کسی ریاست کی قانونی بالادستی کا حقیقی امتحان محض جرم کی سزا دینے میں نہیں، بلکہ اس امر کو یقینی بنانے میں مضمر ہوتا ہے کہ قانون کا اطلاق منصفانہ، شفاف اور قابلِ احتساب طریقۂ کار کے مطابق ہو۔ جب کسی انسان کی زندگی کا خاتمہ عدالتی فیصلے کے تحت کیا جائے تو اس فیصلے کی قانونی بنیاد، استغاثہ کے شواہد، صفائی کے مواقع اور عدالتی کارروائی کی صحت غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتی ہے۔
سعودی عرب میں دو بنگلہ دیشی شہریوں کو سزائے موت دیے جانے کا حالیہ واقعہ اسی بنیادی سوال کو بین الاقوامی توجہ کا مرکز بنا رہا ہے کہ قانون کی حرمت، انصاف کی ضمانتوں اور سفارتی ذمہ داریوں کے درمیان توازن کس طرح برقرار رکھا جائے۔14 اکتوبر 2026 کو سعودی عرب کے حکام نے مکہ مکرمہ میں بنگلہ دیشی شہری نذرالاسلام عبدالبشیر اور سیتی اختر کی سزائے موت پر عمل درآمد کیا۔ سعودی وزارتِ داخلہ کے مطابق دونوں کو مسجد کے اندر ایک غیر اخلاقی فعل کے ارتکاب پر قصوروار قرار دیا گیا تھا اور عدالت نے تعزیری اختیار کے تحت سزائے موت سنائی تھی۔ سرکاری بیان میں جرم کی مکمل نوعیت، وقوعے کی تفصیلات اور دونوں کے خلاف پیش کیے گئے شواہد کی وضاحت نہیں کی گئی۔ چنانچہ یہ کہنا کہ انہیں محض بوس و کنار کے باعث سزائے موت دی گئی، دستیاب سرکاری معلومات سے ثابت نہیں ہوتا۔ اسی طرح دونوں کو میاں بیوی قرار دینے کا دعویٰ بھی مصدقہ شواہد کا محتاج ہے۔ ان امتیازات کو نظرانداز کرنا صحافت کو تحقیق کے بجائے قیاس آرائی میں تبدیل کر دیتا ہے۔
اس واقعے کا ایک اہم پہلو بنگلہ دیشی حکومت اور اس کے سفارتی مشن کو سزائے موت پر عمل درآمد سے قبل اطلاع نہ ملنا ہے۔ بنگلہ دیش کی وزیر مملکت برائے خارجہ امور شمع عبید اسلام کے مطابق ان کی حکومت کو اس واقعے کی تفصیلات بروقت فراہم نہیں کی گئیں۔ ڈھاکا نے سعودی حکام سے وضاحت طلب کی اور عدالتی فیصلوں کی نقول سمیت مقدمات کی تفصیلات حاصل کرنے کے لیے سفارتی رابطے کیے۔ 18 اکتوبر کو سعودی سفیر عبداللہ بن ظفر ایچ بن ابیہ کے ساتھ ملاقات میں بنگلہ دیشی حکام نے پہلے بھیجے گئے سفارتی مراسلے کی نقل فراہم کی۔ تاہم بنگلہ دیشی خبر رساں ادارے bdnews24.com نے واضح کیا کہ اس ملاقات کو باضابطہ طور پر سفیر کی طلبی قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ یوں معاملے کی سفارتی نزاکت اپنی جگہ، لیکن واقعات کی درست تعبیر بھی اتنی ہی ضروری ہے۔
اس ضمن میں 20 اکتوبر کو بنگلہ دیشی اخبار دی ڈیلی اسٹار میں شائع ہونے والی رپورٹ خاص طور پر قابلِ توجہ ہے۔ بنگلہ دیشی قونصل خانے کے ایک داخلی مراسلے کے مطابق نذرالاسلام کو یکم اگست 2023 کو سعودی عرب کے سائبر جرائم کے قانون کے تحت حراست میں لیا گیا تھا، جب کہ سیتی اختر کو اگلے روز زنا کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ قونصل خانے کو 30 ستمبر کو موصول ہونے والی قیدیوں کی فہرست میں دونوں کے نام موجود تھے، لیکن ان کے خلاف سزائے موت کا ذکر نہیں تھا۔ مراسلے میں یہ وضاحت بھی نہیں ملتی کہ ابتدائی طور پر درج الزامات کا تعلق ان جرائم سے کیسے قائم ہوا جن کی بنیاد پر بعدازاں سزائے موت دی گئی۔ قونصل خانے نے عدالتی فیصلوں کی نقول اور کارروائی کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ یہ رپورٹ ایک اہم دستاویزی شہادت ضرور ہے، لیکن اسے مکمل عدالتی ریکارڈ کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔
یہاں ایک بنیادی قانونی اصول سمجھنا ناگزیر ہے کہ کسی ریاست کی سرزمین پر موجود غیر ملکی شہری اس ریاست کے قوانین کے تابع ہوتے ہیں۔ روزگار، سیاحت یا مذہبی مقصد کے لیے کسی دوسرے ملک میں قیام قانون سے استثنا فراہم نہیں کرتا۔ تاہم قانون کی پابندی کا تقاضا یک طرفہ نہیں ریاست پر بھی لازم ہے کہ ملزم کو الزام سے آگاہی، منصفانہ سماعت، مؤثر دفاع اور اپنی صفائی پیش کرنے کے مناسب مواقع فراہم کرے۔ سزائے موت چونکہ ناقابلِ تلافی سزا ہے، اس لیے اس کے مقدمات میں شواہد کی جانچ اور عدالتی طریقۂ کار کی شفافیت مزید اہم ہو جاتی ہے۔ کسی الزام کی سنگینی بذاتِ خود ان سوالات کا جواب نہیں بن سکتی جو مقدمے کی قانونی صحت سے متعلق ہوں۔
بیرونِ ملک شہریوں کے حقوق کے حوالے سے قونصلر رسائی کا مسئلہ بھی قابلِ غور ہے۔ قونصلر تعلقات سے متعلق ویانا کنونشن کے آرٹیکل 36 میں زیرِ حراست غیر ملکی شہریوں کے قونصلر رابطے اور اطلاع سے متعلق حقوق بیان کیے گئے ہیں، جب کہ آرٹیکل 37(a) کسی غیر ملکی شہری کی موت کی اطلاع سے متعلق ہے۔ تاہم ان دفعات کے اطلاق میں قانونی تفصیلات اہم ہیں۔ آرٹیکل 36 کے تحت قونصل خانے کو اطلاع دینے کی ذمہ داری بالخصوص اس صورت سے متعلق ہے جب زیرِ حراست شہری اس کا تقاضا کرے، جب کہ آرٹیکل 37(a) موت کی اطلاع کے حوالے سے الگ اصول بیان کرتا ہے۔ کنونشن میں ہر صورت سزائے موت پر عمل درآمد سے پہلے دوسرے ملک کی حکومت کو لازماً پیشگی اطلاع دینے کی صریح شرط موجود نہیں۔ اس لیے اس معاملے میں کسی مخصوص شق کی خلاف ورزی کا حتمی فیصلہ مکمل قانونی ریکارڈ اور متعلقہ حالات کی جانچ کے بغیر نہیں کیا جا سکتا۔
اس واقعے کا دوسرا اہم پہلو ڈیجیٹل دنیا میں اطلاعات کی بے مہار گردش ہے۔ سزائے موت کی خبر سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر ایسی تصاویر اور ویڈیوز بھی پھیلائی گئیں جن کا ان دونوں شہریوں سے تعلق ثابت نہیں ہوا۔ انڈیا ٹوڈے کے حقائق کی جانچ کرنے والے شعبے نے ایک وائرل ویڈیو کی شناخت کرتے ہوئے بتایا کہ وہ دراصل 2015 میں سعودی عرب میں سزائے موت پانے والی میانمار کی ایک خاتون سے متعلق تھی۔ اس طرح ایک غیر متعلقہ ویڈیو کو موجودہ واقعے کے ساتھ جوڑ دیا گیا۔ اسی نوعیت کی دوسری تصاویر بھی غلط شناخت کے ساتھ گردش کرتی رہیں۔ تاہم انڈیا ٹوڈے کی تحقیق کو اسی مخصوص وائرل مواد کی تصدیق تک محدود سمجھنا چاہیے اس سے اصل مقدمے کے تمام قانونی حقائق خودبخود ثابت نہیں ہوتے۔
یہ طرزِ عمل محض صحافتی کوتاہی نہیں، بلکہ انسانی وقار اور اجتماعی شعور کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔ سزائے موت جیسے حساس موضوع پر غلط تصاویر نشر کرنا متعلقہ افراد کے اہلِ خانہ کے دکھ کو سنسنی خیزی میں بدل دیتا ہے اور عوامی رائے کو غیر مصدقہ معلومات کے زیرِ اثر لے آتا ہے۔ کسی خبر کی تصدیق کے لیے اصل سرکاری بیان، عدالتی دستاویزات، معتبر خبر رساں اداروں اور آزادانہ حقائق کی جانچ سے رجوع کرنا چاہیے۔ تصویر کی موجودگی، ویڈیو کی شدت یا سوشل میڈیا پر کسی مواد کا بار بار شیئر ہونا اس کی صداقت کا ثبوت نہیں بن سکتا۔
اس پورے معاملے میں سعودی عرب اور بنگلہ دیش دونوں کے لیے ذمہ دارانہ راستہ موجود ہے۔ سعودی حکام مقدمات کی تفصیلات، فیصلوں کی قانونی بنیاد اور متعلقہ کارروائی کے ریکارڈ سے بنگلہ دیشی حکومت کو آگاہ کریں، جب کہ ڈھاکا بیرونِ ملک اپنے شہریوں کو قانونی معاونت اور مؤثر قونصلر رہنمائی فراہم کرنے کے نظام کو مزید مضبوط بنائے۔ اگر متعلقہ سفارتی مشن کو بروقت معلومات میسر ہوتیں تو ممکن تھا کہ وہ قانونی معاونت یا دیگر سفارتی اقدامات کے امکانات کا جائزہ لے سکتا تاہم یہ کہنا کہ اس سے سزائے موت لازماً رک جاتی، قیاس آرائی ہوگی۔ بیرونِ ملک مقیم افراد کی قانونی آگاہی، ہنگامی رابطوں اور سفارتی معاونت کے مؤثر نظام کی اہمیت بہرحال مسلم ہے۔
بالآخر، کسی بھی مہذب معاشرے میں قانون کی حرمت اور انصاف کی ساکھ ایک دوسرے سے جدا نہیں ہو سکتیں۔ جرم ثابت ہو تو قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے، لیکن سزا کی سنگینی انصاف کے بنیادی تقاضوں کو کم نہیں کرتی۔ مکہ مکرمہ میں دو بنگلہ دیشی شہریوں کی سزائے موت کا معاملہ اس لیے اہم ہے کہ اس کے کئی بنیادی سوالات کے جواب مکمل عدالتی ریکارڈ سامنے آنے تک تشنہ ہیں۔ حقائق کی فراہمی، قانونی شفافیت، مؤثر سفارتی رابطے اور ذمہ دارانہ صحافت ہی اس واقعے کو افواہوں کے گرداب سے نکال کر ایک سنجیدہ قانونی و انسانی بحث میں تبدیل کر سکتے ہیں۔



تبصرہ لکھیے