ہوم << خطبہ جمعہ مسجد الحرام – ڈاکٹر عبد الرحمن السدیس – ڈاکٹر شفقت الرحمن مغل
600x314

خطبہ جمعہ مسجد الحرام – ڈاکٹر عبد الرحمن السدیس – ڈاکٹر شفقت الرحمن مغل

سوشل میڈیا اور مصنوعی ذہانت کا ذمہ دارانہ استعمال

جدید ٹیکنالوجی نے انسانی زندگی میں غیر معمولی تبدیلیاں پیدا کی ہیں۔ سوشل میڈیا نے رابطوں کو آسان بنا دیا ہے، جبکہ مصنوعی ذہانت نے تعلیم، تحقیق، ابلاغ اور روزمرہ معاملات میں نئی سہولتیں فراہم کی ہیں۔ لیکن انہی وسائل کا غلط استعمال افراد کی عزت، خاندانوں کے سکون اور معاشرتی امن کے لیے سنگین خطرہ بنتا جا رہا ہے۔ ایسے حالات میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسلام ان جدید وسائل کے استعمال میں ہماری کیا رہنمائی کرتا ہے؟

امامِ کعبہ پروفیسر ڈاکٹر عبد الرحمن السدیس نے 9 اکتوبر 2026ء کے خطبۂ جمعہ میں اسی اہم موضوع پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسلام صرف عقائد اور عبادات تک محدود نہیں، بلکہ زندگی کے تمام شعبوں میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ چنانچہ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بھی اسلامی اخلاقیات اور شرعی اصولوں کے تابع ہونا چاہیے۔ سوشل میڈیا اور مصنوعی ذہانت اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں میں شامل ہیں۔ ان کا شکر یہ ہے کہ انہیں علم پھیلانے، بھلائی عام کرنے اور انسانیت کی خدمت کے لیے استعمال کیا جائے۔ ساتھ ہی یہ احساس بھی زندہ رہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے ہر قول و فعل سے باخبر ہے۔ وہ نگاہوں کی خیانت اور دلوں میں پوشیدہ باتوں تک کو جانتا ہے۔ لیکن سوشل میڈیا پر دوسروں کی کردار کشی، بے بنیاد الزامات، افواہ سازی اور نفرت انگیزی عام ہوتی جا رہی ہے۔ جعلی اکاؤنٹس اور مشکوک ویب سائٹس کے ذریعے ایسی خبریں پھیلائی جاتی ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ لوگ تحقیق کیے بغیر انہیں فارورڈ کر دیتے ہیں اور یوں جھوٹ معاشرے میں بداعتمادی اور انتشار کا سبب بنتا ہے۔

اس سلسلے میں سب سے اہم اصول زبان اور قلم کی ذمہ داری کا احساس ہے۔ ایک جملہ کسی کے لیے امید کا پیغام بن سکتا ہے اور وہی کسی کی زندگی اجیرن بھی کر سکتا ہے۔ رسول اللہ ؐ نے فرمایا کہ انسان کبھی اللہ کی رضا کا کوئی کلمہ کہتا ہے جسے وہ معمولی سمجھتا ہے، مگر اللہ تعالیٰ اس کے درجات بلند فرما دیتا ہے۔ اس کے برعکس کبھی کوئی ایسا کلمہ زبان سے نکل جاتا ہے جو اسے جہنم میں پہنچا دیتا ہے۔ یہ تنبیہ صرف بولنے تک محدود نہیں۔ موبائل پر لکھی گئی تحریر، کسی پوسٹ پر تبصرہ، تصویر کے ساتھ لگایا گیا جملہ یا کسی دوسرے کی بات دوبارہ نشر کرنا، سب ہماری ذمہ داری میں شامل ہیں۔ قرآن کریم یاد دلاتا ہے کہ انسان کی زبان سے نکلنے والا ہر لفظ محفوظ کیا جاتا ہے۔ اسلام میں الفاظ کی اہمیت کا اندازہ اس سے بھی ہوتا ہے کہ بعض کلمات ایمان و عقیدے سے متعلق ہیں، بعض سے نکاح قائم ہوتا ہے اور بعض سے طلاق جیسے سنگین نتائج پیدا ہوتے ہیں۔ اسی طرح تہمت اور بہتان پر شرعی مواخذہ بھی ہو سکتا ہے۔

مصنوعی ذہانت کے غلط استعمال نے اس ذمہ داری کو مزید بڑھا دیا ہے۔ آج کسی شخص کی آواز کی نقل تیار کرنا، اس کی تصویر بدلنا، جعلی ویڈیو بنانا یا اس سے ایسی بات منسوب کرنا جو اس نے کبھی کہی ہی نہیں؛ بہت آسان ہو گیا ہے۔ ان وسائل کو دھوکا دہی، کردار کشی یا کسی کی نجی زندگی میں مداخلت کے لیے استعمال کرنا محض تکنیکی شرارت نہیں، بلکہ سنگین اخلاقی اور شرعی جرم ہے۔رسول اللہ ؐ نے مسلمانوں کو دوسروں کی عیب جوئی، انہیں تکلیف پہنچانے اور ان کی پوشیدہ باتوں کی ٹوہ لگانے سے سختی سے منع فرمایا۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک موقع پر کعبہ کی عظمت و حرمت کا اعتراف کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ کے نزدیک مومن کی حرمت اس سے بھی زیادہ عظیم ہے۔ غور کیجیے!
جب ایک مسلمان کی عزت اتنی محترم ہے تو چند لائکس، ویوز یا شہرت کے لیے اس کی تذلیل کرنا کس قدر سنگین معاملہ ہوگا؟

خبروں کی تصدیق سوشل میڈیا کے استعمال کا بنیادی اصول ہے۔ قرآن کریم نے ہدایت دی ہے کہ کسی ناقابلِ اعتماد شخص کی خبر پر عمل کرنے سے پہلے اس کی تحقیق کر لی جائے، تاکہ لاعلمی میں کسی کو نقصان پہنچا کر پچھتانا نہ پڑے۔ اسی طرح سورۂ نور میں بغیر علم کے باتیں پھیلانے والوں کو متنبہ کیا گیا ہے کہ جس بات کو وہ معمولی سمجھتے ہیں، وہ اللہ کے نزدیک بہت سنگین ہو سکتی ہے۔ نبی کریم ؐ نے فرمایا کہ آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی ہوئی بات آگے بیان کرتا پھرے۔
اس لیے کوئی خبر، تصویر یا ویڈیو موصول ہوتے ہی اسے دوسروں تک پہنچانا دانش مندی نہیں۔ پہلے اس کی حقیقت اور اصل ماخذ معلوم کرنا ضروری ہے۔ خصوصاً جب کسی کی عزت یا معاشرتی امن کا معاملہ ہو تو احتیاط مزید ضروری ہو جاتی ہے۔خطبے میں ان لوگوں کو بھی متنبہ کیا گیا جو فرضی ناموں اور جعلی شناختوں کے پیچھے چھپ کر دوسروں کی کردار کشی کرتے ہیں۔ انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ لوگوں سے شناخت چھپائی جا سکتی ہے، اللہ تعالیٰ سے نہیں۔ قرآن کریم نے بے قصور مومن مردوں اور عورتوں کو اذیت پہنچانے والوں کو بہتان اور کھلے گناہ کا مرتکب قرار دیا ہے۔

جدید ذرائع ابلاغ کے خطرات صرف افواہ سازی تک محدود نہیں۔ آن لائن بلیک میلنگ، مالی دھوکا دہی، جعلی سرمایہ کاری، جلد امیر بنانے کے جھوٹے وعدے، موبائل اور کمپیوٹر کی ہیکنگ اور ذاتی معلومات کی چوری جیسے جرائم بھی پھیل رہے ہیں۔ مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کردہ جعلی آوازیں اور ویڈیوز ان جرائم کو مزید خطرناک بنا رہی ہیں۔ اسی طرح نسلی تعصب، نفرت انگیزی اور فحش و الحادی مواد کی تشہیر بھی معاشرتی بگاڑ کا سبب بنتی ہے۔اسلام نے مسلمانوں کو اتحاد، بھائی چارے اور خیر خواہی کی تعلیم دی ہے۔ قرآن کریم کا حکم ہے کہ سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامیں اور تفرقے میں نہ پڑیں۔ لہٰذا جدید ٹیکنالوجی کو نفرت اور انتشار کے بجائے اتفاق، اصلاح اور بھلائی کا ذریعہ بنانا چاہیے۔ خصوصاً اہل علم، سماجی شخصیات اور ذمہ دار افراد سے منسوب جعلی بیانات اور ویڈیوز پھیلانے سے اجتناب ضروری ہے۔خطبے کے آخری حصے میں حرمین شریفین کے امن و تقدس کی حفاظت پر بھی زور دیا گیا۔ امامِ کعبہ نے دہشت گرد حوثیوں کی جانب سے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ پر حملوں اور شہریوں کو نشانہ بنانے کی مذمت کرتے ہوئے انہیں شریعت اور بین الاقوامی اصولوں کے منافی قرار دیا۔ انہوں نے حرمین شریفین کی حرمت اور سلامتی کے تحفظ کی اہمیت واضح کی اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کے امن و استحکام کے لیے دعا کی۔

اس خطبے کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ ٹیکنالوجی بذاتِ خود مسئلہ نہیں، بلکہ اس کا استعمال اسے خیر یا شر کا ذریعہ بناتا ہے۔ ایک ہی موبائل سے علم پھیلایا جا سکتا ہے اور کسی کی عزت بھی اچھالی جا سکتی ہے۔ مصنوعی ذہانت تحقیق میں مدد دے سکتی ہے اور دھوکا دہی کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔ فیصلہ انسان کے ہاتھ میں ہے۔آج ضرورت ہے کہ گھروں اور تعلیمی اداروں میں ڈیجیٹل اخلاقیات کو دینی تربیت کا حصہ بنایا جائے۔ نوجوانوں کو ٹیکنالوجی سے روکنے کے بجائے اس کے درست استعمال، خبروں کی تصدیق اور دوسروں کی نجی زندگی کے احترام کی تعلیم دی جائے۔ہر پوسٹ، تبصرے اور پیغام سے پہلے ہمیں سوچنا چاہیے کہ کیا یہ بات درست ہے؟ کیا اسے آگے پہنچانا مفید ہے؟

کیا اس سے کسی کی حق تلفی تو نہیں ہوگی؟ اور سب سے بڑھ کر، کیا ہم اللہ تعالیٰ کے سامنے اس عمل کا جواب دے سکیں گے؟
یہی احساس سوشل میڈیا اور مصنوعی ذہانت کو معاشرتی بگاڑ کے بجائے علم، اصلاح اور انسانی خدمت کا مؤثر ذریعہ بنا سکتا ہے۔ یہی ان نعمتوں کے شکر کا تقاضا اور ایک ذمہ دار مسلمان کی طرف سے سوشل میڈیا اور مصنوعی ذہانت کا ذمہ دارانہ استعمال ہے۔