ہوم << مہنگائی کا اصل شکار – عائشہ غوری
600x314

مہنگائی کا اصل شکار – عائشہ غوری

جیسا کہ آپ سب لوگ جانتے ہیں، جماعتِ اسلامی کی طرف سے پٹرولیم لیوی کے خلاف دستخطی مہم زور و شور سے جاری ہے۔ اسی سلسلے میں آج ڈور ٹو ڈور جانے کا اتفاق ہوا۔ یہ اسلام آباد ہی کا ایک علاقہ ہے، جس کے دائیں بائیں مختلف سیکٹرز واقع ہیں۔ آج میں نے جان بوجھ کر اس بستی کا انتخاب کیا تاکہ ان لوگوں کے مسائل کو قریب سے دیکھا جا سکے جو غربت کی آخری حد پر زندگی گزار رہے ہیں، اور یہ بھی دیکھا جا سکے کہ یہ لوگ مہنگائی کی چکی میں کس طرح پس رہے ہیں۔

ایک گھر میں جانے کا اتفاق ہوا۔ گھر تو کیا کہیں، اسے ایک عارضی ٹھکانہ ہی کہہ لیں، جس میں تقریباً پانچ خاندان رہائش پذیر تھے۔ وہاں تقریباً 15 سے 20 بچے تھے، جن کی عمریں 15 سال سے لے کر ایک، دو سال تک تھیں۔ وہاں دو خواتین ایسی بھی تھیں جو بیوگی کی زندگی گزار رہی تھیں۔ بالکل عین جوانی میں ان کے شوہر قبائلی لڑائی کی نذر ہو گئے تھے۔ ان میں سے ایک خاتون کے سب سے بڑے بچے کی عمر صرف 12 سال تھی۔ میں نے ایک بچی سے سوال کیا:
“بیٹا! آپ کو پٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے سے فرق نہیں پڑتا؟”
اس نے اپنے والد کے حوالے سے جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر وہ اپنے ابو سے کسی چیز کے لیے کہے تو وہ یہ نہیں کہتے کہ، “بیٹا، میں یہ چیز کل لا دوں گا۔”
بچی نے بڑے دکھ سے کہا: “میرے ابو ہی نہیں ہیں۔”

دوسری بچی نے کہا:”ہمارے گھر میں بجلی ہی نہیں ہے۔”
تیسری بچی نے کہا:”ہمیں کون سا پٹرول استعمال کرنا ہے؟ ہمارے گھر میں کون سی گاڑی ہے؟”
اور یقین کریں، میں شدید شاکڈ ہو گئی۔ میں ان بچوں کے چہرے دیکھتی رہ گئی۔پھر میں نے ایک بچی سے پوچھا:
“بیٹا! کیا آپ کسی دوسرے شہر کا سفر نہیں کرتیں؟”
انہوں نے بتایا کہ ہم کبھی کبھار پشاور جاتے ہیں۔

اسی گھر میں ایک چنگ چی رکشہ بھی کھڑا تھا، جو گزشتہ چھ ماہ سے استعمال نہیں ہو رہا تھا۔ میں نے جس خاتون کے شوہر کا وہ چنگ چی رکشہ تھا، ان سے پوچھا تو انہوں نے بتایا:
“پٹرول کی قیمت اتنی زیادہ ہو گئی ہے کہ جیب سے پٹرول ڈلوانا پڑتا ہے اور بچت کچھ بھی نہیں ہوتی۔ لوگ پورا کرایہ بھی نہیں دیتے، لیکن پٹرول والا اپنی پوری قیمت لیتا ہے۔ اسی وجہ سے یہ رکشہ چھ ماہ سے ایسے ہی کھڑا ہے۔ اب میرے شوہر کسی دوسرے کا رکشہ لے کر چلاتے ہیں اور پھر اسے روزانہ کے حساب سے پیسے دیتے ہیں۔”
آپ اندازہ کریں کہ ہم ان لوگوں کی غربت اور ان کے مسائل کی شدت کا شاید تصور بھی نہیں کر سکتے۔

جس گھر سے میں واپس آئی ہوں، تب سے یہی سوچ رہی ہوں کہ ہم اپنے گھروں میں بیٹھے ہوئے شاید بہت بہتر زندگی گزار رہے ہیں۔ اصل بحران کا شکار تو یہ غریب اور انتہائی نچلا طبقہ ہے، جو مہنگائی سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔جب میں نے ان سے دستخط کرنے کا کہا تو انہوں نے کہا:
“باجی! ہم تو پڑھے ہوئے ہی نہیں ہیں۔”
اور میرے لیے یہ بھی بہت حیران کن بات تھی کہ ان کا ایک بھی بچہ، نہ لڑکا اور نہ لڑکی، اسکول نہیں جاتا تھا۔میں انہیں پڑھ کر سنا رہی تھی کہ ہمارے مطالبات کیا ہیں، ہم کس مقصد کے لیے یہ دستخطی مہم چلا رہے ہیں اور پٹرولیم لیوی کے خاتمے کا مطالبہ کیوں کیا جا رہا ہے۔ایک اور خوف بھی میں نے لوگوں میں دیکھا۔

پچھلے دنوں ڈینگی مہم کے دوران حکومتی اہلکار پانی کی ٹنکیاں چیک کرنے کے لیے آئے اور کسی گھر پر 50 ہزار روپے کا جرمانہ کر کے چلے گئے۔ ایک خاتون نے کہا:
“میرے گھر اگر کوئی آیا تو میں ان سے کہوں گی کہ آپ مجھے ہی لے جائیں۔ میرے پاس تو 50 ہزار روپے نہیں ہیں۔”
ہر چہرہ ایک نئی کہانی بیان کر رہا تھا، ہر گھر ایک نئی داستان تھا۔ لوگ مجھے حیرت سے دیکھ رہے تھے کہ آپ یہاں کیوں آئی ہیں؟
میں نے ان سے کہا:
“میں آپ لوگوں کے لیے آئی ہوں۔ میں آپ کے پاس اس لیے آئی ہوں کہ ہماری جماعت غریب اور پسے ہوئے طبقے کے مسائل کے لیے آواز اٹھا رہی ہے۔”

پھر میں نے انہیں تفصیل سے بتایا کہ ہماری مہم کیا ہے، ہمارے مطالبات کیا ہیں اور ہم پٹرولیم لیوی کے خاتمے کا مطالبہ کیوں کر رہے ہیں۔انہوں نے ہماری بات سے اتفاق کیا اور کہا:
“اگر ایسا ہو جائے تو ہمارے لیے تو یہ بہت اچھا ہوگا۔ ہم آپ کو دعائیں دیں گے اور جو لوگ یہ مطالبہ لے کر چل رہے ہیں، اللہ ان کو کامیاب کرے۔”
وہ کہنے لگے:
“ہم پہلے ہی بہت غریب لوگ ہیں، لیکن اب تو واقعی ہمارا جینا بہت مشکل ہو گیا ہے۔ آج سے دو، چار برس پہلے تک حالات ایسے نہیں تھے جیسے اب ہیں۔”
ان کی گفتگو میں بے بسی اور پریشانی صاف محسوس ہو رہی تھی۔ انہوں نے کہا:

“ہمارا جی چاہتا ہے کہ ہم اپنے بچوں کو لے کر خودکشی کر لیں، یا خود کو مار لیں۔ ہمارے مرد سارا دن مزدوری کرکے آتے ہیں، پھر بھی ہم دو وقت کی روٹی بمشکل کھا پاتے ہیں۔ ہم اس غربت اور مہنگائی سے بہت پریشان ہیں۔”
ان کا بھی یہی مطالبہ تھا:
“غریب عوام پر رحم کیا جائے۔ ہماری زندگی آسان کی جائے۔ ہم پر یہ ظلم بند کیا جائے، ورنہ ہم تو ختم ہو ہی جائیں گے۔ لیکن یہ جو حکمران ہیں، یہ اللہ کو کیا منہ دکھائیں گے؟”

آج اس بستی سے واپس آتے ہوئے میرے ذہن میں ایک ہی خیال تھا کہ مہنگائی کے اصل اثرات شاید ان گھروں میں نظر آتے ہیں جہاں پہلے ہی زندگی کی بنیادی سہولتیں موجود نہیں۔ ان لوگوں کے لیے پٹرول، بجلی اور روزمرہ کی ضروریات کی بڑھتی ہوئی قیمتیں صرف اعداد و شمار نہیں، بلکہ زندگی اور موت کا مسئلہ بن چکی ہیں۔ یہ ڈور ٹو ڈور مہم میرے لیے صرف دستخط لینے کی سرگرمی نہیں تھی، بلکہ عام آدمی کی زندگی کو قریب سے دیکھنے اور اس کی مشکلات سننے کا ایک ایسا تجربہ تھا جس نے مجھے اندر تک متاثر کیا۔ واپس آتے ہوئے ایک سوال بار بار ذہن میں گردش کرتا رہا: اگر غریب عوام اپنے بچوں کی بھوک، بے بسی اور بنیادی ضروریات پوری نہ ہونے پر اس قدر مجبور ہو جائیں، تو پھر ان کے حالات کے ذمہ دار حکمران اللہ کو کیا منہ دکھائیں گے؟