ہوم << خوف کے سائے میں جیتے شہری اور خود دفاع کی جنگ – تسنیم یوسف
600x314

خوف کے سائے میں جیتے شہری اور خود دفاع کی جنگ – تسنیم یوسف

کسی بھی تہذیب یافتہ، آمریت سے پاک اور فلاحی ریاست کی سب سے پہلی اور مقدس ذمہ داری اپنے ہر فرد کو جان، مال اور آبرو کا لازوال تحفظ فراہم کرنا ہوتی ہے۔ لیکن ذرا سوچیے، اس معاشرے کا انجام کیا ہوگا جہاں ایک باپ صبح گھر سے نکلتے وقت اپنے بچوں کو گلے لگاتا ہے تو یہ نہیں جانتا کہ وہ شام کو صحیح سلامت واپس لوٹے گا یا نہیں؟
جہاں ایک ماں کا دل اپنے کالج جانے والے بیٹے یا بیٹی کے لیے ہر پل دہشت کے تھپڑے کھاتا ہو؟

جب عام شہری اپنے ہی گھر کی دہلیز سے باہر قدم رکھتے ہی ایک اندیکھے خوف، غیر یقینی اور بے بسی کا شکار ہو جائیں، تو یہ صرف قانون و انصاف کی ناکامی نہیں رہتی، بلکہ یہ اس پورے معاشرے کی روح کا قتل اور اس کے اہل عقل کے لیے ایک لمحہ فکریہ بن جاتی ہے۔آج ہمارے بڑے شہروں کی سڑکیں، اندھیری گلیاں، بازاروں کا شور اور پبلک ٹرانسپورٹ کا سفر عام فرد کے لیے ایک ایسی قتل گاہ بن چکا ہے جہاں ہر موڑ پر سانسوں کی بولی لگتی ہے۔ اور جب ریاستی ادارے، جنہیں آپ کی حفاظت کے لیے چنا گیا تھا، خاموش تماشائی بن کر بیٹھے ہوں، تو عام آدمی کے پاس اپنے اور اپنے عزیزوں کے بچاؤ کے لیے “خود دفاع” کے سوا کوئی چارہ نہیں بچتا۔ لیکن کیا خود دفاع صرف کسی چوری یا ہتھیار سے بچنے کا نام ہے؟ ہرگز نہیں۔ اس کا دائرہ کار اس سے کہیں زیادہ گہرا، دردناک اور فکر انگیز ہے۔عام طور پر “خود دفاع” کا لفظ سنتے ہی ذہن میں ڈنڈے، ہتھیار یا فزیکل ہاتھا پائی کی تصویر ابھرتی ہے۔ مگر اصل خود دفاع اس ذہنی بیداری اور “سیچویشنل اوئیرنس” (ہر لمحہ اپنے ماحول سے آگاہ رہنے) کا نام ہے جو کسی بھی فرد کو اچانک آنے والے طوفان کے سامنے دیوار بنا دیتی ہے۔

سوچیے، ہمارے تعلیمی اداروں میں بچے سائنس اور میتھمیٹکس کے فارمولے تو رٹتے ہیں، لیکن کیا انہیں کبھی یہ سکھایا گیا کہ اگر وہ کسی سنسان راستے پر گھر جائیں، یا اگر ان کا سامنا کسی درندے سے ہو جائے، تو انہیں اپنے جسم اور ذہن کا دفاع کیسے کرنا ہے؟
یہ کسی ایک فرد کی ناکامی نہیں ہے، یہ ہمارے پورے تعلیمی اور معاشرتی نظام کا دیوالیہ پن ہے کہ ہم نے اپنے بچوں کو امتحان پاس کرنا تو سکھایا، لیکن جینے کے بنیادی قوانین اور حفاظت کے اصول نہیں سکھائے۔ اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کی سطح پر بنیادی خود دفاع اور ایمرجنسی رسپانس کو کریکلم کا لازمی حصہ کیوں نہیں بنایا جاتا؟
کیونکہ شاید ہمیں ابھی تک اندازہ ہی نہیں ہوا کہ ہماری نسلیں کس قدر غیر محفوظ اور زخمی ماحول میں پروان چڑھ رہی ہیں۔لیکن سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آخر کب تک عام شہری اپنی حفاظت کی جنگ خود لڑے گا؟
کیا ہم ٹیکس اس لیے دیتے ہیں کہ سڑکوں پر کھلے مین ہول ہماری جان لے لیں، اندھیری اور ویران سڑکیں سناتچرز اور ڈاکوؤں کی آرام گاہ بن جائیں، اور پولیس کی غفلت کی وجہ سے عام فرد اپنے ہی گھر میں قید ہو کر رہ جائے؟

ذمہ داری صرف عام شہری پر نہیں ڈالی جا سکتی کہ وہ اپنی حفاظت کے لیے ہتھیار اٹھائے یا دیواریں اونچی کرے۔ اصل ذمہ داری لوکل ایڈمنسٹریشن، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ان حکمرانوں کی ہے جو بڑے بڑے محلوں میں بیٹھ کر عام آدمی کی چیخ سننے سے قاصر ہیں۔ شہروں کا مکمل “سیفٹی آڈٹ” کیوں نہیں کیا جاتا؟ کہاں اسٹریٹ لائٹ خراب ہے، کس گلی میں پٹرولنگ کی کمی ہے، اور کون سے مقامات عام شہری کے لیے خطرے کی گھنٹی بنے ہوئے ہیں—اس کا حساب کون دے گا؟
جب ریاست بے حسی اور کرپشن کا شکار ہو جائے، تو تب عام شہریوں کو آپس میں مل کر “معاشرتی اتحاد” کی زندہ مثالیں قائم کرنی پڑتی ہیں۔ محلوں کی سطح پر “نیبرہوڈ واچ” کا نظام، پڑوسیوں کی خبر رکھنا، اور کسی بھی مشکل وقت میں آپس کی دیوار بننا—آج کے اس سنگین دور میں یہی وہ آخری سہارا ہے جو ہمیں ایک دوسرے کی جان بچانے کے قابل بناتا ہے۔ جب تک ہم اکیلے پن کا شکار رہیں گے، درندے ہمیں ایک ایک کر کے نوچتے رہیں گے۔ اتحاد اور آگاہی ہی وہ طاقت ہے جو اس خوف کے اندھیرے کو چیر سکتی ہے۔

آخر میں، یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ زندگی کی حفاظت کوئی خیرات یا احسان نہیں ہے، یہ فرد کا آئینی، انسانی اور بنیادی حق ہے۔ خود دفاع کو صرف ایک مجبوری یا ڈر کا نتیجہ سمجھنے کے بجائے، اسے اپنے حقوق کے لیے اٹھنے والی آواز اور ریاست کو اس کی غفلت پر جھنجھوڑنے کا ذریعہ بنانا ہوگا۔ جب تک ہر شہری اس حقیقت کو نہیں پہچان لیتا کہ اس کی جان قیمتی ہے، تب تک یہ خوف کے سائے ہمارا پیچھا نہیں چھوڑیں گے۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم چپ کا یہ عذاب ختم کریں، اپنے تحفظ کی جنگ خود لڑیں، اور اس سوئی ہوئی ریاست کو اس کی نیند سے جگانے کے لیے ایک نئی صبح کا آغاز کریں۔

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

ویب ڈیسک

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment