ہوم << جوتی میں پانی – محمد شفیق اعوان
600x314

جوتی میں پانی – محمد شفیق اعوان

گھر چھوٹا تھا، مگر اس کے صحن میں ایک بڑا سا نیم کا درخت تھا۔
بوڑھا نیم!
جس نے جانے کتنی گرمیوں کی تپش سہی تھی، کتنی برساتیں دیکھی تھیں اور کتنی سردیوں کی دھند اپنے پتوں پر برداشت کی تھی۔ اس کی شاخوں پر پرندے گھونسلے بناتے، بچے اس کے نیچے کھیلتے اور دوپہر کے وقت اس کی چھاؤں میں بیٹھ کر محلّے کی عورتیں دُکھ سُکھ کی باتیں کرتیں۔

مگر اس گھر کے اندر ایک ایسی گرمی تھی جسے نیم کی چھاؤں بھی ٹھنڈا نہ کر سکتی تھی۔
اس گھر میں جمیل رہتا تھا۔
جمیل ایک محنت کش آدمی تھا۔ صبح سویرے اُٹھتا، مزدوری کے لیے نکل جاتا اور شام کو تھکے ہوئے قدموں سے گھر لوٹتا۔ اس کی زندگی کا سب سے بڑا خواب یہی تھا کہ اس کا چھوٹا سا گھر سکون کا آشیانہ بنا رہے۔
اس نے سلیمہ سے شادی بڑی منت سماجت کے بعد کی تھی۔ سلیمہ سادہ، نرم مزاج اور صابر لڑکی تھی۔ اس کے چہرے پر ایک ایسی خاموش مسکراہٹ رہتی تھی جو بولے بغیر بھی بہت کچھ کہہ دیتی تھی۔

شادی کے ابتدائی دن واقعی بہار جیسے تھے۔ ایک دن جمیل مزدوری سے واپس آیا تو سلیمہ نے پانی کا گلاس اس کے سامنے رکھا۔
’’تھک گئے ہوں گے؟‘‘
جمیل نے گلاس لیا اور مسکرا کر بولا: ’’تھکن تو تھی، مگر تمہیں دیکھ کر آدھی رہ گئی۔‘‘
سلیمہ ہنس دی۔ ’’تو پھر باقی آدھی بھی کھانا کھا کر ختم کر دیجیے۔‘‘
جمیل نے کہا: ’’تم گھر کو گھر بنا دیتی ہو، سلیمہ!‘‘سلیمہ نے نظریں جھکا لیں۔

اسے کیا خبر تھی کہ اسی گھر کی دیواروں کے اندر کچھ ہی عرصے بعد اس کی ہنسی کا گلا گھونٹ دیا جائے گا۔
جمیل کی ماں، زبیدہ بیگم، عمر رسیدہ تھیں۔ شروع میں انہوں نے سلیمہ کو محبت سے رکھا، مگر آہستہ آہستہ ان کے دل میں نہ جانے کون سا کانٹا اُگ آیا۔
بات بات پر ناراضی۔ چھوٹی چھوٹی غلطیوں پر ڈانٹ۔ کام میں کمی کا شکوہ۔ اور پھر وہ الفاظ جو تیر کی طرح دل میں اتر جاتے۔
’’تمہیں اپنے میکے میں کچھ سکھایا بھی گیا تھا یا نہیں؟‘‘سلیمہ خاموش رہتی۔
’’میں نے تو ایسی بہو کبھی نہیں دیکھی!‘‘
سلیمہ پھر خاموش رہتی۔
’’جو کام کہو، وہ بھی پورا نہیں ہوتا۔‘‘

وہ اپنا آنسو پونچھتی اور دوبارہ کام میں لگ جاتی
ایک دن جمیل نے پوچھا: ’’سلیمہ! تم کچھ پریشان لگتی ہو؟‘‘
وہ کچھ دیر خاموش رہی۔ پھر بولی: ’’کچھ نہیں۔‘‘
’’کچھ تو ہے۔‘‘
سلیمہ نے آہستہ سے کہا: ’’امّاں مجھ سے ناراض رہتی ہیں۔‘‘
جمیل نے گہری سانس لی۔ ’’میں امّاں سے بات کروں گا۔‘‘

سلیمہ فوراً بولی: ’’نہیں! آپ ان سے کچھ نہ کہیں۔ وہ آپ کی ماں ہیں۔‘‘
’’لیکن تم میری بیوی بھی ہو۔‘‘
سلیمہ نے مسکرا کر کہا: ’’بیوی ہونے سے پہلے میں انسان ہوں، اور انسان کو کبھی کبھی برداشت بھی کرنا پڑتا ہے۔‘‘
جمیل نے اس کی طرف دیکھا۔ وہ کچھ کہنا چاہتا تھا، مگر خاموش ہوگیا۔
اس کے بعد سلیمہ نے شکایت کرنا بھی چھوڑ دی۔
جمیل گھر میں ہوتا تو زبیدہ بیگم کا لہجہ نرم رہتا۔

’’بیٹی! ذرا چائے بنا دو۔‘‘
’’جی امّاں۔‘‘
لیکن جمیل کے باہر نکلتے ہی لہجہ بدل جاتا۔
’’ابھی تک برتن نہیں دھوئے؟‘‘
’’امّاں! ابھی تو—‘‘
’’خاموش! جواب نہ دو۔‘‘

سلیمہ خاموش ہو جاتی۔
گھر میں ایک عجیب سا دستور بن گیا تھا۔ جمیل کی موجودگی میں مسکراہٹ، جمیل کی غیر موجودگی میں اذیت۔پڑوس کی سکینہ یہ سب دیکھتی تھی۔ ایک دن اس نے سلیمہ سے کہا:
’’بیٹی! تم اتنا ظلم کیوں سہتی ہو؟‘‘سلیمہ نے نیم کے درخت کی طرف دیکھا۔
’’خالہ! نیم کا درخت کبھی کسی کو سایہ دینے سے پہلے یہ نہیں پوچھتا کہ سامنے والا اچھا ہے یا بُرا۔‘‘
سکینہ نے حیرت سے اسے دیکھا۔ ’’تو کیا تم بھی نیم بن جاؤ گی؟‘‘
سلیمہ ہلکا سا مسکرائی۔ ’’نہیں خالہ، میں صرف یہ چاہتی ہوں کہ میرے ہاتھ سے کسی کو سایہ ضرور ملے، دھوپ نہیں۔‘‘
سکینہ خاموش ہوگئی۔

پھر وہ دن آیا جس نے اس گھر کی تقدیر بدل دی۔
دوپہر کا وقت تھا۔ جمیل مزدوری کے لیے گیا ہوا تھا۔ سورج آگ برسا رہا تھا۔ سلیمہ صبح سے گھر کے کام میں لگی ہوئی تھی۔
زبیدہ بیگم نے اسے آواز دی: ’’سلیمہ!‘‘
’’جی امّاں؟‘‘
’’ادھر آؤ۔‘‘
سلیمہ قریب آگئی۔ زبیدہ بیگم نے اپنے پاؤں سے جوتی اتاری۔ سلیمہ حیرت سے دیکھتی رہی۔ پھر زبیدہ بیگم نے جوتی میں پانی ڈالا۔

’’یہ لو! پیو۔‘‘
سلیمہ کے چہرے کا رنگ اُڑ گیا۔
’’امّاں! یہ کیا ہے؟‘‘
’’جو کہا ہے، کرو!‘‘
سلیمہ نے جوتی کی طرف دیکھا۔ پانی میں اسے اپنا چہرہ نظر آیا۔ وہ چہرہ جس پر کئی دنوں کی تھکن تھی۔ وہ آنکھیں جن میں کئی راتوں کے آنسو تھے۔ اور وہ ہونٹ جنہوں نے کبھی شکایت نہیں کی تھیاسی لمحے دروازے پر سکینہ نمودار ہوئی۔ وہ ایک قدم اندر آئی، پھر رُک گئی۔

’’یا اللہ! یہ کیا ہو رہا ہے؟‘‘
زبیدہ بیگم نے غصے سے کہا: ’’تم اپنے کام سے کام رکھو۔‘‘
سلیمہ نے آسمان کی طرف دیکھا۔ بادل کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا سورج کے سامنے سے گزرا۔ چند لمحوں کے لیے صحن پر سایہ ہوگیا۔
سلیمہ کے لب ہلے: ’’یا اللہ! تُو دیکھ رہا ہے نا؟‘‘ اس کی آواز ٹوٹ گئی۔ ’’میں نے کسی کا حق نہیں مارا، کسی کو دکھ نہیں دیا۔ اگر مجھ سے کوئی غلطی ہوئی ہے تو مجھے معاف فرما، لیکن اگر میں مظلوم ہوں تو مجھ پر رحم فرما۔ مجھے اس ظلم سے نجات دے۔‘‘
سکینہ کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔

اس نے کہا: ’’باجی! بس کریں۔ اللہ سے ڈریں۔‘‘
مگر زبیدہ بیگم کے دل پر جیسے غصّے کا پردہ پڑا ہوا تھا۔ انہوں نے جوتی اٹھائی۔ سلیمہ نے آنکھیں بند کرلیں۔
اچانک— جوتی ہاتھ سے چھوٹ گئی۔ زبیدہ بیگم کا جسم لڑکھڑایا۔
’’آہ!‘وہ ایک طرف گرنے لگیں۔
سلیمہ نے آگے بڑھ کر انہیں تھام لیا۔
’’امّاں!‘‘

زبیدہ بیگم کا چہرہ ایک طرف کو کھنچ گیا تھا۔ زبان ساتھ نہیں دے رہی تھی۔ وہ کچھ کہنا چاہتی تھیں، مگر الفاظ ٹوٹ ٹوٹ کر نکل رہے تھے۔
سکینہ چیخ اٹھی: ’’جلدی کرو! انہیں چارپائی پر لٹاؤ!‘‘
سلیمہ نے اسی ہاتھ سے انہیں اٹھایا جس ہاتھ پر کبھی زبیدہ بیگم نے غصے سے ہاتھ مارا تھا۔ وہی بہو جسے ابھی چند لمحے پہلے ذلیل کیا گیا تھا، اب اسی ظالم عورت کا سہارا بنی ہوئی تھی۔ہسپتال میں ڈاکٹر نے بتایا کہ انہیں فالج کا حملہ ہوا ہے۔ کئی دن زبیدہ بیگم ہسپتال میں رہیں۔
جمیل ہر وقت پریشان رہتا۔ ایک رات اس نے سلیمہ سے کہا: ’’تمہیں امّاں سے بہت تکلیف ملی، پھر بھی تم ان کی خدمت کر رہی ہو۔ کیوں؟‘‘
سلیمہ نے کہا: ’’کیونکہ میں نہیں چاہتی کہ ان کا ظلم میرے دل میں بھی ظلم پیدا کردے۔‘‘
جمیل خاموش ہوگیا۔

سلیمہ نے مزید کہا: ’’اگر میں بھی ان کے ساتھ وہی کروں جو انہوں نے میرے ساتھ کیا تو پھر فرق کیا رہ جائے گا؟‘‘
جمیل کی آنکھیں نم ہوگئیں۔
کچھ دن بعد ڈاکٹر نے کہا: ’’اب انہیں گھر لے جائیں۔ دوائیں وقت پر دیتے رہیں۔ آہستہ آہستہ صحت بہتر ہو جائے گی۔‘‘
گھر میں پھر ایک چارپائی بچھا دی گئی۔ مگر اس مرتبہ اس چارپائی پر وہ عورت لیٹی تھی جو کبھی پورے گھر کو اپنے حکم سے چلاتی تھی۔
سلیمہ اس کے پاس بیٹھتی۔ دوائی دیتی۔ کھانا کھلاتی۔ رات کو اٹھ کر پانی پلاتی۔
ایک رات زبیدہ بیگم نے آنکھیں کھولیں۔

’’سلیمہ!‘‘
’’جی امّاں؟‘‘
’’تم یہاں ہو؟‘‘
’’جی۔‘‘
’’تم مجھ سے بدلہ کیوں نہیں لیتیں؟‘‘

سلیمہ نے چونک کر ان کی طرف دیکھا۔ زبیدہ بیگم رو رہی تھیں۔
’’میں نے تمہیں بہت ستایا ہے۔‘‘
سلیمہ نے آہستہ سے ان کا ہاتھ پکڑ لیا۔
’’امّاں! ظلم کا بدلہ ظلم سے لینے والے بہت ہیں، میں آپ کو معاف کرکے اپنے رب کو راضی کرنا چاہتی ہوں۔‘‘
زبیدہ بیگم نے آنکھیں بند کرلیں۔
آنسو ان کے گالوں پر بہتے رہے۔
’’بیٹی! مجھے معاف کردو۔‘‘

سلیمہ نے ان کا ہاتھ اپنے ماتھے سے لگا لیا۔
’’آپ میری ماں ہیں۔‘‘
’’میں ماں بننے کے قابل نہ تھی۔‘‘
’’ماں بننے کے لیے خون کا رشتہ نہیں، دل چاہیے۔ آج آپ نے اپنا دل بدل لیا ہے۔‘‘
زبیدہ بیگم پھوٹ پھوٹ کر رونے لگیں۔
وقت گزرتا گیا۔ زبیدہ بیگم صحت یاب ہونے لگیں۔ اب ان کے لہجے میں حکم نہیں، محبت تھی۔

’’سلیمہ بیٹی! ذرا میرے پاس بیٹھو۔‘‘
’’جی امّاں۔‘‘
’’آج بہت تھک گئی ہو۔‘‘
’’نہیں امّاں۔‘‘
’’جھوٹ نہ بولو۔ میں اب تمہاری تھکن پہچانتی ہوں۔‘‘
سلیمہ مسکرا دی۔

نیم کا درخت بھی جیسے مسکرا رہا تھا۔ اس کی شاخوں پر نئی کونپلیں پھوٹ رہی تھیں۔
ایک دن زبیدہ بیگم نے سلیمہ کو پانی کا گلاس دیا۔
’’بیٹی! پانی پی لو۔‘‘
سلیمہ نے گلاس لیا۔ اس کے ہاتھ ایک لمحے کے لیے رُک گئے۔ پانی صاف تھا۔ شفاف۔ جیسے دل صاف ہو جائے تو دنیا بھی صاف دکھائی دینے لگتی ہے۔
زبیدہ بیگم نے کہا: ’’بیٹی! مجھے اُس دن کا پانی یاد ہے۔‘‘
سلیمہ خاموش رہی۔
’’وہ پانی میری زندگی کا سب سے گندا پانی تھا۔‘‘

سلیمہ نے ان کی طرف دیکھا۔
زبیدہ بیگم نے کہا: ’’اور آج یہ پانی تمہارے ہاتھ میں دے کر مجھے لگتا ہے کہ اللہ نے مجھے دوسرا موقع دیا ہے۔‘‘
سلیمہ نے گلاس ان کے ہاتھ میں واپس دے دیا۔
’’امّاں! پانی گندا یا صاف نہیں ہوتا، نیت گندی یا صاف ہوتی ہے۔‘‘
زبیدہ بیگم نے کہا: ’’اور تم نے میری گندی نیت کو اپنی نیکی سے دھو دیا۔‘‘
اس دن کے بعد اس گھر میں ایک نیا دستور بن گیا۔ صبح دعاؤں سے ہوتی۔ شام شکر سے۔ بات محبت سے شروع ہوتی اور مسکراہٹ پر ختم۔

جمیل جب گھر آتا تو اسے محسوس ہوتا جیسے گھر کی دیواروں نے بھی سکون کا لباس پہن لیا ہو۔
ایک دن اس نے ماں سے کہا: ’’امّاں! آپ بہت بدل گئی ہیں۔‘‘
زبیدہ بیگم نے مسکرا کر کہا: ’’نہیں بیٹا، میں نہیں بدلی، تیری بیوی نے مجھے بدل دیا ہے۔‘‘
سلیمہ نے فوراً کہا: ’’نہیں امّاں، مجھے بھی اللہ نے بدلنے سے بچایا ہے۔‘‘
تینوں ہنس پڑے۔
نیم کے درخت سے ایک پتا ٹوٹ کر زمین پر گرا۔ شاید وہ بھی اس گھر کی کہانی سن چکا تھا۔کئی سال بعد جب محلے کی عورتیں سلیمہ کے پاس بیٹھتیں تو کبھی کبھی اس واقعے کا ذکر ضرور آتا۔

سکینہ کہتی: ’’سلیمہ! اُس دن اگر تم چاہتیں تو زبیدہ بیگم کو اکیلا چھوڑ سکتی تھیں۔‘‘
سلیمہ کہتی: ’’میں انہیں نہیں چھوڑتی تو کیا اپنے دل کو چھوڑ دیتی؟‘‘
سکینہ پوچھتی: ’’اور تمہیں کیا ملا؟‘‘
سلیمہ مسکرا کر آسمان کی طرف دیکھتی۔
’’سکون۔‘‘
’’بس؟‘‘
’’نہیں، ایک ماں بھی۔‘‘
سکینہ کی آنکھیں نم ہو جاتیں۔نیم کی شاخیں ہوا میں جھومتیں۔اور صحن میں رکھا پانی کا گلاس دھوپ میں چمکنے لگتا۔

شاید وہ گلاس یہ بتا رہا تھا کہ جس پانی کو ظلم نے گندا کرنے کی کوشش کی تھی، اُسی پانی کو نیکی نے رحمت بنا دیا۔ اور یوں ایک گھر، جو کبھی نفرت کے دھوئیں سے بھر گیا تھا، محبت کے چراغوں سے روشن ہوگیا۔ظلم نے ایک دل توڑنا چاہا تھا، مگر نیکی نے پورا گھر جوڑ دیا۔سلیمہ نے بدی کا جواب بدی سے نہیں، نیکی سے دیا؛ اور یہی اس کی سب سے بڑی فتح تھی۔

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

محمد شفیق اعوان

محمد شفیق اعوان ،ناظم امن لاٸبریری ،محلہ منشیاں ،گاٶں و ڈاک خانہ شمس آباد ،تحصيل حضرو ،ضلع أٹک پوسٹ کوڈ 43490 موبائل نمبر 03085040024

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment