میری پوتی ابھی صرف پانچ برس کی ہے۔ ایک دن اپنی نوٹ بک پر کچھ بنا رہی تھی۔ میں نے پوچھا تو بڑے اطمینان سے مجھے اپنی بنائی ہوئی دنیا سمجھانے لگی:
“یہ ایک طرف شیطان ہے اور یہ دوسری طرف یحییٰ ہے۔ مجھے شیطان کے ساتھی نہیں بننا۔ یحییٰ ہمارا ہیرو ہے۔ وہ اچھی باتیں پھیلاتا ہے… اور اسماعیل اس کا دوست ہے۔ ہمیں فاطمہ جیسا بننا ہے۔”
پانچ برس کی ایک بچی… اور اس کی نوٹ بک میں دنیا کے بڑے بڑے سوال اپنے معصوم رنگوں کے ساتھ موجود تھے۔ بچوں کی دنیا بھی کتنی عجیب ہوتی ہے۔ کبھی مکی ماؤس ان کا دوست بن جاتا ہے، کبھی ٹام اینڈ جیری کی شرارتیں انہیں ہنساتی ہیں، پوپائے طاقت کا تصور دیتا ہے، ڈورا ایمون حیرتوں کی دنیا کھولتا ہے اور بن ٹین انہیں مہم جوئی اور بہادری کے خواب دکھاتا ہے۔بچے کرداروں کو صرف دیکھتے نہیں، انہیں اپنے اندر بسا لیتے ہیں۔کسی کو طاقت کی علامت سمجھتے ہیں، کسی کو مزاح کی، کسی کو بہادری کی، اور کسی کو اپنا مثالی دوست بنا لیتے ہیں۔
سوچئے…
ہماری آنے والی نسلیں اپنے حقیقی ہیرو کہاں سے لے رہی ہیں؟
میرے ذہن میں وہ آخری منظر بھی آیا جو دنیا نے دیکھا۔ یحییٰ بن سنوار جنگ کے آخری لمحوں تک مقابلے کی حالت میں دکھائی دیا۔ شاید اس آخری لمحے اپنی اسٹک ڈرون کی طرف اچھالتے ہوئے اسے یہ اندازہ بھی نہ ہو کہ بعد کی نسلوں کے ذہن میں اس کا نام کس طرح محفوظ ہونے والا ہے۔آج ایک بچہ اس کا نام اپنی نوٹ بک پر لکھ رہا ہے۔ایک بچی اسے اپنا ہیرو کہہ رہی ہے۔میری دو برس کی ننھی پوتی دو گھنٹے کے گاڑی کے سفر میں بار بار کہتی ہے:
“بابا! مجھے بس یحییٰ سننا ہے…”
یہ محض ایک بچے کی بات نہیں۔یہ ہمارے عہد کا ایک آئینہ ہے۔وہ نسل جس نے غزہ کے ملبے، زخمی بچوں، ماؤں کی چیخوں اور مسلسل تباہی کی تصویریں دیکھ کر آنکھ کھولی ہے، اس کے ذہن میں بہادری اور مزاحمت کے معنی بھی اسی ماحول میں تشکیل پا رہے ہیں. اور یہاں ایک بہت بڑا سوال ہمارے سامنے کھڑا ہے:
ہم اپنے بچوں کو ہیرو کیا دے رہے ہیں؟
کیا ان کے ہیرو صرف کارٹونوں کے کردار ہوں گے؟
صرف کھیلوں کے ستارے؟
صرف برانڈز کے چہرے؟
صرف وہ لوگ جن کی زندگی آسائش، شہرت اور دولت کے گرد گھومتی ہے؟
یا ہم انہیں ایسے انسان بھی دکھائیں گے جن کی زندگی کسی بڑے مقصد، کردار، علم، خدمت، صبر اور حق کے لیے جدوجہد سے عبارت ہو؟
زندگی صرف اچھے گھروں، اچھے کھانوں، قیمتی لباسوں اور برانڈڈ چیزوں کا نام نہیں۔انسان دنیا سے جاتے ہوئے اپنی الماریاں، گاڑیاں اور جائیدادیں ساتھ نہیں لے جاتا. کچھ لوگ گھر بناتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔ کچھ بڑی جائیدادیں چھوڑ جاتے ہیں۔ کچھ بہت سی اولاد چھوڑ جاتے ہیں۔کچھ لوگ اپنے پیچھے ایک سوال چھوڑ جاتے ہیں:
میں نے اپنی زندگی کس مقصد کے لیے گزاری؟
شاید اسی لیے بچوں کی نوٹ بک کو معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔ وہ ننھے ہاتھ جو آج پنسل سے کسی کا نام لکھ رہے ہیں، کل اسی نام کے ذریعے دنیا کو سمجھنے کی کوشش کریں گے۔وہ جو آج کسی کردار کو اپنا ہیرو کہتے ہیں، کل اسی کردار کے ذریعے بہادری، قربانی، حق اور جدوجہد کے معنی اخذ کریں گے۔اس لیے اصل فکر صرف یہ نہیں کہ بچے کس کا نام لے رہے ہیں۔اصل فکر یہ ہے کہ ہم نے ان کے سامنے کن کرداروں کو زندگی کا قابلِ تقلید نمونہ بنا کر پیش کیا ہے۔کیونکہ ہر نسل اپنے ہیرو خود نہیں بناتی۔ اکثر ہم ہی اس کے ہاتھ میں وہ نام دیتے ہیں، **جس کے ذریعے وہ آنے والی دنیا کو دیکھتی ہے۔



تبصرہ لکھیے