ہوم << ہم بھی انسان ہیں – محمد شفیق اعوان
600x314

ہم بھی انسان ہیں – محمد شفیق اعوان

دُور کہیں ایک ملک تھا۔ نقشے پر اس کا نام شاید بہت خوب صورت تھا، مگر وہاں کے لوگوں نے اُسے محبّت سے صرف وطن کہنا سیکھ رکھا تھا۔وطن کے پہاڑ بلند تھے، دریائیں شفاف تھیں، زمین زرخیز تھی اور لوگوں کے سینوں میں ایک روشن خواب آباد تھا کہ ایک دن یہاں انصاف کا سورج طلوع ہوگا، ظلم کے اندھیرے چھٹ جائیں گے اور انسان کو انسان سمجھا جائے گا۔مگر خوابوں کی دنیا میں بھی کبھی کبھی بھیڑیے گھس آتے ہیں۔

اس ملک میں ایک عرصے سے حق اور باطل کے علم برداروں کے درمیان کشمکش جاری تھی۔ حق کے پاس نہ دولت کے انبار تھے، نہ اقتدار کے محل، نہ بڑے بڑے لشکر۔ ان کے پاس صرف ایک چراغ تھا، جسے وہ اپنے سینوں میں جلائے پھرتے تھے۔باطل کے پاس چراغ نہیں تھا، مگر اس کے پاس بہت سی لالٹینیں تھیں؛ ایسی لالٹینیں جن کے اندر روشنی کم اور دھواں زیادہ تھا۔پھر انتخابات کا موسم آیا۔ باطل کے خیمے میں اچانک رونق بڑھ گئی۔ایک رات ایک بڑے محل میں مختلف گروہوں کے سردار جمع ہوئے۔ وہاں سرمایہ دار بھی تھے، کارخانہ دار بھی، جاگیردار بھی، لبرل بھی، سیکولر بھی، سوشلسٹ بھی، کمیونسٹ بھی، خدا بیزار بھی، مذہب بیزار بھی اور خود کو آزاد خیال کہنے والے بھی۔ایک بوڑھے سرمایہ دار نے میز پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا: “ہم سب کے نظریات الگ ہیں، مگر ہمارا مقصد ایک ہے۔ اقتدار!” ایک دوسرے نے قہقہہ لگایا۔ “اور اقتدار کے لیے نظریہ نہیں، اتحاد چاہیے۔” ایک تیسرا بولا: “اور اتحاد کے لیے دولت!”

یہ سنتے ہی کمرے میں پڑے صندوق کھول دیے گئے۔ نوٹوں کے بنڈل میز پر ایسے پھیل گئے جیسے کسی خزانے کا دروازہ کھل گیا ہو۔
“یہ سرمایہ گلیوں میں جائے گا، محلّوں میں جائے گا، دیہات میں جائے گا۔”
“اور اگر لوگ نہ مانے؟”
سرمایہ دار مسکرایا۔ “لوگوں کو خرید لیا جائے گا۔” چند دنوں میں دولت سیلابی پانی کی طرح گلی کوچوں میں بہنے لگی۔
گاؤں کے گھڑپنچ خریدے گئے، نمبردار خریدے گئے، بدماش خریدے گئے، لالچی لوگ خریدے گئے، کچھ پیر خریدے گئے، کچھ ملا خریدے گئے اور کچھ ایسے بھی تھے جو اپنے ضمیر کی قیمت خود بتا کر بیٹھے تھے۔
ایک دیہاتی نے اپنے دوست سے پوچھا: “یہ اتنا پیسہ کہاں سے آ رہا ہے؟”

دوست نے آہ بھری: “جہاں ضمیر سستا ہو، وہاں پیسہ بہت دور سے نہیں آتا۔”
دوسری طرف حق کے لوگ تھے۔ وہ ایک دوسرے کے قریب ہو کر بھی ایک دوسرے سے دُور تھے۔ کسی کو اپنی جماعت عزیز تھی، کسی کو اپنا گروہ، کسی کو اپنا لیڈر، کسی کو اپنا نظریہ۔ ہر شخص سمجھتا تھا کہ حق صرف اسی کی جیب میں ہے۔
ایک بزرگ نے سب کو سمجھایا: “بیٹو! باطل متحد ہے اور تم بکھرے ہوئے ہو۔ یاد رکھو، تنکے الگ الگ ہوں تو ہوا انہیں اڑا لے جاتی ہے، مگر یہی تنکے مل کر رسّی بن جائیں تو ہاتھی بھی باندھ سکتے ہیں۔”
ایک نوجوان نے جواب دیا: “بابا! ہم حق پر ہیں، ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔”

بزرگ نے سر جھکا لیا۔ “حق کو کسی کی ضرورت نہیں ہوتی، مگر حق کے سپاہیوں کو ایک دوسرے کی ضرورت ضرور ہوتی ہے۔”
مگر کسی نے نہ سنی۔
انتخابات ہوئے۔ نتائج آئے تو باطل مسکرا رہا تھا اور حق حیران کھڑا تھا۔
باطل جیت چکا تھا۔ حکومت بن گئی۔ اور پھر وہی ہوا جو اکثر ہوتا ہے۔ حکومت کے ایوانوں میں وعدے داخل ہوئے اور عوام کے گھروں میں مہنگائی۔ وزیروں کی گاڑیاں بڑھتی گئیں اور مزدور کے گھر میں چولہا ٹھنڈا ہوتا گیا۔ نئے منصوبوں کے اعلان ہونے لگے۔ “ملک ترقی کرے گا!” مگر ترقی کے نام پر خزانے خالی ہونے لگے۔ “ملک جدید ہوگا!” مگر غریب کی جیب پرانے سکوں سے بھی خالی ہوگئی۔

سڑکیں بنیں، پل بنے، عمارتیں بنیں، منصوبے بنے، فائلیں بنیں اور کمیشن بھی بنے۔
ملکی املاک بکنے لگیں۔ جو چیز قوم کی تھی، اسے چند طاقت ور ہاتھوں میں منتقل کیا جانے لگا۔
ایک بوڑھا مزدور سرکاری عمارت کے سامنے کھڑا تھا۔ اس نے اپنے بیٹے سے کہا: “بیٹا! یہ عمارت کس کی ہے؟” بیٹے نے جواب دیا: “ابا! شاید ملک کی۔” بوڑھا ہنس پڑا۔ “شاید؟”
پھر اس نے آسمان کی طرف دیکھا۔
“جس ملک میں عوام اپنی ملکیت کے بارے میں بھی ‘شاید’ کہنے لگیں، سمجھ لو وہاں کوئی بہت بڑی چوری ہو چکی ہے۔”

ملک پر قرض بڑھتا گیا۔ بیرونی قوتوں سے قرض لیا گیا۔ قرض آیا تو کچھ لوگوں کے محلات روشن ہوگئے، مگر ملک کا اندھیرا اور گہرا ہوگیا۔
لوگ کہتے تھے: “قرض کہاں گیا؟”
کوئی جواب نہ دیتا۔ ایک دن ایک دانا نے کہا: “قرض کو جونکیں لگ گئی ہیں۔” دوسرے نے کہا: “نہیں، دیمک کھا گئی ہے۔”
دانا بولا: “جونک اور دیمک دونوں ایک ہی گھر کی نشانیاں ہیں؛ ایک خون چوستی ہے، دوسری بنیاد کھاتی ہے۔”
پھر قرض کی قسطیں ادا کرنے کے لیے قومی املاک بیچی جانے لگیں۔
حکمران دونوں ہاتھوں سے لوٹتے رہے۔ اور جب خزانہ خالی ہوتا تو کہتے: “عوام قربانی دیں!”

عوام نے پوچھا:”حکمرانو! قربانی ہمیشہ ہم ہی کیوں دیں؟”
ایوان خاموش رہا۔ اسی خاموشی میں ظلم نے جنم لیا۔
حق کی آوازیں بلند ہونے لگیں تو حکمرانوں نے فیصلہ کیا کہ آواز کو دلیل سے نہیں، طاقت سے خاموش کیا جائے۔ حق کے پرستار گرفتار ہونے لگے۔ انہیں جیلوں میں ڈالا گیا۔
انہیں مارا گیا۔ انہیں دھمکایا گیا ۔انہیں اذیت دی گئی۔
مگر ظلم کو شاید سب سے زیادہ غصہ ان لوگوں سے تھا جو مرنے کے باوجود جھکنے پر تیار نہ تھے۔
صدر مقام میں ایک وسیع میدان تھا۔ اسے عوام تماش گاہ کہتے تھے۔

ایک دن وہاں چار حق پرست لائے گئے۔ ان کے ہاتھ باندھے گئے۔ حاکم اپنی بلند نشست پر بیٹھا تھا۔ اس نے حکم دیا: “گِدھ لاؤ!”
تھوڑی ہی دیر میں گِدھ میدان میں اتار دیے گئے۔ گِدھ ان چاروں کے گرد چکر لگانے لگے، مگر ان کے قریب نہ گئے۔ حاکم حیران ہوا۔ “یہ کیا تماشا ہے؟”ایک درباری نے کہا:
“صدر صاحب! گِدھ مردار کھاتے ہیں۔ یہ ابھی زندہ ہیں۔” حاکم کے چہرے پر ناگواری پھیل گئی۔ “تو انہیں زخمی کرو!” سپاہیوں نے چاروں کو زخمی کیا۔ مگر وہ پھر بھی زندہ تھے۔
ایک نے کمزور آواز میں کہا:
“ہمیں مار سکتے ہو، ہمارے یقین کو نہیں۔”

حاکم چیخا: “خاموش!”
دوسرا بولا: “سچ کو حکم سے خاموش نہیں کیا جا سکتا۔”
حاکم نے منہ پھیر لیا۔
گِدھ پھر بھی دُور رہے۔
ایک بوڑھے درباری نے آہستہ سے کہا:
“بادشاہ سلامت! گِدھ بھی شاید آپ سے بہتر جانتے ہیں کہ زندہ انسان اور مردار میں فرق کیا ہوتا ہے۔”
حاکم نے اسے گھورا۔ بوڑھا خاموش ہوگیا۔
مگر اس دن پہلی بار میدان میں موجود لوگوں نے محسوس کیا کہ شاید درندوں میں بھی کوئی اخلاق باقی ہے اور انسانوں میں سے کچھ نے وہ اخلاق بھی کھو دیا ہے۔

اگلے دن بھیڑیے لائے گئے۔ دس حق پرست میدان میں کھڑے تھے۔
بھیڑیوں کو بھوکا رکھا گیا تھا۔
دروازہ کھلا۔ بھیڑیے جھپٹے۔چیخیں بلند ہوئیں۔ میدان خون سے بھر گیا۔
حاکم تماشائیوں کی طرح دیکھتا رہا۔ پھر اس نے پوچھا: “خوب؟”
درباری نے جھک کر کہا:”بہت خوب، صدر صاحب!”
ایک بوڑھے قیدی نے یہ منظر دیکھا اور کہا: “آج بھیڑیے جیتے نہیں، انسان ہارا ہے۔”
تیسرے دن لگڑبھگے لائے گئے۔ چوتھے دن شیر۔

ہر روز ایک نیا تماشا۔ ہر روز ایک نئی موت۔ ہر روز ظلم کی ایک نئی شکل۔
ملک کے بچے ڈر کر اپنی ماؤں سے پوچھتے: “امّی! کیا شیر انسان کو کھاتے ہیں؟”
ماں کہتی: “بیٹا! جنگل میں کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے۔”
بچہ پھر پوچھتا: “اور انسان انسان کو؟” ماں کی آنکھوں سے آنسو نکل آتے۔ وہ جواب نہ دے پاتی۔
کیونکہ وہ جانتی تھی کہ اصل جنگل اب جنگل میں نہیں، شہر میں آباد ہو چکا ہے۔
ایک دن حکمرانوں نے ایک ایسا تماشا سجانے کا فیصلہ کیا جس سے پہلے تمام ظلم شرمندہ ہو جائیں۔
شہر کے سب سے بڑے میدان کے چاروں طرف ٹینک کھڑے کر دیے گئے۔ اعلان ہوا: “آؤ! اپنے مطالبات پیش کرو۔ احتجاج کرو۔ تمہیں مکمل آزادی ہے۔”

مجبور، مظلوم، مزدور، کسان، طالب علم، بوڑھے، نوجوان اور عورتیں میدان میں جمع ہونے لگے۔ لوگوں کے ہاتھوں میں نہ تلوار تھی، نہ بندوق۔صرف کاغذ تھے۔ کسی کے ہاتھ میں مہنگائی کے خلاف تحریر تھی۔ کسی کے ہاتھ میں روزگار کا مطالبہ۔ کسی کے ہاتھ میں انصاف کی درخواست۔
کسی کے ہاتھ میں روٹی کا سوال۔
ایک نوجوان نے اپنے باپ سے کہا: “ابا! شاید آج ہماری بات سنی جائے۔”
باپ نے آسمان کی طرف دیکھا۔ “بیٹا! دعا کرو۔”
اچانک میدان کے دروازے بند کر دیے گئے۔ لوگ چونکے۔ ایک آواز آئی: “دروازے کیوں بند کیے گئے؟” دوسری آواز: “شاید ہمیں روکنے کے لیے۔” تیسری آواز: “مگر ہم تو اپنے مطالبات پیش کرنے آئے ہیں۔”

