچی بہت سمجھدار ہے، چپ چاپ سب دیکھتی رہتی ہے۔“
بی بی جان کے جانے کے بعد زرینہ وہ کھانا لے کر میرب کے پاس آئی۔ اس کی آنکھیں خشک ہو چکی تھیں، جن میں اب صرف ایک پتھرائی ہوئی ویرانی باقی تھی۔ اس نے روٹی کا ایک ٹکڑا توڑا اور میرب کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا: ”بیٹا، یہ کھا لو۔ تم نے صبح سے کچھ نہیں کھایا۔“
میرب نے ماں کے چہرے کو غور سے دیکھا، پھر دلیے کی طرف دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اس نے ماں کا ہاتھ پکڑ کر کہا: ”اماں… آپ نے کچھ کھایا ہے؟ ابو کو صبح سے کچھ نہیں ملا، کیا آپ نے ابو کو کھلایا؟“
زرینہ نے میرب کے سر پر ہاتھ پھیرا، اس کے گھنے بالوں میں انگلیاں چلائیں اور مسکرانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے بولی: ”ہاں بیٹا! ابو نے دوا پی لی ہے، اور میں نے بھی کھا لیا ہے۔ تم کھاؤ، تم تو میری بہادر بیٹی ہو نا۔“
مگر میرب بچی تھی، اتنی بھی چھوٹی نہیں کہ ماں کا جھوٹ نہ سمجھ پاتی۔ وہ جانتی تھی کہ اماں نے پچھلے دو دن سے صرف پانی پی کر دن گزارا ہے۔ اس کا دل بھر آیا اور اس نے روٹی کو ہاتھ تک نہ لگایا۔ اس نے سر جھکا لیا اور اس کے آنسو ٹپ ٹپ کر کے اسکول کی کاپی پر گرنے لگے، جہاں سیاہی پھیل گئی۔
••••••
شام گہری ہونے لگی تھی۔ آسمان پر بادلوں کے ٹکڑے جمع ہو رہے تھے، اور ہوا میں خنکی بڑھتی جا رہی تھی۔ عادل کی حالت اب کچھ زیادہ ہی غیر ہو رہی تھی۔ بخار تیز ہو گیا تھا اور وہ نیم بے ہوشی کی حالت میں بڑبڑا رہا تھا۔ کبھی وہ اپنے ماضی کے دنوں کو یاد کرتا، جب وہ ایک خوشحال نوکری پر تھا، جب اس کے پاس دوست احباب تھے، جب اس گھر میں ہنسی قہقہوں کا شور ہوا کرتا تھا، اور لوگ ان کی دعوتیں کھایا کرتے تھے۔
زندگی کتنی بے رحم ہوتی ہے جب یہ پلٹتی ہے۔ عادل کی کمپنی بند ہو گئی تھی، مالک فرار ہو گیا تھا، اور اسے پروویڈنٹ فنڈ اور گریجویٹی کے نام پر ایک دھیلا بھی نہیں ملا تھا۔ اس کے بعد رزق کی تلاش میں اس نے کیا کچھ نہیں کیا۔ چھوٹے موٹے کلرک کی نوکری، دکانوں پر حساب کتاب لکھنا، مزدوری تک کرنے کی کوشش کی، مگر جسمانی کمزوری نے اسے کہیں کا نہ چھوڑا۔ اس کی شرافت اور خودداری اس کی سب سے بڑی دشمن بن گئی؛ وہ کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے سے کتراتا رہا، یہاں تک کہ نوبت فاقوں تک پہنچ گئی۔ بیماریاں تو امیر غریب سب کو گھیرتی ہیں، مگر غربت کے ساتھ بیماری عذابِ مسلسل بن جاتی ہے۔
زرینہ عادل کے سرہانے بیٹھی اس کے ماتھے پر گیلے کپڑے کی پٹیاں رکھ رہی تھی۔ اس کا دل چاہ رہا تھا کہ زور زور سے چلائے، اس آسمان والے سے پوچھے کہ اس کا اور اس معصوم بچے کا کیا قصور تھا؟ کیا کسی غریب کو جینے کا بھی حق نہیں ہے؟
عادل نے اچانک اپنی آنکھیں کھول دیں۔ اس کی نگاہیں زرینہ کے چہرے پر ٹک گئیں۔ اس کے خشک ہونٹ ہلے، اور بڑی مشکل سے آواز نکلی: ”زرینہ… معاف کر دینا مجھے… میں تمھیں کوئی سکھ نہیں دے سکا۔ تمھاری جوانی اس ویرانے میں گھٹ گئی… رمشا کا بچپن میں نے چھین لیا۔ میں ایک ناکام انسان ہوں… ناکام شوہر… ناکام باپ۔“
زرینہ نے اپنا ہاتھ عادل کے منہ پر رکھ دیا اور رو پڑی۔ ”ایسی باتیں مت کرو عادل! تم نے مجھے دنیا کی ہر خوشی دی ہے، محبت دی ہے۔ یہ دن برے ہیں، گزر جائیں گے۔ تم بس جینے کی ضد کرو… میرے لیے، میرب کے لیے۔ اگر تمہیں کچھ ہو گیا تو ہم اس ظالم دنیا میں کہاں جائیں گے؟ کون پوچھے گا ہمیں؟“
عادل نے ایک دردناک مسکان کے ساتھ اپنا سر ہلایا۔ اس کی آنکھوں کے گوشوں سے آنسو نکل کر اس کے کان کے پاس جا گرے۔ اس کا ہاتھ بے جان ہو کر بستر پر گر پڑا۔
رات نے اپنی پوری سیاہی کے ساتھ اس محلے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ باہر تیز آندھی چل رہی تھی، جو مکان کے پرانے دروازوں اور کھڑکیوں کو اس زور سے ہلا رہی تھی جیسے کوئی باہر سے اندر آنے کی ضد کر رہا ہو۔ نیم کا درخت اس طوفان کے آگے جھک گیا تھا، اور اس کے پتے اس طرح اڑ رہے تھے جیسے کسی جنازے کے پیچھے بکھرے ہوئے پھول ہوں۔
کمرے میں جلتا ہوا ایک پرانا بلب زرد اور مدھم روشنی پھیلا رہا تھا، جس کی لو بار بار ہوا کے جھونکوں سے کانپ رہی تھی۔
عادل کی سانسیں اب بہت چھوٹی اور اکھڑی ہوئی ہو رہی تھیں۔ اس کے سینے سے ایک گڑگڑاہٹ کی آواز آ رہی تھی، جو موت کی آہٹ کا پتہ دے رہی تھی۔ میرب ڈر کے مارے کونے میں سکڑی بیٹھی تھی۔ اس کی آنکھیں خوف اور آنسوؤں سے پتھرا گئی تھیں۔ وہ کچھ بول نہیں پا رہی تھی، بس اتنی ہمت تھی کہ وہ ماں کا پلو زور سے پکڑے ہوئے تھی۔
”زرینہ…“ عادل کی آواز اتنی ہلکی تھی کہ بمشکل سنائی دی۔
زرینہ اس کے بالکل قریب جھک گئی۔ ”ہاں عادل… میں یہیں ہوں، آپ کے پاس۔“
عادل نے اپنی آخری طاقت جمع کرتے ہوئے اپنا ہاتھ اٹھایا اور زرینہ کے سر پر رکھا۔ اس کے ہونٹوں پر ایک ہلکی سی، پرسکون سی مسکان ابھری، جو طوفان کے درمیان دیے کی آخری لَو جیسی تھی۔ اس نے بمشکل کلماتِ شہادت ادا کیے: ”لا إله إلا الله… محمد رسول الله…“
اور اس کے ساتھ ہی عادل کا ہاتھ، جو زرینہ کے سر پر تھا، ایک دم سے ڈھیلا ہو کر نیچے لٹک گیا۔ اس کی بند ہوتی آنکھیں ہمیشہ کے لیے کھل گئیں، اور اس کے سینے کی وہ دردناک گھٹتی ہوئی آواز ہمیشہ کے لیے تھم گئی۔
کمرے میں ایک لمحے کے لیے مطلق سکوت چھا گیا۔ صرف باہر طوفان کی سائیں سائیں اور دروازے کے پٹخنے کی آواز آ رہی تھی۔
زرینہ نے ایک لمحے کے لیے اس بے جان چہرے کو دیکھا، پھر اس کی روح کو چیر دینے والی ایک چیخ اس کے سینے سے نکلی، جو اس گھر کی بوسیدہ دیواروں کو چیرتی ہوئی باہر طوفان میں گم ہو گئی۔
”عادل………………………………………!“
میرب نے ماں سے لپٹ کر چیخنا شروع کر دیا، اور اس چھوٹے سے گھر میں ایک قیامت برپا ہو گئی۔ ایک ایسی قیامت جس کی گونج سننے والا کوئی نہیں تھا، سوائے اس اندھیری رات اور آسمان کے۔
صبح ہوئی تو طوفان تھم چکا تھا۔ آسمان صاف اور نیلے رنگ کا تھا، اور سورج کی کرنیں اس اجڑے ہوئے آنگن میں اتر آئی تھیں۔ نیم کے درخت پر ایک چڑیا چپ چاپ بیٹھی چہچہا رہی تھی، جیسے اسے دنیا کے غموں سے کوئی واسطہ نہ ہو۔
مکان کے باہر چند ہمسائے جمع ہو چکے تھے۔ بی بی جان لوگوں کو دھیمی آواز میں ہدایات دے رہی تھیں۔ کفن دفن کا انتظام کیا جا رہا تھا۔ کچھ لوگ چندہ جمع کر کے لائے تھے تاکہ اس غریب کی تدفین عزت کے ساتھ ہو سکے۔
آنگن میں ایک کونے میں میرب گھٹنوں میں منہ دیے چپ چاپ بیٹھی تھی۔ اس کی آنکھیں اب بالکل خشک ہو چکی تھیں، جیسے اندر کا سارا پانی ختم ہو چکا ہو۔ اور بڑے کمرے میں، جہاں اب عادل کی میت ایک سفید چادر میں لپٹی رکھی تھی، زرینہ اس کے سرہانے پتھر کا بت بنی بیٹھی تھی۔ اس کے چہرے پر کوئی آنسو نہیں تھا، کوئی شکوہ نہیں تھا۔ بس ایک گہرا سناٹا تھا، جو اس بات کی گواہی دے رہا تھا کہ اس گھر میں اب کچھ بھی باقی نہیں بچا تھا، سوائے یادوں کے اس غبار کے، جو ہوا کے ہر ہلکے جھونکے کے ساتھ اڑتا رہتا تھا۔
زندگی اپنے ستم ڈھانے کے بعد ایک بار پھر معمول پر آ رہی تھی، مگر اس گھر کے لیے وقت ہمیشہ کے لیے رک چکا تھا۔
••••••
عادل کی تدفین کے بعد وہ گھر ایک ایسی ویرانی کی لپیٹ میں آ گیا، جہاں ہوا بھی سرگوشی کرنے سے ڈرتی تھی۔ وہ صحن، جہاں کبھی نیم کے پتوں کی سرسراہٹ گونجتی تھی، اب قبرستان کی سی خاموشی کا استعارہ بن چکا تھا۔
زرینہ جانتی تھی کہ اب زندگی نے اسے دو راہے پر لا کھڑا کیا ہے۔ ایک راستہ شکست تسلیم کر کے موت کے منہ میں چلے جانے کا تھا، اور دوسرا راستہ صبر، استقلال اور اپنی بیٹی کے مستقبل کے لیے انگاروں پر چلنے کا تھا۔ اس نے دوسرا راستہ چنا۔ عادل کی موت نے اس کے اندر کی کمزور عورت کو مار ڈالا تھا اور اس کی جگہ ایک ایسے آہنی عزم نے لے لی تھی، جو طوفانوں کے سامنے جھکنے سے انکاری تھا۔
شروع کے دن انتہائی کٹھن تھے۔ محلے کے چند رحم دل لوگوں اور بی بی جان کی معمولی مدد کے سہارے دو وقت کی روٹی کا بندوبست تو ہو جاتا تھا، مگر زرینہ کسی کی خیرات پر ہمیشہ زندہ نہیں رہ سکتی تھی۔ اس نے محلے کے ایک دو گھروں میں سلائی کڑھائی کا کام شروع کر دیا۔ وہ صبح سویرے اٹھتی، پرانی مشین کے پہیے کو گھماتی، جس کی کھرچ کھرچ کی آواز اس گھر کے سکوت کو چیرتی رہتی، اور دیر گئے تک سوتی تھی۔ اس کی انگلیوں پر سوئی کے چبھنے سے کتنے ہی زخم آئے، خون کے قطرے کپڑوں پر ٹپکے، مگر اس کے ماتھے پر شکن تک نہ آئی۔
دوسری طرف میرب بھی بڑی ہو گئی تھی۔ گیارہ سال کی اس بچی نے ایک ہی رات میں بچپن کی تمام رنگینیوں کو الوداع کہہ دیا تھا۔ وہ ماں کا دایاں ہاتھ بن چکی تھی۔ اسکول کی فیس دینے کے پیسے نہیں تھے، اس لیے اس نے اسکول چھوڑ کر محلے ہی کے ایک مکتب میں جانا شروع کر دیا، جہاں غریب بچوں کو مفت تعلیم ملتی تھی۔ شام کو وہ گھر آ کر ماں کا ہاتھ بٹاتی، برتن مانجھتی، اور رات کو دھیمے چراغ کی روشنی میں کتابیں پڑھتی۔
دونوں ماں بیٹی نے غربت کی اس چکی میں پستے ہوئے بھی اپنے وقار کو آنچ نہیں آنے دی۔ وہ محنت کی کمائی کھاتی تھیں، روٹی سوکھی بھی ہوتی تو اس میں صبر کا نمک شامل ہوتا تھا۔ لوگ اب حیرت سے ان کی اس جدوجہد کو دیکھتے تھے۔ بی بی جان اکثر محلے کی عورتوں سے کہتی تھیں: ”دیکھ لو، زرینہ نے مردوں کی طرح اس گھر کو سنبھال لیا ہے۔ یہ گھر نہیں، حوصلے کا ایک قلعہ ہے۔“
وقت کے مرہم نے زخموں کے منہ تو بند نہیں کیے تھے، مگر ان پر دھند ضرور ڈال دی تھی۔ تین سال بیت چکے تھے۔ میرب اب چودہ سال کی ایک سمجھدار اور سلجھی ہوئی نو عمر لڑکی بن چکی تھی، جس کی آنکھوں میں پڑھنے اور کچھ کر دکھانے کا ایک الگ ہی چمکتا ہوا خواب تھا۔
ایک دوپہر، جب زرینہ مشین پر کپڑے سی رہی تھی، میرب اسکول سے دوڑتی ہوئی گھر آئی۔ اس کے گال دوپہر کی دھوپ اور خوشی سے سرخ ہو رہے تھے، اور اس کے ہاتھ میں ایک کاغذ کا لفافہ تھا۔ اس نے دروازے پر ہی پکارا: ”اماں! اماں! جلدی سے باہر آؤ، دیکھو کیا ہوا ہے!“
زرینہ نے ہاتھ کا کام روکا اور مسکراتے ہوئے باہر آئی۔ ”کیا بات ہے میری بچی؟ ایسے کیوں ہانپ رہی ہو؟“
میرب نے وہ لفافہ ماں کے ہاتھ میں تھما دیا اور جوش سے بولی: ”اماں، شہر کے بڑے کالج کی طرف سے غریب اور ہونہار بچوں کے لیے اسکالرشپ کا امتحان ہوا تھا نا؟ میرا وہ امتحان پاس ہو گیا ہے! اور صرف پاس نہیں، بورڈ میں میرا وظیفہ لگا ہے! اب میری آگے کی پڑھائی کا سارا خرچ وہ ادارہ اٹھائے گا!“
زرینہ کے ہاتھ سے لفافہ چھوٹ کر زمین پر گر گیا۔ اس کی آنکھوں سے آنسو ٹوٹ پڑے۔ مگر اس بار وہ دکھ کے نہیں، بلکہ فخر اور سکون کے آنسو تھے۔ اس نے آگے بڑھ کر میرب کو اپنے سینے سے بھینچ لیا اور ہچکیاں لے کر رو پڑی۔ ”میری بچی… میری گڑیا! تیرے باپ کی روح آج جنت میں بہت خوش ہو رہی ہوگی۔ ہم جیت گئے میرب… ہم غربت سے جیت گئے۔“
اس شام اس چھوٹے سے گھر میں خوشیوں کا ایک الگ ہی سماں تھا۔ اگرچہ دسترخوان پر کھانے میں صرف دال اور روٹی تھی، مگر زرینہ اور میرب کے دلوں میں ایک عجیب سی راحت تھی۔ انہیں لگا کہ اب ان کے دکھوں کے دن ختم ہونے کو ہیں اور زندگی ایک نیا رخ اختیار کرنے جا رہی ہے۔
کچھ اور مہینے بیت گئے۔ میرب کی کالج کی زندگی شروع ہو چکی تھی۔ وہ روز صبح اٹھتی، استری شدہ سادی سی قمیض شلوار پہنتی، کندھے پر کتابوں کا تھیلا لٹکاتی اور مسکراتی ہوئی گھر سے نکلتی۔ اب محلے کے لوگ بھی عزت کی نگاہ سے ان کی طرف دیکھتے تھے۔ جنہوں نے کل تک ان کی غربت پر طعنے کسے تھے، آج وہ میرب کی کامیابی کی مثالیں دیتے تھے۔
زرینہ کے دل میں اب ایک امید جاگ چکی تھی کہ شاید اب وہ دن دور نہیں، جب اس کی بیٹی اپنے پاؤں پر کھڑی ہوگی، اور اس کی یہ ساری تھکن، یہ سارے آنسو سچے موتیوں میں بدل جائیں گے۔ وہ اکثر رات کو سوتے وقت عادل کی تصویر کو دیکھ کر کہتی: ”دیکھو عادل! تمھاری بیٹی نے تمہارا نام روشن کر دیا ہے۔ اب تمہیں دنیا کی کسی فکر میں گھلنے کی ضرورت نہیں ہے۔“
مگر زندگی کی کتاب کے پتے پلٹتے دیر کتنی لگتی ہے؟ انسان جب یہ سمجھتا ہے کہ اب ساحل قریب آ گیا ہے، تبھی سمندر کوئی نئی موج اٹھا دیتا ہے۔
وہ نومبر کی ایک سرد اور دھندلی شام تھی۔ سورج غروب ہو چکا تھا اور کہرا آہستہ آہستہ زمین پر اتر رہا تھا۔ زرینہ باورچی خانے میں چائے بنا رہی تھی اور انتظار کر رہی تھی کہ کب میرب کالج سے لوٹے گی، کیونکہ آج اس کا پہلا پرچہ تھا اور وہ کچھ دیر سے آ رہی تھی۔
اچانک دروازے پر دھڑا دھڑ دستک ہوئی۔ وہ کوئی عام دستک نہیں تھی، بلکہ کسی کی شدید گھبراہٹ اور بے چینی کا شور تھا۔
زرینہ کا دل ایک لمحے کے لیے بیٹھا، اس کے ہاتھ سے چائے کا چمچ نیچے گر گیا۔ اس نے دوڑ کر دروازہ کھولا۔
سامنے محلے کا ایک نوجوان ندیم کھڑا تھا، جس کا چہرہ زرد پڑ چکا تھا، سانس پھولی ہوئی تھی اور کپڑے دھول سے اٹے تھے۔ وہ کچھ بولنے کی کوشش کر رہا تھا، مگر اس کے حلق سے آواز نہیں نکل رہی تھی۔
”ندیم… کیا ہوا؟ میری بیٹی… میرب کہاں ہے؟“ زرینہ کی آواز لرز اٹھی، اس کا پورا جسم یخ پڑ گیا۔
ندیم نے ہانپتے ہوئے بمشکل اپنے الفاظ پر قابو پایا اور کانپتے ہوئے لہجے میں کہا: ”باجی… آپ… آپ حوصلہ رکھیں… کالج سے واپس آتے ہوئے مین روڈ پر… وہ جو تیز رفتار ڈمپر آ رہا تھا… میرب روڈ پار کر رہی تھی کہ…!“
اس کے آگے کے الفاظ ہوا میں تحلیل ہو گئے، یا شاید زرینہ کا دماغ مزید کچھ سننے کی سکت کھو چکا تھا۔
دنیا ایک لمحے میں الٹ گئی۔ پیروں کے نیچے سے زمین نکل گئی، اور کمرے کی چھت گھومتی ہوئی محسوس ہوئی۔ زرینہ کے منہ سے کوئی چیخ نہیں نکلی، کوئی سسکی نہیں آئی۔ بس اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ اس کے کانوں میں صرف ایک ہی جملہ گونج رہا تھا: یہی تو خاموش سسکاریوں کا شہر تھا… جہاں امیدیں سانس لینے سے پہلے ہی گھٹ جاتی ہیں۔
ایک ضروری بات: متن میں ایک جگہ عادل اپنی بیٹی کا نام ”رمشا“ لیتا ہے، جبکہ باقی پوری کہانی میں نام ”میرب“ ہے۔ اسے یکساں کر لیجیے۔



تبصرہ لکھیے