نماز: ستونِ زندگی اور سہارۂ بندگی
انسان کی زندگی میں بعض ذمہ داریاں ایسی ہوتی ہیں جن کی ادائیگی پر اس کی پوری زندگی کا حسن اور توازن قائم رہتا ہے۔ نماز ان میں سب سے اہم ہے۔ یہ محض چند مخصوص حرکات اور کلمات کا مجموعہ نہیں، بلکہ بندے اور اس کے رب کے درمیان ایک مضبوط تعلق، ایمان کی عملی علامت اور کردار کی اصلاح کا مؤثر ذریعہ ہے۔ نماز انسان کو دنیا کی مصروفیات سے نکال کر اپنے خالق کے حضور کھڑا کرتی ہے، اسے اپنی حقیقت یاد دلاتی ہے اور زندگی کی مشکلات کا سامنا کرنے کے لیے حوصلہ عطا کرتی ہے۔
مسجد الحرام مکہ مکرمہ کے امام و خطیب ڈاکٹر عبد اللہ بن عواد الجہنی حفظہ اللہ نے جمعہ 16 اکتوبر 2026ء کے خطبے میں اسی اہم دینی فریضے کو موضوعِ گفتگو بنایا۔امامِ کعبہ نے کہا کہ: اسلام کے بنیادی ارکان میں کلمۂ شہادت کے بعد نماز کو دوسرا مقام حاصل ہے۔ اس کی اہمیت کا اندازہ نبی کریمؐ کے اس فرمان سے ہوتا ہے کہ بندے اور کفر کے درمیان نماز چھوڑنے کا فاصلہ ہے۔ اس لیے نماز سے غفلت کوئی معمولی کوتاہی نہیں، بلکہ انسان کے دینی کردار میں ایک سنگین کمزوری ہے۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بھی نماز کو مسلمانوں کے اہم ترین معاملات میں شمار کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ جو شخص نماز کی حفاظت کرتا ہے، وہ اپنے دین کی حفاظت کرتا ہے، اور جو نماز ضائع کرتا ہے، وہ دوسرے معاملات میں اس سے بھی زیادہ کوتاہی کرتا ہے۔نماز دراصل انسان کے اعمال کا پیمانہ ہے۔ جب بندہ اپنے رب کے سامنے حاضری کو اہمیت دیتا ہے تو اس کے اندر دوسری ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے ادا کرنے کا جذبہ بھی پیدا ہوتا ہے۔ اس کے برعکس نماز سے بے پروائی رفتہ رفتہ زندگی کے دوسرے شعبوں میں بھی غفلت پیدا کر سکتی ہے۔ نماز کی پابندی انسان کو وقت کی قدر، نظم و ضبط، احساسِ ذمہ داری اور اپنے اعمال کے محاسبے کا سبق دیتی ہے۔
نماز کی ادائیگی کے لیے ظاہری اور باطنی تیاری ضروری ہے۔ جسم اور لباس کی پاکیزگی، وضو، ستر پوشی، قبلہ رخ ہونا اور خالص نیت اس کی بنیادی شرائط ہیں۔ پانی میسر نہ ہو یا استعمال کرنا ممکن نہ ہو تو شریعت نے تیمم کی سہولت دی ہے۔ نماز میں قراءت، رکوع، سجدہ، قیام اور قعدہ جیسے اعمال کو درست طریقے سے ادا کرنا ضروری ہے۔ خصوصاً رکوع و سجود اور ان کے درمیان اطمینان کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ جلدی جلدی نماز پڑھنا، گویا کوئی پرندہ زمین پر چونچ مار رہا ہو، نماز کی روح کے منافی ہے۔ نماز کی ظاہری درستگی کے ساتھ دل کی حاضری، خشوع اور سنتِ نبوی کی پیروی بھی مطلوب ہے۔نماز کا ایک عظیم فائدہ یہ ہے کہ وہ انسان کے دل کو قرآن کریم کی ہدایت قبول کرنے کے لیے تیار کرتی ہے۔ جب بندہ توجہ کے ساتھ اپنے رب کے حضور کھڑا ہوتا ہے تو اسے ایمان کی مٹھاس محسوس ہوتی ہے، دنیا کی حقیقت سمجھ میں آتی ہے اور آخرت کی فکر بیدار ہوتی ہے۔ وہ اپنی زندگی کو محض خواہشات اور مادی کامیابیوں تک محدود نہیں رکھتا، بلکہ اس انجام کی تیاری کرتا ہے جہاں اس کے اعمال کا حساب ہوگا۔
زندگی ہمیشہ آسان نہیں رہتی۔ کبھی معاشی پریشانیاں گھیر لیتی ہیں، کبھی بیماری، کبھی رشتوں کی الجھنیں اور کبھی ایسے حالات سامنے آتے ہیں جن میں انسانی تدبیریں بے بس دکھائی دیتی ہیں۔ ان مواقع پر نماز مؤمن کے لیے غیر معمولی سہارا بنتی ہے۔ یہ پیاس کے وقت ٹھنڈے پانی، بھوک کے وقت غذا اور کمزوری کے وقت قوت کی مانند ہے۔ نماز انسان کو صبر سکھاتی ہے، اس کی ہمت بڑھاتی ہے اور پریشانیوں کے درمیان دل کو سنبھالتی ہے۔ نبی کریمؐ کو جب کوئی پریشان کن معاملہ پیش آتا تو آپ نماز کی طرف متوجہ ہوتے۔ اس میں ہمارے لیے یہ سبق ہے کہ مشکلات کے وقت اللہ سے تعلق مزید مضبوط کیا جائے۔نماز کا اثر انسان کے اخلاق اور کردار پر بھی ظاہر ہونا چاہیے۔ قرآن کریم نے واضح کیا ہے کہ نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بھی نماز کو اللہ کی نافرمانی سے روکنے کا ذریعہ قرار دیا۔تاہم یہ اثر اسی وقت نمایاں ہوتا ہے جب نماز اخلاص کے ساتھ ادا کی جائے، دکھاوے اور خودپسندی سے پاک ہو، دل حاضر ہو اور طریقہ نبی کریمؐ کی تعلیمات کے مطابق ہو۔ ایسی نماز انسان کے اندر اللہ کی نگرانی کا احساس پیدا کرتی ہے، اس کے ضمیر کو بیدار رکھتی ہے اور اسے غلط کاموں کے انجام پر غور کرنے کی توفیق دیتی ہے۔
نماز کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس کے اوقات مقرر ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اہلِ ایمان پر وقت کی پابندی کے ساتھ فرض کیا ہے۔ اس لیے تجارت، ملازمت، کھیل، تقریبات اور سماجی مصروفیات نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کرنے کا جواز نہیں بن سکتیں۔ ہر مسلمان اپنی نماز کا خود ذمہ دار ہے۔ اسی طرح اجتماعات اور تقریبات کے منتظمین کو بھی چاہیے کہ شرکاء کے لیے نماز کی ادائیگی کا مناسب موقع فراہم کریں اور وقت آنے پر انہیں متوجہ کریں۔شریعت نے نماز کی پابندی کا حکم دیتے ہوئے انسانی حالات اور مجبوریوں کا بھی لحاظ رکھا ہے۔ میدانِ جنگ میں دشمن کے مقابلے کے دوران نماز کا اہتمام کرنے کی ہدایت موجود ہے۔ بیمار شخص اپنی استطاعت کے مطابق نماز ادا کرتا ہے؛ جو عمل اس کے بس میں ہو، اسے بجا لاتا ہے اور جس سے حقیقتاً عاجز ہو، اس میں اسے رعایت حاصل ہے۔ اللہ تعالیٰ کسی جان کو اس کی طاقت سے بڑھ کر مکلف نہیں بناتا۔ اسی طرح جو شخص نیند یا بھول کی وجہ سے نماز ادا نہ کر سکے، وہ یاد آنے یا بیدار ہونے پر اسے ادا کرے۔ ان احکام سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام نماز کی پابندی کے ساتھ سہولت اور انسانی استطاعت کو بھی ملحوظ رکھتا ہے۔
گھروں میں نماز کا ماحول پیدا کرنا بھی ہماری اہم ذمہ داری ہے۔ والدین اپنی نمازوں کی پابندی کریں، بچوں کو نماز کی تلقین کریں اور گھر کے افراد کو اس عظیم عبادت کی اہمیت سمجھائیں۔ محض زبانی نصیحت کے بجائے عملی نمونہ زیادہ مؤثر ہوتا ہے۔ جب بچے اپنے بڑوں کو مصروفیات کے باوجود نماز کا اہتمام کرتے دیکھتے ہیں تو ان کے دلوں میں بھی اس کی قدر پیدا ہوتی ہے۔نماز کا تعلق صرف انفرادی اصلاح سے نہیں، بلکہ معاشرتی امن اور اطمینان سے بھی ہے۔ انسانی جانوں کی حرمت پامال کرنا، بے گناہوں کو نشانہ بنانا اور معاشرے میں خوف و دہشت پھیلانا سنگین جرائم ہیں۔ مسجد حرام کے خطیب نے ریاض کے کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے کو نشانہ بنانے کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اسے انسانی جانوں کی حرمت کی کھلی خلاف ورزی اور زمین میں فساد قرار دیا۔ کوئی مذہبی یا سیاسی دعویٰ بے گناہ انسانوں پر حملوں کا جواز فراہم نہیں کر سکتا۔ ایسے حالات میں امن کے تحفظ کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرنا بھی ضروری ہے۔
قرآن کریم نے اہلِ ایمان کو صبر اور نماز کے ذریعے مدد حاصل کرنے کی تعلیم دی ہے۔ نماز خوف اور بے چینی کے ماحول میں دل کو اطمینان بخشتی ہے اور انسان کو اپنے رب کی رحمت سے وابستہ رکھتی ہے۔ مصیبت کے وقت نماز کی طرف رجوع کرنا اس بات کا اظہار ہے کہ بندہ اپنی کوششوں کے ساتھ اللہ کی قدرت، رحمت اور مدد پر بھی بھروسا رکھتا ہے۔نماز کی حفاظت کرنے والوں کے لیے قرآن کریم نے جنت الفردوس میں عزت و تکریم کی بشارت دی ہے۔ یہ عظیم وعدہ ہمیں دعوت دیتا ہے کہ نماز کو روزمرہ زندگی کی ایک رسمی سرگرمی سمجھنے کے بجائے اپنی زندگی کا مرکز بنائیں۔ اسے وقت پر، درست طریقے سے، دل کی حاضری اور اخلاص کے ساتھ ادا کریں اور اس کے اثرات اپنے اخلاق، معاملات اور تعلقات میں بھی نمایاں کریں۔نماز کی حقیقی کامیابی یہی ہے کہ انسان مسجد میں اپنے رب کے سامنے جھکے تو مسجد سے باہر بھی اس کی زندگی اللہ کی اطاعت، ذمہ داری، پاکیزگی اور حسنِ کردار کا نمونہ بن جائے۔ یہی نماز کی حفاظت ہے اور یہی وہ راستہ ہے جو دنیا میں قلبی سکون اور آخرت میں دائمی کامیابی کی طرف لے جاتا ہے۔



تبصرہ لکھیے