ہوم << جڑوں کا نوحہ – نعیم اللہ باجوہ
600x314

جڑوں کا نوحہ – نعیم اللہ باجوہ

انسان کی زندگی میں بعض زوال ایسے ہوتے ہیں جن کی ابتدا کسی حادثے سے نہیں بلکہ کسی دل آزاری سے ہوتی ہے۔ کوئی رشتہ بظاہر قائم رہتا ہے مگر اس کے اندر سے محبت رخصت ہو چکی ہوتی ہے۔ گھر اپنی جگہ موجود ہوتا ہے مگر اس کی فضا سے سکون اٹھ چکا ہوتا ہے۔ چہروں پر مسکراہٹیں باقی رہتی ہیں مگر دل ایک دوسرے سے بےخبر ہو جاتے ہیں۔ یہ سب کچھ اچانک نہیں ہوتا؛ اس کے پیچھے وہ چھوٹی چھوٹی بےرحمیاں ہوتی ہیں جنہیں ہم معمولی سمجھ کر نظرانداز کرتے رہتے ہیں۔

ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ ہمارے الفاظ صرف ایک لمحے کو زخمی کرتے ہیں، حالانکہ بعض الفاظ انسان کے اندر وہ دراڑ ڈال جاتے ہیں جو برسوں بعد بھی نہیں بھرتی۔ ہم کسی کی محبت کو اس کا فرض سمجھ لیتے ہیں، کسی کی قربانی کو اس کی مجبوری اور کسی کی خاموشی کو اپنی فتح۔ ہمیں احساس ہی نہیں ہوتا کہ جس دل کو ہم بار بار آزما رہے ہیں، ایک دن وہ ہماری خاطر دھڑکنا تو جاری رکھے گا مگر ہمارے لیے اس میں پہلے جیسی جگہ باقی نہیں رہے گی۔رشتوں کی سب سے بڑی بدقسمتی یہ نہیں کہ ان میں اختلاف پیدا ہو جائے، بلکہ یہ ہے کہ اختلاف کے دوران احترام مر جائے۔ اختلاف تو دو انسانوں کے درمیان ہو سکتا ہے مگر تحقیر ایک انسان کے اندر سے دوسرے انسان کی قدر ختم کر دیتی ہے۔ معافی مانگ لینے سے بعض غلطیاں سدھر جاتی ہیں لیکن ہر زخم پر معافی کا مرہم نہیں رکھا جا سکتا۔ کچھ زخم بھر بھی جائیں تو انسان کے اندر اعتماد کی وہ شاخ دوبارہ نہیں پھوٹتی جسے کبھی اپنوں ہی نے کاٹا تھا۔

ہم اپنی زندگی کی عمارت بلند کرنے میں اس قدر مصروف ہو جاتے ہیں کہ اس کی بنیادوں کی خبر ہی نہیں رکھتے۔ دولت بڑھتی رہتی ہے، آسائشیں جمع ہوتی رہتی ہیں، تعلقات کی فہرست طویل ہوتی جاتی ہے مگر دل کا گھر ویران ہونے لگتا ہے۔ ہم دنیا کو دکھانے کے لیے اپنی زندگی سنوارتے ہیں اور ان لوگوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں جن کی محبت نے کبھی ہمیں اس قابل بنایا تھا کہ ہم دنیا کے سامنے سر اٹھا کر کھڑے ہو سکیں۔یاد رکھیے، ہر نقصان کا حساب دولت سے نہیں ہوتا اور ہر محرومی کا سبب غربت نہیں ہوتی۔ بعض اوقات انسان کے پاس سب کچھ ہوتا ہے مگر وہ لوگ نہیں رہتے جن کے ساتھ بیٹھ کر اس کا دل ہلکا ہو جاتا تھا۔ گھر میں کھانے کی فراوانی ہوتی ہے مگر خلوص کی بھوک باقی رہتی ہے۔ آسائشوں کی کمی نہیں ہوتی مگر ایک دعا دینے والی آواز، ایک بےغرض مسکراہٹ اور ایک اپنا پن نصیب نہیں ہوتا۔رشتوں کو بچانے کے لیے ہمیشہ بڑے کام نہیں کرنے پڑتے۔ کبھی ایک نرم جملہ، کبھی اپنی غلطی کا اعتراف، کبھی کسی کی بات پوری سن لینا اور کبھی محض اپنی انا سے ایک قدم پیچھے ہٹ جانا محبت کو مرنے سے بچا لیتا ہے۔

بڑوں کی عزت، چھوٹوں سے شفقت اور اپنوں کے حقوق کی حفاظت کوئی رسمی اخلاقیات نہیں بلکہ اس انسانی وجود کی بنیادیں ہیں جس پر ہمارے کردار کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔زندگی کا المیہ یہ ہے کہ ہم اکثر ان لوگوں کی قدر ان کی موجودگی میں نہیں کرتے جن کی غیرموجودگی بعد میں ہماری پوری زندگی کا مفہوم بدل دیتی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ رشتے ہمیشہ میسر رہیں گے، محبت ہر بار ہماری زیادتی سہہ لے گی اور دل ہر مرتبہ ٹوٹ کر بھی پہلے جیسا ہو جائے گا۔ مگر وقت کسی کو واپس لانے کا پابند نہیں اور محبت کسی کے ظلم کو ہمیشہ برداشت کرنے کی پابند نہیں۔اس لیے اپنی زندگی میں ان لوگوں کی قدر اس وقت کیجیے جب وہ آپ کے پاس ہیں۔ ان کے دلوں کو اپنی برتری ثابت کرنے کی جگہ نہ بنائیے۔ اپنے حق کے ساتھ ان کے حق کو بھی پہچانیے اور اپنی خوشی کے ساتھ ان کے سکون کا بھی خیال رکھیے۔ کیونکہ انسان کی اصل کامیابی یہ نہیں کہ اس نے کتنی بلندیاں حاصل کیں بلکہ یہ بھی ہے کہ ان بلندیوں تک پہنچتے ہوئے اس نے کتنے دلوں کو اپنے ساتھ رکھا۔

شاخوں پر بہار سجانے سے پہلے بنیادوں کی خبر لیجیے؛ کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ زندگی بھر پھولوں کی آرائش کرتے رہیں اور ایک دن معلوم ہو کہ جس درخت سے یہ بہار وابستہ تھی، وہ اندر ہی اندر مر چکا ہے۔

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

نعیم اللہ باجوہ

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment