شب معراج: جب نوے سال بعد اذان گونجی اور وہ سجدہ جو امر ہو گیا ۔
ابن شداد لکھتا ہے: “ستائیس رجب کی رات تھی اور جمعے کا دن تھا جب دو اکتوبر گیارہ سو ستاسی عیسوی کو بیلین آف ابلین نے ہتھیار ڈالے — تو سلطان کو بتایا گیا کہ آج ہی وہ مبارک گھڑی ہے جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس شہر میں تشریف لائے تھے۔ پہلے اس کا ارادہ چند روز کے بعد یروشلم میں داخلے کا تھا لیکن جب اسے پتہ چلا کہ آج کی رات شب معراج ہے تو اس نے اسی روز یروشلم میں داخلے کا فیصلہ کر لیا۔”
باب ۴۰
داستان اہل جنون
2 اکتوبر 1187ء
بیت المقدس کی دہلیز پر
اس شخص کی کہانی جسے میرے اللہ نے اپنے قبلہ اول کو آزاد کرنے کے لیے پیدا کیا تھا۔
حطین کی پکار: جب بچپن کے ہیرو نے پکارا
آج ہمیں حطین جانا تھا۔
دل میں ایک عجیب طرح کی بے چینی تھی — عجیب سی خوشی تھی — جیسے کوئی بچہ اپنے ہیرو سے ملنے جا رہا ہو۔ حطین کا نام کئی دہائیوں سے ذہن کے نہاں خانوں میں نقش تھا — وہ سرزمین جس نے تاریخ کا نیا باب قلم بند کیا تھا۔
مجھے بتایا گیا تھا کہ گیارہ سو ستاسی عیسوی میں ہونے والی اس فیصلہ کن جنگ کی کوئی نشانی اب وہاں باقی نہیں جو صلاح الدین ایوبی اور صلیبیوں کے درمیان لڑی گئی تھی — لیکن میں پھر بھی وہاں جانا چاہتا تھا۔
ان فضاؤں میں سانس لینا چاہتا تھا — اس دو چوٹیوں والی پہاڑی کے منظر کو اپنی آنکھوں میں ہمیشہ کے لیے مقید کرنا چاہتا تھا — وہ چوٹیاں جو ان لمحوں کی گواہ تھیں جب اٹھاسی سال کے بعد قبلہ اول کی قسمت کا فیصلہ مسلمانوں کے حق میں ہوا تھا۔
دائیں چوٹی پر سلطنت یروشلم کے حکمران گئی لوزینیان نے اس جنگ کے دوران اپنا خیمہ نصب کیا تھا جس کے باہر صلیب اعظم گڑی تھی — لیکن اس بار یہ صلیب اعظم نہ تو حطین کے میدان میں صلیبیوں کی شکست کو بچا سکی اور نہ ہی یروشلم پر مسلمانوں کے قبضے کو روک سکی۔
میں درحقیقت اپنے آپ کو بہت خوش قسمت سمجھ رہا تھا کہ آج مجھے اپنے بچپن کے اس ہیرو کے نقوش پا پر چلنے کی توفیق مل رہی ہے — جسے میرے اللہ نے اپنے قبلہ اول کی آزادی کے لیے پیدا کیا تھا۔
٭ ٭ ٭
سنہری گنبد
سنہری گنبد — جب نیند نہ آئی
مسجد اقصیٰ میں فجر اور اشراق کی نماز پڑھنے کے بعد ہم پو پھٹنے پر ہوٹل واپس لوٹ آئے۔ حمزہ اور بلال واپس آتے ہی بستر پر ڈھیر ہو گئے اور جلد ہی کمرہ ان کی گہری سانسوں سے گونجنے لگا — لیکن میں جاگتا رہا۔ میرے دل کی بے کلی مجھے بستر پر لیٹنے سے روکتی رہی۔
میں کھڑکی کے پردے ہٹا کر قبتہ صخرۃ کو دیکھنے لگا — جس کا سنہری گنبد جبل زیتون کے عقب سے طلوع ہوتے ہوئے سورج کی نرم روشنی میں چمک رہا تھا۔ کبوتروں کی کئی ڈاریں اس کے گرد طواف کر رہی تھیں — بے شمار کبوتر نیچے صحن میں بیٹھے دانہ چگنے میں مصروف تھے۔
گنبد سے امنڈتی سنہری اور روپہلی شعاؤں نے جیسے مجھ پر جادو سا کر دیا — مجھے لگا جیسے اس پر آسمان سے نور کی بارش ہو رہی ہو۔
قبتہ صخرۃ کے چبوترے پر زائرین کی کئی چھوٹی چھوٹی ٹولیاں بیٹھی نظر آ رہی تھیں۔ چبوترے کے گرد لگے سینکڑوں سال پرانے زیتون کے درخت باد صبا کے سنگ دھیرے دھیرے مستی میں جھوم رہے تھے — ان درختوں کے پتے سورج کی روشنی میں چاندی کی طرح چمک رہے تھے —
اور ان کے سائے چبوترے پر ایسے پڑ رہے تھے جیسے کسی نے زمین پر فیروزے جڑ دیے ہوں۔ میں اس ہوش ربا نظارے میں کھو سا گیا اور مسحور ہو کر بے اختیار اس کی طرف تکتا رہا۔
پتہ نہیں اس سنہری گنبد میں ایسی کیا کشش تھی کہ میں جب بھی اس کی طرف دیکھتا تھا تو میرے لیے اپنی نگاہ ہٹانا مشکل ہو جاتا تھا — جیسے کوئی مقناطیس ہو جو آنکھوں کو کھینچ لیتا ہو اور چھوڑتا نہ ہو۔
٭ ٭ ٭
ابو فواد کی بات
ابو فواد کی بات — جنت تک جانے کا سب سے چھوٹا راستہ
میرے کانوں میں پچھلے چالیس سال سے مسجد اقصیٰ کی خدمت کرنے والے خوش نصیب ابو فواد کی آواز گونجنے لگی — جو اس نے قبتہ صخرۃ کے احاطے میں جھاڑو پھیرتے ہوئے سر اٹھا کر مجھ سے کہی تھی:
“ڈاکٹر! کیا تم جانتے ہو کہ جنت تک جانے کا سب سے چھوٹا راستہ کون سا ہے؟”
میں نے نفی میں سر ہلایا تو وہ گنبد کی طرف اشارہ کر کے کہنے لگا:
“یہ گنبد! اور یہیں سے میرے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آسمان کی طرف گئے تھے۔”
اور اس کے بعد میں جب بھی اس گنبد کی طرف دیکھتا تھا تو مجھے ابو فواد کی یاد آنے لگتی تھی۔ اب مجھے بھی اس کی بات پر یقین ہو چلا تھا کہ وہ سچ کہتا ہے — آخر اس جگہ میں کوئی تو ایسی خاص بات ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہزاروں میل دور سے یہاں لایا گیا تھا —
ورنہ معراج تو مکہ سے بھی ہو سکتی تھی۔ آخر کچھ تو ہے کہ قرآن مجید میں جب بھی اس جگہ کا ذکر آتا ہے تو اسے خیر و برکت والی جگہ کہہ کر پکارا جاتا ہے — دنیا میں کسی اور خطہ زمین کے نصیب میں یہ سعادت نہیں۔
یہ سنہری شعاعیں گنبد سے نکل کر سیدھی آسمان کی وسعتوں میں گم ہو رہی تھیں — مجھے لگا جیسے ان کے درمیان کوئی سیڑھی سی موجود ہے جو سیدھی آسمان کی طرف چلی گئی ہے — اور چرخ نیلی فام اور اس گنبد کے درمیان کوئی براہ راست راستہ سا بن گیا ہے۔
میرا بڑا دل چاہا کہ کاش میں بھی اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اتباع میں کسی طرح انہی سیڑھیوں پر چڑھتا چلا جاؤں — لیکن میرے ایسے نصیب کہاں تھے۔
٭ ٭ ٭
ابن شداد کی ڈائری
ابن شداد کی ڈائری — جب تاریخ زندہ ہو گئی
میں اپنی انہی بے ہنگم اور بے سری سوچوں میں مگن رہا — پتہ نہیں کتنی دیر گزر گئی — اچانک حمزہ نے نیند میں کچھ بولنا شروع کیا تو میں چونک گیا۔ بڑے بے ربط سے الفاظ تھے — کچھ پلے نہ پڑا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔
لیکن اس کے وہ بے ربط الفاظ مجھے میری دنیا سے واپس کھینچ لائے تھے
میں کھڑکی سے ہٹ کر رائٹنگ ٹیبل کے ساتھ بچھی کرسی پر آ بیٹھا اور اپنا بک ریڈر کھول کر سلطان صلاح الدین ایوبی کے بارے میں لکھی ابن شداد کی یادداشتیں پڑھنے لگا۔
بہاؤ الدین ابن شداد بارہویں صدی کا مشہور عالم اور مستند عرب تاریخ دان ہے — جس کی سلطان صلاح الدین ایوبی پر لکھی کتاب “النوادر السلطانیہ والمحاسن الیوسفیہ” سلطان ایوبی کی زندگی پر ایک بڑی مستند اور معتبر دستاویز سمجھی جاتی ہے۔
اس کا انگریزی ترجمہ آکسفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر ڈونلڈ سڈنی رچرڈز نے “دی ریئر اینڈ ایکسیلنٹ ہسٹری آف صلاڈن” کے نام سے کیا ہے۔
ابن شداد نے زندگی کا بڑا حصہ سلطان صلاح الدین کے ساتھ گزارا — وہ اس کی کابینہ میں وزیر بھی رہا — اس کی کامیابیوں اور ناکامیوں کے سفر میں شریک بھی۔
اس کی یہ کتاب اس کے ذاتی مشاہدات اور تجربات پر مبنی ایک بڑی حقیقت پسندانہ اور غیر جانبدارانہ ڈائری ہے جو وہ سلطان کی ہمراہی میں روزانہ لکھا کرتا تھا — ایک ایسا شخص جس نے وقت کو اپنی آنکھوں سے تاریخ بنتے دیکھا اور ہر لمحہ قلم سے رقم کر لیا ۔
مجھے اس کتاب سے پہلی بار آگاہی اپنے سکول کے زمانے میں ہوئی جب میں نے التمش عنایت اللہ کی لکھی کہانی “داستان ایمان فروشوں کی” پڑھنی شروع کی — جو حکایت ڈائجسٹ میں سلسلہ وار چھپا کرتی تھی۔ یہی وہ دور تھا جب میرا سلطان ایوبی سے تفصیلی تعارف ہوا — اور وہ میرا ہیرو بن گیا۔
پھر میں نے سلطان ایوبی کے بارے میں بہت پڑھا — ہر وہ کتاب جو اس کے بارے میں ہوتی تھی میری پسندیدہ کتاب بن جاتی تھی۔ سکول لائبریری اور کالج لائبریری سے مستعار لے کر ہیرلڈ لیمب، لین پول، ولیم آف ٹائر، ولیم آف نیوبرگ اور ایچ آر گبز کی لکھی کتابیں بھی پڑھنے کا اتفاق ہوا۔
گبز کی کتاب “ دی لائف آف صلا ڈین “ مجھے ایم ایم عالم نے تحفے میں اپنے دستخط کے ساتھ دی تھی ۔ اس کتاب سے میری بڑی خوبصورت یادیں وابستہ تھیں ۔ اسے پڑھتے ہوئے ہمیشہ مجھے لگا جیسے میرے بچپن کے دونوں ہیرو ۔ میرے سامنے مجسم کھڑے ہیں ۔ صدیوں کا فاصلہ ۔۔ لیکن تھے دونوں ایک ہی مٹی سے گندھے ہوئے ۔۔ ایک ہی فکر میں ڈھلے ہوئے ۔ یہ کتاب کوئی پنتیس سال سے میری ساتھی ہے ۔
اسے حسن اتفاق سمجھیے یا قدرت کا کرشمہ — جن دنوں ابن شداد اپنی ڈائری لکھا کرتا تھا عین انہی دنوں ولیم آف ٹائر بھی ڈائری لکھتا تھا۔ ولیم فلسطین کے شہر ٹائر کا آرچ بشپ تھا اور سلطنت یروشلم کے شہنشاہ بالڈون چہارم کا اتالیق بھی تھا۔
اس کی یادداشتیں لاطینی زبان میں لکھی گئی تھیں جو “پرولوگ ٹو دی ہسٹوریا” کی شکل میں موجود ہیں — انگریزی میں اس کا ترجمہ “کرونیکل آف ولیم آف ٹائر” کے نام سے ہوا ہے — مغربی مؤرخین اس کتاب کو بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
دو مؤرخ — ایک مسلمان ایک عیسائی — دونوں ایک ہی زمانے میں — ایک ہی جنگ کے ۔۔ ایک ہی زمانے کے دو مختلف رخ دکھا رہے تھے۔
دونوں کی کتابوں میں اختلاف موجود ہے دونوں واقعات کو ۔ تاریخ کو اپنے اپنے انداز میں دیکھتے ہیں لیکن صلاح الدین
کے بارے میں دونوں کی رائے ایک ہے دونوں اسے بہترین جرنیل اور بہترین انسان کے روپ میں دکھاتے ہیں ۔
چند سال پہلے میں نے ابن شداد کی کتاب ایمازون سے خریدی اور اپنے بک ریڈر میں محفوظ کر لی — اسے کئی بار پڑھ چکا ہوں۔
جو لطف ابن شداد کی تحریر میں ہے وہ کسی اور مصنف کے ہاں نہیں ملا — اس کی یہ کتاب ہمیشہ مجھے اپنے ساتھ ماضی کے اس دور میں لے جاتی ہے جہاں میں ابن شداد کی طرح ایک چلتا پھرتا کردار بن کر سلطان ایوبی کی فوج کا ایک سپاہی بن جاتا ہوں —
اپنی تصور کی آنکھوں سے اپنے آپ کو ان واقعات کا حصہ بنا دیکھتا ہوں جو آج تاریخ میں رقم ہیں۔ آج بھی یہی ہوا۔
٭ ٭ ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
گولڈن وال ہوٹل ۔
گولڈن وال ہوٹل — جہاں کبھی سلطان کا لشکر تھا
یہ سوچ کر میرے رگ و پے میں برق سی دوڑنے لگی — خون جوش مارنے لگا۔ مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہ آیا جب میں نے یہ پڑھا کہ یروشلم کے ہیروڈ گیٹ کے سامنے واقع جس گولڈن وال ہوٹل میں اس وقت میں بیٹھا ہوں — یہاں کبھی ایک وسیع و عریض میدان ہوا کرتا تھا — اور آج سے ہزار سال پہلے اسی جگہ سے سلطان ایوبی نے یروشلم کی فتح کی غرض سے اپنے محاصرے کا آغاز کیا تھا۔
میں نے بک ریڈر رکھ دیا — کرسی سے اٹھا — اور کھڑکی سے باہر دیکھا۔ وہی گلی — وہی پتھر — ویسی فضا ۔۔ ہزار سال پہلے اسی جگہ خیمے لگے تھے — گھوڑے بندھے تھے — تلواریں چمک رہی تھیں — اور ایک سلطان اپنے سپاہیوں کے ساتھ اس شہر کو دیکھ رہا تھا جو اس کے خوابوں کا شہر تھا۔
سامنے صلاح الدین سٹریٹ تھی جس کے گرد ۔ آج یہاں سیمنٹ اور لوہے کی عمارتیں کھڑی ہیں — لیکن زمین وہی ہے — اور زمین کو یاد ہے کہ اس پر کبھی کس کے قدم پڑے تھے۔
سلطان سلیمان روڈ سے نکلنے والی صلاح الدین اسٹریٹ جو ہیروڈ گیٹ سے شروع ہو کر مشرقی یروشلم کے درمیان سے گزرتی نابلس روڈ سے جا ملتی ہے — اسی واقعے کی یادگار ہے۔
جس پر چل کر سلطان یروشلم پہنچا تھا ۔
ہیروڈ گیٹ سے لے کر دمشقی دروازے اور باب داؤد کے باہر تک اسی میدان میں سلطان کی فوجیں چار دن تک خیمہ زن رہی تھیں — جہاں آج عمارتوں کے اس بچھے جال میں گولڈن وال ہوٹل بھی واقع ہے جس کے ایک کمرے میں اس وقت میں بیٹھا تھا — اور میرے دونوں ساتھی بے خبر سوئے ہوئے تھے۔
٭ ٭ ٭
عسقلان ۔۔ یروشلم کا دروازہ
فتح عسقلان — جب یروشلم کا دروازہ کھلا
چار جولائی گیارہ سو ستاسی عیسوی — صلیبیوں کو حطین کے میدان میں فیصلہ کن شکست دینے کے بعد سلطان راستے میں پڑنے والے تمام شہروں — بیروت، عکہ ، جافا، صیدون — کو فتح کرنے کے بعد ستمبر کے آغاز میں عسقلان پہنچا۔
ہزاروں سال پرانے اس شہر میں لوہے اور تانبے کے دور کی تہذیبوں کے کھنڈرات بھی موجود ہیں — اور اپنے محل وقوع اور بحیرہ روم کے کنارے آباد اس شہر کو یروشلم اور مصر کا دروازہ کہا جاتا ہے —
کیونکہ یہاں سے ایک سڑک ساحل کے ساتھ ساتھ غزہ کی پٹی سے نکل کر مصر کے شہر العریش سے جا ملتی ہے اور دوسری سڑک یروشلم کی طرف جاتی ہے۔
تاریخ کا یہ فیصلہ تھا کہ جو بھی عسقلان کو فتح کرتا — بالآخر یروشلم کا مالک بھی بن جاتا۔
البلادری نے لکھا ہے کہ عسقلان وہ آخری شہر تھا جس پر امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں پہلی بار قبضہ کیا۔ پھر یہ عباسیوں اور فاطمیوں کے قبضے میں رہا۔
دس سو ننانوے عیسوی میں پہلی صلیبی جنگ کے دوران صلیبیوں نے یروشلم پر تو قبضہ کر لیا لیکن اپنے مضبوط قلعے کی بناء پر عسقلان ان کے ہاتھ نہ آیا۔ نصف صدی تک صلیبی دستبرد سے آزاد رہا ۔۔ بالآخر اگست گیارہ سو تریپن عیسوی میں دوسری صلیبی جنگ کے دوران یہ بھی صلیبیوں کی جھولی میں جا گرا — ان کا عسقلان پر یہ قبضہ تقریباً چوبیس سال تک قائم رہا۔
سلطان یکم ستمبر کو عسقلان پہنچا تو قلعے کے محافظوں نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کر دیا اور جنگ پر آمادہ ہوئے — بالآخر ایک ہفتے کے شدید محاصرے اور سخت جنگ کے بعد انہوں نے شکست تسلیم کر کے قلعہ سلطان کے حوالے کر دیا۔ عسقلان کے عیسائیوں کو اسکندریہ جلاوطن کر دیا گیا جبکہ باقی ماندہ عیسائی جافا عکہ اور جافا کے راستے یورپ کی طرف روانہ ہو گئے۔
عسقلان کی وجہ شہرت اس مقام کی وجہ سے بھی تھی جہاں فاطمی روایات کے مطابق حضرت حسین علیہ السلام کا سر مبارک اڑھائی سو سال تک دفن رہا تھا — یہ مقام عسقلان شہر سے باہر ایک پہاڑی چوٹی پر تھا اور دنیا بھر سے شیعہ حضرات اور دیگر عاشقان حسین علیہ السلام اس مقام کی زیارت کے لیے آیا کرتے تھے —
سارا سال یہاں ایک میلہ سا لگا رہتا تھا۔ لیکن جب دس سو ننانوے عیسوی میں صلیبیوں نے یروشلم فتح کرنے کے بعد عسقلان کے قلعے کا محاصرہ کیا تو فاطمی خلیفہ کے حکم پر یہ سر مبارک وہاں سے نکال کر قاہرہ پہنچا دیا گیا — جہاں آج تک موجود ہے۔
سر مبارک کے جانے کے بعد بھی اس مقام کی رونق قائم تھی اور زائرین بدستور آتے رہے۔
مقام نبی حسین کی مکمل روئیداد اسی کتاب کے ایک دوسرے مضمون “قصہ حضرت امام حسین علیہ السلام کے سر کا” میں بڑی تفصیل سے موجود ہے۔
ابن شداد نے اپنی یادداشتوں میں لکھا ہے کہ عسقلان کی فتح کے بعد سلطان بھی مقام حسین کی زیارت کے لیے گیا اور اس سے ملحقہ مسجد میں دو نفل ادا کیے — وہ اس مسجد میں موجود اس منبر سے بہت متاثر تھا جو فاطمی خلافت کے وزیر اعظم بدر الجمالی نے وہاں رکھوایا تھا۔
٭ ٭ ٭
سورج گرہن ۔۔ جسے پادریوں نے رحمت الٰہی سمجھا ۔۔
سورج گرہن — جب پادری نے غلط شگون لیا
اب اس کی اگلی منزل یروشلم تھی — جس پر قبضے کے لیے وہ پچھلے بیس سال سے کوششیں کر رہا تھا۔ اسی دوران یروشلم شہر کے شرفاء کا ایک وفد اس سے عسقلان میں آ کر ملا — جس کی قیادت یروشلم کا بطریق اعظم ہراکلیوس کر رہا تھا۔
سلطان نے ان کے سامنے شرائط رکھیں — اگر وہ یروشلم بغیر جنگ کے اس کے حوالے کر دیں تو وہ تمام شہریوں کو جان، مال اور عزت کی امان دے گا۔ وہ جہاں جانا چاہیں اپنے مال و اسباب کے ساتھ جا سکیں گے۔ صلیبیوں کے مقدس مقامات کا احترام کیا جائے گا۔ صلیبی جب چاہیں مستقبل میں ان کی زیارت کے لیے آ سکیں گے۔
وفد نے یہ شرائط سنیں تو مشاورت کے لیے ایک دن کی مہلت مانگی اور ایک الگ خیمے میں بیٹھ کر ان شرائط پر غور و خوض کرنے لگے۔ اسی دوران دن کے وقت اندھیرا چھا گیا — سورج گرہن تھا۔ پہلے تو صلیبی ڈر گئے — لیکن پھر چند منٹ بعد سورج دوبارہ نکل آیا تو بڑے پادری ہراکلیوس نے کہا:
“اس وقت سورج گرہن کا ہونا تو ہمارے حق میں بڑا اچھا شگون ہے — اس کا مطلب یہ ہے کہ خداوند یسوع مسیح یروشلم کو ہمارے قبضے میں ہی رکھنا چاہتا ہے — اور یہ سورج گرہن اس کی طرف سے اشارہ ہے — اب مسلمان ہم سے کبھی یروشلم چھین نہیں سکیں گے!”
وفد کے باقی ارکان نے اس کی بات پر یقین کر لیا — اور جب وقفے کے بعد مذاکرات دوبارہ شروع ہوئے تو صلیبی وفد نے سلطان کی تمام شرائط مسترد کر دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ کبھی اس شہر کو مسلمانوں کے حوالے نہیں کریں گے جہاں ان کا مسیح ان کے لیے صلیب پر لٹک گیا تھا۔
سلطان نے جب یہ باتیں سنیں تو کہا:
“تو پھر ٹھیک ہے — اب اس شہر کا فیصلہ میری تلوار کرے گی۔”
یوں صلیبی وفد واپس لوٹ گیا — اور اس کے پیچھے پیچھے سلطان بھی نابلس اور رملہ کو فتح کرتا ہوا بالآخر بیس ستمبر گیارہ سو ستاسی عیسوی کی شام اپنے لشکر سمیت بیت المقدس کی دہلیز پر آن پہنچا۔
٭ ٭ ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
بیت المقدس کی دہلیز پر :
بیت المقدس کی دہلیز پر — جب سلطان نے ڈیرے ڈالے ۔۔
تو یہ وہ لمحہ تھا جس کا انتظار دنیا بھر کے مسلمان کئی دہائیوں سے کر رہے تھے۔
بیس ستمبر گیارہ سو ستاسی عیسوی کی شام — سلطان نے ہیروڈ گیٹ اور دمشقی دروازے کے سامنے پہنچ کر ڈیرے ڈال دیے۔ شہر کا محاصرہ ہو گیا۔
اس وقت تک ٹائر اور یروشلم کے علاوہ باقی ساری سلطنت یروشلم سلطان کے زیر نگیں آ چکی تھی — جیسے مکڑی کا جالا سمٹتے سمٹتے آخری دو دھاگوں پر آ کر رک گیا ہو۔
شہر کی صورت حال بہت دگرگوں تھی۔ شکست خوردہ اور مفتوحہ علاقوں سے لوگوں کا ایک جم غفیر یروشلم میں اس خیال سے جمع ہو چکا تھا کہ یہ شہر کبھی بھی مسلمانوں کے قبضے میں نہیں جا سکتا — کیونکہ “ورجن مریم” اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان کی مدد کو آئیں گے۔
ان میں سپاہی بہت کم اور عام لوگوں کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ ابن شداد کی یادداشتوں کے مطابق شہر میں ساٹھ ہزار پناہ گزینوں سمیت ستر ہزار سے ایک لاکھ کے قریب لوگ جمع ہو چکے تھے — شہر کی گلیوں اور بازاروں، میدانوں اور گرجوں میں ہر طرف ان مسیحی پناہ گزینوں نے ڈیرے ڈال رکھے تھے۔ تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی۔
لوگوں کے اس بے ہنگم ہجوم نے محصور شہریوں کی زندگیاں اور بھی مشکل بنا ڈالی تھیں — جو پہلے ہی خوراک اور پانی کی شدید قلت کا سامنا کر رہے تھے۔ یروشلم کے شہریوں نے سلطان سے لڑنے کا فیصلہ تو کر لیا تھا — لیکن ان کے پاس شہر کا دفاع کرنے کے لیے شہر کی فصیلوں کے علاوہ کچھ باقی نہ بچا تھا۔
ساری فوج تو جنگ حطین میں کام آ چکی تھی — جیسے کسی نے درخت کی جڑیں کاٹ دی ہوں اور پتے ہوا میں اکیلے کھڑے ہوں۔
٭ ٭ ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
ملکہ سبیلا کا یتیم شہر :
ملکہ سبیلا کا یتیم شہر — جس کا کوئی سپہ سالار نہ تھا ۔
جب سلطان کی رحمدلی اس کیلئے مصیبت بن گئی ۔
سلطنت یروشلم کا بادشاہ گئی لوزینیان اور ٹمپلرز کا گرینڈ ماسٹر جرارد رایدفورت دوسرے تمام معروف اور بڑے صلیبی کمانڈروں کے ساتھ جنگ حطین میں گرفتار ہو چکے تھے — جنہیں سلطان نے دمشق کے قید خانے میں ڈال دیا تھا۔ یروشلم میں موجود گئی کی بیوی اور یروشلم کی ملکہ سبیلا کے پاس کوئی قابل قدر فوجی کمانڈر موجود نہیں تھا جو سلطان کا مقابلہ کر سکتا۔
شہر میں گنتی کے چند محافظین تھے — باقی سب عام شہری تھے جنہیں جنگ کا کوئی تجربہ نہ تھا۔ ملکہ سبیلا یروشلم کے شہنشاہ بالڈون چہارم کی بہن اور بالڈون پنجم کی ماں تھی — وہی بالڈون چہارم جسے “جذامی بادشاہ” کہتے تھے —
جس نے کوڑھ کے مرض میں مبتلا ہونے کے باوجود سلطان صلاح الدین کو دو بار میدان جنگ میں شکست دی تھی — جس کی مکمل داستان اس کتاب کے ایک اور باب “صلیبی بادشاہوں کی آخری آرام گاہ” میں تفصیل سے بیان ہو چکی ہے۔
ولئیم آف ٹائر جو آٹھ سال تک بالڈون ون کا اتالیق رہا تھا اس نے بڑی تفصیل سے بالڈون چہارم کی بہادری اور جواں مردی کا تذکرہ کیا ہے۔
وہ لکھتا ہے کہ
“جب تک بالڈون زندہ رہا اس کا حوصلہ جوان رہا اس نے شدید بیماری اور اپاہجی کے باوجود یروشلم کا بھرپور دفاع کیا سلطان کی پیش قدمی کئی بار روکی کئی بار اسے شکست دی اور اسے کبھی یروشلم کی طرف بڑھنے نہ دیا ۔”
بالڈون چہارم گیارہ سو پچاسی عیسوی میں صرف چوبیس سال کی عمر میں فوت ہوا تھا —
اس نے کوڑھ کے مرض میں مبتلا ہونے کی وجہ سے شادی نہیں کی تھی لہٰذا اس کے بعد اس کا بھانجا بالڈون پنجم آٹھ سال کی عمر میں تخت پر بیٹھا لیکن اگلے ہی سال وہ بھی فوت ہو گیا۔
اسے بھی باقی تمام صلیبی بادشاہوں کے ساتھ کلیسائے مقبرہ مقدس میں دفن کیا گیا اور تاریخ کا ستم دیکھئیے کہ آج اس چرچ میں یروشلم کی صلیبی سلطنت کے اس سے سب سے چھوٹے اور سب سے مختصر عرصے کے لئے حکمران رہنے والے بادشاہ کی قبر ہی محفوظ ہے باقی تمام مقبرے امتداد زمانہ کی نذر ہو گئے ۔آج ان جگہ صرف کتبے لٹکے نظر آتے ہیں ۔
بالڈون پنجم کی موت کے بعد اس کی ماں سبیلا ملکہ بن گئی — اور اسی سبیلا نے ٹمپلرز نائیٹس کے سردار گئی لوزینیان سے دوسری شادی کی تھی — یوں گئی اپنی بیوی کے نام پر یروشلم میں حکومت کرنے لگا تھا۔
گئی میدان حطین میں گرفتار ہوا تو کسی بڑے کمانڈر کی موجودگی کے بغیر بظاہر یتیم نظر آنے والا یروشلم پلیٹ میں رکھا ہوا ترنوالہ محسوس ہوتا تھا — یوں لگتا تھا جیسے اب یروشلم کی فتح بس چند دنوں کی مار ہو۔ زمینی حقائق اور قرائن ایسے تھے کہ سلطان کی فتح یقینی نظر آتی تھی۔
لیکن یہاں سلطان کی رحمدلی ہی اس کے لیے مصیبت بن گئی۔
٭ ٭ ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
بیلین آف ابلین
بیلین آف ابلین — سلطان کا ایک قیدی ۔ جو یتیم یروشلم کی امید بن گیا ۔۔
سلطنت یروشلم کے علاقے جافا کی ایک طاقتور اور بڑی جاگیر ابلین — کا جاگیردار بیلین جو “بیلین آف ابلین” کہلاتا تھا — جنگ حطین میں شریک تھا اور گرفتار بھی ہوا تھا لیکن شکست کے بعد جب سلطان نے اسے رہا کیا تو وہ ٹائر چلا گیا۔
لیکن اس کے بیوی بچے یروشلم میں تھے — چنانچہ اس نے سلطان کی خدمت میں درخواست کی کہ اسے یروشلم آنے کی اجازت دی جائے تاکہ وہ اپنے بیوی بچوں کو وہاں سے نکال سکے۔
تقریباً تمام ہی تاریخ دان اس بات پر متفق ہیں کہ بیلین اور صلاح الدین ایوبی ایک دوسرے کو بہت اچھی طرح جانتے تھے — بلکہ ولیم آف ٹائر نے لکھا ہے کہ بیلین نے ایک دفعہ صلاح الدین ایوبی کی جان قزاقوں سے بچائی تھی جب وہ مصر میں اپنے چچا شیر کوہ کے لشکر میں ایک عام کمانڈر تھا۔
سلطان نے اس شرط پر اسے اجازت دی کہ وہ آئندہ مسلمانوں کے خلاف کسی جنگ کا حصہ نہیں بنے گا — اور صرف ایک رات یروشلم میں قیام کے بعد اپنے بیوی بچوں کو لے کر وہاں سے نکل جائے گا۔ سلطان نے اس کی بات پر بھروسہ کیا — کیونکہ اس زمانے میں شرفاء کا لفظ ہی معاہدہ ہوا کرتا تھا۔
٭ ٭ ٭
بلین کی عہد شکنی :
عہد شکنی — جب پادری نے گناہ معاف کر دیا
لیکن بیلین آف ابلین جب یروشلم پہنچا تو یروشلم کے بڑے پادری اور بطریق اعظم ہراکلیوس نے بیلین کو ورغلایا اور اسے یہ کہہ کر یروشلم کے دفاع کی ذمہ داری پر راضی کر لیا کہ وہ اسے سلطان سے کیے ہوئے وعدے سے آزاد کرتا ہے۔
ہراکلیوس کا کہنا تھا: “ایک کافر سے کیے ہوئے وعدے کو توڑنا چھوٹا گناہ ہے — لیکن کلیسا کی حفاظت سے منہ موڑنا بڑا گناہ ہے۔” اس نے بیلین کو یقین دلایا کہ وہ خداوند سے اس کی سفارش کرے گا اور اس وعدہ خلافی پر خداوند اس سے ناراض نہیں ہوگا — بلکہ اس کے سارے گناہ معاف کر دے گا۔
ایک پادری — جسے خدا کا نمائندہ سمجھا جاتا تھا — عہد شکنی کا فتویٰ جاری کر رہا تھا۔
بیلین اس کے بہکاوے میں آ گیا — اور اس نے سلطان کو پیغام بھیجا کہ شہر کے لوگوں اور بطریق اعظم کے اصرار پر وہ سلطان سے کیا ہوا اپنا عہد توڑ رہا ہے اور سلطان سے جنگ کرنے پر مجبور ہے — لیکن وہ اس کے بیوی بچوں کو ٹائر جانے کی اجازت دے۔
ابن شداد نے لکھتا ہے کہ “سلطان نے بہادر دشمن کی طرح اس کا یہ عذر بھی قبول کیا اور اس کا چیلنج بھی۔ بیلین کی بیوی ماریہ کومنین اور تین بچوں کو نہ صرف عزت سے اپنے پاس ٹھہرایا، انہیں کپڑے اور تحائف دیے بلکہ زاد راہ دینے کے ساتھ پچاس گھڑ سواروں کے دستے کی حفاظت میں ان کو ٹائر بھجوا دیا۔ لیکن اسے اپنی اس رحمدلی کی بہت بڑی قیمت چکانی پڑی۔”
٭ ٭ ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
بیلین کی واپسی
بیلین کی واپسی — جب یتیم شہر کو سپہ سالار مل گیا
بیوی بچوں کو ٹائر بھیجنے کے بعد بیلین نے بے فکر ہو کر یروشلم میں موجود فوجوں کی کمان سنبھال لی۔ وہ ایک بہت بہادر، جرات مند اور بڑی اچھی شہرت کا حامل کمانڈر تھا — فلسطین کی عیسائی دنیا میں اسے بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔
اس کی موجودگی میں یروشلم شہر جو پہلے صرف ایک دن کی مار محسوس ہوتا تھا اب ناقابل شکست لگنے لگا تھا — جیسے کسی مردہ جسم میں اچانک جان پڑ گئی ہو۔
الجزری نے لکھا ہے کہ: “بیلین کی موجودگی نے شہر کے عام لوگوں کے حوصلے اتنے بلند کر دیے کہ شہر کا ہر عام شہری بھی سپاہی اور سورما بن کر دفاع کے لیے جان لڑانے کے لیے تیار تھا — انہیں یقین ہو گیا کہ مقدس مریم نے یروشلم کی حفاظت کے لیے اسے بھیجا ہے۔”
ابن شداد اپنی ڈائری میں بیان کرتا ہے: “بیلین نے شہر کے ان عام شہریوں کو بھی سورما بنا دیا تھا جنہوں نے کبھی قصائی والی چھری بھی ہاتھ میں نہیں پکڑی تھی۔
لیکن ہمارا سب سے بڑا دشمن سورج تھا — جب وہ جبل زیتون کے پیچھے سے طلوع ہوتا تو بیلین ان شہریوں کے ساتھ حملہ آور ہوتا اور ہمارے سپاہیوں کی آنکھیں چڑھتے سورج کی تیز روشنی میں چندھیا جاتیں اور دفاع مشکل ہو جاتا۔
وہ تیزی سے آتے اور حملہ کر کے واپس چلے جاتے — اور باقی سارا دن ہمارے حملے کے دفاع میں گزار دیتے۔”
٭ ٭ ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
جبل زیتون پر پرچم
جبل زیتون پر پرچم — جب جشن ماتم میں بدلا
سلطان جب چار دن کے محاصرے اور ہر ممکن کوشش کے باوجود شہر فتح نہ کر سکا تو اس نے پچیس ستمبر کے دن شہر کی مغربی سمت سے محاصرہ اٹھا کر مشرقی جانب سے حملہ کرنے کا فیصلہ کیا — تاکہ چڑھتے سورج کی تیز روشنی سے نجات حاصل کی جا سکے — اور اسے یہ بھی خبر ملی تھی کہ مشرقی دیوار بہت کمزور ہے۔
شام کا وقت تھا — ڈوبتے سورج کی روشنی میں سلطان کی فوجوں کو محاصرہ ختم کر کے جاتا دیکھ کر شہر کے محصور لوگوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ وہ یہ سمجھے کہ سلطان مایوس ہو کر واپس جا رہا ہے۔ وہ ساری رات شہر کی گلیوں میں جشن مناتے رہے اور چرچوں میں خدا کا شکر ادا کرتے رہے — ساری رات کلیسائوں کی گھنٹیاں بجتی رہیں۔
لیکن چھبیس ستمبر کا سورج طلوع ہوا تو ان کی ساری خوشیاں ماتم میں بدل گئیں — جب انہوں نے مشرق سے نکلتے سورج کی روشنی میں سلطان کا خیمہ جبل زیتون پر نصب دیکھا۔ جس پر اس کا پرچم لہرا رہا تھا — اور اس سے آگے وادی کیدرون میں سلطان کی فوج اپنی منجنیقوں کے ساتھ حملے کے لیے تیار کھڑی تھی۔
رات کا جشن صبح کی ایک جھلک میں ماتم بن گیا — جیسے کسی نے شادی کی محفل میں اچانک مرسیہ پڑھنا شروع کر دیا ہو۔
ولیم آف ٹائر لکھتا ہے: “دونوں طرف خدا کے ماننے والے تھے۔ دونوں جیت کے لیے خدا سے مدد کے خواست گار تھے۔ ہم نے ساری رات چرچوں میں خدا سے مدد مانگنے میں گزاری تھی لیکن ہم سجدہ کرنا بھول گئے تھے — اور یوں لگتا تھا کہ اس دفعہ خدا سجدہ کرنے والوں کے ساتھ ہے اس لیے ہماری دعائیں قبول نہ ہوئیں۔
صلاح الدین کی فوجیں راتوں رات مغرب کی جانب سے پڑاؤ اٹھا کر مشرق میں جبل زیتون پر جا خیمہ زن ہوئیں — اور ہمیں سورج کا جو وقتی فائدہ حاصل تھا وہ جاتا رہا — اب چڑھتے سورج کا وہی فائدہ صلاح الدین اٹھانے جا رہا تھا۔”
ایک عیسائی مؤرخ کا اعتراف — “ہم سجدہ کرنا بھول گئے تھے” — اس سے زیادہ بے لاگ تبصرہ اس جنگ پر اور کیا ہو سکتا تھا۔
٭ ٭ ٭
دیوار میں شگاف
دیوار میں شگاف — جب تیرہ دن کی جنگ ہوئی
یہ جمعے کا دن تھا — اور سلطان نے ہمیشہ کی طرح اپنے اس نئے حملے کے لیے بھی جمعے کے دن کا ہی انتخاب کیا تھا۔ اب سلطان نے مشرقی دیوار کی جانب سے حملے شروع کر دیے — سلطان کو اپنی رحمدلی کی بڑی قیمت چکانی پڑ رہی تھی۔
نو دن کی شدید جنگ اور ہزاروں سپاہیوں کی جان کی قربانی دینے کے بعد دسویں دن یکم اکتوبر کو آخر کار اس کی منجنیقوں نے گولڈن گیٹ سے ملحقہ دیوار میں شگاف ڈال دیے — لیکن شہر کے لوگوں نے سلطان کی فوجوں کا شہر میں داخلہ روک دیا۔
اس شگاف پر اتنی گھمسان کی جنگ ہوئی کہ یہ علاقہ لاشوں سے پٹ گیا — دکانداروں اور کسانوں نے تلواروں اور نیزوں کا سامنا کیا — جیسے آخری سانس تک لڑنے کی قسم کھائی ہو۔
سارا دن مسلمان فوجیں شہر فتح کرنے کی کوشش کرتی رہیں۔ سورج ڈھلا تو سلطان نے جنگ بند کرنے کا حکم دیا — کیونکہ وہ دوسرے دن علی الصبح سورج کی روشنی میں دوبارہ بھرپور حملہ کرنا چاہتا تھا۔ دیوار میں پڑنے والے اس شگاف نے شہر کے محصور لوگوں اور بیلین کو یقین دلا دیا کہ اب وہ زیادہ دیر اس شہر کا دفاع نہیں کر پائیں گے۔
چنانچہ پو پھٹنے سے پہلے ہی بیلین اپنے چند سرداروں کے ساتھ صلح اور ہتھیار ڈالنے کی درخواست لے کر سلطان ایوبی کی خدمت میں حاضر ہو گیا۔ سلطان نے عزت کے ساتھ اپنے خیمے میں ان کا استقبال کیا — لیکن ساتھ ہی دیوار پر دوبارہ حملے کا حکم بھی دے دیا۔ شہر کے لوگوں نے پھر بھرپور دفاع کیا — دیوار پر قبضے کے لیے جاری اس جنگ کے دوران ہی مذاکرات بھی چلتے رہے۔
٭ ٭ ٭
بیلین کی دھمکی اور شہریوں کو امان :
بیلین کی دھمکی — جب مسجد اقصیٰ داؤ پر لگ گئی
آخر تیرہ دن کے محاصرے اور شدید لڑائی کے بعد سلطان اور بیلین آف ابلین کے درمیان ایک امن معاہدہ ہو ہی گیا — جس کی رو سے شہر کے تمام شہریوں کو تاوان کے عوض شہر چھوڑنے کی اجازت دے دی گئی — انہیں ان کی جان و مال اور عزت کی بھی امان دی گئی۔
ولیم آف ٹائر، ہیرلڈ لیمب، ولیم آف نیوبرگ، لین پول اور سٹیون رنسی مین سمیت تقریباً تمام ہی مغربی تاریخ دان متفق ہیں کہ سلطان شہریوں کو امان دینے کے لیے تیار نہیں تھا — لیکن بیلین آف ابلین نے اسے دھمکی دی کہ اگر شہریوں کو امان نہ دی گئی تو وہ پورے شہر کو تباہ کر دے گا —
مسجد اقصیٰ اور قبتہ صخرۃ کو ملیامیٹ کر دے گا — شہر کے پانچ ہزار مسلمانوں کو جنہیں اس نے یرغمال بنا رکھا تھا انہیں قتل کر دے گا — اور شہر کے لوگ اپنے بیوی بچوں اور عورتوں کو قتل کر کے ایوبی لشکر پر حملہ آور ہوں گے اور آخری سانس تک شہر کا دفاع کریں گے۔
لیکن ابن شداد، عماد الدین اصفہانی اور دیگر چشم دید گواہوں کے مطابق جب بیلین آف ابلین بطریق اعظم ہراکلیوس کے ہمراہ جبل زیتون پر سلطان کے خیمے میں مذاکرات کر رہا تھا اس وقت تک سلطان کے دستے دیوار میں ڈالے گئے شگاف کے ذریعے شہر میں داخل ہو کر شہر پر قبضہ کر چکے تھے —
اور شہریوں کو امان اس نے بیلین کی دھمکی کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنی روایتی رحمدلی کی بنا پر دی تھی۔ اور شہریوں کو جان و مال کی امان دینے کی پیشکش تو وہ عسقلان میں پادریوں کے اس وفد کو تین مہینے پہلے ہی کر چکا تھا جو اس سے ملنے گیا تھا اور اس پیشکش کو اس وقت یروشلم کے بطریق اعظم کے کہنے پر وفد نے ٹھکرا دیا تھا ۔۔
بہرحال وجہ کوئی بھی ہو — ایسی پرامن فتح چشم فلک نے پہلے نہیں دیکھی تھی۔
٭ ٭ ٭
فتح مکہ کا عکس
فتح مکہ کا عکس — جب خون کی ایک بوند بھی نہ گری
چرخ نیلی فام نے ایسی پرامن فتوحات بہت کم دیکھی تھیں
کہ شہر کے لوگ اپنا تمام مال و اسباب گھوڑا گاڑیوں، گدھوں اور اونٹوں پر لاد کر شہر سے اس طرح بحفاظت نکلے کہ کسی ایک بھی شخص کی جان نہ گئی — اور نہ ہی خون کی کوئی بوند زمین پر گری۔
فتح مکہ کے بعد یروشلم شہر کی فتح کے دو مناظر ہمیشہ کے لیے تاریخ کی کتابوں میں محفوظ ہو گئے — مسلمانوں نے یروشلم دو بار فتح کیا تھا اور دونوں بار کسی عام شہری کے خون کا ایک قطرہ بھی زمین پر نہ گرا تھا۔ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پہلی مرتبہ یروشلم فتح کیا تھا تو بھی ایسا ہی نظارہ تھا اور آج یروشلم کی دیواریں ایوبی عزم و ہمت کے سامنے مسمار ہوئی تھیں۔
تو ایکبار پھر فتح کی یاد تازہ ہو گئی تھی ۔۔ لیکن اٹھاسی سال پہلے جب صلیبیوں نے یروشلم فتح کیا تو بربریت اور درندگی کی وہ کہانیاں رقم کی تھیں کہ عیسائی مؤرخین بھی ان پر شرما جاتے ہیں۔ خود مغربی تاریخ نگاروں کے مطابق اس دن یروشلم کی گلیوں میں مسلمانوں کا اتنا خون بہا تھا کہ گھوڑوں کے ٹخنوں تک خون کی ندیاں بہہ رہی تھیں۔
ستر ہزار مسلمانوں کو قتل کیا گیا تھا۔ ننھے بچوں کے جسموں کو نیزوں کی انی پر پرو کر ان کی نمائش کی گئی تھی — حاملہ عورتوں کے پیٹ چاک کر کے غیر مولود بچوں کو پیروں اور گھوڑوں کی سموں تلے کچلا گیا تھا۔
اسی شہر نے آج یہ منظر بھی دیکھا کہ سلطان نے فدیہ لے کر تمام گرفتار شدگان کی رہائی کا حکم دیا — اور جو غریب فدیہ دینے کے قابل نہ تھے ان کا فدیہ خود ادا کر کے انہیں رہا کر دیا۔ ایک ہی شہر — دو فتوحات — اور دو بالکل مختلف کہانیاں — ایک خون سے لتھڑی ہوئی اور دوسری رحمت سے نہائی ہوئی۔
٭ ٭ ٭
بطریق اعظم ہراکلیوس کا فرار
ہراکلیوس کا فرار — جب پادری نے خدا کا مال لوٹا
سلطان کے حکم کے مطابق ہر عیسائی مرد دس اشرفی — دینار — عورت پانچ اشرفی اور بچہ ایک اشرفی زر فدیہ ادا کر کے شہر سے نکل سکتا تھا۔ یروشلم کے ہر شہری کو اختیار دیا گیا کہ اگر وہ یروشلم میں نہ رہنا چاہے تو جہاں جانا چاہے چلا جائے — اور جو جی چاہے ساتھ لے جائے۔
ابن شداد کی تحریر کے مطابق شہر سے نکلنے والے سب سے پہلے قافلے میں یروشلم کا بڑا پادری ہراکلیوس بھی تھا — وہی ہراکلیوس جس نے عسقلان میں سلطان کی امان کی پیشکش ٹھکرائی تھی ۔۔ بیلین کو عہد شکنی کا فتویٰ دیا تھا اور خدا کے نام پر گناہ معاف کرنے کا وعدہ کیا تھا۔
اس نے شہر کے سارے کلیسائوں سے سونے چاندی کے شمع دان، پیالے، فانوس اور دیگر قیمتی اشیاء کو اکٹھا کیا — اور انہیں گدھوں پر لاد کر شہر سے نکل گیا۔ اس سامان کی مالیت اتنی زیادہ تھی کہ کئی ہزار عیسائیوں کا زر فدیہ ادا کیا جا سکتا تھا — لیکن وہ صرف اپنے دس دینار دے کر شہر سے نکل گیا۔
ایک پادری جو خدا کے گھر کا مال لے کر بھاگ رہا تھا — اور خدا کے بندوں کو پیچھے قید میں چھوڑ رہا تھا۔
اسے اس قدر زیادہ قیمتی اشیاء اور مال و اسباب کے ساتھ جاتے دیکھ کر کچھ سالاروں نے سلطان کی توجہ اس طرف مبذول کروائی اور زور دیا کہ اسے روکا جائے — لیکن سلطان نے جواب دیا:
“میں زبان دے چکا ہوں — اگر اس نے فدیہ ادا کر دیا ہے تو اسے نہ روکا جائے۔”
ولیم آف ٹائر نے البتہ اس تاثر کی نفی کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ہراکلیوس نے اٹھارہ ہزار شہریوں کا زر فدیہ ادا کر کے انہیں رہا کروایا تھا۔ لیکن بیشتر مؤرخین ابن شداد کے بیان کو زیادہ مستند سمجھتے ہیں۔
٭ ٭ ٭
العادل کی چال
العادل کی چال — جب ایک ہزار غلام آزاد ہوئے
سلطان ایوبی نے زر فدیہ ادا کرنے کے لیے چالیس دن کی میعاد مقرر کی تھی۔ چالیس دن پورے ہو گئے تو ابھی بھی ہزاروں عیسائی شہر میں موجود تھے جو فدیہ ادا نہیں کر سکے تھے۔
اس پر سلطان کا بھائی العادل سلطان کے پاس آیا اور عرض کی:
“اس شہر کی فتح میں میرا بھی حصہ ہے — اس لیے اس کے عوض مجھے ایک ہزار عیسائی غلاموں کا انعام دیا جائے۔”
سلطان نے اسے ایک ہزار عیسائی بطور غلام دے دیے۔ العادل نے باب داؤد پر جا کر انہیں آزاد کر دیا — اور واپس آ کر سلطان سے کہا:
“میں نے وہ غلام آزاد کر دیے ہیں۔”
جس پر سلطان نے جواب دیا:
“میں جانتا تھا کہ تم ایسا ہی کرو گے — ورنہ میں تمہیں اتنے غلام کبھی نہ دیتا۔ اللہ تمہاری نیکی قبول کرے۔”
دو بھائی — ایک ہی خون — ایک ہی تربیت — اور ایک ہی رحمدلی۔ العادل نے جو چال چلی وہ سلطان سمجھ گیا تھا — لیکن اس نے روکا نہیں — کیونکہ دونوں کی منزل ایک تھی۔
یہ واقعات محض افسانے نہیں ہیں بلکہ وہ حقائق ہیں جو ابن شداد کے علاوہ تقریباً تمام مغربی اور مسلمان مؤرخین نے بھی بیان کئے ہیں ۔
٭ ٭ ٭
عیسائی عورتوں کا قافلہ
عیسائی عورتوں کا قافلہ — جب سلطان نے جیب سے پیسے دیے
ہیرلڈ لیمب نے بیان کیا ہے کہ “عیسائی عورتوں کا ایک گروہ سلطان کے پاس آیا۔ پتہ چلا کہ یہ ان صلیبی فوجیوں کی بیویاں، بیٹیاں اور بہنیں ہیں جو مارے گئے یا قید میں ہیں — اور ان کے پاس اپنی رہائی کے لیے دینے کو زر فدیہ نہیں ہے۔ سلطان نے نہ صرف سب کو رہا کر دیا بلکہ انہیں راہ سفر کے لیے اپنی جیب سے پیسے دے کر رخصت کیا۔”
مؤرخ جونیتھن فلپس نے سلطان صلاح الدین ایوبی کی زندگی پر اپنی کتاب “دی لائف اینڈ لیجنڈ آف سلطان صلاڈن” میں لکھا ہے: “یروشلم کے مسیحی شہریوں کو کچھ ایسا دیکھنے کو نہیں ملا جس کی وہ توقع کر رہے تھے۔مسلمانوں کے محاصرے کے دوران یروشلم کی خواتین نے اپنے بال کٹوا دیے تھے تاکہ وہ فاتح فوج کے سپاہیوں کی نظروں میں نہ آئیں۔”
لیکن فلپس آگے لکھتا ہے کہ
“فتح کے بعد سلطان صلاح الدین نے خاص طور پر عورتوں کے معاملے میں اپنی اسی رحمدلی کا مظاہرہ کیا جس کے لیے وہ مشہور تھے۔”
اس کے بعد سلطان نے عام حکم جاری کر دیا کہ تمام عیسائیوں کو جو شہر میں رہ گئے ہیں ان کا زر فدیہ معاف کر کے رہا کر دیا جائے۔ صرف صلیبیوں کے فوجی اور سورما ہی قید رہے — عام شہری سب آزاد ہوئے۔
فلپس یروشلم کی فتح کے بارے میں مزید لکھتا ہے: “سلطان صلاح الدین ایوبی نے ہر اس اندازے کو غلط ثابت کیا جو شاید ماضی میں اس شہر میں ہونے والے واقعات کی بنیاد پر قائم کیے گئے تھے — اور یہی وجہ ہے کہ اسی یورپ میں جہاں انہیں اپنے زمانے میں ‘خون کا پیاسا’ اور ‘شیطان کی اولاد’ کہا گیا تھا، وہاں بیسویں اور اکیسویں صدی میں ہیرو کا درجہ بھی دیا گیا۔”
اس دور میں یہ رواج عام تھا کہ مفتوحہ شہر کو فاتح فوج بری طرح لوٹ لیا کرتی تھی ۔ شہر میں تین روز تک لوٹ مار کرنے اور شہریوں کو غلام بنانے کا انہیں پورا پورا حق حاصل ہوتا تھا لیکن چشم فلک نے پہلی بار دیکھا کہ سلطان ایوبی کی فوج اور مسلمان تاجروں نے عیسائیوں کے گھروں کا سامان خریدا تاکہ وہ زرفدیہ دینے کے قابل ہو جائیں ۔ اس طرح وہ عیسائی بھی آزاد ہو گئے جو فدیہ دینے کے قابل نہیں تھے ۔
٭ ٭ ٭
ملکہ سبیلا کی رخصتی
ملکہ سبیلا کی رخصتی — جب آخری قافلہ نکلا
ولیئم آف ٹائر کی ڈائری میں درج ہے کہ
“شہر سے نکلنے والے آخری قافلے میں بیلین اور ملکہ سبیلا بھی شامل تھے — اس نے یروشلم کے خزانے سے ایک لاکھ اشرفیاں دے کر دس ہزار عیسائیوں کو آزاد کروایا تھا۔ سلطان نے نہ صرف ملکہ کو آزاد کر دیا بلکہ اسے اپنے خاوند گئی آف لوزینیان سے ملاقات کی اجازت بھی دے دی جو دمشق کے قید خانے میں قید تھا۔”
بارٹلیٹ نے اپنی کتاب “ڈاؤن فال آف دی کروسیڈر کنگڈم” میں ٹائر اور طرابلس کے صلیبی حکمرانوں پر شدید تنقید کی ہے —
کہ یروشلم سے نکلنے کے بعد جب یروشلم کے بے یار و مددگار شہری ٹائر پہنچے تو وہاں کے حکمران کونارڈ آف مونٹفریٹ نے صرف ان شہریوں کو ٹائر میں داخل ہونے کی اجازت دی جو جنگی خدمات سرانجام دے سکتے تھے —
باقی بوڑھے، عورتیں اور بچے مجبوراً دھکے کھاتے طرابلس پہنچے تو وہاں بھی انہیں قبول کرنے سے انکار کیا گیا — جس پر انطالیہ کی صلیبی ریاست نے انہیں پناہ دی ۔ اور کچھ بحری جہازوں پر بیٹھ کر اٹلی اور یورپ چلے گئے ۔ “
ایک مسلمان فاتح نے جنہیں عزت سے رخصت کیا تھا ان کے اپنے ہم مذہبوں نے انہیں دھتکار دیا۔
٭ ٭ ٭
شب معراج جب تاریخ دہرائی گئی ۔
شب معراج — جب نوے سال بعد اذان گونجی اور وہ سجدہ جو امر ہو گیا ۔
ابن شداد لکھتا ہے: “ستائیس رجب کی رات تھی اور جمعے کا دن تھا جب دو اکتوبر گیارہ سو ستاسی عیسوی کو بیلین آف ابلین نے ہتھیار ڈالے — تو سلطان کو بتایا گیا کہ آج ہی وہ مبارک گھڑی ہے جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس شہر میں تشریف لائے تھے۔
پہلے اس کا ارادہ چند روز کے بعد یروشلم میں داخلے کا تھا لیکن جب اسے پتہ چلا کہ آج کی رات شب معراج ہے تو اس نے اسی روز یروشلم میں داخلے کا فیصلہ کر لیا۔”
کیا یہ محض اتفاق تھا کہ یروشلم دو بار مسلمانوں کے ہاتھوں فتح ہوا اور دونوں بار یہ فتح اس مبارک گھڑی میں نصیب ہوئی جس دن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یروشلم تشریف لائے تھے؟ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ پہلی بار فتح یروشلم کے بعد شہر میں داخل ہوئے تو اس روز بھی رجب کی ستائیس تاریخ تھی۔ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے — لیکن اتنی خوبصورتی سے کم ہی۔
ایک طرف صلیبیوں کی قطاریں گدھوں، گھوڑوں اور گاڑیوں پر سامان و اسباب لادے باب داؤد اور دمشقی دروازے کے ذریعے مغرب کی جانب سے شہر سے باہر نکل کر طرابلس کی جانب رواں دواں تھیں — ان دروازوں پر شہر کے حکام ان سے زر فدیہ وصول کر کے انہیں باہر نکلنے کی اجازت دے رہے تھے —
اور دوسری طرف مشرق کی جانب سے سلطان اپنے فوجی دستوں کے ساتھ گولڈن گیٹ کے راستے شہر میں داخل ہوا اور سیدھا حرم شریف پہنچا۔
صلیبی ٹمپلرز نے مسجد عمر — مسجد اقصیٰ — کو اپنے گرینڈ ماسٹر کی رہائش گاہ میں تبدیل کر دیا تھا — اور پرانی زیر زمین مسجد اقصیٰ — مسجد مروان — میں اپنے گھوڑوں کا اصطبل اور گھوڑوں کی افزائش نسل کا مرکز بنا رکھا تھا۔ قبتہ صخرۃ میں ان کا مرکزی دفتر قائم تھا۔
حرم شریف کے احاطے اور فرش پر جگہ جگہ گھوڑوں کی لید پڑی تھی — اللہ کے گھر میں — جہاں انبیاء نے نماز پڑھی تھی — وہاں گھوڑوں کی لید اڑتی تھی ۔
سلطان یروشلم میں داخل ہوا اور سیدھا حرم شریف — ٹیمپل ماؤنٹ — پہنچا۔ جذبات کی شدت سے وہ مسجد کی دہلیز پر گھٹنوں کے بل جیسے گر پڑا — وہ دہلیز پر ہی سجدہ ریز ہو گیا۔ بہاؤ الدین ابن شداد اور احمد بیلی مصری کے مطابق سلطان ایوبی کے آنسو اس طرح بہہ رہے تھے کہ جیسے اس عظیم مسجد کی دہلیز دھل رہی ہو۔
پھر وہ اٹھا — اور اذان دینے لگا۔
نوے سال کے بعد یروشلم کی فضاؤں میں ایک بار پھر “اللہ اکبر” کی صدا گونج رہی تھی۔ یہی وہ مبارک جگہ تھی جہاں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ستائیس رجب کی رات کو انبیاء علیہم السلام کی امامت کروائی تھی۔
قبلہ اول میں پہلی اذان دینے کی سعادت حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے حصے میں آئی تھی — جب وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ فتح یروشلم کے موقع پر پہلی بار اسی گولڈن گیٹ کے راستے شہر میں داخل ہوئے — اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے درخواست کی کہ وہ اذان دیں۔
حضرت بلال رضی اللہ عنہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پردہ فرما جانے کے بعد سے اذان دینا چھوڑ چکے تھے — لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور دیگر حاضرین کے اصرار پر وہ کھڑے ہوئے اور اذان دینا شروع کی تو وقت جیسے رک سا گیا —
تمام لوگوں کی نگاہوں کے سامنے وہ منظر گھومنے لگا جب مسجد نبوی کے صحن میں صحابہ کی محفل سجی تھی، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رونق افزا تھے اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ مسجد نبوی کے چبوترے پر کھڑے اذان دے رہے تھے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ، حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ، حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سمیت تمام حاضرین مجلس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے تھے — کچھ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یاد تھی اور کچھ اس مبارک جگہ کی فتح کی خوشی۔
غم و خوشی کی ایسی ہی ملی جلی کیفیت آج صلاح الدین ایوبی پر بھی طاری تھی۔ اذان دیتے دیتے وہ بچوں کی طرح رونے لگا۔ اذان ختم ہوئی تو ایک بار پھر سجدے میں گر گیا۔
وہ ایک جذباتی ہیجان میں مبتلا تھا — اس کے ہمراہ آنے والے تمام کمانڈر اور حاضرین مجلس بھی کچھ اسی قسم کی جذباتی کیفیت سے گزر رہے تھے — وہ اس بچے کی طرح کبھی رو پڑتے تو کبھی ہنسنے لگتے جسے اچانک اس کا پسندیدہ کھلونا مل گیا تھا — جس کی زندگی کی سب سے بڑی خواہش اچانک پوری ہو گئی تھی۔
٭ ٭ ٭
نجم الدین کی وصیت
نجم الدین کی وصیت — جب باپ کا خواب پورا ہوا
ابن شداد نے بیان کیا ہے: “سلطان صلاح الدین ایوبی کو بیت المقدس کی بے حرمتی اور وہاں کے مسلمانوں پر ہونے والے وحشیانہ مظالم کی کہانی اس کے باپ نجم الدین ایوب نے بچپن میں کئی بار سنائی تھی۔ نجم الدین نے یہ داستان غم اپنے باپ سے سنی تھی — اور پھر یہ روئیداد سلطان ایوبی کے خون میں شامل ہو گئی تھی۔
اس نے قسم کھائی تھی کہ وہ بیت المقدس کو آزاد کروائے گا۔”
“آج جب وہ اس مقدس شہر کو فتح کرنے نکلا تھا تو اس کے دو نوجوان بیٹے الملک الافضل اور الملک الظاہر بھی اس کی فوج میں شامل تھے۔ بیت المقدس کی داستان جو اس نے اپنے باپ سے سنی تھی اس نے اپنے بیٹوں کو یوں سنائی تھی جیسے ایک قیمتی ورثہ ان کے حوالے کر رہا ہو۔
اس نے انہیں کہا تھا: ‘میرے عزیز بیٹو! تمہارا دادا کہا کرتا تھا کہ گردن اس روز اونچی کرنا جس روز مسجد اقصیٰ کو کفار سے آزاد کروا لو گے — اطمینان کی نیند اس روز سونا جس رات مسجد اقصیٰ میں فتح کے نفل پڑھ لو گے۔'”
تین نسلیں — ایک خواب — اور آج جب وہ خواب پورا ہو رہا تھا۔
تو تینوں باپ بیٹا گردن اونچی کرنے کی بجائے سجدے میں گرے ہوئے تھے ۔
٭ ٭ ٭
عرق گلاب سے غسل
عرق گلاب سے غسل — جب مسجد کی حیثیت بحال ہوئی
جمعہ کا دن ۔۔جب نور دین زنگی کی میراث مسجد کی زینت بنا ۔
بیت المقدس فتح ہوا اور مسجد آزاد ہوئی تو سلطان ایوبی نے سب سے پہلے مسجد اقصیٰ کی صفائی اور مرمت کروائی۔ ابن شداد کی یادداشتوں کے مطابق وہ خود سپاہیوں کے ساتھ اینٹیں اور گارا اٹھاتا رہا — اور ایسا کرتے ہوئے اکثر اس کی داڑھی آنسوؤں سے تر ہو جایا کرتی تھی۔
اس نے مسجد اقصیٰ اور قبتہ صخرۃ کو عرق گلاب سے دھلوا کر ان کی مسجد کی حیثیت بحال کی — اور ساری رات وہاں سجدہ ریز رہا۔
مسجد کی حالت بہت بری تھی۔ کئی مسلمان حکمرانوں نے وقتاً فوقتاً مسجد میں سونے چاندی کے فانوس اور شمع دان رکھوائے تھے اور بیش قیمت تحائف مسجد کی نذر کیے تھے۔ فرش پر سنگ مرمر کی سلیبیں لگوائی تھیں — صلیبی جاتے وقت یہ تمام فانوس، شمع دان اور قیمتی تحائف اٹھا کر لے گئے تھے۔ فرش سے سنگ مرمر اور خارا کی ساری سلیبیں بھی غائب تھیں۔
انیس اکتوبر گیارہ سو ستاسی عیسوی کو جمعے کا مبارک دن آیا تو سلطان ایوبی جمعے کی نماز کے لیے مسجد اقصیٰ گیا۔ اور وہ منبر جو نور الدین زنگی نے اپنی زندگی میں اس لیے بنوایا تھا کہ بیت المقدس کی فتح کے بعد اسے مسجد اقصیٰ میں رکھوائے گا — اسے اپنے ہاتھ سے مسجد میں رکھا۔
یہ منبر ایک روز پہلے ہی نور الدین زنگی کی بیوہ راضی خاتون اور بیٹی اقصیٰ النساء دمشق سے لائی تھیں — ایک عورت اور ایک بیٹی جنہوں نے اپنے شوہر اور باپ کا خواب پورا ہوتے دیکھا۔
جمعے کا خطبہ دمشق کے قاضی الفضل ابن ذکی نے پڑھایا — جن کا تعلق حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خاندان سے تھا۔
اس کے بعد اس نے مسجد اقصیٰ کی آرائش پر توجہ دی — سنگ مرمر منگوا کر فرش میں لگوایا، اندرونی ہال پر خوبصورت نقش و نگار بنوائے، پچی کاری کی گئی، قرآنی آیات نقش کروائی گئیں — اور مسجد کو جی بھر کر خوبصورت بنایا۔ اسی طرح قبتہ صخرۃ کے اندرونی ہال پر بھی خاص توجہ دی۔
سلطان ایوبی کے ہاتھوں ہوئی یہ آرائش اور زیبائش آج بھی ان دونوں عمارتوں میں دیکھی جا سکتی ہے — اور ہزار سال گزرنے کے باوجود ان کی خوبصورتی اور آب و تاب میں کوئی فرق نہیں آیا۔
سلطان ایوبی آج بھی ان عمارتوں کی صورت میں زندہ ہے — اور یہاں آنے والے زائرین کو ان عمارتوں کے ہر ہر نقش میں اس کا چہرہ نظر آتا ہے۔
٭ ٭ ٭
جلا ہوا منبر
جلا ہوا منبر — جسے ایک آسٹریلوی نے آگ لگائی
لیکن افسوس کہ اس کا رکھوایا ہوا وہ منبر جو تاریخ میں “سلطان ایوبی کا منبر” کے نام سے مشہور تھا — آج موجود نہیں۔ اکیس اگست انیس سو انہتر عیسوی میں ایک آسٹریلوی عیسائی روہن مائیکل ڈگلس نے یروشلم کے یہودیوں کے ساتھ مل کر اسے نذر آتش کر دیا — آٹھ سو سال پرانا شاہکار چند گھنٹوں میں راکھ ہو گیا۔
اس منبر کے جلے ہوئے باقیات مسجد اقصیٰ سے ملحقہ عجائب گھر میں موجود ہیں — اور اس منبر کی ایک نقل آج مسجد اقصیٰ کے ہال میں پڑی نظر آتی ہے جو پینتالیس سال کی شبانہ روز محنت کے بعد پچاس کاریگروں نے اردن کی ایک یونیورسٹی میں تیار کیا تھا۔ اس منبر کی مکمل روئیداد اس کتاب کے ایک اور باب میں تفصیل سے بیان ہو چکی ہے۔
٭ ٭ ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
حضرت عیسیٰ کا چرچ
حضرت عیسیٰ کا چرچ — جب سلطان نے اپنے نبی کا احترام کیا
فتح فلسطین کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مقدس چرچ — مزارِ اقدس — تین دن تک بند رہا۔ سلطان کو مشورہ دیا گیا کہ اسے گرا دیا جائے — لیکن اس نے جواب دیا:
“میرے لیے حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی بحیثیت نبی بڑے محترم ہیں — ان کی یادگار میں کیسے گرا سکتا ہوں۔”
اس نے عیسائیوں کو اپنی مذہبی عبادات ادا کرنے کی پوری اجازت دیتے ہوئے تیسرے دن اسے عبادت کے لیے کھول دیا۔ بارٹلیٹ نے لکھا ہے: “صلیبیوں نے قبطی ۔۔ یونانی آرتھوڈوکس اور حبشہ کے عیسائیوں پر یروشلم کے دروازے بند کر رکھے تھے — صلاح الدین نے انہیں بھی یروشلم آنے اور مقدس کلیسا میں عبادت کرنے کی اجازت دے دی۔”
ابو منشر اور سٹیون رنسی مین دونوں لکھتے ہیں کہ
“بزنطینی شہنشاہ آئزک دوم انجیلوس نے سلطان کو یروشلم کی فتح پر مبارک کا پیغام بھیجا اور درخواست کی کہ آرتھوڈوکس عیسائیوں کو یروشلم کی زیارت کی اجازت دی جائے — جس پر سلطان نے نہ صرف انہیں اجازت دی بلکہ قسطنطنیہ کے بطریق اعظم کو یروشلم میں عیسائیوں کے مذہبی معاملات کا انچارج بھی بنا دیا۔
ایک مسلمان فاتح — جو عیسائیوں کو ان کے مقدس مقامات واپس دے رہا ہے — جو ان عیسائی فرقوں کو بھی خوش آمدید کہہ رہا ہے جنہیں خود عیسائی صلیبیوں نے یروشلم سے نکال رکھا تھا — تاریخ میں ایسی مثال ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی۔
تاریخ کا باب جو امر ہو گیا ۔
تاریخ کا یہ باب — جو کبھی بند نہیں ہوا . سلطان صلاح الدین ایوبی کی اس تاریخی فتح کے بارے میں کچھ معلومات دو ہزار پانچ عیسوی میں ریلیز ہونے والی ہالی ووڈ کی مشہور فلم “کنگڈم آف ہیون” سے بھی ملتی ہیں. جس میں فتح بیت المقدس کے مناظر کو بڑے خوبصورت انداز میں فلمایا گیا ہے۔ گو کہ یہ فلم بنیادی طور پر بیلین آف ابلین کے کردار کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے بنائی گئی ہے اور وہی اس فلم کا ہیرو ہے — لیکن سلطان صلاح الدین کی شخصیت ویلن ہونے کے باوجود اپنی شرافت، دلیری اور جنگی مہارت کی بنا پر اس فلم میں بیلین پر غالب آ جاتی ہے۔ تاریخ کا یہ باب ہمیشہ سے ہی مغرب اور مشرق دونوں کے باسیوں کے مذہبی اور تاریخی ورثے میں انتہائی اہمیت کا حامل رہا ہے — اور رہے گا۔ کیونکہ یہ صرف ایک جنگ کی کہانی نہیں ہے — یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ طاقت اور رحمدلی ایک ساتھ ہو سکتی ہیں — کہ فتح اور شرافت ایک ہی سکے کے دو رخ ہو سکتے ہیں — اور کہ ایک ایسا زمانہ بھی تھا جب مسلمان فاتح کے ہاتھوں میں تلوار بھی تھی اور دل میں رحم بھی۔
پتہ نہیں کیوں ! آج دو اکتوبر ہےتو صلاح الدین بڑا یاد آرہا ہے
میرا قبلہ اول ۔۔ایک بار لہو لہان ہے
سنہری گنبد۔۔ ایک بار پھر سنگینوں کے سائے میں ہے
سرمئی گنبدوالی مسجد کی دہلیز ۔۔ ایک بار پھر کسی سجدے کی منتظر ہے۔
حرم شریف ۔ ماؤنٹ ٹمپل ۔۔ ایک بار کسی صلاح الدین کو پکار رہا ہے جوآکر اسے آزادی دلائے
یہ مضمون میری آنے والی کتاب “حتی النصر -حتی القدس : اہل وفا کی بستی کا سفر” میں شامل ہے .



تبصرہ لکھیے