ہوم << بہاولپور کا انتخاب، ملک سیاست میں کس سمت اشارہ ہوگا؟ – سلمان احمد قریشی
600x314

بہاولپور کا انتخاب، ملک سیاست میں کس سمت اشارہ ہوگا؟ – سلمان احمد قریشی

بہاولپور کے حلقہ این اے 168کا ضمنی انتخاب بظاہر قومی اسمبلی کی ایک نشست کا انتخاب ہے مگر اس کے سیاسی اثرات کو صرف بہاولپور شہر کی گلیوں، برادریوں اور مقامی دھڑوں تک محدود کرکے دیکھنا شاید اس انتخاب کے اصل مفہوم کو نظرانداز کرنا ہوگا۔ پاکستان کی سیاست اس وقت ایک ایسے مرحلے سے گزر رہی ہے جہاں ضمنی انتخابات محض خالی نشستیں پُر کرنے کا عمل نہیں رہے بلکہ وہ سیاسی جماعتوں کی مقبولیت، ووٹ بینک کی سمت، عوامی رجحانات اور آئندہ سیاسی صف بندیوں کے اشارے بھی بن چکے ہیں۔

این اے 168کا معرکہ بھی اسی وسیع تر سیاسی منظرنامے میں دیکھا جانا چاہیے، جہاں ایک طرف مسلم لیگ ن اپنی حکومتی اور تنظیمی طاقت کے ساتھ میدان میں ہے، دوسری طرف چیمہ گروپ ذاتی سیاسی اثر، بہاولپور کی شناخت اور صوبہ بحالی کے بیانیے کو انتخابی طاقت میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔اس مقابلے کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ یہ خطہ صرف ایک انتخابی حلقہ نہیں بلکہ جنوبی پنجاب اور سرائیکی بیلٹ کی سیاست کا اہم مرکز ہے۔ نئے صوبوں کا قیام، جنوبی پنجاب کے انتظامی و سیاسی حقوق، سرائیکی شناخت اور خصوصاً تاریخی صوبہ بہاولپور کی بحالی جیسے سوالات برسوں سے اس خطے کی سیاست پر اثرانداز ہوتے رہے ہیں۔ آنے والے برسوں میں پاکستان میں نئے صوبوں کی بحث دوبارہ شدت اختیار کرتی ہے یا نہیں، اس کا انحصار صرف اسلام آباد کی سیاسی جماعتوں پر نہیں بلکہ جنوبی پنجاب کے ووٹر کے سیاسی مزاج پر بھی ہوگا۔ اس لیے این اے 168میں صوبہ بہاولپور کا نعرہ محض ایک مقامی انتخابی نعرہ نہیں، بلکہ مرکز اور صوبوں کے درمیان اختیارات، شناخت اور وسائل کی تقسیم کی وسیع تر بحث کا حصہ ہے۔

اسی طرح پاکستان تحریک انصاف کی بدلتی ہوئی انتخابی حکمت عملی بھی اس انتخاب کو غیر معمولی اہمیت دیتی ہے۔ 2024 میں اسی حلقے میں پی ٹی آئی حمایت یافتہ امیدوار کا تقریباً پچاس ہزار ووٹ حاصل کرنا اس بات کا ثبوت تھا کہ بہاولپور میں ایک قابلِ ذکر اینٹی ن لیگ ووٹ موجود ہے۔ آج اگر پارٹی بائیکاٹ کی پوزیشن میں ہے تو اصل سوال یہ نہیں کہ پی ٹی آئی کا ووٹر کس امیدوار کے نام پر مہر لگائے گا، بلکہ یہ ہے کہ وہ پولنگ اسٹیشن تک جائے گا یا نہیں، اور اگر جائے گا تو اس کا ووٹ کس سمت منتقل ہوگا۔ یہی فیصلہ ضمنی انتخاب کے نتیجے کو 2024 کے انتخابی نقشے سے بالکل مختلف بنا سکتا ہے۔چنانچہ این اے 168 کو اگر صرف ملک منیر اقبال چنڑ اور ولی داد چیمہ کا مقابلہ سمجھا جائے تو تصویر ادھوری رہ جاتی ہے۔ اس انتخاب میں مسلم لیگ ن کا روایتی ووٹ، پی ٹی آئی کا موجودہ سیاسی رویہ، پیپلز پارٹی کا ووٹ بینک، مذہبی جماعتوں کے منظم ووٹر، سرائیکی شناخت، صوبہ بہاولپور بحالی کا جذباتی بیانیہ اور جنوبی پنجاب کی آئندہ سیاسی سمت سب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہاولپور کا یہ ضمنی انتخاب ایک نشست سے کہیں بڑا سوال بن چکا ہے۔

کیا جنوبی پنجاب میں روایتی سیاسی خاندان اور جماعتی تنظیم ایک بار پھر فیصلہ کن ثابت ہوں گے، یا بدلتے ہوئے سیاسی مزاج، ناراض ووٹ اور علاقائی شناخت کا بیانیہ ایک نئی سیاسی صف بندی کو جنم دے گا؟بہاولپور کا قومی اسمبلی حلقہ این اے 168 ایک بار پھر سیاسی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔ یہ محض ایک ضمنی انتخاب نہیں بلکہ بہاولپور کی آئندہ سیاست میں طاقت کے توازن کا امتحان بھی ہے۔ ایک طرف مسلم لیگ ن کے امیدوار ملک منیر اقبال چنڑ ہیں جو مرحوم ایم این اے ملک محمد اقبال چنڑ کے صاحبزادے ہیں جبکہ دوسری طرف چوہدری ولی داد چیمہ ہیں، جنہیں سابق وفاقی وزیر اوراین اے 168 کے موجودہ رکن قومی اسمبلی چوہدری طارق بشیر چیمہ نے میدان میں اتارا ہے۔ اس طرح اصل مقابلہ بظاہر دو امیدواروں کا ہے، لیکن پس پردہ کئی بڑے سیاسی ووٹ بینک ایک دوسرے سے ٹکرا رہے ہیں۔2024 کے عام انتخابات کا نتیجہ اس مقابلے کو سمجھنے کی بنیادی کنجی ہے۔این اے 168 میں ملک محمد اقبال چنڑ نے 122,302 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی، جبکہ پی ٹی آئی حمایت یافتہ آزاد امیدوار سمیع اللہ چوہدری 50,360 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

پیپلز پارٹی کے حسین احمد مدنی نے 9,461، تحریک لبیک پاکستان نے 7,644، جماعت اسلامی کے کامران ملک نے 6,702 اور جمعیت علمائے اسلام ف کے محمد صفدر شہباز نے 3,726 ووٹ حاصل کیے۔ حلقے میں کل 447,963 رجسٹرڈ ووٹرز تھے جبکہ صرف 209,393 ووٹ ڈالے گئے، یعنی ٹرن آؤٹ تقریباً 47 فیصد رہا۔یہ اعداد بظاہر مسلم لیگ ن کی بہت بڑی برتری دکھاتے ہیں مگر ضمنی انتخاب میں 2024 کا نتیجہ جوں کا توں دہرانا آسان نہیں۔ اس وقت سب سے بڑا سوال پی ٹی آئی کے تقریباً 50 ہزار ووٹ کا ہے۔ 2024 میں سمیع اللہ چوہدری نے ایک مضبوط انتخابی بنیاد قائم کی تھی۔ اب اگر پی ٹی آئی بائیکاٹ کی پوزیشن پر ہے تو یہ ووٹ تین حصوں میں تقسیم ہوسکتا ہے ایک حصہ گھروں میں بیٹھ سکتا ہے، دوسرا کسی آزاد امیدوار یا مقامی تعلق کی بنیاد پر ووٹ دے سکتا ہے اور تیسرا حصہ ن لیگ مخالف جذبے کے تحت ولی داد چیمہ کی طرف جا سکتا ہے۔ یہی تیسرا حصہ چیمہ گروپ کے لیے سب سے قیمتی سیاسی سرمایہ ہے۔

اگر پی ٹی آئی کا بڑا حصہ پولنگ سے باہر رہا تو ن لیگ کو فائدہ ہوگاکیونکہ کم ٹرن آؤٹ میں منظم جماعتی ووٹ زیادہ طاقتور ہوجاتا ہے۔ لیکن اگر پی ٹی آئی کا ناراض ووٹر بڑی تعداد میں پولنگ اسٹیشن پہنچ کر ولی داد چیمہ کو ووٹ دیتا ہے تو 2024 کا 72 ہزار سے زائد ووٹوں کا فرق سیاسی طور پر بے معنی ہوسکتا ہے۔ فافن کی ایک اہم نشاندہی یہ بھی ہے کہ 2024 میں اقبال چنڑ کے 122,302 ووٹ دراصل حلقے کے کل رجسٹرڈ ووٹرز کا صرف تقریباً 27 فیصد تھے یعنی ان کی کامیابی واضح تھی مگر پورے انتخابی حلقے کی اکثریت ان کے ووٹروں پر مشتمل نہیں تھی۔پیپلز پارٹی کا ووٹ بھی اس الیکشن میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ 2024 میں حسین احمد مدنی تقریباً ساڑھے نو ہزار ووٹ لے کر تیسرے نمبر پر آئے تھے۔ اب اگر مدنی عملی طور پر منیر اقبال چنڑ کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں تو مسلم لیگ ن کو صرف جماعتی حمایت نہیں بلکہ ایک مقامی انتخابی نیٹ ورک بھی حاصل ہوسکتا ہے۔

تاہم پی پی پی کے ووٹ کو مکمل طور پر ن لیگ کا ووٹ سمجھنا سیاسی طور پر درست نہیں ہوگا کیونکہ ووٹر ہمیشہ پارٹی قیادت کے فیصلے کے مطابق سو فیصد ووٹ منتقل نہیں کرتا۔دوسری طرف چیمہ گروپ کے لیے پیپلز پارٹی کے جنوبی پنجاب کے سیاسی اثر و رسوخ، خصوصاً مخدوم احمد محمود کی قربت یا حمایت، اہمیت رکھتی ہے۔ لیکن یہاں بھی فرق سمجھنا ہوگا۔ کسی بڑے سیاسی رہنما کی حمایت اور اس جماعت کے پورے ووٹ بینک کی منتقلی دو مختلف چیزیں ہیں۔ چیمہ گروپ اگرپی پی پی کے ناراض یا مخالف دھڑوں، پی ٹی آئی کے ووٹر اور اپنے ذاتی نیٹ ورک کو ایک سمت میں لے آئے تو مقابلہ ضرور سخت ہوسکتا ہے۔جماعت اسلامی کا 2024 کا تقریباً 6,700 ووٹ اور جے یو آئی کا تقریباً 3,700 ووٹ بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ یہ تعداد بظاہر کم ہے، لیکن کم ٹرن آؤٹ کے ضمنی انتخاب میں تین، چار یا پانچ ہزار ووٹ بھی نتیجہ تبدیل کرسکتے ہیں۔ دونوں جماعتوں کے ووٹر منظم ہیں مگر امیدوار نہ ہونے کی صورت میں ان کا ووٹ کسی ایک امیدوار کو مکمل طور پر منتقل ہونا یقینی نہیں۔ کچھ ووٹر گھر بیٹھیں گے، کچھ مذہبی یا مقامی وابستگی کے تحت فیصلہ کریں گے۔

بہاولپور صوبہ بحالی کا مسئلہ چوہدری طارق بشیر چیمہ کے لیے ایک اہم سیاسی ہتھیار ہے۔ بہاولپور کی تاریخی شناخت، سابق ریاستی حیثیت، جنوبی پنجاب کے حقوق اور صوبہ بحالی کا جذباتی بیانیہ شہر کے ایک حصے میں اب بھی اثر رکھتا ہے۔ اگر چیمہ گروپ اس جذبات کو محض نعرے کے بجائے ووٹ میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہوگیا تو ولی داد چیمہ کو فائدہ ہوسکتا ہے۔ اسی طرح سرائیکی شناخت بھی ایک اہم عنصر ہے، تاہم پورے سرائیکی ووٹ کو کسی ایک امیدوار کا ووٹ سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ بہاولپور میں برادری، خاندان، ذاتی تعلق، جماعتی وابستگی اور امیدوار کی انتخابی رسائی بھی انتہائی اہم ہیں۔چنڑ خاندان کی طاقت اس کے مقابلے میں بالکل مختلف نوعیت کی ہے۔ مرحوم اقبال چنڑ کا 122 ہزار سے زائد ووٹ، ان کے صاحبزادے منیر اقبال چنڑ کی امیدوار ی، ان کے بھائی ملک ظہیر اقبال چنڑ کی صوبائی سطح پر اہم سیاسی حیثیت اور مسلم لیگ ن کی حکومتی و تنظیمی مشینری ایک مضبوط انتخابی مجموعہ بناتے ہیں۔ 2024 کا نتیجہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ن لیگ اس حلقے میں مضبوط بنیاد رکھتی ہے۔دوسری طرف طارق بشیر چیمہ کی سیاست کو نظر انداز کرنا بھی آسان نہیں۔

اہم بات یہ ہے کہ چیمہ خود این اے 168 سے امیدوار نہیں بلکہ اپنے صاحبزادے ولی داد چیمہ کو میدان میں لائے ہیں۔ اس لیے اصل امتحان یہ ہے کہ طارق بشیر چیمہ کا ذاتی سیاسی اثر ولی داد کے ذاتی ووٹ میں کس حد تک تبدیل ہوتا ہے۔ طارق چیمہ کا بہاولپور کی سیاست میں پرانا تعلق اور انتخابی تجربہ چیمہ گروپ کی بڑی طاقت ہے مگر ضمنی انتخاب میں صرف نام کافی نہیں پولنگ ڈے پر ووٹر کو گھر سے نکالنا فیصلہ کن ہوگا۔میرے تجزیے میں آج کی صورتحال میں ملک منیر اقبال چنڑ کو معمولی برتری حاصل ہے مگر یہ مقابلہ یکطرفہ نہیں۔ اگر پی ٹی آئی کا ووٹر بائیکاٹ کی وجہ سے گھر بیٹھتا ہے، پی پی پی کا بڑا حصہ چنڑ گروپ کے ساتھ رہتا ہے اور ن لیگ اپنی پولنگ مشینری پوری قوت سے استعمال کرتی ہے تو چنڑ فیورٹ رہیں گے۔ لیکن اگر پی ٹی آئی کا بڑا ناراض ووٹ ولی داد چیمہ کو مل گیا، جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام ف کے قابل ذکر ووٹر بھی پولنگ میں شریک ہوئے، بہاولپور صوبہ بحالی کا جذباتی بیانیہ چلا اور چیمہ گروپ نے شہر میں اپنا پرانا نیٹ ورک دوبارہ متحرک کردیا تو نتیجہ انتہائی قریب ہوسکتا ہے۔

آخرکار این اے 168کا فیصلہ صرف یہ نہیں کرے گا کہ چنڑ جیتے یا چیمہ یہ فیصلہ کرے گا کہ بہاولپور شہر میں آئندہ سیاسی طاقت کا مرکز مسلم لیگ ن کا تنظیمی و خاندانی نیٹ ورک ہوگا یا طارق بشیر چیمہ کی ذاتی سیاست، مخالف ووٹ اور بہاولپور صوبہ بحالی کا بیانیہ اہم ہے۔ اس الیکشن میں سب سے قیمتی ووٹ وہ ہوگا جو 2024 میں کسی امیدوار کو ملا تھا مگر 2026 میں اپنا رخ بدلنے کا فیصلہ کرے گا۔ملکی سطح پر نئے صوبوں کے قیام اورپاکستان تحریک انصاف کی سیاست کی طرف اشارہ ہوگا؟

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

سلمان احمد قریشی

سلمان احمد قریشی اوکاڑہ سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی، کالم نگار، مصنف اور تجزیہ نگار ہیں۔ تین دہائیوں سے صحافت کے میدان میں سرگرم ہیں۔ 25 برس سے "اوکاڑہ ٹاک" کے نام سے اخبار شائع کر رہے ہیں۔ نہ صرف حالاتِ حاضرہ پر گہری نظر رکھتے ہیں بلکہ اپنے تجربے و بصیرت سے سماجی و سیاسی امور پر منفرد زاویہ پیش کرکے قارئین کو نئی فکر سے روشناس کراتے ہیں۔ تحقیق، تجزیے اور فکر انگیز مباحث پر مبنی چار کتب شائع ہو چکی ہیں

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment