ہوم << اہلیت – زیان مصطفیٰ
600x314

اہلیت – زیان مصطفیٰ

پچھلے دنوں شہر سے باہر ایک تعلیمی کانفرنس میں جانے کا اتفاق ہوا۔ وہاں مختلف اداروں کے بک اسٹال لگے ہوئے تھے۔ میں ایک ایک اسٹال سے گزرتا رہا، پھر ایک اسٹال پر رک گیا.وجہ؟ وہاں Robotics کی کتابیں تھیں۔

کتاب کھولی تو حیرت ہوئی۔ چھٹی، ساتویں جماعت کے بچوں سے ایسے پروجیکٹس کروائے گئے تھے جو شاید یونیورسٹی کے طلبہ بھی نہ کر رہے ہوں۔ دیکھنے میں سب کچھ بہت خوب تھا، مگر ایک بات کھٹک رہی تھی. یہ نصاب اس عمر کے بچوں کے لیے موزوں نہیں لگ رہا تھا، جس عمر میں انہیں پڑھایا جا رہا تھا۔ظاہر ہے، ہر عمر کی اپنی سمجھ، اپنے غم، اپنے سیکھنے کے دائرے ہوتے ہیں۔پھر مصنف کے نام پر نظر پڑی۔ نام کے ساتھ ملک کی ایک نامور یونیورسٹی کا حوالہ درج تھا۔تصویر کافی حد تک واضح ہو چکی تھی، مگر تسلی دل کے لیے ادارے کے نمائندے سے پوچھ لیا:
’’یہ نصاب کس نے بنایا ہے؟ کیا انہوں نے نصاب سازی کی کوئی باقاعدہ تعلیم یا تربیت حاصل کی ہے؟ عمر کے لحاظ سے مضامین کے انتخاب کی بنیاد کیا ہے؟‘‘
پہلی بار تو وہ سوال ہی نہ سمجھ سکے۔ دوسری بار سمجھایا تو سوال کا جواب دینے کے بجائے کتاب کی خوبیاں گنوانے لگے۔ جب میں نے دوبارہ پوچھا تو انہوں نے جواب دینے کے بجائے، مصنف صاحب کی طرف بھیج دیا، جو خوش قسمتی سے وہیں موجود تھے۔

وہ میرے چچا کی عمر کے ہوں گے (گو کہ میرے کوئی چچا نہیں)۔ کندھے پر ہاتھ رکھ کر ’’بیٹا، بیٹا‘‘ کہتے ہوئے بڑے پیار سے سمجھانے لگے۔ مگر میرا سوال وہیں رہا۔ آخر میں فرمانے لگے: ’’آپ ہماری کتابیں تحفے میں لے جائیں، انہیں پڑھیے، پھر دیکھیے کہ ہم نے کیسا نصاب بنایا ہے۔‘‘
حالانکہ میرا سوال کتابوں کی افادیت کے بارے میں نہیں تھا بلکہ میں تو یہ جاننا چاہتا تھا کہ لکھنے والے اس کام کے اہل بھی ہیں یا نہیں۔ان کی علمی قابلیت اپنی جگہ، مگر نصاب سازی ایک الگ فن ہے۔ اس کے لیے بچوں کی ذہنی نشوونما، ان کی عمر، سیکھنے کی صلاحیت اور تعلیمی ضروریات کو سمجھنا ضروری ہے۔ یہ کام باقاعدہ علمی بنیادوں، تعلیمی قیادت اور ماہرین کی مشاورت سے ہی کیا جا سکتا ہے۔آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ سب کیوں بتایا؟

غور کیجئے!
کتاب عمدہ تھی۔ مصنف پڑھے لکھے تھے۔ مگر نصاب سازی ان کا میدان نہیں تھا، اس لیے یہاں چیزیں قابل غور تھیں. اسی بات کو زندگی کا اصول بنا لیں۔ دینی معاملات ہوں یا دنیاوی. کوئی شخص بند کمرے میں بیٹھا ہو یا کسی بھرے میدان میں کھڑا ہو، اگر کسی معاملے میں دعویٰ کر رہا ہے تو ذرا دیکھیے کہ آیا وہ اس کا اہل بھی ہے یا نہیں۔اسے مزید آسانی سے یوں سمجھئے. اگر فزکس یا ریاضی کا کوئی استاد اسلامی مضامین پر گفتگو کرے، یا دینیات کا کوئی استاد فزکس کے اصولوں پر بات کرے، تو اس سے بحث کرنے سے پہلے یہ دیکھیے کہ آیا وہ اس موضوع پر بات کرنے کی اہلیت بھی رکھتا ہے یا نہیں۔۔ (حاصل مطالعہ یا ذاتی رائے دینا الگ بات ہے)بات شخصیات کی نہیں، اہلیت کی ہے۔ ہر شخص ہر میدان کا ماہر نہیں ہو سکتا۔

اور اگر کوئی شخص چار کتابیں پڑھ کر یہ دعویٰ کرنے لگے کہ دنیا جہاں کا علم تو بس لوحِ محفوظ سے اس کے سینے میں، بغیر کسی مدد کے، اتر آیا ہے، تو اس کے دعوے کو سنجیدگی سے لینے کے بجائے اس کی ذہنی کیفیت پر غور کرنا زیادہ مفید ہوگا۔ ایسے رویّے بعض اوقات احساسِ کمتری یا اپنی علمی حیثیت کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کی علامت ہوتے ہیں۔ویڈیو دیکھنے سے پہلے، کتاب خریدنے سے پہلے، کسی کی بات کو درست ماننے سے پہلے، ایک لمحہ رک کر ضرور دیکھیے کہ جو شخص بتا رہا ہے یا لکھ رہا ہے، کیا وہ اس کام کا اہل بھی ہے؟

ورنہ چیزیں دیکھنے میں تو بہت خوب لگیں گی، مگر اپنی بنیاد میں کئی غلطیاں لیے بیٹھی ہوں گی۔اللہ تعالیٰ ہمارے لیے حق کو واضح فرمائے، ہمیں اسے پہچاننے اور قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اور ہمیں ہر معاملے میں اہلِ علم سے رجوع کرنے کی سمجھ دے۔ آمین۔

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

بلاگز

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment