تعلیم قوموں کی تعمیر کا بنیادی وسیلہ ہے اور استاد اس تعمیر کا معمار۔ مگر ہمارے ہاں تعلیم بھی آہستہ آہستہ ایک ایسی منڈی بنتی جا رہی ہے جہاں علم سے زیادہ فیس، استاد سے زیادہ والدین کی خوشنودی اور تربیت سے زیادہ کسٹمر کی تسلی اہم ہو گئی ہے۔ نجی تعلیمی اداروں کا ایک عجیب تضاد ہے۔ والدین سے بھاری فیس وصول کی جاتی ہے، عمارتوں، تشہیر اور تقریبات پر اخراجات ہوتے ہیں، مگر جب استاد کی تنخواہ کی باری آتی ہے تو ادارے کی مالی حالت کمزور پڑ جاتی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے بجٹ میں ہر چیز کے لیے جگہ ہے، صرف استاد کے لیے نہیں۔
استاد سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ بہترین نتائج دے، بچوں کی تربیت کرے، والدین کو خوش رکھے، نظم و ضبط قائم کرے اور اضافی ذمہ داریاں بھی نبھائے، مگر اس کے بدلے اسے ایسی تنخواہ ملتی ہے جس سے گھر کا چولہا جلانا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔المیہ صرف کم تنخواہ نہیں، ملازمت کا عدم تحفظ بھی ہے۔ استاد جانتا ہے کہ اگر اس نے اپنے حق کے لیے آواز بلند کی تو باہر کئی ایسے امیدوار موجود ہیں جو اس کی جگہ لینے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔ یہی خوف اس کے ہونٹوں پر خاموشی اور آنکھوں میں بے بسی اتار دیتا ہے۔سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ بعض نجی اداروں میں استاد سے زیادہ بچے کی عزت کیوں کی جاتی ہے؟ شاید اس لیے کہ بچہ وہاں طالب علم سے زیادہ کسٹمر بن چکا ہے۔ استاد بچے کو ڈانٹ دے تو قصوروار، ہوم ورک نہ کرنے پر سختی کرے تو قصوروار، موبائل استعمال کرنے سے روکے تو قصوروار اور بچے کی تعلیمی کمزوری والدین کو بتا دے تو بھی قصوروار۔ پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر استاد کو بچے کی غلطی پر ٹوکنے کا اختیار بھی نہیں تو اسے استاد کیوں کہا جائے؟
تعلیم کا مقصد بچے کو ہر وقت خوش رکھنا نہیں، اسے بہتر انسان بنانا ہے۔ تربیت ہمیشہ مسکراہٹوں سے نہیں ہوتی، کبھی اصول بھی درکار ہوتے ہیں اور کبھی روکنا بھی محبت کی ایک صورت ہوتا ہے۔ مگر جب استاد ہر وقت والدین کی شکایت اور انتظامیہ کی ناراضی کے خوف میں مبتلا رہے تو وہ استاد نہیں رہتا، کسٹمر سروس کا ملازم بن جاتا ہے۔یقیناً ہر نجی ادارہ ایسا نہیں اور ہر مالک استاد کا استحصال نہیں کرتا، لیکن جہاں تعلیم کو صرف منافع کی مشین سمجھ لیا جائے وہاں استاد سب سے آسان قربانی بن جاتا ہے۔ فیسیں بڑھتی ہیں، طلبہ کی تعداد بڑھتی ہے، نئی عمارتیں بنتی ہیں، نئے کیمپس کھلتے ہیں، مگر استاد کی تنخواہ وہیں کھڑی رہتی ہے۔یہاں صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات صاحب کی ذمہ داری بھی بنتی ہے کہ وہ اس مسئلے کا سنجیدگی سے نوٹس لیں اور نجی تعلیمی اداروں کے مالکان کو اس بات کا پابند کریں کہ وہ اپنے اساتذہ کو معقول اور باعزت تنخواہیں ادا کریں۔ آخر جو استاد بچوں کے مستقبل کی تعمیر کرتا ہے، اسے اپنے ہی مستقبل کے لیے پریشان چھوڑ دینا کسی بھی مہذب تعلیمی نظام کی علامت نہیں ہو سکتی۔
یہ کیسا نظام ہے جہاں استاد دوسروں کے بچوں کو ڈاکٹر، انجینئر اور افسر بننے کے خواب دکھاتا ہے، مگر اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے خود پریشان رہتا ہے؟
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ استاد کی کم تنخواہ صرف استاد کا مسئلہ نہیں، یہ تعلیم کے معیار کا مسئلہ ہے۔ معاشی پریشانی میں گھرا ہوا استاد اپنی تمام ذہنی توانائی کلاس روم میں نہیں لگا سکتا۔ جو شخص اپنے گھر کے اخراجات پورے کرنے کے لیے صبح سے شام تک مختلف اداروں میں بھٹکتا رہے، اس سے ہم مثالی کارکردگی کی توقع کیسے کر سکتے ہیں؟
استاد کو صرف تنخواہ نہیں، عزت، تحفظ اور پیشہ ورانہ وقار بھی چاہیے۔تعلیمی اداروں کی کامیابی صرف ان کی شاندار عمارتوں، بڑے اشتہارات اور اچھے نتائج سے نہیں ہونی چاہیے، بلکہ اس بات سے بھی ہونی چاہیے کہ وہاں پڑھانے والا استاد کس حالت میں کھڑا ہے۔کیونکہ عمارتیں اینٹوں سے بنتی ہیں، ادارے اشتہارات سے مشہور ہوتے ہیں، مگر قومیں استاد بناتے ہیں۔
جس استاد کے ہاتھ میں ہم اپنی نسلوں کا مستقبل دیتے ہیں، اگر وہی اپنے مستقبل کے بارے میں غیر یقینی کا شکار ہو تو پھر ہمیں اپنے تعلیمی نظام سے ایک سوال ضرور پوچھنا چاہیے:آخر استاد کی محنت کی قیمت اتنی کم کیوں ہے؟



تبصرہ لکھیے