ہوم << مذہبی طبقات تنہا کیوں رہ گئے؟ – امیرجان حقانی
600x314

مذہبی طبقات تنہا کیوں رہ گئے؟ – امیرجان حقانی

کچھ لوگ کمال کے سوال اٹھاتے ہیں۔ کل ہم نے مذہبی طبقات کے ’’لفڑوں‘‘ پر مشتمل ایک مفصل کالم لکھا تو کسی درد دل رکھنے والے صاحب نے کچھ اہم سوالات اٹھائے۔ شکوہ بھی کیا اور توجہ بھی دلائی کہ آپ اکثر مذہبی طبقات کے ان لفڑوں سے شاکی رہتے ہیں، انہیں ان کے اصل کام یاد دلاتے ہیں، یہ اچھی بات ہے، مگر کبھی اس پہلو پر بھی غور کریں کہ مذہبی طبقات کو بھی ان تمام چیزوں کی ضرورت ہے جو جدید تعلیم یافتہ طبقات کو میسر ہیں۔

اور المیہ یہ ہوا کہ ان محرومیوں کے سبب وہ تنہا رہ گئے ہیں۔ ان کا سوال بالکل بجا تھا۔ لاریب! بہت سارے سوالات ہیں جو دل و دماغ میں کلبلا رہے ہیں۔
اگر مذہبی طبقات اپنے اصل کام نہیں کر رہے تو کیا جدید تعلیم یافتہ طبقات بھی اپنا کام مکمل طور پر کر رہے ہیں؟
کیا جدید سائنس و فلسفہ اور عقلی فکر کو سمجھنے کے لیے دینی مدارس کے طلبہ و طالبات کو بنیادی علوم سے روشناس کرانا جدید تعلیم یافتہ طبقے کی بھی ذمہ داری نہیں؟
کیا الحاد، تشکیک، لادینیت، جدید فکری شبہات اور مذہب و سائنس کے مباحث کو سمجھنے کے لیے دینی طبقات اور طلبہ کی کوئی منظم رہنمائی اور شعوری تربیت کی گئی ہے؟، انہیں کوئی مدد دی گئی ہے؟
کیا مذہبی طبقات اور دینی طلبہ کو سیاسیات، معاشیات، نفسیات، سماجیات اور جدید دنیا کے دیگر بنیادی علوم سے واقف کرانے کی ضرورت نہیں،؟ کھبی کسی نے اس حوالے سے سوچا ہے؟

سائنٹفک تحقیق، انگریزی اور دیگر عالمی زبانیں ، کمپیوٹر، ڈیجیٹل میڈیا اور مصنوعی ذہانت جیسے جدید ذرائع میں دینی طلبہ کو کس حد تک مہارت حاصل ہونی چاہیے؟ اور اگر ہونی چاہیے تو یہ مہارت انہیں کون دے گا،؟ ان کے کے لیے کوئی حکمت عملی بنائی گئی ہے؟
مذہبی طبقات اور دینی طلبہ کو جدید تعلیم یافتہ طبقے کے ساتھ علمی مکالمہ کرنے، جدید ذہن کے سوالات سمجھنے اور اپنے دینی علم کو عصر حاضر کے مسائل سے جوڑنے کے لیے کن صلاحیتوں کی ضرورت ہے؟ اور ان میں یہ صلاحیتیں پیدا کرنے کی ذمہ داری آخر کس کی ہے، کیا جدید طبقہ بری الذمہ ہے؟

ایسے اور درجنوں سوالات ہیں۔ جدید ذہن رکھنے والے لوگ، علمی شخصیات، یونیورسٹیاں، تعلیمی ادارے، تحقیقی مراکز، سماجی تنظیمیں، ریاستی ادارے، قومی و بین الاقوامی ادارے اور مختلف علمی انسٹی ٹیوٹس اگر واقعی معاشرے میں علم، تحقیق، مکالمے اور فکری ہم آہنگی چاہتے ہیں تو دینی طبقات کو ان علوم و فنون سے جوڑنے کے لیے سنجیدہ اور منظم کوشش کیوں نہیں کرتے؟
کیا دینی مدارس کے طلبہ کو سائنس سمجھنے، جدید فلسفہ پڑھنے، تحقیق کرنے، انگریزی سیکھنے، ٹیکنالوجی استعمال کرنے اور جدید سماجی علوم سے واقف ہونے کے مواقع فراہم کرنا صرف مدارس کی ذمہ داری ہے؟
کیا جدید تعلیم یافتہ طبقے کی کوئی ذمہ داری نہیں؟
ہم مذہبی طبقات سے بجا طور پر یہ سوال کرتے ہیں کہ آپ جدید دنیا کو کیوں نہیں سمجھتے، مگر کیا کبھی جدید دنیا سے بھی یہ سوال کیا ہے کہ آپ نے مذہبی طبقات کو جدید دنیا سمجھنے کے لیے کیا دیا؟

ہم کہتے ہیں کہ عالم دین کو سائنس کا شعور ہونا چاہیے، مگر سائنس پڑھانے والا دینی طبقے تک پہنچا کہاں اور کب؟
ہم کہتے ہیں کہ عالم کو جدید فلسفے سے واقف ہونا چاہیے، مگر فلسفے کا استاد مدرسے کے طالب علم کے ساتھ بیٹھا کب؟
ہم چاہتے ہیں کہ دینی طالب علم جدید میڈیا سمجھے، مصنوعی ذہانت سے واقف ہو، تحقیق کے جدید طریقے جانے، مگر یہ سب سکھانے کے لیے ہمارے جدید تعلیمی اداروں نے مدارس کے دروازے پر کتنی دستک دی؟
لاریب! ہماری تنقید دونوں طرف ہونی چاہیے، ذمہ داری بھی دونوں طرف ہونی چاہیے اور مکالمہ بھی دونوں طرف سے ہونا چاہیے۔ مذہبی طبقات کو اپنے حصے کی اصلاح ضرور کرنی چاہیے، اپنے لفڑوں سے نکل کر اپنے اصل علمی و دعوتی و نبوی کام کی طرف بھی آنا چاہیے، لیکن جدید تعلیم یافتہ طبقات کو بھی یہ سوچنا ہوگا کہ اگر وہ معاشرے کے ایک بڑے علمی طبقے کو جدید علوم، تحقیق اور فکری مباحث سے مسلسل دور رکھتے ہیں تو پھر صرف یہ شکایت کافی نہیں کہ وہ جدید دنیا سے واقف کیوں نہیں!

شاید ہمیں ایک دوسرے سے دور کھڑے ہوکر شکایتیں کرنے کے بجائے ایک دوسرے کے قریب بیٹھ کر علم بانٹنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ معاشرے کو صرف ایسے عالم کی ضرورت نہیں جو دین جانتا ہو، اسے ایسے عالم کی بھی ضرورت ہے جو اپنے عہد کو جانتا ہو۔ اور ایسے جدید تعلیم یافتہ انسان کی بھی ضرورت ہے جو سائنس تو جانتا ہو، مگر دین، مذہب اور دینی طبقات کو سمجھنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہو۔یہ ایک افسوسناک زمینی حقیقت ہے کہ جدید طبقات، علمی اداروں، یونیورسٹیوں، تحقیقی مراکز اور اہل دانش نے بھی دینی طبقات و طلبہ کے ساتھ علمی معاونت اور فکری رہنمائی کو اپنی ذمہ داری کا باقاعدہ حصہ نہیں بنایا۔ انہیں وہ محبت، احترام اور سہولیات ہی نہیں دی جو ان کا حق تھا، دینی مدارس کے طلبہ کو بیسک سائنس، جدید فلسفہ، سماجی علوم، سائنٹفک تحقیق، ٹیکنالوجی اور جدید فکری مباحث و رجحانات سے جوڑنے کے لیے نہ مطلوبہ ادارہ جاتی کوشش دکھائی دیتی ہے، نہ مستقل علمی پروگرام اور نہ ہی ایسا سنجیدہ مکالمہ جس سے دونوں دنیائیں ایک دوسرے کو سمجھ سکیں۔ ہم دینی طبقے سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ جدید دنیا کے سوالات کا جواب دے، مگر اسے جدید دنیا کے سوالات سمجھنے کے وسائل، ماہرین اور علمی مواقع فراہم کرنے میں خود کتنی دلچسپی رکھتے ہیں؟

اگر ایک طرف مذہبی طبقات جدید علوم سے بے اعتنائی برت رہے ہیں تو دوسری طرف جدید طبقات بھی دینی طبقات سے علمی فاصلہ قائم کرکے مطمئن بیٹھے ہیں۔ شاید یہ یک طرفہ مسئلہ نہیں، دونوں طرف پل بنانے کے بجائے اپنی اپنی دیواریں بلند کرنے کا مسئلہ ہے۔ جدید دنیا اگر واقعی علم، مکالمے اور سماجی ہم آہنگی کی داعی ہے تو اسے دینی مدارس کے دروازے پر بھی دستک دینی ہوگی، کیونکہ جس طبقے سے مکالمہ مطلوب ہو، اسے مکالمے کے قابل بنانے میں بھی کچھ حصہ ڈالنا پڑتا ہے۔لکھتے لکھتے اچانک ایک اور سوال ذہن میں کلبلا رہا ہے کہ آخر کتنی یونیورسٹیوں اور ڈگری ایوارڈنگ اداروں نے مدارس کے فضلاء کے لیے، ان کی دینی اسناد کو بنیاد تسلیم کرتے ہوئے، جدید علوم و فنون میں اسپیشلائزیشن یا تخصص کے باقاعدہ، تصدیق شدہ کورسز اور ڈگریوں کا کوئی مؤثر راستہ نکالا ہے؟ یا پھر ہم نے ان کے لیے جدید علوم کے دروازے کھولنے کے بجائے صرف یہ توقع رکھی ہے کہ وہ خود ہی کسی نہ کسی طرح ان ضرورتوں کو پورا کریں؟

اچانک ایک اور سوال ذہن میں کلبلا رہا ہے کہ آخر کتنی یونیورسٹیوں اور ڈگری ایوارڈنگ اداروں نے مدارس کے فضلاء کے لیے، ان کی دینی اسناد کو بنیاد تسلیم کرتے ہوئے، جدید علوم و فنون میں اسپیشلائزیشن یا تخصص کے باقاعدہ، تصدیق شدہ کورسز اور ڈگریوں کا کوئی مؤثر راستہ نکالا ہے؟
اور سب سے افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ جب دیندار طبقہ، مدارس کے طلبہ اور بالخصوص نوجوان فضلاء جدید دنیا سے جڑنے، نئے علوم و فنون سے واقف ہونے اور معاشرے کے وسیع دھارے میں اپنا کردار ادا کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو یہی سیکولر اور جدید تعلیم یافتہ طبقہ اکثر اوقات ان کی راہ میں دیوار بن کر کھڑا ہوجاتا ہے۔ انہیں قریب آنے کا موقع نہیں دیا جاتا، ان کے لیے دروازے کھلنے کے بجائے بند ہوتے چلے جاتے ہیں اور ان کے دینی پس منظر کو ان کی اہلیت سے بڑا جرم سمجھ لیا جاتا ہے۔

میں خود ایسے سینکڑوں واقعات کا چشم دید گواہ ہوں جہاں دینی ذہن رکھنے والے طلبہ، خصوصاً نوجوان فضلاء، ریاستی اداروں اور بعض بااثر شخصیات کے ناروا رویوں کا سامنا کرتے رہے ہیں۔ ان کے ساتھ ایسا برتاؤ کیا جاتا ہے جیسے وہ اسی معاشرے کے شہری نہیں، بلکہ کسی اجنبی دنیا سے آئے ہوئے لوگ ہوں۔ حالاں کہ یہی نوجوان اگر جدید تعلیم، ٹیکنالوجی، تحقیق، انتظام و انصرام اور معاشرتی خدمت کے میدانوں میں آگے بڑھنا چاہیں تو انہیں حوصلہ دینے، رہنمائی فراہم کرنے اور راستہ دکھانے کی ضرورت ہے، نہ کہ ان کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کی۔مذہبی طبقات کے اندر موجود لفڑے یقیناً ایک بڑا المیہ ہیں، مگر اس کے مقابلے میں یہ رویہ بھی کسی کم خطرناک المیے کا نام نہیں۔ کیا یہ سچ نہیں کہ ایک طرف مذہبی طبقہ اپنے اندر کی دیواریں بلند کرتا ہے اور دوسری طرف جدید دنیا کے دروازے ان کے لیے بند کردیئے جاتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ دونوں دنیائیں ایک دوسرے سے دور ہوتی چلی جاتی ہیں، فاصلے بڑھتے ہیں، بدگمانیاں جنم لیتی ہیں اور معاشرہ ایک ایسے انتشار کی طرف بڑھتا ہے جس کا نقصان بالآخر سب کو اٹھانا پڑتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

امیر جان حقانی

امیر جان حقانیؔ گلگت بلتستان میں پولیٹیکل سائنس کے اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ممتاز محقق، استاد، اور مصنف ہیں۔ جامعہ فاروقیہ کراچی سے درس نظامی مکمل کرنے کے ساتھ کراچی یونیورسٹی سے پولیٹیکل سائنس اور جامعہ اردو سے ماس کمیونیکیشن میں ماسٹرز کیا، بعد ازاں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے شعبہ اسلامی فکر، تاریخ و ثقافت سے ایم فل کی ڈگری حاصل کی۔ 2010 سے ریڈیو پاکستان کے لیے مقالے اور تحریریں لکھ رہے ہیں

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment