ایک ماں کی سب سے بڑی خواہش کیا ہوتی ہے؟
یہی کہ اس کی بیٹی تعلیم حاصل کرے، اپنے پیروں پر کھڑی ہو، اپنی ضروریات کے لیے دوسروں کی محتاج نہ ہو اور جب گھر سے باہر نکلے تو ماں باپ کا دل خوف سے نہ دھڑکے۔یہ خواہش بظاہر معمولی ہے، لیکن کیا پاکستان میں ہر ماں یہ اطمینان محسوس کرسکتی ہے؟
کراچی کی ڈیڑھ سالہ ایزل، راولپنڈی کے علاقے ڈھوک نجو کی 11 سالہ میمونہ اور سرگودھا کی آٹھ سالہ منتہا زہرہ کے واقعات سامنے رکھیں تو سوال صرف یہ نہیں رہتا کہ ان بچیوں کے ساتھ کیا ہوا۔ سوال یہ بھی ہے کہ ہمارے معاشرے میں بچیاں آخر کتنی محفوظ ہیں؟
اور ان کی حفاظت یقینی بنانے کی ذمہ داری کون پوری کرے گا؟
میں انقرہ، ترکیہ میں رہتی ہوں۔ میری 16 سالہ بیٹی روزانہ اسکول جانے کے لیے دو بسیں تبدیل کرتی ہے۔ چھٹی کے بعد اسی طرح گھر واپس آتی ہے۔ کبھی شام تو کیا رات کو بھی قریبی دکان سے کوئی چیز لینے چلی جاتی ہے،لیکن ہم ماں باپ کے دل میں کوئی خوف نہیں ہوتا کہ وہ ہراساں کی جائے گی۔بحیثیت ایک ماں کے مجھے بھی اپنی بیٹی کی فکر ہوتی ہے۔ لیکن یہاں روزمرہ زندگی کے ان معمولات کے دوران مجھے وہ مسلسل خوف محسوس نہیں ہوتا جو پاکستان میں بہت سے والدین کی زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔
یہ فرق میرے لیے محض دو ممالک کا تقابل نہیں، بلکہ ایک بنیادی سوال ہے: کیا بیٹی کی حفاظت کا مطلب اسے گھر تک محدود کردینا ہے، یا ایسا معاشرہ تشکیل دینا جہاں وہ محفوظ رہتے ہوئے آزادانہ زندگی گزار سکے؟
پاکستان میں کسی ناخوش گوار واقعے کے بعد عموماً والدین کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ بچوں پر نظر رکھیں، انہیں اکیلے باہر نہ بھیجیں، اجنبیوں سے دور رکھیں اور ان کی نقل و حرکت محدود کردیں۔ بچوں کو احتیاط سکھانا یقیناً ضروری ہے۔ لیکن کیا یہی کافی ہے؟
کراچی کی ڈیڑھ سالہ ایزل اپنے تحفظ کے لیے کوئی فیصلہ نہیں کرسکتی تھی۔ سرگودھا کی منتہا زہرہ گھر کے قریب ایک دکان سے دن کی روشنی میں بھرے بازار میں چیز لینے گئی تھی۔ راولپنڈی کی میمونہ دینی تعلیم کے لیے گھر سے نکلی تھی۔
ان واقعات کے پس منظر میں ایک سوال بار بار سامنے آتا ہے: جب بچے اپنی روزمرہ زندگی کے معمولات بھی محفوظ طریقے سے انجام نہ دے سکیں تو کیا اس مسئلے کا حل صرف والدین کی نگرانی بڑھانا ہے؟
تین واقعات، ایک بنیادی سوال
کراچی کی کمسن ایزل کے واقعے نے اس حقیقت کو پھر نمایاں کیا کہ بچوں کے خلاف سنگین جرائم کے معاملے میں کم عمری بھی انہیں خطرات سے مکمل طور پر محفوظ نہیں رکھتی۔ اتنی چھوٹی بچی تو کسی خطرے کو پہچاننے، اس سے بچنے یا کسی کو اپنی مشکل بتانے کی صلاحیت بھی نہیں رکھتی۔پھر راولپنڈی کے علاقے ڈھوک نجو سے 11 سالہ میمونہ کے مبینہ ریپ اور قتل کی خبر سامنے آئی۔ بی بی سی اردو کی 9 اکتوبر 2026ء کی رپورٹ کے مطابق، میمونہ 6 اکتوبر کو دینی تعلیم کے لیے گھر سے نکلی تھی لیکن واپس نہ آئی۔ بعدازاں اس بچی کی لاش اس کے خالو کے گھر سے برآمد ہوئی۔ یہاں ایک اہم پہلو ہے،بچی گھر سے کسی غیر ضروری سرگرمی کے لیے نہیں نکلی تھی۔ وہ تعلیم حاصل کرنے جارہی تھی۔ اس کے باوجود اس کا معمول کا سفر ایک دردناک واقعے پر ختم ہوا جس نے پورے خاندان کو صدمے سے دوچار کردیا۔اس کے بعد سرگودھا کی آٹھ سالہ منتہا زہرہ کا واقعہ سامنے رکھیے۔ جون 2026ء میں وہ اپنے گھر کے قریب کارخانہ بازار میں ایک دکان سے چیزیں لینے گئی تھی۔ جب وہ واپس نہ آئی تو اہلِ خانہ نے تلاش شروع کی اور پولیس سے رابطہ کیا۔ بعدازاں دکان کی بالائی منزل سے اس کی لاش برآمد ہوئی۔
سوچیے، ایک بچی گھر سے روزمرہ استعمال کی چیز لینے نکلتی ہے۔ بازار میں دکانیں کھلی ہیں، لوگ آ جا رہے ہیں، کاروبار جاری ہے۔ بظاہر سب کچھ معمول کے مطابق ہے۔ لیکن اسی ماحول میں ایک بچی کی زندگی چھن جاتی ہے۔ایک ماں کے لیے یہ تصور ہی ناقابلِ برداشت ہے۔ایسے واقعات کے بعد چند روز غم و غصے کا اظہار ہوتا ہے، سزاؤں کے مطالبات کیے جاتے ہیں اور پھر زندگی معمول پر آجاتی ہے۔ لیکن ان بچیوں کے والدین کے لیے زندگی کبھی پہلے جیسی نہیں ہوسکتی۔یہ سوال صرف یہ نہیں کہ ملزم کون ہے اور اسے کیا سزا ملنی چاہیے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ بچوں کی حفاظت کے لیے ہمارے گھروں، محلوں، تعلیمی اداروں، بازاروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں میں کیا تبدیلیاں درکار ہیں۔
اعداد و شمار کیا بتاتے ہیں؟
انفرادی واقعات دل دہلا دیتے ہیں، لیکن کسی مسئلے کی وسعت سمجھنے کے لیے اعداد و شمار بھی ضروری ہیں۔سسٹین ایبل سوشل ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (ایس ایس ڈی او) کی پنجاب میں بچوں کے خلاف تشدد سے متعلق فیکٹ شیٹ کے مطابق، جنوری سے جون 2025ء کے دوران صوبے میں بچوں کے خلاف تشدد کے 4,150 کیسز درج ہوئے۔ یعنی روزانہ اوسطاً تقریباً 23 کیسز۔یہ تمام کیسز جنسی زیادتی کے نہیں تھے۔ رپورٹ کے مطابق، ان میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے 717 کیسز شامل تھے۔ اس زمرے میں 658 کیسز کے چالان پیش کیے گئے، 581 مقدمات زیرِ سماعت تھے، جبکہ رپورٹ میں اس چھ ماہ کے عرصے کے دوران جنسی زیادتی کے ان کیسز میں کوئی سزا درج نہیں ہوئی۔ بچوں کے خلاف تشدد کے تمام زمروں میں مجموعی طور پر 12 سزائیں رپورٹ کی گئیں۔ یہ فرق سمجھنا ضروری ہے۔ 4,150 بچوں کے خلاف تشدد کے مجموعی کیسز ہیں، صرف جنسی زیادتی کے نہیں۔ تاہم 717 جنسی زیادتی کے رپورٹ شدہ کیسز اور ان میں سزا کا اندراج نہ ہونا اپنے اندر ایک سنگین سوال رکھتا ہے۔
یہ اعداد و شمار ہمیں کیا بتاتے ہیں؟
یہ کہ مسئلہ چند مشہور واقعات تک محدود نہیں۔ یہ بھی کہ مقدمہ درج ہونا، تفتیش مکمل ہونا، چالان پیش ہونا اور سزا ملنا انصاف کے مختلف مراحل ہیں۔ ایک مرحلے پر کارروائی ہوجانا اس بات کی ضمانت نہیں کہ متاثرہ بچے یا خاندان کو بالآخر انصاف بھی مل گیا۔یہاں ریاستی اداروں کی کارکردگی پر سوال اٹھانا ناگزیر ہوجاتا ہے۔
اگر بچوں کے خلاف جرائم رپورٹ ہورہے ہیں تو ان کی روک تھام کے لیے کیا اقدامات کیے جارہے ہیں؟
مقدمات کی تفتیش میں کیا رکاوٹیں ہیں؟ عدالتوں میں کارروائی میں تاخیر کیوں ہوتی ہے؟
اور بچوں کے خلاف جنسی جرائم کے مقدمات میں سزا کی شرح بہتر بنانے کے لیے کیا عملی اقدامات کیے گئے ہیں؟
اعداد و شمار محض اعداد نہیں ہوتے۔ ہر اندراج کے پیچھے ایک بچہ، ایک خاندان اور ایک ایسی زندگی ہوتی ہے جس پر جرم کے اثرات طویل عرصے تک باقی رہ سکتے ہیں۔
انقرہ میں میری بیٹی روزانہ دو بسیں تبدیل کرکے اسکول جاتی ہے۔ میں جانتی ہوں کہ عوامی مقامات پر خطرات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے اور ترکیہ میں بھی خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم پیش آتے ہیں۔ کسی ملک کو جرائم سے پاک قرار دینا درست نہیں ہوگا۔اس کے باوجود میرے ذاتی تجربے میں یہاں خواتین کی روزمرہ نقل و حرکت نسبتاً معمول کی بات ہے۔ نوجوان لڑکیاں عوامی ٹرانسپورٹ استعمال کرتی ہیں، خواتین اکیلے خریداری کے لیے جاتی ہیں، طالبات تعلیمی اداروں تک خود پہنچتی ہیں اور مائیں شام کے وقت بھی بچوں کے ساتھ پارکوں اور بازاروں میں دکھائی دیتی ہیں۔میں انقرہ سے استنبول تک اکیلے ٹرین میں سفر کرچکی ہوں۔ مختلف علاقوں میں پیدل چلی ہوں اور عوامی ٹرانسپورٹ استعمال کی ہے۔ ہر سفر میں یہ احساس غالب نہیں رہا کہ اکیلے باہر نکلنا ہی کسی بڑے خطرے کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ میرے لیے قابلِ غور بات یہ ہے کہ یہاں خواتین کی آزادی اور ان کی حفاظت کو ایک دوسرے کی ضد نہیں سمجھا جاتا۔ خواتین کا عوامی زندگی میں نظر آنا، اکیلے سفر کرنا اور اپنی ضروریات خود پوری کرنا معمول کا حصہ ہے۔
یہی وہ فرق ہے جس پر پاکستان میں سنجیدہ بحث ہونی چاہیے۔آخر ترکیہ میں خواتین نسبتاً محفوظ کیوں محسوس کرتی ہیں؟
اس سوال کا کوئی ایک سادہ جواب نہیں۔ نہ ہی میرے پاس ایسا تقابلی ڈیٹا ہے جس کی بنیاد پر یہ دعویٰ کیا جاسکے کہ ترکیہ ہر اعتبار سے پاکستان سے زیادہ محفوظ ہے۔ لیکن انقرہ میں رہنے کے میرے تجربے نے مجھے چند ایسے عوامل کی اہمیت سمجھائی ہے جو خواتین کے اعتماد اور نقل و حرکت میں کردار ادا کرسکتے ہیں۔
پہلا پہلو: عوامی ٹرانسپورٹ اور خودمختاری۔
انقرہ اور استنبول میں بسوں، میٹرو اور بین شہر ٹرینوں کا نظام خواتین کو سفر کے متعدد مواقع فراہم کرتا ہے۔ طالبات اور ملازمت پیشہ خواتین کو ہر سفر کے لیے کسی مرد رشتہ دار یا نجی گاڑی پر انحصار نہیں کرنا پڑتا۔جب ایک لڑکی خود بس میں سفر کرنا سیکھتی ہے تو وہ صرف ایک جگہ سے دوسری جگہ نہیں پہنچتی، بلکہ اپنی ذمہ داریاں سنبھالنا، راستے سمجھنا اور روزمرہ مسائل حل کرنا بھی سیکھتی ہے۔اس کے برعکس، اگر کسی علاقے میں ٹرانسپورٹ ناقابلِ اعتماد ہو، سڑکیں غیر روشن ہوں اور ہراسانی کا خدشہ زیادہ محسوس کیا جائے تو والدین کی پریشانی بڑھ جاتی ہے۔ بعض خاندان نجی ٹرانسپورٹ کے اخراجات برداشت کرتے ہیں، جبکہ کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے بیٹی کی تعلیم یا ملازمت کے مواقع محدود کرنا آسان راستہ بن جاتا ہے۔
دوسرا پہلو: آباد محلے اور فعال عوامی مقامات۔
انقرہ میں میں نے ایسے بازار، کیفے، پارک اور تجارتی علاقے دیکھے ہیں جہاں شام کے اوقات میں بھی لوگوں کی آمدورفت جاری رہتی ہے۔ سڑکوں پر مناسب روشنی، عوامی مقامات کی سرگرمی اور قابلِ رسائی سہولتیں کسی جگہ کے بارے میں لوگوں کے احساسِ تحفظ پر اثر ڈال سکتی ہیں۔یہ اقدامات جرم کو ناممکن نہیں بناتے، لیکن شہری ماحول کو بہتر بنانے اور عوامی زندگی میں اعتماد پیدا کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔پاکستان میں بھی سڑکوں کی روشنی، ٹرانسپورٹ کے محفوظ انتظامات، عوامی مقامات کی نگرانی اور ہنگامی مدد تک فوری رسائی کو شہری منصوبہ بندی کا بنیادی حصہ ہونا چاہیے۔
تیسرا پہلو: معاشرتی رویے اور بچوں کی تربیت۔
میں یہ دعویٰ نہیں کرسکتی کہ ہر ترک خاندان اپنے بچوں کی تربیت ایک ہی انداز میں کرتا ہے، یا ترک مردوں کے رویے ہمیشہ مثالی ہوتے ہیں۔ لیکن ایک بنیادی اصول ہر معاشرے کے لیے اہم ہے: لڑکوں کو یہ سکھایا جائے کہ خواتین اور بچیاں اپنی مرضی سے عوامی مقامات پر آنے جانے کا حق رکھتی ہیں اور ان کی حدود کا احترام کرنا لازم ہے۔ایک لڑکی کا اکیلے سفر کرنا کسی کو اسے ہراساں کرنے کا حق نہیں دیتا۔ کسی عورت کا لباس، کسی بچی کا گھر سے نکلنا یا کسی خاندان کا اپنے بچوں پر اعتماد کرنا جرم کی ذمہ داری متاثرہ فرد پر منتقل کرنے کا جواز نہیں ہوسکتا۔پاکستان میں بھی تربیت کا مقصد صرف بچیوں کو خطرات سے آگاہ کرنا نہیں ہونا چاہیے۔ لڑکوں کو بھی رضامندی، ذاتی حدود، احترام اور قانون کی پابندی کی تعلیم دینا ضروری ہے۔
چوتھا پہلو: مختلف طرزِ زندگی کے لیے عوامی جگہوں میں گنجائش۔
ترکیہ میں میں نے حجاب پہننے والی اور حجاب نہ پہننے والی خواتین کو ایک ہی بس، میٹرو، بازار، جامعہ اور کیفے میں دیکھا ہے۔ ان کے لباس اور طرزِ زندگی میں فرق کے باوجود وہ عوامی زندگی میں شریک ہوتی ہیں۔اس مشاہدے نے مجھے یہ سمجھنے میں مدد دی ہے کہ خواتین کی آزادی کو کسی ایک لباس، کسی ایک ثقافتی شناخت یا جدیدیت کے کسی ایک تصور سے مشروط نہیں ہونا چاہیے۔مذہب اور خواتین کے تحفظ کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کرنے کے بجائے یہ سوال اٹھانا چاہیے کہ معاشرہ اپنے اصولوں کو عملی زندگی میں کس طرح نافذ کرتا ہے۔ خواتین کی عزت کا تقاضا صرف ان کے لیے احترام کے الفاظ استعمال کرنا نہیں، بلکہ ان کے حقوق اور تحفظ کو یقینی بنانا بھی ہے۔
پانچواں پہلو: قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انصاف پر اعتماد۔
کسی معاشرے میں تحفظ کا احساس صرف پولیس کی موجودگی سے پیدا نہیں ہوتا۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ جرائم کی رپورٹ درج ہو، تفتیش پیشہ ورانہ طریقے سے کی جائے، شواہد محفوظ رکھے جائیں اور مقدمات قانون کے مطابق اپنے منطقی انجام تک پہنچیں۔ترکیہ میں بھی خواتین کے خلاف تشدد اور بچوں کے تحفظ سے متعلق مسائل موجود ہیں۔لیکن اس حد تک نہیں ہیں جیسا پاکستان میں آئے روز نظر آتے ہیں۔ تاہم کسی بھی ملک میں مؤثر ادارے، بہتر شہری سہولتیں اور قانون کی عمل داری عوام کے اعتماد میں کردار ادا کرسکتے ہیں۔پاکستان میں بھی بچوں کے خلاف جرائم کے مقدمات میں فوری اور مؤثر تفتیش، متاثرہ خاندانوں کی معاونت، گواہوں کا تحفظ اور عدالتی کارروائی میں غیر ضروری تاخیر سے بچنا بنیادی ترجیحات ہونی چاہییں۔
کیا بیٹی کی حفاظت کا مطلب اس کی آزادی محدود کرنا ہے؟؟؟
پاکستان میں خواتین کی عزت و احترام کے دعوے بہت کیے جاتے ہیں۔ مذہب، اخلاقیات اور خاندانی اقدار کا حوالہ بھی دیا جاتا ہے۔ لیکن خواتین اور بچوں کی حفاظت کا اصل امتحان تقریروں میں نہیں، روزمرہ زندگی میں ہوتا ہے۔
کیا بچی بلاخوف اسکول جاسکتی ہے؟
کیا ماں اسے قریبی دکان پر بھیجتے ہوئے ہر ممکن خطرے کا تصور کرنے پر مجبور نہیں؟
کیا ایک خاتون اپنی ملازمت سے واپسی کا سفر محفوظ طریقے سے طے کرسکتی ہے؟
اور اگر کسی بچے کے ساتھ جرم ہوجائے تو کیا اس کا خاندان بلا دباؤ اور بلا تاخیر انصاف حاصل کرسکتا ہے؟
یہ سوال کسی ایک حکومت، ایک ادارے یا ایک طبقے تک محدود نہیں۔ یہ پورے نظام کی کارکردگی اور معاشرتی ترجیحات سے متعلق ہیں۔بچوں کے تحفظ کے لیے چند عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔ اسکولوں اور محلوں میں بچوں کے لیے محفوظ راستوں اور فوری مدد کے انتظامات بہتر بنائے جائیں۔ بچوں کو عمر کے مطابق نامناسب رویوں کو پہچاننے اور کسی قابلِ اعتماد بالغ کو اطلاع دینے کی تربیت دی جائے۔ والدین اور اساتذہ ایسا اعتماد قائم کریں کہ بچہ کسی خطرے یا بدسلوکی کے بارے میں بلا خوف بات کرسکے۔اس کے ساتھ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی اپنی ذمہ داری پوری کرنا ہوگی۔ مقدمہ درج ہونا خبر کا اختتام نہیں؛ یہ انصاف کے عمل کا آغاز ہے۔ مؤثر تفتیش، شواہد کی حفاظت، منصفانہ عدالتی کارروائی اور قانون کے مطابق سزا ہی اس عمل کو مکمل کرتے ہیں۔یہ بھی ضروری ہے کہ بچوں کے خلاف جرائم کے اعداد و شمار باقاعدگی سے شائع ہوں، ان کی اقسام واضح ہوں اور مقدمات کی پیش رفت اور عدالتی نتائج کا جائزہ لیا جاسکے۔ صرف واقعات کی تعداد جاننا کافی نہیں؛ یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ ان کے خلاف کارروائی کا نتیجہ کیا نکلا۔۔
جب میری بیٹی صبح اسکول کے لیے گھر سے نکلتی ہے تو میں کبھی کبھی پاکستان کی ان ماؤں کے بارے میں سوچتی ہوں جنہیں اپنی بیٹیوں کو باہر بھیجتے ہوئے کئی طرح کے خدشات گھیر لیتے ہیں۔
کیا وہ اسے اکیلے سفر کرنے دیں؟ کیا وہ کسی کو ساتھ بھیجنے کا انتظام کریں؟
کیا وہ اپنی محدود آمدنی میں نجی ٹرانسپورٹ کا خرچ برداشت کریں؟ کیا وہ اس خدشے سے اپنی بیٹی کو کسی تعلیمی یا ملازمت کے موقع سے محروم کردیں کہ واپسی کا سفر محفوظ نہیں ہوگا؟
ان سوالات کا جواب ہر خاندان کے حالات کے مطابق مختلف ہوسکتا ہے، لیکن ان سب کے پیچھے ایک مشترکہ مسئلہ موجود ہے: خواتین اور بچوں کی حفاظت کو صرف انفرادی خاندانوں کی ذمہ داری نہیں بنایا جاسکتا۔
کراچی کی ایزل، راولپنڈی کی میمونہ اور سرگودھا کی منتہا زہرہ کے واقعات کو صرف چند روزہ غم و غصے تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ ان سے یہ سوال اٹھنا چاہیے کہ بچوں کے تحفظ کے موجودہ انتظامات میں کیا خامیاں ہیں، انہیں کیسے دور کیا جاسکتا ہے اور ذمہ داروں کا احتساب کس طرح یقینی بنایا جائے۔پنجاب میں بچوں کے خلاف تشدد کے ہزاروں رپورٹ شدہ کیسز اور ان کے مقابلے میں محدود عدالتی سزاؤں کے اعداد و شمار ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ مسئلہ صرف انفرادی جرائم کا نہیں۔ اس کا تعلق روک تھام، تفتیش، انصاف کی فراہمی اور اداروں کی جواب دہی سے بھی ہے۔ترکیہ میں رہ کر مجھے احساس ہوا ہے کہ ایک ماں کی خواہش صرف یہ نہیں کہ اس کی بیٹی کسی حادثے سے محفوظ رہے۔ وہ یہ بھی چاہتی ہے کہ بیٹی اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنا سیکھے، تعلیم حاصل کرے، دنیا کو سمجھے اور اعتماد کے ساتھ آگے بڑھے۔پاکستان کی مائیں بھی یہی چاہتی ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ بہت سی ماؤں کے لیے یہ خواہش روزانہ کے خدشات کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔کسی معاشرے کی کامیابی کا پیمانہ یہ نہیں کہ وہاں بیٹیوں کو کتنی احتیاط کی نصیحت کی جاتی ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ ان کے لیے کتنی محفوظ زندگی اور کتنے آزادانہ مواقع فراہم کرتا ہے۔
ترکیہ میں اپنی بیٹی کو روزانہ اسکول جاتے دیکھ کر مجھے جس اطمینان کا احساس ہوتا ہے، میں چاہتی ہوں کہ پاکستان کی مائیں بھی اسی اطمینان کے ساتھ اپنی بیٹیوں کو مستقبل کی طرف بڑھتے دیکھ سکیں۔ بیٹیوں کی حفاظت کا مقصد ان کی دنیا محدود کرنا نہیں، ان کے لیے دنیا کو محفوظ بنانا ہے۔



تبصرہ لکھیے