ہوم << علم و عمل کی جدائی: امت کے موجودہ بحران کا ایک جائزہ – عبدالعلام زیدی
600x314

علم و عمل کی جدائی: امت کے موجودہ بحران کا ایک جائزہ – عبدالعلام زیدی

آج کے دور کا ایک بہت بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں دو قسم کے گروہ نظر آتے ہیں ایک طرف نہایت گہرے علم والے لوگ ہیں، جو بہترین ترتیب اور تنظیم کے ساتھ اس علم کی تدریس و تالیف کا کام کرتے ہیں، جبکہ دوسری طرف ہمیں دین کے لیے قربانی دینے والے، جانیں قربان کرنے والے گروہ اور لوگ نظر آتے ہیں کہ جو مختلف علمی کمزوریوں، عقائدی انحرافات کا شکار ہوتے ہیں۔ ایک عام آدمی کو یہ صورتحال حیرت میں مبتلا کر دیتی ہے!

آئیے اسے سلجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ ساری پریشانی اصل میں علم کو عمل سے جدا کرنے کے نتیجے میں پیدا ہوئی ہے، محدثین نے اپنی زمانے کی ایک ایسی ضرورت کو پورا کیا کہ جو اس وقت کا سب سے بڑا محاذ اور سب سے بڑا جہاد تھا، سنت نبوی کی حفاظت، اسی حقیقی مقصد کے لیے انہوں نے مجالس علم قائم کیں اور مدارس بنائے۔ جب ہم محدثین کے کام کو ان کے وقت اور زمانے سے کاٹ کر دیکھتے ہیں تو یہیں سے گمراہی شروع ہوتی ہے۔ کچھ لوگوں نے اسی تعلیم و تعلم کے عمل کو ہی دین کا بنیادی مطالبہ قرار دے دیا اور پھر آگے بڑھتے ہوئے اس کو اپنے زمانے کے ہر جہاد اور عملی کام پر مقدم قرار دے ڈالا!
چنانچہ اب علم سے جڑے انسان کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ غزہ کی چیخوں کو سننا، ان کے لیے کچھ کرنا، یہ سارے غیر علمی کام ہیں، ان کا علم سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ اسی طرح معاشرے میں ظلم کو روکنے کے لیے آواز اٹھانا، چاہے وہ سیاسی نوعیت کا ظلم ہو یا معاشی اور معاشرتی، اس پر بات کرنے کا علم اور طالب علم سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔

اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ عمل کے راستوں پر چلنے والوں کا علماء سے فاصلہ بڑھتا گیا، اور علماء کے طبقے کا وقت کے حکمرانوں، اور علم کو جذبات اور عمل سے کاٹ دینے پر خوش ہونے والی طاقتوں سے تعلق مضبوط ہوتا گیا۔ آج حالات یہ ہے کہ گہرے علم کی باتیں کرنے والے، زبردست تجوید کے ساتھ آیات پڑھنے والے، احادیث کے متون کو حفظ کرنے والے، فقہ کی باریکیاں کھولنے والے، ظلم کے خلاف بیان دینے تک کو تیار نہیں ہیں!
کیونکہ ان کی نظر میں عمل کا مطلب علم حاصل کرنا ہی ہوتا ہے، جب وہ یہ حدیث پڑھتے ہیں کہ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، وہ اسے تنہاء نہیں چھوڑتا اس کے ساتھ بے وفائی نہیں کرتا۔ تو اس حدیث کا عمل کا مطلب ان کے دماغ میں یہی ہوتا ہے کہ اس حدیث کو کسی طالب علم کو پڑھا دیا جائے، یا اس پر اس شرح لکھ کر کتاب چھاپ دی جائے۔ علم پر عمل کا مطلب مزید علم حاصل کرنا اور پھیلانا ہوتا ہے۔ نا کہ اس حدیث میں موجود ہدایت کو زندگی میں اتارنا۔

اس لیے آج کا وہ نوجوان جو ڈولے شاہ کی چوہی نہیں بنا، جو مسلکوں اور فرقوں کے ڈبوں میں بند نہیں ہوا، جو تقدس کی بجلیوں سے مفلوج اور شاکڈ نہیں ہوا۔۔۔ وہ علماء اور علمی لوگوں کو ایسے دیکھتا ہے کہ جیسے وہ کسی ایلین کو دیکھ رہا ہے۔ یہ کون لوگ ہیں جنہیں بالکل ہی جذبات نہیں آتے، جو بچیوں کا ریپ دیکھیں، یا پٹرول کی قیمتیں، حکمرانوں کی من مانی قانون سازیاں یا پھر غزہ کی مظلومیت۔ انہیں اس سب سے ذرہ فرق نہیں پڑتا۔سوائے چند ایک اہل علم کے مفتی تقی عثمانی، ابتسام الہی ظہیر۔ چند ایک اور نام ہوں گے. اوور آل باقی ساری علمی دنیا کا آج کی دنیا سے کوئی واسطہ ہی نہیں ہے۔ خاص کر کے اہل حدیث حضرات میں جس انداز میں عربوں کی زیر سرپرستی اس علم و عمل کی تفریق کو آئیڈیلائز کیا گیا ہے۔ بلکہ باقاعدہ عمل کرنے والوں سے نفرت، فتوے، بدعتی اخوانی، تبلیغی، سروری، قطبی جیسے عنوانات کے تحت امت کا درد رکھنے والوں اور عمل کے میدان میں قربانیاں دینے والوں سے جس انداز میں توڑا گیا ہے وہ کوئی سادہ سی بات نہیں ہے۔

یہ ایک باقاعدہ جنگ ہے، جس میں رومال والے، پگڑیوں والوں، توندوں والے، شماغوں والے، مشائخ، فضیلۃ الشیخ، استاد جی، علامے۔ یہ سارے ظالموں کی صف کا باقاعدہ حصہ ہیں۔ یہ سید مودوی سے دشمنی کی وجہ خدا جانتا ہے نہ صحابہ کی محبت ہے نہ کوئی فکری انحراف ایسی بات ہوتی تو یہ امام حاکم سے بھی دشمنی کرتے، امام نسائی سے دشمنی پالتے، بخاری کے شیعہ راویوں سے دشمنیاں پالتے۔ ان کا مسئلہ ہے سیاسی اسلام۔ جس کا مطلب یہ عمل تو یہ عمل کے دشمن ہیں۔ باتیں شاید سخت لگیں کہ سچ یہی ہے کہ یہ فکری اختلافات نہیں ہیں، یہ اسلام اور کفر کے درمیان جاری معرکے کے مختلف اسٹیشنز ہیں، مختلف حربے اور حملے ہیں۔ جس میں مسلمانوں کو پھنسایا جا رہا ہے۔ خدا کی کروڑوں رحمتیں ہوں سید مودوی، سید قطب، سفر الحوالی، سلمان العودہ، یوسف القرضاوی، احمد یا سین، طریفی اور ان جیسے اہل علم پر جنہوں نے امت کو علم سے اسی انداز میں جوڑا کہ جیسا کہ آپ ﷺ نے سمجھایا اور کر کے دکھایا تھا۔

احادیث یاد کرنے کے لیے نہیں ہوتی، یہ زمین پر قائم کرنے کے لیے ہوتی ہیں، شہادت کی روایات بیان کرنے سے شہادت کا اجر نہیں ملتا یہ خون بہانے سے ہی ملا کرتا۔ اے خدا ہمیں علم کے ساتھ اسی طرح جوڑ دے کہ جیسے تیرے نبی نے اپنے صحابہ کو جوڑا تھا۔ آمین یا رب۔

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

عبدالعلام زیدی

عبدالعلام زیدی اسلام آباد میں دینی ادارے the REVIVEL کو لیڈ کر رہے ہیں۔ اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد سے بی ایس کے بعد سعودی عرب سے دینی تعلیم حاصل کی۔ زکریا یونیورسٹی ملتان سے ایم اے اسلامیات اور اسلامیہ یونیورسٹی بہاولہور سے ایم اے عربی کیا۔ سرگودھا یونیورسٹی سے اسلامیات میں ایم فل کی ڈگری حاصل کی۔ سید مودودی انسٹی ٹیوٹ لاہور میں تعلیم کے دوران جامعہ ازھر مصر سے آئے اساتذہ سے استفادہ کیا۔ دارالحدیث محمدیہ درس نظامی کی تکمیل کی۔ دینی تعلیمات اور انسانی نفسیات پر گہری نظر رکھتے ہیں

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment