ہوم << نصاب سے زندگی تک – ڈاکٹر سیف ولہ رائے
600x314

نصاب سے زندگی تک – ڈاکٹر سیف ولہ رائے

ایک معروف تعلیمی ادارے میں سالانہ تقریب جاری تھی۔ اسٹیج پر بیٹھے مہمانِ خصوصی نے اپنی تقریر میں علم کی عظمت، دیانت داری کی اہمیت، انسان دوستی کے تقاضوں اور قومی تعمیر میں تعلیم کے کردار پر نہایت پُراثر گفتگو کی۔ سامعین میں موجود طلبہ نے تالیاں بجائیں، اساتذہ نے تحسین آمیز نگاہوں سے ایک دوسرے کو دیکھا اور تقریب کے اختتام پر مہمانِ خصوصی کو ایک یادگاری شیلڈ پیش کی گئی۔

چند ہی لمحوں بعد جب وہ اپنی گاڑی کی طرف بڑھنے لگے تو دروازے کے قریب ایک کم عمر طالب علم نے انہیں روک کر ایک سوال کیا۔ اس کے ہاتھ میں ایک درخواست تھی اور چہرے پر ایسی سنجیدگی جو عمر سے کہیں زیادہ پختہ دکھائی دیتی تھی۔ اس نے پوچھا،
’’سر! آپ نے ابھی فرمایا ہے کہ انصاف ہر انسان کا حق ہے، لیکن اگر کسی کمزور آدمی کی بات سننے والا کوئی نہ ہو تو وہ انصاف کہاں تلاش کرے؟‘‘
مہمانِ خصوصی چند لمحے خاموش رہے۔ ان کے گرد کھڑے لوگوں نے بچے کو سمجھانے کی کوشش کی کہ ایسے سوالات کا جواب تقریبات میں نہیں، متعلقہ دفتر میں ملتا ہے۔ بچہ اپنی درخواست سینے سے لگائے واپس مڑ گیا، مگر اس کا سوال وہیں رہ گیا، جہاں علم کے دعوے اور زندگی کے تقاضے ایک دوسرے کے سامنے کھڑے تھے۔

یہ مختصر سا واقعہ ایک بڑے تعلیمی مسئلے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ ہم اپنے بچوں کو انصاف کی تعریف یاد کرواتے ہیں، دیانت داری پر مضامین لکھواتے ہیں، انسان دوستی کے اسباق پڑھاتے ہیں اور قومی ذمہ داریوں پر تقاریر تیار کرواتے ہیں، لیکن کیا ہم انہیں ان اقدار کو عملی زندگی میں برتنے کی تربیت بھی دیتے ہیں؟
کیا درس گاہ میں حاصل ہونے والا علم اس وقت بھی رہنمائی کرتا ہے جب کسی فیصلے میں ذاتی مفاد اور اجتماعی انصاف آمنے سامنے ہوں؟
کیا ہماری تعلیم انسان کو صرف کامیاب ہونے کا طریقہ سکھاتی ہے یا اسے یہ شعور بھی دیتی ہے کہ کامیابی کی اخلاقی حدود کیا ہیں؟
ان سوالات کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ تعلیم کا حقیقی امتحان کتاب کے صفحات یا امتحانی پرچے میں نہیں، بلکہ ان فیصلوں میں ہوتا ہے جو انسان عملی زندگی میں کرتا ہے۔

نصاب سے زندگی تک کا سفر دراصل اسی فاصلے کو طے کرنے کا نام ہے جو معلومات اور شعور، امتحانی کامیابی اور عملی بصیرت، علمی قابلیت اور اخلاقی ذمہ داری کے درمیان حائل ہوجاتا ہے۔ اگر ہمارا تعلیمی نظام ایسے افراد تیار کرے جو کتابوں میں درج اصولوں کی وضاحت تو کرسکیں، مگر زندگی میں ان اصولوں کی پاس داری نہ کریں، تو ہمیں اپنی تعلیمی ترجیحات کا سنجیدگی سے جائزہ لینا ہوگا۔ سوال محض یہ نہیں کہ ہم نئی نسل کو کیا پڑھا رہے ہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ اس تعلیم کے ذریعے ہم کیسا انسان، کیسا شہری اور کیسا معاشرہ تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔

تعلیم کا بنیادی مقصد کیا ہے؟
کیا اس کا حاصل معلومات کا ذخیرہ، امتحانات میں کامیابی، اسناد کا حصول اور معاشی آسودگی کے امکانات میں اضافہ ہے، یا اس کا اصل منصب انسان کو ایسا باشعور، ذمہ دار، دیانت دار اور صاحبِ کردار فرد بنانا بھی ہے جو علم کو محض اپنی ترقی کا وسیلہ نہیں بلکہ اجتماعی فلاح کا ذریعہ سمجھے؟
یہ سوال بظاہر سادہ ہے، مگر اس کے اندر پورے تعلیمی نظام کی فکری سمت کا تعین پوشیدہ ہے۔ اگر تعلیم کا مقصد صرف معلومات کی منتقلی اور امتحانی کامیابی قرار پائے تو نصاب کی تکمیل، نتائج کی بہتری اور اسناد کی فراہمی کو کامیابی کا پیمانہ بنانا کافی معلوم ہوگا؛ لیکن اگر تعلیم کو انسانی شخصیت کی تعمیر، اخلاقی شعور کی بالیدگی اور معاشرتی ذمہ داری کی تربیت کا وسیلہ تسلیم کیا جائے تو یہی پیمانے ناکافی دکھائی دینے لگتے ہیں۔ اس صورت میں سوال صرف یہ نہیں رہتا کہ طالب علم نے کیا پڑھا، بلکہ یہ بھی اہم ہوجاتا ہے کہ اس نے پڑھنے سے کیا سمجھا، سمجھنے سے کیا سیکھا اور سیکھنے کے نتیجے میں اس کے رویوں، فیصلوں اور طرزِ عمل میں کیا تبدیلی آئی۔

نصاب کسی بھی تعلیمی نظام کا محض کتابی خاکہ نہیں ہوتا؛ وہ دراصل ان اقدار، ترجیحات اور تصورات کا اظہار ہوتا ہے جنہیں کوئی معاشرہ اپنی نئی نسل تک منتقل کرنا چاہتا ہے۔ اس کے انتخابِ مضامین، ترتیبِ موضوعات، زبان، مثالوں اور سرگرمیوں میں ایک مخصوص تصورِ انسان اور تصورِ معاشرہ کارفرما ہوتا ہے۔ نصاب اگر طالب علم کو صرف مسابقت، انفرادی کامیابی اور ذاتی مفاد کی طرف مائل کرتا ہے تو اس کی تعلیم کا دائرہ محدود ہوجاتا ہے؛ اس کے برعکس اگر وہ علم کے ساتھ دیانت، اختلاف کے ساتھ برداشت، آزادی کے ساتھ ذمہ داری اور کامیابی کے ساتھ خدمت کا شعور بھی پیدا کرتا ہے تو تعلیم شخصیت کی جامع تعمیر کی طرف بڑھتی ہے۔ اس لیے نصاب کی افادیت کا فیصلہ صرف اس بنیاد پر نہیں کیا جاسکتا کہ اس میں کتنے مضامین شامل ہیں، کتنی معلومات فراہم کی گئی ہیں یا اس کے ذریعے کتنے سوالات حل کیے جاسکتے ہیں؛ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ وہ طالب علم کو زندگی کے حقیقی مسائل کا سامنا کرنے، اخلاقی پیچیدگیوں کو سمجھنے اور درست فیصلے کرنے کے لیے کس حد تک تیار کرتا ہے۔

ہمارے ہاں نصاب پر گفتگو اکثر اس کی طوالت، ابواب کی تعداد، امتحانی اہمیت، سوالات کے متوقع جوابات اور نتائج کے تناسب کے گرد گھومتی ہے۔ ان امور کی اپنی جگہ اہمیت ہے، لیکن جب یہی ترجیحات پورے تعلیمی عمل پر غالب آجائیں تو علم کی معنویت پس منظر میں چلی جاتی ہے۔ طالب علم یہ جاننے کے بجائے کہ کسی موضوع کی زندگی سے کیا نسبت ہے، یہ دریافت کرنے لگتا ہے کہ امتحان میں اس سے کیا پوچھا جاسکتا ہے۔ استاد کی توجہ بھی کبھی کبھی فہم و ادراک کی گہرائی کے بجائے نصاب کی بروقت تکمیل اور مقررہ نتائج کے حصول پر مرکوز ہوجاتی ہے۔ یوں کتاب ختم ہوجاتی ہے، مگر ممکن ہے کہ اس کے اندر موجود فکر کا دروازہ کھلنے سے پہلے ہی بند ہوجائے۔ سبق یاد ہوجاتا ہے، مگر اس کی روح طالب علم کے تجربے کا حصہ نہیں بن پاتی۔ یہ صورتِ حال کسی ایک استاد کی کوتاہی یا کسی ایک ادارے کی ناکامی سے پیدا نہیں ہوتی؛ اس کے پیچھے امتحانی نظام، انتظامی دباؤ، تدریسی وسائل، جماعتوں میں طلبہ کی تعداد، والدین کی توقعات اور معاشرتی تصورِ کامیابی سمیت متعدد عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔

پاکستان کے تعلیمی منظرنامے میں یہ مسئلہ محض نظری بحث نہیں، بلکہ وسائل، رسائی اور تعلیمی معیار سے جڑا ہوا ایک سنجیدہ قومی معاملہ ہے۔ پاکستان اکنامک سروے 2024-25 کے مطابق مالی سال 2024-25 کے جولائی تا مارچ عرصے میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے تعلیمی اخراجات مجموعی قومی پیداوار کے تقریباً 0.8 فی صد کے برابر رہے۔ یہ نو ماہ کے دستیاب اعدادوشمار ہیں، پورے مالی سال کا حتمی تخمینہ نہیں۔ دوسری جانب یونیسف پاکستان کے مطابق پانچ سے سولہ سال کی عمر کے تقریباً 2 کروڑ 51 لاکھ بچے اسکول سے باہر ہیں۔ یہ اعدادوشمار ہمیں بتاتے ہیں کہ نصاب اور تدریس پر گفتگو کرتے ہوئے ان بچوں کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا جنہیں معیاری تعلیم تک رسائی ہی حاصل نہیں۔ جو بچہ اسکول سے باہر ہے، اس کے لیے کردار سازی، تنقیدی فکر اور عملی تربیت کے مواقع محدود رہتے ہیں؛ اور جو بچہ اسکول پہنچ بھی جائے، اگر اسے تربیت یافتہ استاد، مناسب کتابیں، محفوظ ماحول اور مؤثر تدریسی رہنمائی میسر نہ ہو تو محض داخلے کا اندراج اس کی تعلیمی ضرورت پوری نہیں کرتا۔ اس لیے قومی تعلیمی اصلاحات میں رسائی اور معیار کو ایک دوسرے کے مقابل رکھنے کے بجائے دونوں کو یکساں اہمیت دینا ضروری ہے۔

ہر بچے کو اسکول تک پہنچانا اور اسکول میں حقیقی تعلیم کی ضمانت دینا ایک ہی قومی ذمہ داری کے دو لازمی پہلو ہیں۔تاہم وسائل کی کمی کو ہر ناکامی کی مکمل توجیہ قرار دینا بھی درست نہیں۔ محدود وسائل کے باوجود تدریسی منصوبہ بندی، شفاف جانچ، علمی دیانت، طلبہ کے احترام اور مؤثر بازخورد کے ذریعے بہتری کے امکانات پیدا کیے جاسکتے ہیں۔ اسی طرح جدید عمارتیں، ڈیجیٹل بورڈ، کمپیوٹر لیبارٹریاں اور خوب صورت تعلیمی ماحول اپنی جگہ اہم ہیں، مگر ان کی موجودگی خودبخود معیاری تعلیم کی ضمانت نہیں بنتی۔ اصل سوال یہ ہے کہ ان وسائل کو کس مقصد کے لیے استعمال کیا جارہا ہے، ان سے طالب علم کی فہم و ادراک میں کیا بہتری آرہی ہے اور ان کی افادیت کا جائزہ کن شواہد کی بنیاد پر لیا جارہا ہے۔ تعلیم میں سرمایہ کاری کا مفہوم صرف عمارتیں تعمیر کرنا نہیں، بلکہ ایسے انسانی اور ادارہ جاتی وسائل پیدا کرنا بھی ہے جو تعلیم کو بامعنی بنائیں۔

یہاں تدریس کا سوال اپنی پوری معنویت کے ساتھ سامنے آتا ہے۔ نصاب علم کی سمت متعین کرتا ہے، لیکن اس علم کو زندگی سے مربوط کرنے کا بنیادی کام استاد انجام دیتا ہے۔ ایک ہی سبق دو مختلف اساتذہ کے ہاتھوں دو مختلف تجربات میں ڈھل سکتا ہے۔ ایک استاد عبارت پڑھاتا، تعریفیں لکھواتا، سوالات کے جواب سمجھاتا اور سبق ختم کردیتا ہے؛ دوسرا استاد انہی معلومات کو طالب علم کے ذہن میں سوال، دلیل، مشاہدے اور غوروفکر کی صورت میں زندہ کردیتا ہے۔ پہلے طریقے میں طالب علم درست جواب دینے کی مشق کرسکتا ہے، جب کہ دوسرے میں وہ جواب تک پہنچنے کا راستہ بھی سیکھتا ہے۔ تاہم یہ فرق محض لیکچر دینے اور سوال پوچھنے کا نہیں، بلکہ علم کے بارے میں استاد کے تصور کا ہے۔ کیا استاد خود کو معلومات کا واحد سرچشمہ سمجھتا ہے یا سیکھنے کے عمل میں رہنمائی کرنے والا ایک باشعور معلم؟ کیا وہ اختلاف کو نافرمانی سمجھتا ہے یا علمی نمو کا امکان؟ کیا وہ طالب علم کی غلطی کو تضحیک کا موقع بناتا ہے یا اصلاح اور تفہیم کا دروازہ کھولتا ہے؟ انہی رویوں میں تدریس کی اصل کیفیت نمایاں ہوتی ہے۔

اس کے باوجود استاد کو تعلیمی نظام کی تمام ناکامیوں کا ذمہ دار قرار دینا مسئلے کو ضرورت سے زیادہ سادہ بنادینا ہوگا۔ استاد بھی انہی سماجی، معاشی اور ادارہ جاتی حالات میں کام کرتا ہے جن سے دوسرے افراد متاثر ہوتے ہیں۔ اسے مناسب تربیت، پیشہ ورانہ آزادی، مؤثر تدریسی وسائل، معقول وقت اور احترام پر مبنی ماحول درکار ہے۔ لیکن اس حقیقت کے ساتھ یہ ذمہ داری بھی وابستہ ہے کہ استاد اپنے منصب کو محض ملازمت یا مقررہ معلومات کی ترسیل تک محدود نہ سمجھے۔ اس کی گفتگو میں علمی دیانت، فیصلوں میں انصاف، رویے میں توازن، اختلاف میں شائستگی اور طالب علم کی شخصیت کے احترام کا عنصر موجود ہونا چاہیے۔ ایک استاد اگر اپنی غلطی تسلیم کرلیتا ہے تو وہ طالب علم کو عملی طور پر سکھاتا ہے کہ علم کا تعلق انا کے تحفظ سے نہیں، حقیقت کی تلاش سے ہے۔ اگر وہ مختلف رائے سننے کا حوصلہ رکھتا ہے تو وہ تنقیدی شعور کی بنیاد رکھتا ہے۔ اگر وہ اپنے اختیار کو ذمہ داری کے ساتھ استعمال کرتا ہے تو طالب علم اقتدار اور جواب دہی کے تعلق کو سمجھنے لگتا ہے۔

کردار سازی کے حوالے سے سب سے اہم حقیقت یہ ہے کہ اخلاقی تربیت صرف اخلاقیات کے اسباق پڑھانے سے مکمل نہیں ہوتی۔ دیانت داری پر مضمون لکھوانا اور عملی زندگی میں دیانت دار رہنے کی تربیت دینا دو الگ مراحل ہیں۔ برداشت کی تعریف یاد کروانا اور اختلاف کرنے والے کی بات تحمل سے سننا دو مختلف تجربات ہیں۔ احترامِ انسانیت کے اصول پڑھانا اور کمزور، مختلف یا کم تر سماجی حیثیت رکھنے والے فرد کے ساتھ عزت سے پیش آنا ایک ہی درجے کی سرگرمیاں نہیں۔ کردار کی تشکیل اس وقت ہوتی ہے جب بیان کردہ اقدار روزمرہ کے رویوں میں جگہ بناتی ہیں۔ طالب علم استاد کے الفاظ ضرور سنتا ہے، مگر اس کے طرزِ عمل سے بھی سیکھتا ہے؛ وہ کتاب میں درج اصولوں کا مطالعہ کرتا ہے، مگر ادارے کے ماحول میں ان اصولوں کی عملی حیثیت بھی دیکھتا ہے۔ اگر نصاب انصاف کی تعلیم دے اور ادارے میں امتیازی سلوک کا مشاہدہ ہو، اگر کتاب سچائی کی فضیلت بیان کرے اور عملی ماحول میں خوشامد کو کامیابی کی کنجی سمجھا جائے، اگر درس گاہ احترام سکھائے مگر سوال کرنے والے طالب علم کو تحقیر کا نشانہ بنایا جائے تو الفاظ اور عمل کا یہ تضاد کردار سازی کے پورے عمل کو کمزور کرسکتا ہے۔

یہیں کردار سازی کے ایک اہم مگر نسبتاً نظرانداز شدہ پہلو کی طرف توجہ ضروری ہوجاتی ہے: تعلیمی ادارے کا مجموعی ماحول۔ کسی ادارے کی تربیتی قوت صرف کلاس روم، درسی کتاب یا استاد کے لیکچر میں محصور نہیں ہوتی۔ صبح کی اسمبلی، قطار میں کھڑے ہونے کا طریقہ، صفائی کے انتظامات، کھیل کے میدان میں برتاؤ، کتب خانے کا استعمال، امتحانی دیانت، انتظامی فیصلے، اساتذہ کے باہمی تعلقات اور طلبہ کی شکایات سننے کا نظام بھی تربیت کے عناصر ہیں۔ اگر ادارہ نظم و ضبط کو صرف سزا اور نگرانی سے قائم کرنا چاہے تو ممکن ہے طلبہ ظاہری پابندی تو اختیار کرلیں، لیکن خود احتسابی کا شعور پیدا نہ ہو۔ اس کے برعکس اگر قواعد کی وجوہ واضح کی جائیں، ذمہ داریوں میں شرکت دی جائے، غلطی کی اصلاح کے مواقع فراہم کیے جائیں اور احتساب کو منصفانہ بنایا جائے تو نظم و ضبط بیرونی دباؤ سے آگے بڑھ کر داخلی عادت میں تبدیل ہوسکتا ہے۔ کردار سازی کا مقصد ایسے طالب علم پیدا کرنا نہیں جو صرف نگرانی کی موجودگی میں درست رویہ اختیار کریں، بلکہ ایسے افراد کی تربیت ہے جو نگرانی نہ ہونے کے باوجود اپنے عمل کو اخلاقی اصولوں کے تابع رکھ سکیں۔

پاکستان جیسے معاشرے میں اس سوال کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے، جہاں تعلیم سے وابستہ توقعات میں معاشی ترقی، قومی تعمیر، سماجی انصاف، تہذیبی تسلسل اور شہری ذمہ داری سب شامل ہیں۔ یہاں تعلیمی نظام کو بیک وقت کئی چیلنجوں کا سامنا ہے: مختلف تعلیمی اداروں کے درمیان مواقع اور وسائل کا فرق، رٹّے پر مبنی امتحانی رجحانات، زبانِ تدریس کے مسائل، اساتذہ کی تربیت کی ضرورت، طلبہ پر کارکردگی کا دباؤ اور تعلیم و روزگار کے درمیان بڑھتا ہوا فاصلہ۔ ایسے حالات میں نصاب اور کردار سازی کے تعلق کو محض اخلاقی وعظ تک محدود کردینا مسئلے کی سنگینی کو کم کرکے دیکھنے کے مترادف ہوگا۔ کردار کی تربیت کے لیے ایسے تعلیمی ڈھانچے کی ضرورت ہے جو دیانت کو عملی طور پر ممکن بنائے، سوال کرنے کی گنجائش پیدا کرے، اختلافِ رائے کو علمی آداب کے ساتھ قبول کرے اور طالب علم کو معاشرے کے مسائل کے بارے میں محض معلومات فراہم کرنے کے بجائے ان پر غوروفکر کرنے کی صلاحیت بھی دے۔

یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ کردار سازی کا مطلب کسی ایک رائے، مخصوص طرزِ فکر یا غیر تنقیدی اطاعت کو طلبہ پر مسلط کرنا نہیں۔ اگر تعلیم کا مقصد صرف فرمانبردار افراد پیدا کرنا قرار پائے تو تنقیدی شعور، تخلیقی فکر اور علمی آزادی محدود ہوجائیں گے۔ حقیقی اخلاقی تربیت طالب علم کو یہ صلاحیت دیتی ہے کہ وہ کسی دعوے کو دلیل کی بنیاد پر پرکھے، اپنے مؤقف کی کمزوریوں کو تسلیم کرے، دوسروں کے حقوق کا احترام کرے اور اپنی آزادی کو اجتماعی ذمہ داری سے ہم آہنگ رکھے۔ اسے یہ سمجھنا چاہیے کہ اختلاف دشمنی نہیں، تنقید توہین نہیں اور سوال کرنا لازماً بے ادبی نہیں ہوتا۔ اسی طرح آزادی کا مطلب حدود سے انکار نہیں، بلکہ اپنے عمل کے نتائج کو سمجھتے ہوئے ذمہ داری قبول کرنا ہے۔ اس مفہوم میں کردار سازی اور تنقیدی فکر ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔

نصاب میں ادب، تاریخ، معاشرتی علوم اور زبان کی تعلیم اس مقصد کے لیے خاص امکانات رکھتی ہے۔ ادب انسان کو دوسرے انسان کے تجربے میں شریک ہونے کا موقع دیتا ہے؛ وہ دکھ، محرومی، محبت، ناانصافی، مزاحمت اور امید کی مختلف صورتوں سے آشنا کرتا ہے۔ تاریخ ماضی کے واقعات یاد کرنے سے آگے بڑھ کر یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ انسانی فیصلے معاشروں کی تشکیل پر کس طرح اثرانداز ہوتے ہیں۔ معاشرتی علوم فرد کو اپنے گرد موجود اداروں، طبقاتی فرق، معاشی ناہمواری اور شہری ذمہ داریوں کے بارے میں سوچنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ زبان کی تعلیم محض قواعد اور املا کی درستی نہیں، بلکہ اظہار کی صحت، دلیل کی ترتیب اور دوسروں کی بات سمجھنے کی صلاحیت بھی پیدا کرسکتی ہے۔ تاہم ان امکانات سے فائدہ اسی وقت اٹھایا جاسکتا ہے جب تدریس ان مضامین کو محض امتحانی سوالات تک محدود نہ کردے۔ اگر ادبی کرداروں کے فیصلوں پر بحث ہو، تاریخی واقعات کے مختلف اسباب کا جائزہ لیا جائے، سماجی مسائل پر شواہد کی روشنی میں گفتگو کی جائے اور تحریر میں دلیل و استدلال کو اہمیت دی جائے تو علم طالب علم کی ذہنی تربیت کا مؤثر وسیلہ بن سکتا ہے۔

اسی طرح کردار سازی کے لیے عملی سرگرمیوں کو بھی تدریسی عمل کا حصہ بنانا ضروری ہے۔ جماعتی منصوبے، سماجی خدمت، مباحثے، مطالعاتی حلقے، کتب خانوں سے وابستگی، مشترکہ ذمہ داریوں کی تقسیم اور طلبہ کی نمائندہ سرگرمیاں انہیں تعاون، نظم، قیادت، اختلاف کے آداب اور جواب دہی کا تجربہ فراہم کرسکتی ہیں۔ لیکن ان سرگرمیوں کو بھی محض رسمی تقریبات، تصاویر، اسناد اور سالانہ رپورٹوں کی زینت نہیں بننا چاہیے۔ اگر خدمت کا مقصد صرف نمایاں ہونا، مباحثے کا مقصد صرف حریف کو شکست دینا اور قیادت کا مقصد صرف اختیار حاصل کرنا بن جائے تو تربیتی سرگرمیاں اپنی اصل غایت کھو سکتی ہیں۔ ضروری ہے کہ طالب علم اپنے تجربے پر غور کرے، اپنی غلطیوں کا جائزہ لے، دوسروں کی رائے سنے اور سمجھے کہ کسی اجتماعی کام کی کامیابی صرف اس کی انفرادی کارکردگی سے نہیں بلکہ مشترکہ کوشش سے بھی وابستہ ہوتی ہے۔

امتحانی نظام اس پورے عمل میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ طلبہ اور اساتذہ عموماً اسی چیز کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں جسے جانچا اور پرکھا جاتا ہے۔ اگر امتحان میں صرف یادداشت، تعریفوں کی تکرار اور مقررہ جوابات کی نقل کو فوقیت حاصل ہو تو تنقیدی فکر اور عملی فہم کی ترغیب کمزور پڑسکتی ہے۔ اس کے برعکس ایسے سوالات، منصوبوں اور جائزہ جاتی سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے جو طالب علم سے دلیل قائم کرنے، شواہد استعمال کرنے، مسائل کا تجزیہ کرنے، مختلف نقطۂ ہائے نظر کا موازنہ کرنے اور اپنے نتائج کی توجیہ پیش کرنے کا تقاضا کریں تو تدریس کا رخ بھی بتدریج تبدیل ہوسکتا ہے۔ تاہم امتحانی اصلاحات کو محض سوالات کی ظاہری تبدیلی تک محدود رکھنا کافی نہیں؛ اساتذہ کی تربیت، جانچ کے واضح معیارات، مناسب تعلیمی وسائل اور طلبہ کو مؤثر بازخورد فراہم کرنے کا نظام بھی ناگزیر ہے۔ اسی طرح اخلاقی کردار کو چند نمبروں، رسمی اسناد یا شخصی پسند و ناپسند کی بنیاد پر ناپنے کی کوشش سے گریز کرنا چاہیے۔ ادارہ جاتی سطح پر دیانت، احترام، تعاون اور ذمہ داری کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا جاسکتا ہے، لیکن شخصیت کی پیچیدہ تشکیل کسی ایک امتحان یا مختصر پیمانے میں پوری طرح سمیٹی نہیں جاسکتی۔

موجودہ عہد میں مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ذرائع نے اس بحث کو ایک نئی جہت بھی عطا کردی ہے۔ معلومات تک رسائی پہلے سے کہیں آسان ہوچکی ہے؛ طالب علم چند لمحوں میں کسی موضوع کا خلاصہ، تعریف یا جواب حاصل کرسکتا ہے۔ ایسے میں تعلیم کی قدر محض معلومات فراہم کرنے میں نہیں بلکہ ان کی صحت جانچنے، ماخذ کی تصدیق کرنے، دلیل کی قوت پرکھنے، علمی دیانت برقرار رکھنے اور حاصل شدہ علم کو ذمہ داری سے استعمال کرنے میں بھی ہے۔ ٹیکنالوجی تدریس کو زیادہ مؤثر، قابلِ رسائی اور متنوع بنانے میں مدد دے سکتی ہے، لیکن وہ استاد کی انسانی رہنمائی، مکالمے، اخلاقی فیصلے اور طالب علم کی حقیقی ذہنی مشقت کا مکمل متبادل نہیں۔ اگر طالب علم ڈیجیٹل ذرائع سے حاصل کردہ مواد کو سمجھے بغیر اپنا کام ظاہر کرے تو مسئلہ صرف نقل کا نہیں، علمی دیانت کے تصور کا بھی ہے۔ اس کے برعکس اگر وہ ان ذرائع کو تحقیق، موازنہ اور تفہیم کے لیے استعمال کرے، ان کی حدود کو پہچانے اور اپنے کام میں دیانت داری سے ان کا حوالہ دے تو ٹیکنالوجی اس کی فکری تربیت کا مفید وسیلہ بن سکتی ہے۔

اس سارے منظرنامے میں والدین اور معاشرے کی ذمہ داری بھی کم اہم نہیں۔ جب گھر میں کامیابی کا واحد پیمانہ زیادہ نمبر، بلند تنخواہ، نمایاں عہدہ یا دوسروں سے آگے نکل جانا بن جائے تو بچے کے لیے علم، خدمت، دیانت اور اجتماعی بھلائی کی قدر کو مستقل طور پر سمجھنا دشوار ہوسکتا ہے۔ اسی طرح جب معاشرتی سطح پر بدعنوانی، سفارش، جھوٹ اور غیر منصفانہ رویوں کے باوجود کامیابی کو قابلِ رشک سمجھا جائے تو تعلیمی ادارے کی اخلاقی تعلیم کو عملی تضادات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اسکول بچے کو جو اصول پڑھاتا ہے، وہ انہیں گھر، بازار، دفتر، ذرائع ابلاغ اور عوامی زندگی میں بھی دیکھنا چاہتا ہے۔ اس لیے کردار سازی کو صرف محکمۂ تعلیم یا تدریسی عملے کی ذمہ داری قرار دینا درست نہیں؛ یہ پورے معاشرے کے اجتماعی رویوں سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ تعلیم کی اخلاقی معنویت اسی وقت مضبوط ہوسکتی ہے جب معاشرتی زندگی میں بھی دیانت، قانون کی پابندی، انصاف اور انسانی احترام کو حقیقی قدر حاصل ہو۔

اب سوال یہ ہے کہ اصلاح کا آغاز کہاں سے ہو؟ اس کا جواب کسی ایک جامع منصوبے، نئے نصاب یا بلند آہنگ اعلان میں تلاش نہیں کیا جاسکتا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ نصاب کی تیاری میں علم، مہارت اور اقدار کے باہمی تعلق کو پیشِ نظر رکھا جائے؛ اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت میں تدریسی مہارت کے ساتھ اخلاقی رہنمائی، مکالمے اور تنقیدی فکر کو جگہ دی جائے؛ امتحانات کو محض یادداشت کے بجائے تفہیم، استدلال اور اطلاق کی جانچ کے قابل بنایا جائے؛ اداروں میں احترام، انصاف اور جواب دہی پر مبنی ماحول پیدا کیا جائے؛ اور والدین کو بھی یہ سمجھنے میں مدد دی جائے کہ بچے کی کامیابی صرف اس کے نمبروں سے متعین نہیں ہوتی۔ اس کے ساتھ اصلاحات کے نتائج کا باقاعدہ جائزہ لینا ضروری ہے، تاکہ تعلیمی پالیسی محض دستاویز نہ رہے بلکہ کلاس روم اور طالب علم کی عملی زندگی میں اس کے اثرات بھی دیکھے جاسکیں۔

اصل مسئلہ یہ نہیں کہ ہمارے نصاب میں اخلاقی موضوعات موجود ہیں یا نہیں؛ زیادہ بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا تعلیمی نظام ان موضوعات کو زندگی کے تجربے میں تبدیل کرنے کے لیے سازگار حالات پیدا کرتا ہے؟ کیا استاد کو محض نصاب مکمل کرنے والا کارکن سمجھا جاتا ہے یا اسے ذہنوں کی تربیت کرنے والا معلم تسلیم کیا جاتا ہے؟ کیا طالب علم کو صرف جواب یاد کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے یا سوال قائم کرنے، دلیل پیش کرنے اور اپنی رائے پر نظرثانی کرنے کا موقع بھی ملتا ہے؟ کیا ادارے میں دیانت اور انصاف صرف تقریروں کے موضوعات ہیں یا انتظامی فیصلوں میں بھی ان کی جھلک دکھائی دیتی ہے؟ ان سوالات کے جواب ہی بتا سکتے ہیں کہ تعلیم اپنی حقیقی غایت کے قریب ہے یا اس کی ظاہری کامیابیوں کے پیچھے اس کی بنیادی معنویت کہیں گم ہوتی جارہی ہے۔

بالآخر نصاب علم کا نقشہ ہے، تدریس اس نقشے کو سمجھنے کا عمل اور کردار سازی اس فہم کی عملی معنویت کا امتحان۔ ان تینوں کو ایک دوسرے سے الگ کرکے دیکھنے سے تعلیم کا تصور ادھورا رہ جاتا ہے۔ معلومات سے محروم اخلاقی وعظ انسان کو پیچیدہ مسائل کے حل کے لیے کافی صلاحیت نہیں دیتا، جب کہ اخلاقی شعور سے خالی علم طاقت اور مہارت تو پیدا کرسکتا ہے، مگر ضروری نہیں کہ ان کے استعمال کو درست سمت بھی عطا کرے۔ اسی طرح کردار سازی کو تنقیدی فکر اور علمی آزادی سے جدا کردیا جائے تو تربیت کے بجائے محض اطاعت پیدا ہونے کا خطرہ رہتا ہے۔ ایک مؤثر تعلیمی نظام وہی ہوگا جو علم کو فہم، فہم کو بصیرت اور بصیرت کو ذمہ دارانہ عمل سے مربوط کرسکے۔

اس لیے کسی تعلیمی ادارے کی کامیابی کا حتمی فیصلہ صرف بلند نتائج، شاندار عمارتوں، جدید آلات یا اسناد کی کثرت سے نہیں ہونا چاہیے۔ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ وہاں سے نکلنے والا طالب علم اختلاف کے باوجود دوسروں کا احترام کرسکتا ہے یا نہیں، اپنے مفاد کے مقابلے میں انصاف کی اہمیت سمجھتا ہے یا نہیں، غلطی سامنے آنے پر حقیقت تسلیم کرنے کا حوصلہ رکھتا ہے یا نہیں، اور اپنے علم کو معاشرے کی بہتری کے لیے استعمال کرنے کا شعور رکھتا ہے یا نہیں۔ اگر وہ امتحان میں کامیاب ہو مگر زندگی کے امتحان میں دیانت، برداشت اور ذمہ داری سے محروم رہے تو تعلیم کی ظاہری منزل تو حاصل ہوسکتی ہے، مگر اس کا انسانی مقصد تشنہ رہ جاتا ہے۔ اس کے برعکس اگر علم انسان میں سوال کرنے کی جرأت، سچائی کو قبول کرنے کا حوصلہ، دوسروں کے دکھ کو سمجھنے کی صلاحیت اور اپنے عمل کی جواب دہی کا احساس پیدا کرے تو یہی تعلیم معاشرے کی حقیقی قوت بن سکتی ہے۔

شاید اس پوری بحث کا سب سے اہم نکتہ اسی طالب علم کے سوال میں پوشیدہ ہے جس نے ایک تقریب کے اختتام پر انصاف کے بارے میں پوچھا تھا۔ اس کے سوال کا جواب کسی ایک تقریر، کتاب یا نصابی تعریف میں نہیں، بلکہ اس اجتماعی طرزِ عمل میں ملنا چاہیے جس کی تشکیل میں گھر، اسکول، استاد، ریاست اور معاشرہ سب شریک ہیں۔ تعلیم کا مقصد صرف ایسے افراد پیدا کرنا نہیں جو درست جواب دے سکیں، بلکہ ایسے انسان تیار کرنا بھی ہے جو درست سوال اٹھائیں، حقیقت کو دلیل کی روشنی میں سمجھیں اور اپنے اختیار کو ذمہ داری کے ساتھ استعمال کریں۔ یہ سفر کسی ایک دن، ایک کتاب یا ایک استاد کے ذریعے مکمل نہیں ہوتا؛ یہ مسلسل تربیت، عملی تجربے اور اجتماعی رویوں سے تشکیل پاتا ہے۔

چنانچہ تعلیم کے مستقبل پر گفتگو کرتے ہوئے ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ درس گاہوں میں صرف مستقبل کے ملازم، ماہرین اور پیشہ ور افراد تیار نہیں ہوتے، وہاں مستقبل کے شہری، منتظمین، معلمین، محققین اور فیصلہ ساز بھی تشکیل پاتے ہیں۔ ان کی علمی قابلیت یقیناً ضروری ہے، لیکن اس قابلیت کو انسانی فلاح سے مربوط کرنے والا شعور بھی اتنا ہی ناگزیر ہے۔ ایک قوم کی اصل تعلیمی کامیابی اس وقت نمایاں ہوتی ہے جب اس کے افراد علم کو ذاتی ترقی کے ساتھ اجتماعی بہتری کا وسیلہ بنائیں، اختلاف کے باوجود احترام برقرار رکھیں، اختیار کے ساتھ جواب دہی قبول کریں اور انصاف کو محض تقریر کا موضوع نہیں بلکہ عملی زندگی کا اصول سمجھیں۔

نصاب سے زندگی تک کا فاصلہ دراصل کتاب اور کردار، معلومات اور بصیرت، امتحان اور عمل کے درمیان موجود فاصلے کا نام ہے۔ اس فاصلے کو کم کرنا صرف نصاب سازوں یا اساتذہ کا کام نہیں، بلکہ ریاست، تعلیمی اداروں، والدین اور معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اگر ہماری درس گاہیں علم کو شعور، شعور کو کردار اور کردار کو ذمہ دارانہ عمل سے مربوط کرنے میں کامیاب ہوجائیں تو تعلیم محض اسناد کی فراہمی کا ذریعہ نہیں رہے گی، بلکہ ایک بہتر انسان اور ایک زیادہ منصفانہ معاشرے کی تعمیر کا وسیلہ بن جائے گی۔ یہی وہ منزل ہے جہاں نصاب کتابوں سے نکل کر زندگی میں اترتا ہے اور تعلیم اپنے حقیقی مقصد سے ہم آہنگ ہوتی ہے۔

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

ڈاکٹر سیف ولہ رائے

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment