عبرت حاصل کریں یا خود عبرت بنیں؟
انسان خطا سے خالی نہیں۔ کبھی خواہش اسے اپنی طرف کھینچ لے جاتی ہے، کبھی غصہ اس کی نگاہ پر پردہ ڈال دیتا ہے، کبھی نفس غلط راستے کو خوب صورت بنا کر دکھاتا ہے اور کبھی وقتی مفاد اسے ایسا فیصلہ کرنے پر آمادہ کر دیتا ہے جس پر بعد میں پچھتانا پڑتا ہے۔ اصل مسئلہ یہ نہیں کہ انسان سے غلطی کیوں ہوئی، بلکہ سوال یہ ہے کہ غلطی کے بعد اس نے کیا کیا؟
کیا وہ وہیں پڑا رہا یا اٹھ کر اپنی سمت درست کر لی؟ امامِ کعبہ الشیخ ڈاکٹر فیصل بن جمیل غزاوی حفظہ اللہ نے اپنے حالیہ خطبۂ جمعہ میں اسی اہم انسانی اور دینی حقیقت کو نہایت مؤثر انداز میں موضوع بنایا۔ ان کا بنیادی پیغام یہ تھا کہ مومن اپنی لغزشوں، دوسروں کے تجربات اور تاریخ کے واقعات سے سبق سیکھتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ مومن ایک سوراخ سے دو مرتبہ نہیں ڈسا جاتا۔ اس حدیث میں پوری زندگی کے لیے ایک زبردست اصول پوشیدہ ہے۔ عقل مندی یہ نہیں کہ انسان کبھی نقصان نہ اٹھائے، بلکہ یہ ہے کہ ایک نقصان اسے آئندہ کے کئی نقصانات سے بچا لے۔ ایک غلط فیصلہ اسے زیادہ محتاط بنا دے، ایک ناکام تجربہ اس کے فہم میں اضافہ کر دے اور ایک ٹھوکر اسے اگلے راستے کے گڑھوں کی پہچان کرا دے۔ جو شخص بار بار ایک ہی غلطی دہراتا ہے، وہ دراصل حادثے کا کم اور اپنی غفلت کا زیادہ شکار ہوتا ہے۔
قرآن کریم بار بار انسان کو گزشتہ اقوام کے عروج و زوال، کامیابیوں اور تباہیوں پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ مقصد صرف تاریخی معلومات فراہم کرنا نہیں، بلکہ دل اور نگاہ کو بیدار کرنا ہے۔ نوح علیہ السلام کی کشتی محض ایک قدیم واقعہ نہیں، بلکہ نجات اور ایمان کا سبق ہے۔ قومِ لوط کے آثار صرف تباہ شدہ بستیوں کی یاد نہیں، بلکہ اخلاقی سرکشی کے انجام سے خبردار کرتے ہیں۔ عاد و ثمود کے ویران مسکن بتاتے ہیں کہ طاقت، وسائل اور تمدن بھی اس قوم کو نہیں بچا سکتے جو ظلم، سرکشی اور حق سے بغاوت پر اڑ جائے۔ قرآن قصے اس لیے سناتا ہے کہ بعد میں آنے والے لوگ وہی غلطیاں نہ دہرائیں۔ امامِ کعبہ نے اسی ضمن میں اصحابِ فیل کا واقعہ بھی یاد دلایا۔ مکہ مکرمہ پر حملہ کرنے اور بیت اللہ کو نقصان پہنچانے کا ارادہ رکھنے والی قوت بظاہر بہت بڑی تھی، لیکن اس کا انجام سب کے لیے عبرت بن گیا۔ یہ واقعہ مسلمانوں کو ایک اصولی حقیقت یاد دلاتا ہے کہ مقدسات کی بے حرمتی، ظلم اور جارحیت، وقتی طاقت کے باوجود، پائیدار کامیابی کی ضمانت نہیں بنتے۔ تاریخ میں بہت سے ایسے لوگ گزرے ہیں جنہوں نے اپنی قوت ہی کو حق سمجھ لیا، مگر پھر وہی قوت ان کی تباہی کا پیش خیمہ بن گئی۔
اصل مشکل یہ ہے کہ ہر شخص دوسروں کی غلطیاں تو فوراً دیکھ لیتا ہے، مگر اپنی غلطی دیکھنا اس کے لیے نسبتاً مشکل ہوتا ہے۔ اسی لیے خطبے میں محاسبۂ نفس پر زور دیا گیا۔ انسان کو وقتاً فوقتاً اپنے الفاظ، فیصلوں، تعلقات، کاروبار، عبادات اور رویوں کا جائزہ لیتے رہنا چاہیے۔ جو عمل درست ہو اسے جاری رکھا جائے، اور جو غلط ہو اس کی اصلاح کی جائے۔ اگر علم نہ ہو تو پوچھ لیا جائے، قدم پھسل جائے تو واپسی اختیار کی جائے، کسی کا حق مارا ہو تو تلافی کی جائے، اور گناہ سرزد ہو جائے تو اصرار کے بجائے ندامت اختیار کی جائے۔ یہی رویہ انسان کو غلطی پر تباہ کن اصرار سے بچاتا ہے۔ خطبے کا ایک نہایت فکر انگیز حصہ وہ ہے جہاں بتایا گیا کہ جو شخص دوسروں سے عبرت نہیں لیتا، وہ خود دوسروں کے لیے عبرت بن جاتا ہے۔ حسن بصری رحمہ اللہ کا قول نقل کیا گیا کہ انسان دراصل چند دنوں کا مجموعہ ہے؛ ایک دن گزرتا ہے تو گویا اس کی زندگی کا ایک حصہ کم ہو جاتا ہے۔ اس لیے اپنے سے پہلے گزرنے والوں سے سبق حاصل کرنا چاہیے اور اپنے بعد آنے والوں کے لیے عبرت نہیں بننا چاہیے۔ یہ ایسا جملہ ہے جو انفرادی زندگی سے لے کر اجتماعی تاریخ تک، ہر سطح پر صادق آتا ہے۔
دوسرے خطبے میں اسی اصول کا اطلاق زندگی کے مختلف شعبوں پر کیا گیا۔ انسان ان لوگوں سے عبرت کیوں نہ لے جنہوں نے حقوق اللہ میں دوسروں کو شریک کیا، مردوں اور اولیاء سے ایسی امیدیں وابستہ کیں جو صرف اللہ سے وابستہ ہونی چاہییں، یا غلو کرتے ہوئے لوگوں کی تکفیر، تفسیق اور تبدیع میں حد سے تجاوز کیا؟ دین کے نام پر ظلم کرنا اور مسلمانوں کے خون و مال کو معمولی سمجھنا بذاتِ خود بہت بڑی گمراہی ہے۔اسی طرح تاریخ ان لوگوں کے انجام سے بھی بھری پڑی ہے جو تکبر، خیانت، غدر اور جارحیت کے راستے پر چلے۔ کسی آبادی کا امن تباہ کرنا، بے گناہوں کو خوف زدہ کرنا، دوسروں کے حقوق پر حملہ کرنا اور اپنی طاقت کو ظلم کا ذریعہ بنانا وقتی طور پر فائدہ مند دکھائی دے سکتا ہے، مگر ایسے اعمال بالآخر اپنے مرتکب ہی کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔ خطیب محترم نے واضح کیا کہ بہت سے لوگوں کو ان کے اعمال اور نافرمانیوں جیسی ہی سزا ملتی ہے۔ یہ محض ایک وعظی جملہ نہیں، بلکہ ایک گہرا اخلاقی اصول ہے: انسان جیسا بوتا ہے، ویسا ہی انجام اس کے سامنے آ کھڑا ہوتا ہے۔
فکری گمراہی بھی انسان کو ایسی جگہ پہنچا سکتی ہے جہاں سے واپسی مشکل ہو جاتی ہے۔ خطبے میں ان لوگوں سے خبردار کیا گیا جو دین کے واضح اصولوں میں مسلسل شکوک پیدا کرتے، متشابہ باتوں کے پیچھے پڑتے ہیں اور ہر قطعی حقیقت کو شبہے کی نذر کر دیتے ہیں۔ اسی طرح یہ رویہ بھی خطرناک ہے کہ انسان آزادی کے نام پر اپنے دین ہی کو بوجھ سمجھنے لگے اور اسلامی تعلیمات کو پسماندگی یا جمود قرار دے۔ سوال کرنا ایک علمی عمل ہے، لیکن سوال کو ضد، شبہے اور دین سے بیزاری کا ہتھیار بنا لینا بالکل مختلف بات ہے۔اسی فہرست میں جادوگروں اور کاہنوں کے پاس جانا، جھوٹ کے ذریعے لوگوں کو گمراہ کرنا، نیک لوگوں کی خامیاں تلاش کرکے ان کی لغزشیں اچھالنا اور زندہ یا فوت شدہ مسلمانوں کی عزت کو زبان کا نشانہ بنانا بھی شامل ہے۔ سوشل میڈیا کے موجودہ دور میں یہ نصیحت پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گئی ہے۔ ایک کلک سے کسی کی عزت اچھالی جا سکتی ہے، ایک غیر مصدقہ بات سیکڑوں لوگوں تک پہنچائی جا سکتی ہے اور محض ایک گمان کو حقیقت بنا کر پیش کیا جا سکتا ہے۔ عبرت کا تقاضا یہ ہے کہ انسان دوسروں کی رسوائی سے لطف اندوز ہونے کے بجائے اپنی زبان اور انگلیوں کی ذمہ داری محسوس کرے۔
خطبے میں یہ تنبیہ بھی کی گئی کہ عبادت کے نام پر ایسا راستہ اختیار نہ کیا جائے جس کی اللہ نے اجازت دی ہو نہ رسول اللہ ﷺ نے اسے مشروع قرار دیا ہو۔ دین میں خود ساختہ اضافے، بدعات و محدثات اور عبادت کے ایسے طریقے جن کی کوئی شرعی بنیاد نہ ہو، بظاہر نیکی کے عنوان سے شروع ہو سکتے ہیں، مگر انسان کو اصل سنت سے دور لے جاتے ہیں۔ دین میں صرف اخلاص کافی نہیں، درست طریقہ بھی ضروری ہے۔ وہی نیکی معتبر ہے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی ہدایت کے مطابق ہو۔
خطبے میں عبادات اور خاندانی زندگی کو بھی اسی اصول سے جوڑا گیا۔ نماز میں غفلت، والدین سے بدسلوکی، قطع رحمی، طلاق جیسے حساس معاملے میں جلد بازی، محض ظن و وہم کی بنیاد پر لوگوں کے بارے میں فیصلے صادر کرنا اور ہر سنی سنائی بات آگے بڑھا دینا، یہ سب ایسے رویے ہیں جن کے نتائج انسان کو اکثر دیر سے سمجھ آتے ہیں۔ اسی طرح مالی معاملات میں بخل، اللہ کا حق روکنا، ناجائز طریقوں سے کمانا، دھوکا دہی اور حیلہ سازی بھی بالآخر انسان ہی کو نقصان پہنچاتی ہے۔
زندگی کا ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ بعض لوگ نصیحت سننا پسند نہیں کرتے۔ انہیں اپنی رائے، سمجھ اور فیصلوں پر اس قدر اعتماد ہوتا ہے کہ خیرخواہانہ مشورے کو بھی اپنی توہین سمجھتے ہیں۔ خطبے میں اس شخص کو بھی عبرت کا موضوع بنایا گیا جو نصیحت کے باوجود اعراض، تکبر، خود پسندی اور اپنی رائے پر اصرار کرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو شخص خیرخواہانہ تنبیہ قبول نہیں کرتا، اسے اکثر حالات وہ سبق سکھا دیتے ہیں جو پہلے ایک نرم نصیحت سے سیکھا جا سکتا تھا۔خطبۂ حرم کا حاصل یہی ہے کہ زندگی کے ہر منظر میں ایک سبق پوشیدہ ہے۔ دوسروں کی کامیابی ہمیں درست راستہ دکھاتی ہے، ان کی ناکامی ہمیں خطرے سے خبردار کرتی ہے، ہماری اپنی غلطی ہمیں اصلاح کا موقع دیتی ہے اور تاریخ مستقبل کے فیصلوں کے لیے بصیرت فراہم کرتی ہے۔ مگر شرط یہ ہے کہ انسان دیکھنے کے ساتھ سمجھنے اور سننے کے ساتھ سیکھنے کی صلاحیت بھی پیدا کرے۔
دانش مند وہ نہیں جو کبھی نہ گرے؛ دانش مند وہ ہے جو ہر ٹھوکر کے بعد پہلے سے زیادہ سنبھل کر چلے۔ زندگی میں ایسے مواقع بار بار آتے ہیں جب انسان کو فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ وہ دوسروں سے عبرت حاصل کرے گا یا خود ایسا قصہ بن جائے گا جسے آنے والے لوگ دوسروں کو سمجھانے کے لیے سنایا کریں گے۔ انتخاب آج بھی ہمارے ہاتھ میں ہے: عبرت حاصل کریں یا خود عبرت بنیں؟



تبصرہ لکھیے