کلیم اللہ صاحب دور کسی گاؤں سے موٹر سائیکل پر ہمارے گاؤں(7.8AR) کرملی والا کے سکول میں پڑھانے آتے تھے، ایسے گٹھے ہوئے مضبوط جسم کے تھے کہ انھیں دیکھتے ہی ان کے طاقت ور ہونے کا احساس ہونے لگتا تھا، جتنے جسیم اور سمارٹ تھے، اتنے ہی خلیق اور ہمدرد بھی۔ غالبا 19.8BR سے آیا کرتے۔ پھر بھی وقت پر پہنچ جاتے۔ اسمبلی میں ایکسر سائز کرواتے، وہ ہمارے پی ٹی ٹیچر تھے۔
کبھی دیر ہوجاتی تو ایکسر سائز رہ جاتی اور ان کی کمی محسوس ہوتی۔ حیرت یہ تھی کہ حالانکہ وہ اتنی دور سے آتے، کافی تنخواہ تو پیٹرول میں ہی کٹ جاتی ہوگی۔ پھر بھی گاؤں کے اساتذہ بے تکلف ان سے کہتے، کلیم اللہ صاحب بائیک کی چابی دینا اور وہ ان کی بائیک لے جاتے۔ وہ ہمیں پی ٹی کے ساتھ سائنس اور میتھ پڑھاتے، ایک دن میں نے کہا، سر لڑکے کہتے ہیں کہ آپ کو اپنا کام کرنا چاہیے، برجستہ وہ بولے، میرا کیا کام ہے؟ یہ کہ کچھ لڑکوں کے ساتھ سٹاف روم میں بیٹھا رہوں اور کلاس انچارچ کو کہلوا بھیجوں کہ ان کی حاضری لگا دیں، یہ میرے پاس ہیں؟ انھی کی وجہ سے مجھے میتھ بھی سمجھ میں آنے لگا تھا، میتھ میرا سبجیکٹ ہی نہ تھا، میٹرک میں انگریزی میں میرے ڈیڑھ سو سے ایک سو چوبیس نمبر آئے تھے،اردو میں بھی اس کے قریب قریب لیکن میتھ میں تینتیس، لیکن خوشی مجھے تینتیس کی زیادہ تھی، مجھے لگتا تھا کہ اگر میتھ میں رہ گیا تو پھر دوبارہ شائد امتحان ہی نہ دوں۔
مڈل کے دوران کلیم اللہ صاحب نے سائنس اور میتھ بڑی محنت سے ہمیں سکھایا، انھوں نے ہمیں بیڈمنٹن بھی سکھا دی۔ دراصل انھوں نے اپنے کھیلنے کیلئے بیڈ منٹن کورٹ بنایا تھا، پھر استاذہ کو سکھایا تو ساتھ ہم بھی شامل ہوگئے، یہ گیم پھر بعد میں بہت عرصہ جاری ہی رہی۔ وہ میاں چنوں شہر آتے جاتے رہتے تھے، تب بچوں کیلئے گاؤں سے شہر جانا بھی یوں تھا، جیسے سرحد پار جانا، ہمارا گاؤں میاں چنوں کے قریب تھا۔ وہی میاں چنوں جو خوشی کی برفی، وزیر اعلی غلام حیدر وائیں اور زرعی آلات کے حوالے سے مشہور تھا اور وہی میاں چنوں جہاں کے تازہ ترین مشاعرے میں علی زریون کی پڑھی گئی شاعری کا آج کل بہت شہرہ ہے، بیڈ منٹن کا زیادہ شوق ہوا تو ہم نے پیسے اکٹھے کرکے کلیم اللہ صاحب کو دئیے کہ سر ہمیں شہر سے ریکٹ لا دینا۔ تب وہاں لکڑی کے سرخ رنگ کے ڈائمنڈ کے ریکٹ ہوتے تھے، بڑے مضبوط اور خوبصورت۔ پیسے ان کے پاس ہی تھے کہ گرمیوں کی چھٹیاں ہو گئیں۔ اب کچھ دن بعد خیال آیا کہ کلیم اللہ صاحب تو چھٹیوں کے بعد آئیں گے، اور ادھر چھٹیوں میں ہی کھیلنے کا موقع تھا۔ اب کیا کیا جائے؟
ایک دن کچھ مشورہ کیا اور ہم کچھ دوست سائیکلوں پر ان کے گاؤں روانہ ہوگئے۔ راستے میں نہر کے ساتھ ساتھ ہم سائیکل چلاتے گئے، میرے ہمراہی کو راستے کا علم تھا۔ ہم واقعی ناصرف کلیم اللہ صاحب کے گاؤں پہنچ گئے بلکہ ان کے گھر بھی جا پہنچے۔ وہ بڑے خوش ہوئے، اپنے والد صاحب سے تعارف کروایا کہ یہ میرے شاگرد ہیں، انھوں نے ہمیں کھیتوں سے لمبے لمبے گنے لا کے دئیے۔ جو انھی کی طرح بڑے مضبوط اور میٹھے تھے، اتنے لمبے گنے تب میں نے پہلی دفعہ دیکھے تھے۔ وہاں پتہ چلا ان کے والد صاحب امام مسجد تھے، انھیں دیکھ کے کبھی یہ نہ لگتا تھا کہ وہ مولوی صاحب کے بیٹے ہوں گے، کلین شیوڈ اور تنو مند، وہ نیوی میں چلے گئے تھے مگر پھر نیوی چھوڑ آئے اور ٹیچنگ کرنے لگے، ہمارے گاؤں میں معروف سکالر ڈاکٹر عبدالرشید اظہر رحمہ اللہ کے بڑے بھائی مولانا حافظ عبدالستار صاحب کے نیک نام فرزند عبدالوحید صاحب نے دارالمطالعہ بنا رکھا تھا، جو ادبی اور اسلامی کتابوں سے بھرا رہتا تھا، اس میں بچوں اور بڑوں کے ماہانہ رسائل باقاعدگی سے آتے۔
وہ روزانہ عصر کے بعد دارالمطالعہ کھولتے، مطالعہ کے شوق میں، میں وہاں جایا کرتا، ایک دن عبدالوحید صاحب نے مجھے ایک اسلامی کتاب دی کہ سر کلیم اللہ صاحب کو مطالعے کے لیے دے دینا۔ میں نے دی تو انھوں نے لے لی، کچھ دنوں بعد ہم نے جب انھیں کلاس میں بڑھی ہوئی شیو کے ساتھ دیکھا تو پوچھ لیا، سر کیا داڑھی رکھ لی ہے۔ ہم نے مذاق کیا تھا، مگر انھوں نے سنجیدگی سے کہا، دل تو چاہتا ہے کہ داڑھی رکھ لوں،کہنے لگے بخاری شریف کی حدیث پڑھی ہے تو اس کے بعد شیو کرنے کا حوصلہ نہیں ہو رہا۔مڈل میں ہمارا امتحانی سنٹر تلمبہ بن گیا۔ وہی تلمبہ جو مولانا طارق جمیل کا علاقہ ہے۔جن دو تین بچوں کو وہ اپنی بائیک پر بٹھا کے امتحانی سنٹر ساتھ لے جاتے، ان میں ایک میں بھی تھا، باقی بچے سائیکلوں پر جاتے، گاؤں میں بائیک ان دنوں گویا کار کی طرح تھی۔ مجھے یاد ہے ایک دن پیپر دے کر واپسی پر کسی بات پر ہم بچے ہنس دئیے اور خوشی سے میں کچھ زیادہ ہل گیا۔ بائیک ذرا سا لہرائی تو کلیم اللہ صاحب نے بڑی نرمی سے کہا، یوسف گرانا ہے کیا؟ میں پھر سکون سے بیٹھا رہا۔
امتحانوں کے دوران ایک دن کہنے لگے، یوسف تسلی سے پورا پیپر لکھا کرو، کچھ دیر کے بعد تم پیپر “جھریٹنے” لگتے ہو، میں واقعی ایک دو جوابات کے بعد عجلت سے لکھنے لگتا تھا۔ جانے کیا جلدی ہوتی تھی!
مڈل پاس کر لیا تو کلیم اللہ صاحب کی خواہش تھی میں سائنس کے سبجیکٹ رکھوں، اس کیلئے وہ خود اور ایک دوسرے استاد ثنااللہ صاحب کے ساتھ مجھے اپنی بائیک پر میاں چنوں شہر کے دو ایک سکولوں میں لے گئے۔ غالبا ایک یونین سکول تھا اور ایک ایم سی ہائی سکول۔ میرا ایم سی ہائی سکول میں داخلہ کروا دیا گیا۔ پڑھائی تو ٹھیک چل رہی تھی مگر مجھے لگتا تھا جیسے میں تبلیغی جماعت کے ساتھ چلہ لگانے نکل گیا ہوں،یا دنیا تیاگ دینے والا کوئی راہب بن گیا ہوں۔ مسئلہ یہ تھا کہ شہر گاؤں سے دور تھا، صبح ناشتہ کرتے ہی لڑکے گھر کے باہر پہنچ جاتے۔ ہم سائیکلوں پر نہر کراس کرکے جی ٹی روڈ تک پہنچتے، وہاں سائکلیں ایک سائیکل سٹینڈ پر کھڑی کرکے ہاتھوں میں پتھر پکڑ لیتے، دور سے آتی ہوئی بس کو دیکھ کر سڑک کے درمیان تک پہنچ جاتے اور پتھر کے زور پر بس روکتے۔ دراصل ایک تو وہاں بس کا سٹاپ نہ تھا، دوسرے بس مفت میں سفر کے عادی سٹوڈنٹس کیلئے کیوں رکتی؟
ناچار ہم پتھر پکڑتے اور ناچار ڈرائیور کو پتھراؤ کے ڈر سے یہاں بریک لگانا پڑتی۔ پھر یوں قوت بازو سے روکی ہوئی بس کے ذریعے ہم سکول پہنچتے، دوپہر تک سکول میں پڑھائی ہوتی، اس کے بعد ٹیوشن کا انتظار کرتے، ٹیوشن کے بعد پھر بس ، سائیکل اور نہر سے ہوتے ہوئے جب گھر پہنچتے تو مغرب کا اندھیرا اتر رہا ہوتا۔ کچھ دن تو یہ ریاضت میں نے سہی، پھر مگر دل اُچاٹ ہوگیا۔
آجائے ایسے جینے سے اپنا تو جی تنگ
جیتا رہے گا کب تلک اے خضر مرکہیں
چنانچہ شہر کا یہ سکول چھوڑ کے قریبی گاؤں 6 ایٹ اے آر کے ہائی سکول میں داخلہ لے لیا اور زندگی سہل ہوئی۔یہاں سائنس کے ٹیچر تو اچھے تھے اور سائنس سمجھ میں بھی آ رہی تھی کہ ایک دن جانے کیا ہوا، ایک استاد تھے سلیم صاحب، انھوں نے مجھے بلایا، دیگر اساتذہ بھی بیٹھے تھے، کہنے لگے، یوسف تم آرٹس کے آدمی ہو، تمھیں سائنس نہیں آرٹس پڑھنی چاہیے۔ میں نے ان کی بات مان لی اور سائنس کے بجائے آرٹس کے سبجیکٹ پڑھنے شروع کر دئیے۔ ایک بار مڈل سکولز کے ٹورنامنٹ تھے، عموماً سنٹر ہمارا سکول ہی بنتا تھا مگر اس بار آڑھی والا گاؤں کا ایک سکول سنٹر بن گیا۔ ہم وہاں پہنچے تو عجیب معاملہ تھا، اس سکول کے پاس گراؤنڈ تک نہ تھی۔ تازہ تازہ دھان کا ایک کھیت کٹا تھا، اسی کو انھوں نے کچھ نہ کچھ ہموار کر لیا تھا۔ اس سکول کی ٹیم کو کچھ بھی کھیلنا نہ آتا تھا۔ فٹ بال کا میچ ہوا تو جب ان کی ٹیم کے کسی کھلاڑی سے فٹ بال کی ایسی کک لگ جاتی ، جس میں فٹ بال کافی اوپر ہوا میں چلا جاتا تو ان کے شائقین خوب تالیاں پیٹتے۔ گول کرنا تو ان کے بس میں نہ تھا، یہ اسی پر خوش تھے کہ ان کے کھلاڑی کی کک لگ گئی، ان دنوں ہمارے سکول کی خاص طور آٹھویں کلاس کے طلبا کی اکثریت کافی بڑی عمروں کے لڑکوں کی تھے۔
والدین نے انھیں لیٹ سکول داخل کروایا تھا تو یہ بڑے اچھے ڈیل ڈول کے تھے، پڑھائی میں تو ان میں سے زیادہ تر کا اتنا دل نہ لگتا تھا مگر کھیل کے دنوں میں یہ چھا جاتے۔ یہی یہاں ہوا، ہر میچ یہ جیتتے چلے گئے۔ فٹ بال، کرکٹ اور دوسرے کئی میچ، یہ دیکھ کر بطور پی ٹی کلیم اللہ صاحب بہت خوش تھے، فرط جذبات سے انھوں نے لڑکوں سے نعرے لگوا دیئے، “جدوں مارے ست مارے، جتھے مارے ست مارے.” یعنی جب بھی ضرب لگائے سات چک ہی لگائے اور یہ چک جہاں چاہے ضرب لگا دے۔ سات چک ہمارا گاؤں تھا اور سکول گاؤں کے نام سے ہی جانے جاتے تھے۔ تو کلیم اللہ صاحب ایسے ہی دلربا استاد تھے۔ خلیق ،شفیق ، خوب رو اور خوب سیرت!!
افسوس کلیم اللہ صاحب جوانی ہی میں وفات پا گئے، جگر بڑھنا شروع ہوا اور آپ کے دن گھٹتے چلے گئے اور ایک دن خبر ملی کہ آپ دنیا میں نہیں رہے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ اللہ تعالیٰ اس مرد خلیق اور استاد شفیق کو جنتوں کا مکیں کرے۔
اللم آمین
اساتذہ میں دو اور استادوں کا بھی تذکرہ کرنے کو دل چاہتا ہے۔ استاد حسن علی خان اور استاد ہدایت اللہ صاحب۔ دونوں اپنی طرز کے بہترین استاد تھے۔ اچھا پھر کبھی سہی۔



تبصرہ لکھیے