ہم اکثر اپنی زندگی کی رکاوٹوں کا پتہ باہر تلاش کرتے رہتے ہیں؛ کبھی حالات کو مجرم ٹھہراتے ہیں، کبھی لوگوں کو، کبھی وقت کو اور کبھی اپنی مجبوریوں کو، یہاں تک کہ رفتہ رفتہ ہمیں یہ یقین ہونے لگتا ہے کہ ہماری زندگی کی سمت ہمارے اپنے اختیار میں نہیں، حالانکہ انسان کی سب سے بڑی بے اختیاری اکثر وہاں سے شروع ہوتی ہے جہاں وہ اپنے اختیار کو ماننا چھوڑ دیتا ہے۔
دیواریں ہمیشہ اینٹوں سے نہیں بنتیں، بعض دیواریں ایک خیال سے اٹھتی ہیں، ایک خوف سے مضبوط ہوتی ہیں اور ایک غلط یقین کے ذریعے پوری زندگی کو اپنے اندر مقید کر لیتی ہیں. کسی بیرونی قید کی ایک حد ہوتی ہے؛ دروازہ بند ہو تو کھل سکتا ہے، راستہ رک جائے تو نیا راستہ نکالا جا سکتا ہے، سزا ختم ہو تو انسان دوبارہ چل سکتا ہے لیکن ذہن میں بن جانے والی قید کا مسئلہ یہ ہے کہ وہاں دروازہ موجود ہوتے ہوئے بھی آدمی اسے دروازہ نہیں سمجھتا۔ وہ برسوں ایک ہی جگہ کھڑا رہتا ہے اور سمجھتا ہے کہ آگے راستہ ہی نہیں۔ “میں نہیں کر سکتا” بظاہر ایک معمولی جملہ ہے مگر جب یہی جملہ انسان کے یقین میں اتر جائے تو پھر وہ کوشش سے پہلے شکست قبول کر لیتا ہے۔ “لوگ کیا کہیں گے” شاید دنیا کا سب سے خاموش مگر طاقتور قید خانہ ہے؛ جن لوگوں کے نام پر ہم اپنی خواہشیں دفن کرتے ہیں ممکن ہے وہ ہماری زندگی کے بارے میں سوچتے بھی نہ ہوں مگر ہم ان کے فرضی فیصلوں کے خوف میں اپنی حقیقی زندگی کا فیصلہ کر بیٹھتے ہیں۔
اسی طرح ماضی بھی عجیب قید خانہ ہے۔ جو واقعہ گزر چکا، جس کا دروازہ وقت خود بند کر چکا، ہم اسے اپنی یادوں میں دوبارہ کھولتے رہتے ہیں اور پھر حیران ہوتے ہیں کہ آج کا دن بھی بوجھل کیوں ہے۔ انسان ماضی کو بدل نہیں سکتا، مگر ماضی کے ساتھ اپنا تعلق ضرور بدل سکتا ہے۔ ایک غلطی اگر سبق بن جائے تو وہ انسان کی تربیت ہے، لیکن اگر وہ مستقل پچھتاوا بن جائے تو وہی غلطی انسان کی باقی زندگی کی سزا بن جاتی ہے۔ گزرے ہوئے کل کو بار بار جینا دراصل آج کے دن کے ساتھ ناانصافی ہے۔ اور پھر دل میں رکھی ہوئی نفرت ہے، جسے ہم کبھی کبھی انصاف کا نام دے دیتے ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ ہم نے کسی کو معاف نہیں کیا تو گویا اسے اس کی سزا دے رہے ہیں، حالانکہ نفرت کی سب سے بڑی قیمت اکثر وہ شخص ادا کرتا ہے جو اسے اپنے اندر اٹھائے پھرتا ہے۔ جسے ہم بھول نہیں پاتے، وہ شاید اپنی زندگی میں آگے بڑھ چکا ہوتا ہے، مگر ہم اپنے دل کے ایک کمرے میں اسے بٹھا کر ہر روز خود اس کے سامنے حاضر ہوتے رہتے ہیں۔ معاف کرنا ہمیشہ دوسرے کو بری کرنا نہیں ہوتا، کبھی کبھی یہ اپنے آپ کو اس شخص کے اثر سے آزاد کرنا ہوتا ہے۔
اصل آزادی یہ نہیں کہ دنیا ہماری مرضی کے مطابق ہو جائے؛ اصل آزادی یہ ہے کہ دنیا ہماری مرضی کے مطابق نہ بھی ہو تو ہم اپنے اندر کا اختیار نہ کھوئیں۔ حالات اپنی جگہ رہ سکتے ہیں، مگر ان حالات کے معنی بدل سکتے ہیں۔ راستہ مشکل ہو سکتا ہے، مگر قدم رکنا ضروری نہیں۔ لوگ مخالفت کر سکتے ہیں، مگر ہر آواز کو اپنے اندر فیصلہ بنانا بھی ضروری نہیں۔ زندگی میں کچھ دروازے واقعی بند ہوتے ہیں، مگر ہر بند دروازے کے سامنے بیٹھ کر یہ مان لینا کہ دنیا ختم ہو گئی ہے، ہماری اپنی تعبیر ہے، حقیقت نہیں۔اس لیے جب دل کہے کہ اب بہت دیر ہو چکی ہے تو اپنے آپ سے پوچھو: دیر کس کے لیے؟ جب ذہن کہے کہ میں نہیں کر سکتا تو پوچھو: کیا واقعی نہیں کر سکتا یا ابھی تک کوشش نہیں کی؟ جب خوف کہے کہ لوگ کیا کہیں گے تو اپنے اندر ایک اور سوال پیدا کرو کہ میری زندگی کا جواب مجھے لوگوں کو دینا ہے یا اپنے رب کو؟ اور جب ماضی تمہیں اپنی طرف کھینچے تو اسے مٹانے کی کوشش نہ کرو؛ بس اس سے سبق لے کر آگے بڑھ جاؤ، کیونکہ زندگی کا مقصد یہ نہیں کہ انسان کبھی نہ گرے، بلکہ یہ ہے کہ گرنے کے بعد وہ اپنی شکست کو اپنی شناخت نہ بنا لے۔
انسان کی سب سے بڑی آزادی شاید یہی ہے کہ وہ اپنے اندر اٹھنے والے ہر خیال کو حقیقت ماننے سے انکار کر سکتا ہے۔ ہر خوف حکم نہیں ہوتا، ہر پچھتاوا سزا نہیں ہوتا، ہر رائے فیصلہ نہیں ہوتی اور ہر ناکامی آخری منزل نہیں ہوتی۔ بعض اوقات زندگی بدلنے کے لیے حالات بدلنے کی ضرورت نہیں پڑتی، صرف وہ جملہ بدلنا پڑتا ہے جو ہم برسوں سے اپنے بارے میں دہراتے آئے ہیں۔شاید ہم قیدی کم اور اپنے بنائے ہوئے فیصلوں کے نگہبان زیادہ ہیں۔ دروازہ کہیں دور نہیں؛ وہ ہمارے اندر ہی کھلتا ہے۔ بس ایک دن انسان کو یہ فیصلہ کرنا پڑتا ہے کہ وہ اپنے گزرے ہوئے کل کا محافظ بن کر بیٹھا رہے گا یا اپنے آنے والے کل کا مسافر بنے گا۔ کیونکہ آزادی کسی نئے آسمان کے ملنے کا نام نہیں؛ کبھی کبھی آزادی صرف اتنا سمجھ لینے کا نام ہے کہ آسمان پہلے ہی کھلا ہوا تھا، بند صرف ہماری نگاہ تھی۔



تبصرہ لکھیے