چند ہی لمحے پہلے نشر ہونے والی مٹی دے باوے کی قیامت خیز ساتویں قسط نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ اس ڈرامے کا شمار پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کے ان چند جاندار اور منفرد شاہکاروں میں ہوتا ہے جو روایتی ساس بہو کے جھگڑوں، گھریلو سازشوں اور کھوکھلی امیر غریب کی محبت کی کہانیوں سے کوسوں دور ہیں۔ یہ ڈراما اپنی مٹی، پنجاب کی اصل ثقافت، تلخ حقائق اور انسانی جبلت کے تاریک پہلوؤں کو اتنی بے باکی اور سچائی کے ساتھ پیش کرتا ہے کہ ناظرین سحر زدہ ہو جاتے ہیں۔
اس کی ساتویں قسط نے کہانی کو ایک ایسے لرزہ خیز اور خونی موڑ پر لا کھڑا کیا ہے جس نے دیکھنے والوں کے دل دہلا دیے۔یہ قسط المیے، درد اور تباہی کا مرقع تھی۔ بالے اور بلو کی پروان چڑھنے والی ممنوعہ محبت نے بالآخر دو ہنستے بستے خاندانوں کو اس طرح خاکستر کیا کہ انسانیت کانپ اٹھی۔ اس ہولناک آگ میں بالے کے معصوم بھائی، اس کی نئی نویلی دلہن، بلو کے شوہر اور اس کے دو خالہ زاد بھائیوں کو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑے۔اسلم عرف اچھی کی میت جیسے ہی گھر پہنچی، وہاں جو کہرام برپا ہوا، وہ کمال کا دردناک منظر تھا۔ محبت کے اس زہریلے سفر کا انجام جو تباہی لے کر آیا، وہ اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ معاشرتی اقدار سے بغاوت اور اندھی ہوس کا انجام کتنا بھیانک ہوتا ہے۔ نذیر شاہ کے ہاتھوں غیرت کے نام پر ہونے والا یہ قتل دراصل ہمارے معاشرے کے اس ناسور کو بے نقاب کرتا ہے جو آج بھی سینکڑوں گھر اجاڑ رہا ہے۔
ڈرامے کی سب سے بڑی طاقت اس کی حقیقت پسندی اور ثقافتی جڑیں ہیں۔ جب اسلم عرف اچھی کی لاش گھر پہنچی تو وہاں جو کہرام برپا ہوا، اس کی عکاسی اتنی جاندار اور دل چیر دینے والی تھی کہ ناظرین کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ پنجابی دیہات کا وہ روایتی ماحول، چارپائی پر رکھی میت کے اوپر ڈبیوں والا کھیس، خواتین کا بین ڈالنا اور اس غم و غصے کے عالم میں گھر بار چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور ہو جانا—ہر منظر اس قدر طبعی اور حقیقت کے قریب تر تھا کہ اسکرین اور حقیقت کا فرق مٹ جاتا ہے۔ کسی طاقتور کا پناہ دینا اور پھر وقت آنے پر اپنا مطلب نکالنا بھی ہمارے معاشرتی رویوں کو انتہائی عمدگی سے اجاگر کرتا ہے۔اقبال چنن اور بلو کا یہ عشق دو خاندانوں کے لیے قیامت خیز ثابت ہوا۔ اس دردناک المیے کو اسکرین پر پیش کرنے میں ہدایت کاری کے ساتھ ساتھ اداکاروں کی جاندار پرفارمنس کا بھی بہت بڑا ہاتھ ہے۔ معروف اور ورسٹائل اداکار سہیل احمد، عرف ’’پھجا کانا‘‘، نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا کہ وہ اداکاری کے فن پر کتنی گہری گرفت رکھتے ہیں۔ انہوں نے اپنے کردار کو جس کمال، سنجیدگی اور حقیقت پسندی کے ساتھ نبھایا ہے، اس نے اس قسط کے اثر کو کئی گنا بڑھا دیا۔ ان کے مکالمے اور چہرے کے تاثرات ناظرین کے دلوں پر نقش ہو جاتے ہیں۔
مجموعی طور پر مٹی دے باوے کی ساتویں قسط محض ایک تفریحی کہانی نہیں، بلکہ ہمارے معاشرتی رویوں، غیرت کے نام پر ہونے والے ظلم اور اندھی محبت کے انجام پر ایک گہرا فکری سوالیہ نشان ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میں اس ڈرامے پر دوبارہ لکھنے پر مجبور ہوا۔ مصنف نے جس بے باکی کے ساتھ دیہاتی زندگی کی تلخ سچائیوں کو قلم بند کیا ہے، وہ قابلِ تحسین ہے۔ یہ قسط ناظرین کو طویل عرصے تک یاد رہے گی اور یہ ڈراما پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری میں ایک سنگِ میل کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔



تبصرہ لکھیے