پھر ٹینک حرکت میں آئے۔ لوگوں کی چیخیں آسمان سے ٹکرائیں۔ کاغذ ہوا میں اڑنے لگے۔ وہ کاغذ جن پر مطالبات لکھے تھے، ٹینکوں کے پہیوں تلے روند دیے گئے۔ ایک بوڑھا کسان اپنے سینے سے کاغذ لگائے کھڑا تھا۔ اس کاغذ پر صرف ایک جملہ لکھا تھا: “ہم بھی انسان ہیں۔” ٹینک اس کے قریب پہنچا۔ وہ آخری لمحے میں چیخا: “ہمیں مار دو، مگر یہ جملہ نہیں مٹا سکتے!” اور پھر ایک زوردار شور ہوا۔ میدان خاموش ہوگیا۔
مگر عجیب بات یہ تھی کہ اسی خاموشی میں ہزاروں آوازیں پیدا ہو رہی تھیں۔ ایک آواز زمین کے اندر سے آئی: “ہم بھی انسان ہیں۔” دوسری پہاڑوں سے آئی: “ہم بھی انسان ہیں۔” تیسری دریاؤں سے آئی:
“ہم بھی انسان ہیں۔” پھر ہوا نے یہ جملہ اٹھایا اور پورے ملک میں پھیلا دیا۔

حکمرانوں نے محل کی کھڑکیاں بند کر دیں۔ مگر آواز کھڑکیوں سے نہیں، دیواروں سے گزر رہی تھی۔ حاکم نے اپنے درباری سے پوچھا:”یہ آواز کہاں سے آ رہی ہے؟” درباری نے خوف زدہ ہو کر کہا: “صدر صاحب! شاید زمین بول رہی ہے۔” حاکم نے طنزیہ قہقہہ لگایا۔ “زمین کبھی نہیں بولتی۔”
اسی لمحے محل کی بنیاد میں ایک باریک سی دراڑ پڑی۔ درباری نے کانپتے ہوئے کہا: “صدر صاحب! زمین بولتی نہیں، حساب لیتی ہے۔”
حاکم نے پہلی بار اپنی کرسی کو دیکھا۔ وہ کرسی جسے وہ اپنی طاقت سمجھتا تھا، اچانک اسے لکڑی کا ایک معمولی ٹکڑا دکھائی دینے لگی۔ اس رات وہ سو نہ سکا۔ اسے خواب آیا کہ ایک بہت بڑا جنگل ہے۔
وہ جنگل کا بادشاہ بنا بیٹھا ہے ۔چاروں طرف شیر، بھیڑیے، لگڑبھگے اور گِدھ موجود ہیں۔

وہ چیخ کر کہتا ہے: “میں بادشاہ ہوں!” مگر کوئی جواب نہیں دیتا۔
پھر ایک چھوٹا سا پرندہ درخت کی شاخ سے اڑ کر اس کے سامنے آ بیٹھتا ہے۔ پرندہ کہتا ہے: “بادشاہ! تم کس چیز کے بادشاہ ہو؟” وہ غرور سے کہتا ہے: “اس جنگل کا!” پرندہ مسکراتا ہے: “نہیں، تم اپنے خوف کے بادشاہ ہو۔” “اور یہ درندے؟” “یہ تمہارے محافظ نہیں، تمہارے کردار کے آئینے ہیں۔” “اور یہ لوگ؟” پرندہ بولا: “یہ وہ لوگ ہیں جنہیں تم نے کمزور سمجھا تھا۔”
حاکم نے دیکھا کہ میدان میں مرنے والے لوگ دوبارہ کھڑے ہو رہے ہیں۔
ان کے ہاتھ خالی تھے، مگر چہرے روشن تھے۔ چار حق پرست آگے بڑھے۔ ایک نے کہا: “باطل کی سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ وہ سمجھتا ہے انسان کو مار کر حق کو بھی مار دیا جاتا ہے۔”

دوسرے نے کہا: “حق جسم کا نام نہیں، ایک امانت ہے۔” تیسرے نے کہا:”ظلم کی عمر طاقت سے نہیں، مظلوم کی خاموشی سے بڑھتی ہے۔”چوتھے نے کہا: “اور جب خاموشی ٹوٹتی ہے تو بڑے بڑے محلوں کی بنیادیں ہل جاتی ہیں۔”
حاکم چیخا: “انہیں پکڑو!”
مگر اس کے سپاہی اپنی جگہ کھڑے رہے۔ “میں نے کہا، انہیں پکڑو!” سپاہیوں نے اپنی بندوقیں زمین پر رکھ دیں۔ ایک سپاہی آگے بڑھا اور بولا:
“بادشاہ سلامت! ہم بھی انسان ہیں۔”
حاکم پیچھے ہٹا۔ اس نے درندوں کو آواز دی۔ شیر نہ آئے۔ بھیڑیے نہ آئے۔لگڑبھگے نہ آئے۔ گِدھ نہ آئے۔ وہ اکیلا رہ گیا۔
اس نے پہلی بار محسوس کیا کہ جس شخص نے پوری قوم کو جنگل بنا دیا ہو، آخرکار وہ خود بھی اسی جنگل میں تنہا رہ جاتا ہے۔ صبح ہوئی تو ملک میں ایک عجیب منظر تھا۔ لوگ گھروں سے نکل رہے تھے۔

کسی کے ہاتھ میں پرچم تھا، کسی کے ہاتھ میں کتاب، کسی کے ہاتھ میں روٹی، کسی کے ہاتھ میں انصاف کی تختی۔ اور سب سے آگے وہی بوڑھا بزرگ چل رہا تھا جس نے کبھی کہا تھا: “حق والوں کو ایک دوسرے کی ضرورت ہوتی ہے۔”
ایک نوجوان اس کے پاس آیا۔ “بابا! ہم اتنے دن کیوں بکھرے رہے؟”
بزرگ نے کہا: “کیونکہ ہم نے باطل کو دشمن سمجھا، مگر اپنی باہمی کمزوری کو دشمن نہ سمجھا۔”
“اب کیا کریں؟”
بزرگ نے اپنی مٹھی میں چند تنکے لیے اور بولا: “ان تنکوں کو دیکھو۔”
اس نے انہیں ایک ایک کرکے توڑا۔

پھر سب کو اکٹھا کرکے ایک مضبوط گٹھا بنایا۔ “اب توڑو۔” نوجوان نے بہت زور لگایا، مگر نہ توڑ سکا۔
بزرگ مسکرایا: “یاد رکھو! حق کی قوت صرف اس کے صرف سچ میں نہیں، بلکہ اس کے ماننے والوں کے اتحاد میں بھی ہوتی ہے۔”
دُور کہیں محل کی دیوار سے ایک اینٹ گری۔ پھر دوسری۔ پھر تیسری۔
اور پھر پورا محل لرزنے لگا۔
کسی نے کہا: “جنگل کا قانون ختم ہو رہا ہے!”
بزرگ نے جواب دیا: “نہیں، بیٹا! جنگل کا قانون خود بخود ختم نہیں ہوتا۔ اسے ختم کرنے کے لیے انسان کو پہلے اپنے اندر کا خوف، لالچ، تعصب اور انتشار ختم کرنا پڑتا ہے۔”

سورج طلوع ہو رہا تھا۔ اس کی روشنی میں میدان کے وہ کاغذ بھی دکھائی دے رہے تھے جن پر کبھی لوگوں نے اپنے مطالبات لکھے تھے۔ایک کاغذ ہوا میں اڑا اور بزرگ کے قدموں میں آ گرا۔
اس پر صرف ایک جملہ لکھا تھا: “ہم بھی انسان ہیں۔”
بزرگ نے کاغذ اٹھایا، اسے اپنے سینے سے لگایا اور کہا: “بس یہی وہ جملہ ہے جسے ہر ظالم مٹانا چاہتا ہے اور ہر حق پرست زندہ رکھنا چاہتا ہے۔”
اور اس دن وطن کے لوگوں نے عہد کیا کہ وہ نہ خود ظالم بنیں گے، نہ ظلم کو طاقت سمجھیں گے، نہ اپنے بھائی کو معمولی اختلاف کی وجہ سے دشمن بنائیں گے، نہ اپنے ووٹ، ضمیر اور کردار کو دولت کے عوض فروخت کریں گے۔ کیونکہ انہیں معلوم ہو چکا تھا کہ: جب حق والے بکھر جاتے ہیں تو باطل مضبوط ہوتا ہے، اور جب حق والے متحد ہو جاتے ہیں تو بڑے سے بڑا درندہ بھی اپنے جنگل سمیت بے معنی ہو جاتا ہے۔وطن کے افق پر سورج بلند ہو رہا تھا۔ اور بہت عرصے بعد لوگوں کو محسوس ہوا کہ شاید یہ صرف سورج نہیں، اُمید بھی طلوع ہو رہی ہے۔

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

محمد شفیق اعوان

محمد شفیق اعوان ،ناظم امن لاٸبریری ،محلہ منشیاں ،گاٶں و ڈاک خانہ شمس آباد ،تحصيل حضرو ،ضلع أٹک پوسٹ کوڈ 43490 موبائل نمبر 03085040024

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment