ہوم << خواتین اور کاروبار، مواقع یا رکاوٹیں – مہر خان
600x314

خواتین اور کاروبار، مواقع یا رکاوٹیں – مہر خان

صبح کے دس بجے ہیں اورگھر کے کمرے میں میز پر کپڑے کے چند نمونے، موبائل فون اور آرڈرز کی ایک لمبی فہرست رکھی ہے۔ گھر کی باقی ذمہ داریاں ابھی ختم نہیں ہوئیں، لیکن ان سب کے درمیان ایک خاتون اپنے چھوٹے سے آن لائن کاروبار کے آرڈرز مکمل کرنے میں مصروف ہے۔ کچھ سال پہلے شاید اس کے لیے کاروبار شروع کرنے کا مطلب دکان کرائے پر لینا، سرمایہ جمع کرنا اور گھر سے باہر ایک الگ جگہ بنانا ہوتا لیکن آج وہ اپنے گھر سے ہی مصنوعات تیار کرکے سوشل میڈیا پر فروخت کر سکتی ہے۔

اس کے گاہک صرف اس کے محلے تک محدود نہیں، بلکہ شہر کے دوسرے علاقوں بلکہ دوسرے شہروں سے بھی ہو سکتے ہیں۔بظاہر یہ ایک چھوٹی سی کاروباری کہانی ہے، لیکن اس کے پیچھے پاکستان کی بہت سی خواتین کی ایک بڑی حقیقت چھپی ہوئی ہے۔ کاروبار شروع کرنے کے مواقع ضرور بڑھے ہیں، خاص طور پر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے خواتین کے لیے ایک نیا راستہ کھولا ہے، مگر کاروبار شروع کر لینا اور اسے مستقل طور پر چلانا دو مختلف باتیں ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ جب ایک پاکستانی خاتون کاروبار شروع کرنے کا فیصلہ کرتی ہے تو اسے راستے میں کن رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور کیا موجودہ معاشی نظام اسے آگے بڑھنے کے لیے کافی سہولت فراہم کرتا ہے؟

پاکستان میں خواتین کی معاشی شرکت کو سمجھنے کے لیے صرف یہ دیکھنا کافی نہیں کہ کتنی خواتین ملازمت یا کاروبار کر رہی ہیں۔ یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ جب ایک خاتون کاروبار شروع کرنا چاہتی ہے تو اس کے سامنے کون سی عملی رکاوٹیں موجود ہوتی ہیں۔
کیا اسے سرمایہ آسانی سے مل سکتا ہے؟
کیا اس کا بینک اکاؤنٹ ہے؟
کیا وہ اپنی مصنوعات کو بڑی مارکیٹ تک پہنچا سکتی ہے؟
کیا اسے محفوظ نقل و حرکت حاصل ہے؟
اور کیا کاروباری فیصلے کرنے کے لیے اسے وہی آزادی حاصل ہے جو ایک مرد کو حاصل ہوتی ہے؟

ورلڈ بینک کی پاکستان میں خواتین کی معاشی خودمختاری سے متعلق رپورٹ کے مطابق ملک میں اندازاً 47 ملین خواتین لیبر فورس سے باہر ہیں جبکہ 55 ملین خواتین بینکنگ نظام سے منسلک نہیں۔ رپورٹ میں خواتین کے معاشی مواقع کو متاثر کرنے والی رکاوٹوں میں مالی وسائل، مارکیٹ تک رسائی، اثاثوں کی ملکیت، نقل و حرکت اور سماجی رویوں سمیت کئی عوامل کی نشاندہی کی گئی ہے۔یہ اعداد اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ مسئلہ صرف مواقع کی کمی نہیں بلکہ ان مواقع تک رسائی کا بھی ہے۔ ایک خاتون میں کاروباری صلاحیت، اچھی مصنوعات اور اسے آگے بڑھانے کی خواہش موجود ہو سکتی ہے، لیکن اگر اس کے پاس سرمایہ نہ ہو یا وہ مالی نظام سے منسلک نہ ہو تو اس صلاحیت کو کاروبار میں تبدیل کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ خواتین کے لیے کاروبار شروع کرنا اور اسے بڑھانا دو الگ مرحلے ہیں۔ ایک چھوٹا کاروبار محدود وسائل کے ساتھ شروع کیا جا سکتا ہے، لیکن جب اسے بڑھانے کی ضرورت پڑتی ہے تو سرمایہ، بہتر آلات، ملازمین، خام مال اور نئی مارکیٹوں تک رسائی کی ضرورت بھی بڑھتی ہے۔

ورلڈ بینک کی تحقیق کے مطابق خواتین کی ملکیت والے کاروباروں کی ترقی میں مالی وسائل کے ساتھ ساتھ کاروباری مہارت، نیٹ ورکس، ٹیکنالوجی اور مارکیٹ تک رسائی بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔پاکستان میں مالی رسائی کا فرق اس مسئلے کو مزید واضح کرتا ہے۔ ورلڈ بینک کی 2025 کی ایک رپورٹ کے مطابق ملک میں تقریباً 5.6 ملین خواتین کاروباری سرگرمیوں کے لیے مائیکروفنانس استعمال کر رہی تھیں، لیکن بالغ خواتین میں فعال بینک اکاؤنٹس رکھنے کی شرح 18 فیصد تھی، جبکہ مردوں میں یہی شرح 51 فیصد تھی۔اس فرق کو صرف بینک اکاؤنٹ کا مسئلہ سمجھنا کافی نہیں۔ مالیاتی نظام سے جڑنے کا مطلب قرض یا اکاؤنٹ حاصل کرنا ہی نہیں بلکہ اس نظام کو سمجھنا اور استعمال کرنا بھی ہے۔ ایک خاتون کے لیے یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ کاروبار کے لیے سرمایہ کہاں سے حاصل کیا جا سکتا ہے، قرض کی شرائط کیا ہیں، ڈیجیٹل ادائیگی کیسے کی جاتی ہے اور کاروباری آمدنی اور ذاتی آمدنی کو کس طرح الگ رکھا جائے۔ اس لیے خواتین کی مالی شمولیت کے ساتھ مالی تعلیم بھی اتنی ہی اہم ہے۔

کاروبار کے راستے میں نقل و حرکت بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ کاروبار صرف گھر میں بیٹھ کر مصنوعات تیار کرنے کا نام نہیں۔ سپلائرز سے ملاقات، مارکیٹ کا جائزہ، بینک یا سرکاری اداروں کے چکر، صارفین سے رابطہ اور کاروباری نیٹ ورک بنانا بھی اس کا حصہ ہیں۔ اگر ایک خاتون کے لیے محفوظ اور قابلِ اعتماد سفر آسانی سے دستیاب نہ ہو تو اس کی کاروباری سرگرمی گھر یا محدود علاقے تک رہ سکتی ہے۔ کراچی کے حوالے سے ورلڈ بینک کی تحقیق میں بھی خواتین کی معاشی شرکت اور محفوظ نقل و حرکت کے درمیان تعلق کی نشاندہی کی گئی ہے۔اس کے ساتھ گھر کی ذمہ داریاں بھی اکثر خواتین کے کاروباری سفر کا حصہ بن جاتی ہیں۔ ایک عورت کاروبار شروع کرنے کے بعد بھی گھر، بچوں اور خاندان کی ذمہ داریوں سے الگ نہیں ہو جاتی۔ نتیجتاً اس کے کاروبار کے لیے دستیاب وقت محدود ہو سکتا ہے۔ یہ مسئلہ اس وقت مزید نمایاں ہو جاتا ہے جب کاروبار کو بڑھانے کے لیے زیادہ وقت گھر سے باہر گزارنے یا غیر معمولی اوقات میں کام کرنے کی ضرورت پڑے۔

تاہم پاکستان میں خواتین کے لیے مواقع کے دروازے مکمل طور پر بند نہیں ہیں۔ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے چھوٹے کاروبار شروع کرنے کا طریقہ کسی حد تک بدل دیا ہے۔ آج ایک خاتون کو اپنا کاروبار شروع کرنے کے لیے لازماً دکان کرائے پر لینے یا بڑے دفتر کی ضرورت نہیں۔ وہ گھر سے مصنوعات تیار کرکے سوشل میڈیا کے ذریعے صارفین تک پہنچ سکتی ہے، آن لائن آرڈر لے سکتی ہے اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کے ذریعے کاروبار چلا سکتی ہے۔لیکن ڈیجیٹل کاروبار کو بھی مکمل حل سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ انٹرنیٹ اور اسمارٹ فون تک رسائی کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل مارکیٹنگ، آن لائن ادائیگیوں، صارفین کے اعتماد اور سائبر سیفٹی کی سمجھ بھی ضروری ہے۔ اس کے علاوہ آن لائن کاروبار کی کامیابی کے لیے صرف اچھی پروڈکٹ کافی نہیں؛ اسے مستقل طور پر مارکیٹ کرنے، صارفین سے رابطہ رکھنے اور بڑھتے ہوئے مقابلے میں اپنی جگہ بنانے کی صلاحیت بھی درکار ہوتی ہے۔خواتین کی کاروباری سرگرمیوں کی ایک اور اہم حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے بہت سا کام غیر رسمی معیشت کا حصہ رہتا ہے۔

گھر سے چلنے والے کاروبار اکثر باقاعدہ رجسٹریشن، ٹیکس نظام اور رسمی مالیاتی سہولیات سے باہر ہوتے ہیں۔ اس صورت میں کاروبار چل تو سکتا ہے، لیکن اسے بڑے پیمانے پر بڑھانا، قرض حاصل کرنا یا نئے کاروباری مواقع تک پہنچنا مشکل ہو سکتا ہے۔اس کے باوجود خواتین کی کاروباری موجودگی کو اب مکمل طور پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں 1.6 ملین سے زیادہ خواتین نے اپنی آمدنی میں کاروباری آمدن ظاہر کی۔ اسی طرح خواتین کی نمایاں شمولیت رکھنے والی کمپنیوں اور کاروباری اداروں کی تعداد بھی ہزاروں میں ہے۔یہ اعداد ایک اہم بات سامنے لاتے ہیں: پاکستانی خواتین کاروبار کر رہی ہیں، لیکن ان کے کاروبار کی صلاحیت اور ان کے لیے دستیاب نظام کے درمیان اب بھی ایک فاصلہ موجود ہے۔اس فاصلے کو کم کرنے کے لیے صرف قرض فراہم کرنا کافی نہیں ہوگا۔ خواتین کو کاروباری تربیت، مالی تعلیم، ڈیجیٹل مہارت، مارکیٹ تک رسائی اور ایسے نیٹ ورکس کی ضرورت ہے جہاں وہ تجربہ رکھنے والے کاروباری افراد سے سیکھ سکیں۔ اسی طرح کاروبار کی رجسٹریشن اور سرکاری طریقہ کار کو آسان بنانا بھی ضروری ہے تاکہ ایک چھوٹا کاروبار رسمی معیشت کا حصہ بننے کے عمل میں غیر ضروری رکاوٹوں کا شکار نہ ہو۔

آخرکار خواتین کی کاروباری شرکت کو صرف خواتین کے مسئلے کے طور پر دیکھنا محدود سوچ ہوگی۔ جب ایک عورت اپنا کاروبار قائم کرتی ہے تو اس کا اثر صرف اس کی ذاتی آمدنی تک محدود نہیں رہتا۔ اس کاروبار کے ذریعے دوسرے لوگوں کے لیے روزگار پیدا ہو سکتا ہے، خاندان کی مالی صورتحال بہتر ہو سکتی ہے اور ایک عورت کو اپنے معاشی فیصلوں میں زیادہ خودمختاری مل سکتی ہے۔ پاکستان میں خواتین کو کاروبار شروع کرنے کے لیے حوصلہ ضرور دیا جا رہا ہے، مگر حوصلہ افزائی اس وقت حقیقی معاشی موقع بنتی ہے جب اس کے ساتھ سرمایہ، معلومات، محفوظ نقل و حرکت، مارکیٹ اور فیصلہ سازی کی گنجائش بھی موجود ہو۔ خواتین کاروبار شروع کر رہی ہیں؛ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کے لیے صرف کاروبار شروع کرنے کا نہیں، اسے قائم رکھنے اور آگے بڑھانے کا راستہ بھی آسان بنایا جائے۔

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

ویب ڈیسک

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment