ہوم << یوم ختم نبوت؛ محمد عربی ﷺکے دیوانوں کیلئے شادمانی کا دن – مولانا قاری محمد سلمان عثمانی
600x314

یوم ختم نبوت؛ محمد عربی ﷺکے دیوانوں کیلئے شادمانی کا دن – مولانا قاری محمد سلمان عثمانی

7 ستمبر 1974ء کا دن پاکستان کی تاریخ کا وہ عظیم و مبارک دن ہے، جب اسلامی جمہوریہ پاکستان کی پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر قادیانیوں کو دائرۂ اسلام سے خارج کر کے غیر مسلم اقلیت قرار دیا تھا۔ یہ تاریخی فیصلہ عقیدۂ ختمِ نبوت کے تحفظ کی ایک عظیم فتح ہے۔

یہ عظیم دن ہمیں اپنے ان اکابرین کی یاد دلاتا ہے جن کی قربانیاں و جدوجہد رنگ لائیں۔ اس یادگار و عظیم تحریک کے نتیجے میں اس وقت کے وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے عاشقانِ رسول ﷺ کی عزت کی لاج رکھتے ہوئے ختمِ نبوت پر ڈاکہ ڈالنے والے اس فتنۂ قادیانیت کو آئین کے کٹہرے میں کھڑا کر کے غیر مسلم قرار دیا تھا، جس دن کی یاد ہر سال منائی جاتی ہے۔سات ستمبر اب ایک قومی دن کی حیثیت اختیار کر چکا ہے، جس کو شایانِ شان طریقے سے منایا جاتا ہے۔ میڈیا پر آگاہی پروگرام چلائے جاتے ہیں، اخبارات اس دن کی مناسبت سے خاص اشاعت شائع کرتے ہیں۔ یہ ایک نیک شگون ہے، اس طرح عوام میں مزید بیداری پیدا ہو گی۔آیاتِ قرآنیہ اور احادیثِ نبویہ کی من مانی تشریح کر کے خود کو اسلام کا علمبردار ثابت کرتے رہے، یوں دغا بازی کے ذریعے چور دروازے سے قصرِ نبوت میں داخل ہونے کی جدوجہد کرتے رہے۔ لہٰذا ان کے ایمان لیوا حملوں سے امت کو بچانے کے لیے علمی طور پر ان کا رد کرنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری تھا کہ ملکی قوانین میں ترمیم کر کے قادیانیوں کو پارلیمنٹ کے ذریعے غیر مسلم قرار دلوایا جائے اور اس کے لیے باقاعدہ قانون سازی کی جائے۔

چنانچہ اس مقصدِ عظیم کے پیشِ نظر 1953ء میں ملک گیر تحریک چلی، جس میں تیرہ ہزار مسلمانانِ پاکستان نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ باوجود اس کے کہ تمام تر حکومتی مشینری قادیانیوں کی آلہ کار بن چکی تھی اور ختمِ نبوت کے یہ غدار کلیدی عہدوں پر براجمان تھے، لیکن فدایانِ ختمِ نبوت نے ایمانی غیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کسی قسم کی سپورٹ کی توقع کے بغیر جان ہتھیلی پر رکھ کر اس ارتدادی فتنے کے خلاف آواز اٹھائی۔وقتی طور پر تو ان کی آواز کو دبا دیا گیا، لیکن اس تحریک کی وجہ سے عشقِ رسالت ﷺ کی جو چنگاری عشاقانِ مصطفیٰ ﷺ کے دلوں میں بھڑک اٹھی تھی، بالآخر وہ شعلہ ثابت ہوئی، جس نے اس تحریک کے ٹھیک اکیس سال بعد 1974ء میں قادیانیت کے خرمن کو جلا کر راکھ کر دیا اور قانون کی کتاب میں انہیں ہمیشہ کے لیے غیر مسلم اقلیت لکھ دیا گیا۔پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں 7 ستمبر ایک عہد ساز دن ہے۔ ہم اسے یومِ تحفظِ ختمِ نبوت اور یومِ تجدیدِ عہد قرار دیتے ہیں۔ اس روز عقیدۂ ختمِ نبوت اور ناموسِ رسالتؐ کے تحفظ کی سو سالہ طویل ترین جدوجہد فتحِ مبین سے ہمکنار ہوئی۔

7 ستمبر 1974ء کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس میں متفقہ طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا۔ ماضی کے مختلف ادوار میں کئی بدبخت افراد نے دعویٰ نبوت کر کے مسلمانوں میں افتراق پیدا کرنے اور انہیں گمراہ کرنے کی سعیِ مذموم کی، مگر ہر دور میں اہلِ ایمان اور حق کے طرف داروں نے ان کے خلاف بھرپور مزاحمت کی، منصبِ ختمِ نبوت کی حفاظت کی اور مسلمانوں کو گمراہی اور ارتداد سے بچایا۔برصغیر میں فرنگی اقتدار کے خلاف ہندوستان کی تمام اقوام متحد ہوئیں اور سامراج کی غاصب و ظالم حکومت کے خلاف ہر محاذ پر جدوجہد کی۔ خاص طور پر مسلمانوں نے انگریز کے خلاف بغاوت کو جہاد قرار دیا اور اسے توشۂ آخرت سمجھ کر اس محاذ پر سرگرم رہے۔ قربانی و ایثار سے معمور و لبریز مسلمانوں کی جدوجہد تاریخِ آزادی میں منفرد و بے مثال ہے۔انگریز دانا اور عیار دشمن تھا۔ یہ بات ہمیشہ اس کے پیشِ نظر رہی کہ ہم نے اقتدار مسلمانوں سے چھینا اور مسلمان ہی ہمارے سب سے بڑے دشمن ہیں۔ علماءِ حق نے نہ صرف انگریز کے خلاف جہاد کا فتویٰ دیا بلکہ اس فریضہ کی ادائیگی کے لیے مسلمانوں کی قیادت بھی کی۔

انگریز نے اسی جذبۂ جہاد کو مسلمانوں کے دل و دماغ سے نکالنے کے لیے جعلی اور جھوٹا نبی پیدا کیا۔ ”قادیان“ کے ایک شخص ”مرزا غلام احمد“ کو دعویٰ نبوت کے لیے آمادہ و تیار کیا اور آخرکار اس بدبخت نے نبوت کا دعویٰ کر دیا۔مرزا قادیانی نے پہلا کام یہ کیا کہ انگریز کے خلاف جہاد کو حرام قرار دیا، انگریز کی اطاعت و فرمانبرداری کو ہی اصل ایمان قرار دیا۔ یہ لمحہ مسلمانوں کے لیے بڑی آزمائش کا تھا۔ تب علماءِ حق نے مسلمانوں کا حوصلہ بڑھایا اور اس فتنے کی سرکوبی کے لیے میدانِ عمل میں آئے۔فتنۂ قادیانیت کو انگریز کی مکمل سرپرستی حاصل تھی اور آج بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس فتنے کو کچلنے کے لیے مسلمانوں کے نوے سال لگے۔1929ء سے پہلے فتنۂ قادیانیت کے خلاف جتنی جدوجہد ہوئی، وہ انفرادی نوعیت کی تھی۔ حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ، حضرت مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ، حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ اور سب سے پہلے علماءِ لدھیانہ نے علمی محاذ پر اپنی زبان و قلم سے فتنۂ قادیانیت کے تار و پود بکھیر رکھے تھے۔ انہی علماءِ حق کی انفرادی محنت آگے چل کر اجتماعی جدوجہد میں تبدیل ہوئی۔

قیامِ پاکستان، مرزائیوں کے لیے سب سے بڑا سانحہ اور صدمہ تھا۔ تقسیمِ ملک کے وقت باؤنڈری کمیشن میں مسلم لیگ کے قادیانی نمائندہ سر ظفر اللہ خان آنجہانی نے بھرپور وار کیا اور پٹھانکوٹ، فیروز پور، گورداس پور، قادیان اور آدھے کشمیر کو پاکستان میں شامل نہ ہونے دیا۔قیامِ پاکستان کے بعد اس وقت کے گورنر پنجاب سر فرانسس موڈی نے چنیوٹ کے قریب متصل دریائے چناب کے کنارے ایک پوری بستی اپنے اس چہیتے اور پالتو بچے کے نام الاٹ کر دی، جو آج چناب نگر (ربوہ) کے نام سے معروف ہے۔ یہاں قادیانیوں نے اپنا ہیڈ کوارٹر اور بیس کیمپ بنایا اور پاکستان کے خلاف سازشیں شروع کر دیں۔مرزا بشیر الدین نے پاکستان کے اقتدار پر قبضہ کا پروگرام بنایا اور بلوچستان کو ”احمدی سٹیٹ“ بنانے کی منظم منصوبہ بندی مکمل کر لی۔ سر ظفر اللہ (قادیانی) وزیرِ خارجہ تھا۔ اس نے نہ صرف داخلی محاذ پر قادیانیوں سے مکمل تعاون کیا بلکہ خارجی محاذ پر بھی مکمل سیاسی تحفظات فراہم کیے۔

امیرِ شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی قیادت و سیادت میں زوردار تحریک چلی، مگر وزیرِ اعظم خواجہ ناظم الدین کی لیگی حکومت نے گولی کے زور پر تحریک کو کچلنے کی کوشش کی۔ جنرل اعظم خان نے 6 مارچ 1953ء کو جنرل ایوب خان کی ہدایت پر لاہور میں پہلا مارشل لاء لگا کر ہزاروں فدایانِ ختمِ نبوت کے سینے گولیوں سے چھلنی کر دیے۔بظاہر تحریک کو تشدد کے ذریعے کچل دیا گیا، مگر مسلمانوں کے دلوں میں ہمیشہ کے لیے ایک جوش، ولولہ اور جذبہ بیدار کر گیا۔ امیرِ شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ، مولانا ابوالحسناتؒ، مولانا احمد علی لاہوریؒ، مولانا محمد علی جالندھریؒ، مولانا لال حسین اخترؒ، مولانا محمد حیاتؒ، مولانا غلام غوث ہزارویؒ، شیخ حسام الدینؒ، ماسٹر تاج الدین انصاریؒ، مولانا سید ابوذر بخاریؒ اور دیگر علماء و قائدین نے تمام صعوبتوں کو برداشت کر کے تحفظِ ختمِ نبوت کی جدوجہد کو جاری رکھا۔

29 مئی 1974ء میں قادیانیوں نے پھر سر اٹھایا۔ ربوہ ریلوے اسٹیشن پر نشتر میڈیکل کالج ملتان کے مسافر طلباء پر حملہ کر کے انہیں زدوکوب کیا۔ یہ حادثہ شعلۂ جوالہ بن گیا اور پورا ملک تحریکِ تحفظِ ختمِ نبوت کا میدان بن گیا۔تحریک اتنی شدید اور طاقت ور تھی کہ اس وقت کے وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے اس مسئلہ کو قومی اسمبلی میں حل کرنے کا فیصلہ کیا۔ اسمبلی سے باہر کل جماعتی مجلسِ عمل تحفظِ ختمِ نبوت کے مرکزی رہنماؤں نے قدم بہ قدم شب و روز ایک کر کے تحریک کو بامِ عروج پر پہنچایا اور علماء نے آئینی جنگ کر کے تحریک کا مقدمہ جیت لیا۔ آخر 7 ستمبر 1974ء کو ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے قومی اسمبلی کے تاریخی فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا اور یہ فیصلہ ایک ترمیم کے ذریعے پاکستان کے آئین کا حصہ بنا۔ آج اس آئینی فیصلے کو 52 برس بیت گئے ہیں۔7 ستمبر یومِ دفاعِ ختمِ نبوت کے طور پر ہے، جب 1974ء میں تمام مکاتبِ فکر کے علماء عقیدۂ ختمِ نبوت کے تحفظ اور دفاع کے لیے متحد ہو کر ایک طویل جدوجہد اور بے مثال قربانیاں دینے کے بعد سرخرو ہوئے تھے۔

7 ستمبر کا دن فتحِ مبین کا دن ہے۔ امتِ مسلمہ اور اہلیانِ پاکستان کے لیے یہ دن مسرتوں، خوشیوں کا دن ہے۔ انتھک محنت، لازوال قربانیوں کے بعد یہ دن امت کو نصیب ہوا۔ 7 ستمبر یومِ تحفظِ ختمِ نبوت کا دن ہے۔ 7 ستمبر یومِ تشکر و امتنان منانے کا دن ہے۔ 7 ستمبر تجدیدِ عہد، عزم و ہمت و استقلال کا دن ہے۔اسی دن کی یاد میں انٹرنیشنل ختمِ نبوت موومنٹ کے زیرِ اہتمام مرکزِ ختمِ نبوت، جامعہ عثمانیہ ختمِ نبوت، چناب نگر میں 39ویں سالانہ انٹرنیشنل ختمِ نبوت کانفرنس 7 ستمبر بروز سوموار کو مولانا ڈاکٹر سعید احمد عنایت اللہ، امیر انٹرنیشنل ختمِ نبوت موومنٹ ورلڈ (مکہ مکرمہ) کی زیرِ صدارت، جبکہ مولانا قاری شبیر احمد عثمانی، نائب امیر انٹرنیشنل ختمِ نبوت موومنٹ پاکستان کی زیرِ نگرانی منعقد ہو رہی ہے، جو صبح 10 بجے سے لے کر رات گئے تک جاری رہے گی۔

کانفرنس میں خاص طور پر فضیلۃ الشیخ مولانا ڈاکٹر احمد علی سراج (مدینہ منورہ)، فضیلۃ الشیخ مولانا اسعد محمود مکی (مکہ مکرمہ)، حضرت مولانا پیر میاں محمد اجمل قادری، حضرت مولانا پیر حبیب اللہ نقشبندی، پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین حافظ طاہر محمود اشرفی، وفاق المدارس العربیہ جنوبی پنجاب کے ناظم شیخ الحدیث مولانا زبیر احمد صدیقی، جامعہ اسلامیہ امدادیہ فیصل آباد کے مہتمم شیخ الحدیث مولانا مفتی محمد طیب، جمعیۃ علماء اسلام (س) کے امیر مولانا عبدالحق ثانی، مجلس احرار اسلام کے امیر سید محمد کفیل بخاری، جمعیۃ اہلِ حدیث کے صدر علامہ ہشام الٰہی ظہیر، تحریکِ مدحِ صحابہؓ کے امیر مولانا عبدالرؤف فاروقی، مولانا محمد الیاس چنیوٹی ایم پی اے، صاحبزادہ زاہد محمود قاسمی، جماعتِ اسلامی کے نائب امیر ڈاکٹر فرید احمد پراچہ، سنی علماء کونسل کے مرکزی رہنما حضرت مولانا نعمان ضیاء فاروقی، منہاج القرآن علماء کونسل کے صدر مولانا علامہ مفتی محمد غلام اصغر صدیقی، جماعتِ اسلامی کے سابق امیر جناب سراج الحق، اتحادِ امت پاکستان کے چیئرمین مولانا قاری محمد یعقوب شیخ، جمعیۃ اشاعت التوحید والسنۃ پنجاب کے امیر مولانا فرید احمد حقانی، شبانِ ختمِ نبوت کے امیر مولانا سید انیس احمد شاہ، جامعہ مفتاح العلوم سرگودھا کے مہتمم شیخ الحدیث مولانا مفتی محمد طاہر مسعود، جمعیۃ علماء اسلام (ف) ضلع ملتان کے امیر مولانا مفتی عامر محمود، ممبر اسلامی نظریاتی کونسل و مسلم لیگ علماء مشائخ ونگ پنجاب کے صدر مولانا حافظ محمد امجد، جمعیۃ اشاعت التوحید والسنہ کے رہنما مولانا عصمت اللہ بندیالوی، معروف خطیب مولانا سید حفظ الرحمان عدیم، ترجمان بریلوی مکتبِ فکر مولانا سید سیف اللہ شاہ قادری، خدامِ ختمِ نبوت پاکستان کے چیئرمین مولانا صاحبزادہ محمد قادری، تحریکِ حبِ رسولؐ کے امیر پیر حاجی محمد شکیل اختر، کیپٹن (ریٹائرڈ) محمد صفدر اعوان، سمیت تمام مکاتبِ فکر کے سرکردہ جید حضرات علماء کرام، مشائخ عظام، دانشور، وکلاء، طلباء، صحافی، سیاسی و سماجی و مذہبی جماعتوں کے مرکزی قائدین و نمائندگان تشریف لا رہے ہیں۔

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

مولانا قاری محمد سلمان عثمانی

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment