ہوم << بے حسی کے عہد میں بانسری کا نوحہ – طارق بلوچ صحرائی
600x314

بے حسی کے عہد میں بانسری کا نوحہ – طارق بلوچ صحرائی

بانسری کی دھن مکمل کر کے وہ مسکراتا اور پھر قیدیوں کی طرف دیکھ کر کہتا،

’’ہجر اوڑھ کر وصل کے گیت گانا ہی زندگی ہے۔ کبھی کبھی زندگی ایسے موڑ پر لا کھڑا کرتی ہے کہ کشتیوں کے گیت صحراؤں میں گانا پڑتے ہیں۔ تہذیب کی کوکھ اعلیٰ روایات اور ارفع کردار سے بانجھ ہو چکی ہے، اور عرب کا دورِ جہالت ایک نئی صورت میں واپس آ چکا ہے۔ یہ بانسری کی لے میں ان بیٹیوں کے نام کرتا ہوں، جو بیٹے کی چاہ میں کوکھ میں ٹکڑے ٹکڑے کر دی گئی ہیں۔‘‘

جب معاشرہ بے حس اور خودغرض ہو جائے تو قلم چیختی ہے، لفظ سسکتے ہیں، آنکھیں بھیگ جاتی ہیں اور بانسری ماتم کرتی ہے۔اب تو ہو کا یہ عالم ہے کہ چپ بھی چیخ رہی ہے، خاموشی بھی بین کر رہی ہے۔ کیسی بے کسی ہے، کتنی بے بسی ہے! ہر آدمی اپنی لاش خود ڈھونڈ رہا ہے، اس کے کندھوں پر اپنی ہی میت ہے۔ زندہ لوگ تو بریدہ قدموں کی چاپ بھی سن لیتے ہیں۔انسان اسی روز مر جاتا ہے جس دن سے وہ خودغرض اور بے حس ہو جاتا ہے۔ جسے زمانہ موت سمجھتا ہے، وہاں فقط کفن اور قبر اضافی ہیں۔پھر قیدیوں کی طرف دیکھ کر کہتا، ’

’ہم میں سب خطاکار نہیں ہیں، ہم میں اکثر جرمِ ضعیفی اور جگانے کی سزا بھگت رہے ہیں۔کبھی کبھی میری عاجزی کا تکبر مجھے مجبور کرتا ہے کہ میں لوگوں کی برائیاں اور خامیاں بیان کرنے اور وعظ میں اتنا مگن ہو جاؤں کہ مجھے مظلوموں کی آہ اور بھوکے بچوں کی سسکیاں سنائی نہ دیں۔ ان کی نظروں میں انہیں اتنا گرا دوں کہ میں خود کو اونچے مقام پر محسوس کرنے لگوں۔ ان کا حق کھا کر تھوڑا سا اسی میں سے خیرات میں دے کر تشکر سمیٹوں، مگر یہ آگہی بھی کیسا عذاب ہے کہ خود کو دھوکہ دینے ہی نہیں دیتی۔ شاید خود کو فریب اور دھوکہ دینے والے ہی مزے میں رہتے ہیں۔‘‘

یہ دنیا بھی عجیب ہے! اگر آپ کا کشکول شیشے کا ہے تو یہ بھیک میں آپ کو پتھر دے گی۔

طارق بلوچ صحرائی کی کتاب ’’کتبے سے تراشی زندگی‘‘ سے ایک اقتباس