درس بعد نمازِ ظہر
بیان: ڈاکٹر قاری محمد ضیاء الرحمٰن صاحب
امام و خطیب فیصل مسجد اسلام آباد
الحمدللہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علیٰ خاتم النبیین، اما بعد!
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ کون سی دعا مانگا کرتے تھے؟ تو انہوں نے دنیا و آخرت کی بھلائی مانگنے والی اس جامع دعا کا ذکر فرمایا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو زندگی کے مختلف معمولات کے لیے بہت سی دعائیں سکھائی ہیں۔ ان دعاؤں کو یاد کرنا، انہیں اپنے معمولات کا حصہ بنانا اور دوسروں کو بھی ان کی تعلیم دینا ہمارے لیے نہایت ضروری ہے۔حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اکثر دعا یہ ہوتی تھی:
رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ
ترجمہ: اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا فرما، آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔(صحیح بخاری، صحیح مسلم)
یہ ایک جامع دعا ہے جس میں انسان نے اپنے رب سے دنیا کی بھلائی بھی مانگی، آخرت کی بھلائی بھی مانگی اور جہنم کے عذاب سے پناہ بھی طلب کی۔
رکنِ یمانی سے حجرِ اسود تک کی مسنون دعا
یہ وہی مبارک دعا ہے جو طواف کے دوران رکنِ یمانی اور حجرِ اسود کے درمیان پڑھی جاتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس مقام پر یہ دعا پڑھنا ثابت ہے۔ اس لیے طواف کرنے والوں کو چاہیے کہ اس مسنون دعا کا اہتمام کریں۔اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بھی اس دعا کو ذکر فرمایا ہے، چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ(سورۃ البقرۃ: 201)
اگرچہ انسان اپنی ضروریات کے مطابق بہت سی دعائیں مانگتا ہے۔ لیکن یہ دعا اپنی جامعیت کے اعتبار سے خاص اہمیت رکھتی ہے۔ اس میں دنیا کی زندگی کی بھلائی، آخرت کی کامیابی اور جہنم سے نجات، تینوں چیزیں جمع ہو گئی ہیں۔
دنیا کی بھلائی سے کیا مراد ہے؟
اس دعا میں ہم اللہ تعالیٰ سے عرض کرتے ہیں: رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً، اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھلائی عطا فرما۔دنیا کی بھلائی میں سب سے بڑی نعمت ایمان کی دولت ہے۔ انسان دنیا میں آئے اور ایسے ماحول میں پرورش پائے جہاں اسے *اللہ تعالیٰ* کی وحدانیت، کلمۂ طیبہ اور دینِ اسلام کی تعلیمات سننے کو ملیں، پھر اللہ تعالیٰ اسے ایمان کی دولت سے نواز دے، تو اس سے بڑی نعمت کیا ہو سکتی ہے!
ایمان انسان کی سب سے قیمتی متاع ہے۔ دنیا کی تمام نعمتیں اپنی جگہ، لیکن ایمان کے بغیر انسان حقیقی کامیابی سے محروم رہتا ہے۔ لہٰذا ہمیں *اللہ تعالیٰ* سے ایمان پر استقامت اور خاتمہ بالخیر کی دعا بھی مانگنی چاہیے۔دنیا کی بھلائی میں دوسری اہم چیز اعمالِ صالحہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ انسان کو نیک اعمال کی توفیق عطا فرمائے، نماز کی پابندی نصیب فرمائے۔
قرآن مجید سے تعلق مضبوط کرے، والدین کے حقوق ادا کرنے، لوگوں کے ساتھ حسنِ سلوک کرنے اور اپنی زندگی کو شریعت کے مطابق گزارنے کی توفیق دے۔ یہ تمام چیزیں دنیا کی بھلائی بھی ہیں اور آخرت کی کامیابی کا ذریعہ بھیایمان اور اعمالِ صالحہ انسان کی روحانی خوبصورتی ہیں۔ جب انسان کے پاس ایمان بھی ہو اور نیک اعمال کی توفیق بھی، تو اس کی زندگی اللہ تعالیٰ کی اطاعت، قلبی سکون اور حقیقی سعادت سے آراستہ ہو جاتی ہے۔اسی طرح دنیا کی بھلائی میں صحت و تندرستی، عافیت، حلال اور پاکیزہ رزق، اہل و عیال کی بھلائی، نیک لوگوں کی صحبت اور زندگی کے معاملات میں خیر و برکت بھی شامل ہیں۔اللہ تعالیٰ کسی بندے کو یہ نعمتیں عطا فرما دے تو اس کی دنیا کی زندگی بھی بہتر ہو جاتی ہے۔ وہ حلال رزق کھاتا ہے۔ اللہ تعالی کی عبادت کرتا ہے، مخلوق کے حقوق ادا کرتا ہے اور اپنی زندگی کو خیر کے کاموں میں گزارتا ہے۔
آخرت کی بھلائی کیا ہے؟
دعا کے دوسرے حصے میں ہم کہتے ہیں:
وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً: یعنی اے اللہ! ہمیں آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما۔آخرت کی بھلائی میں اللہ تعالیٰ کی رضا، گناہوں کی مغفرت، حساب میں آسانی، نیک اعمال کی قبولیت، جنت کا حصول اور جہنم سے نجات شامل ہیں۔دنیا کی زندگی عارضی ہے جبکہ آخرت کی زندگی ہمیشہ رہنے والی ہے۔ عقلمند انسان وہ ہے جو دنیا کی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ اپنی آخرت کی تیاری بھی کرتا رہے۔ وہ دنیا میں رہتے ہوئے ایمان کی حفاظت کرے، نیک اعمال بجا لائے، حلال رزق کمائے اور اللہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق زندگی گزارے۔یہ دعا ہمیں سکھاتی ہے کہ ہم صرف دنیا کی آسائشیں نہ مانگیں اور نہ ہی دنیا کی جائز نعمتوں کو نظر انداز کریں، بلکہ دنیا اور آخرت دونوں کی بھلائی اللہ تعالیٰ سے طلب کریں۔
جہنم کے عذاب سے حفاظت کی دعا
اس دعا کے آخری حصے میں ہم عرض کرتے ہیں:
وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ: اے اللہ! ہمیں آگ کے عذاب سے محفوظ فرما۔یہ الفاظ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ دنیا کی بھلائیاں حاصل کرنا ہی کافی نہیں، بلکہ اصل کامیابی یہ ہے کہ انسان آخرت میں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے محفوظ رہے۔اس کے لیے ایمان کی حفاظت، توبہ و استغفار، نیک اعمال اور *اللہ تعالیٰ* کی رحمت کا طلب گار ہونا ضروری ہے۔اسی لیے اس جامع دعا میں دنیا کی بھلائی اور آخرت کی بھلائی مانگنے کے بعد جہنم کے عذاب سے پناہ مانگی گئی ہے۔
حج اور عمرہ کے ایام میں اس دعا کا اہتمام
حج اور عمرہ کے دوران بھی اس دعا کو پڑھنے کا اہتمام کرنا چاہیے۔ خصوصاً طواف میں رکنِ یمانی سے حجرِ اسود تک اسے پڑھنا مسنون ہےحج کے ایام میں قرآن و سنت سے ثابت دعاؤں کی کثرت اور اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مشغول رہنا باعثِ خیر و برکت ہے۔ہمیں چاہیے کہ اس دعا کو صرف زبان سے پڑھنے تک محدود نہ رکھیں بلکہ اس کے مفہوم کو سمجھیں اور اپنی زندگی میں اس کے تقاضوں کو پورا کرنے کی کوشش کریں۔
ہمارے لیے پیغام
ہم سب کو چاہیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سکھائی ہوئی دعاؤں کو سیکھنے، یاد کرنے اور اپنے روزمرہ معمولات میں پڑھنے کا اہتمام کریں۔ اپنے بچوں کو بھی دعائیں سکھائیں، اپنے گھر والوں کو ان کی ترغیب دیں اور دوسروں کو بھی اس طرف متوجہ کریں . یہ جامع دعا ہمیں دنیا و آخرت کی حقیقی کامیابی کا راستہ دکھاتی ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں دنیا میں ایمان، اعمالِ صالحہ، صحت، عافیت اور حلال رزق عطا فرمائے۔ آخرت میں اپنی رضا اور جنت نصیب فرمائے اور ہم سب کو جہنم کے عذاب سے محفوظ رکھے۔آمین یا رب العالمین۔



تبصرہ لکھیے