ہوم << عمر کے آخری دریچے میں جلتا ہوا چراغ – نعیم اللہ باجوہ
600x314

عمر کے آخری دریچے میں جلتا ہوا چراغ – نعیم اللہ باجوہ

عمر بڑھنا دراصل وقت کا گزرنا نہیں، اپنے فریبوں کا اترنا ہے۔ جوانی میں انسان دنیا کو بدلنے نکلتا ہے، پختگی میں خود کو سمجھنے لگتا ہے، اور بڑھاپا آ کر بتاتا ہے کہ زندگی کو بدلنے سے زیادہ ضروری اسے قبول کرنا تھا۔ ایک عمر کے بعد سب سے بڑی دانائی یہ نہیں رہتی کہ تمہیں ہر سوال کا جواب آتا ہو؛ دانائی یہ ہے کہ تمہیں معلوم ہو جائے کہ ہر سوال کا جواب دینا ضروری نہیں۔ ہر غلطی کو روکنا تربیت نہیں، ہر خطرے سے بچانا محبت نہیں، اور ہر خاموشی کو ناراضی سمجھ لینا تعلق نہیں۔

جنہیں تم نے اپنی محبت سے بڑا کیا ہے، انہیں اپنی فکر سے چھوٹا مت کرو۔ ان کے راستے میں اپنی زندگی کا نقشہ مت بچھاؤ۔ درخت سایہ دے سکتا ہے، کسی پر اپنی سمت نہیں تھوپ سکتا۔ اولاد کو زندگی دو، مگر ان کی زندگی اپنے نام مت کرو۔ انہیں گرنے دو، سنبھلنے دو، اپنے فیصلوں کی دھوپ میں کھڑے ہونے دو؛ کیونکہ کچھ حقیقتیں وہی سمجھ آتی ہیں جن تک آدمی اپنے قدموں سے پہنچتا ہے۔ اور یاد رکھو، غیر مطلوب نصیحت اکثر خیر کے لباس میں مداخلت ہوتی ہے۔ جس نے مشورہ نہ مانگا ہو، اسے اپنا تجربہ عطیہ نہیں، بوجھ بھی محسوس ہو سکتا ہے۔ ہر شخص کو اپنی شکست کا حق دو؛ بعض شکستیں دراصل انسان کے اندر چھپی ہوئی بصیرت کی پہلی پیدائش ہوتی ہیں۔زندگی کے آخری حصے میں شکووں کا حساب بند کر دینا چاہیے۔ کس نے کیا نہیں کیا، کس نے وقت نہیں دیا، کس نے قدر نہیں جانی۔

یہ سب حساب آخرکار انسان ہی کو تھکاتا ہے۔ جس دل نے عمر بھر محبت بوئی ہو، اسے بڑھاپے میں شکایتیں کاٹنے نہیں بیٹھ جانا چاہیے۔ جو مل گیا، اسے نعمت سمجھو؛ جو نہ ملا، اسے تقدیر کی خاموش تحریر سمجھ کر آگے بڑھ جاؤ۔اولاد تمہاری قربانیوں کی مقروض نہیں؛ محبت قرض ہو جائے تو محبت نہیں رہتی۔ تم نے ان کے لیے جو کیا، اس کا اجر ان کے احسان میں نہیں، تمہارے کردار میں لکھا جا چکا ہے۔ اگر وہ تمہیں وقت دیں تو اسے حق نہیں، عطیہ سمجھ کر قبول کرو؛ اگر مصروف ہو جائیں تو ان کے دروازے پر اپنی تنہائی کا مقدمہ لے کر مت بیٹھو۔اور جب نئی نسل تمہارے گرد جمع ہو تو انہیں اپنی عمر کے قصے کم، اپنی آنکھوں کی روشنی زیادہ دو۔ بچوں کو کامل بزرگ نہیں چاہییں؛ انہیں ایسا دل چاہیے جہاں وہ بے خوف ہو کر اپنے بچپن سمیت داخل ہو سکیں۔ انہیں تمہاری عمر یاد نہیں رہے گی، تمہاری موجودگی کا احساس یاد رہے گا۔

اپنے چہرے پر گزرتے موسموں سے جنگ مت کرو۔ جھریاں شکست کے دستخط نہیں، زندگی کی رسیدیں ہیں۔ سفید بال وقت کی شکست نہیں، وقت کی گواہی ہیں۔ آئینے کو جوانی واپس لانے کا حکم دینے کے بجائے اسے اپنی پوری کہانی دیکھنے دو۔ اور جس شخص نے تمہارے ساتھ عمر کا سفر کیا ہے، اسے صرف اس لیے اجنبی مت سمجھ لینا کہ اس کے قدم پہلے جیسے نہیں رہے۔ جس ہاتھ نے کبھی تمہیں سہارا دیا تھا، اگر آج اسے سہارے کی ضرورت ہے تو محبت کا امتحان یہی ہے کہ کردار بدلنے پر رشتہ نہ بدلے۔ حسن کا ایک زمانہ ہوتا ہے، رفاقت کا ایک حق ہوتا ہے۔ماضی کے سامنے اپنا سر ہمیشہ جھکائے رکھنا بھی کوئی فضیلت نہیں۔ تم سے غلطیاں ہوئیں تو اس لیے کہ تم انسان تھے۔ جو شخص اپنے گزرے ہوئے کل کو ہر روز سزا دیتا ہے، وہ اپنے آج سے بھی ناانصافی کرتا ہے۔ اپنے پرانے وجود کو معاف کرو؛ وہ اتنا ہی جانتا تھا جتنا اسے اس وقت معلوم تھا۔

عمر کے آخری برسوں کو انتظار گاہ مت بناؤ۔ زندگی کا آخری باب بھی زندگی ہی کا باب ہے۔ کبھی بے مقصد ٹہل آؤ، کبھی کسی عزیز کے ساتھ خاموش بیٹھو، کبھی اپنی پسند کی کوئی معمولی چیز خرید لو، کبھی آسمان کو دیر تک دیکھو۔ زندگی بڑی خوشیوں سے نہیں، چھوٹی نعمتوں کو بڑی آنکھ سے دیکھنے سے حسین ہوتی ہے۔اور سب سے بڑھ کر، اپنی روح کو کڑواہٹ سے بچائے رکھو۔ دنیا تمہیں بہت سے جواز دے گی کہ تم تلخ ہو جاؤ؛ مگر تلخی حالات کی فتح ہے، شائستگی انسان کی۔ ہنسنے کی وجہ تلاش کرتے رہو، شکر کا دروازہ کھلا رکھو، محبت کے لیے دل میں جگہ باقی رکھو۔کیونکہ آخر میں انسان کے پاس نہ اس کی جمع کی ہوئی چیزیں رہتی ہیں، نہ اس کے جیتے ہوئے جھگڑے، نہ دوسروں پر ثابت کی ہوئی اپنی برتری۔ آخر میں صرف یہ رہ جاتا ہے کہ تمہاری موجودگی سے کتنے دلوں کو سکون ملا تھا۔اس لیے جب عمر تمہارے دروازے پر آ کر کہے کہ اب بہت کچھ پیچھے رہ گیا، تو اسے جواب دینا:
اب بھی سانس باقی ہے؛ پس ابھی زندگی باقی ہے۔

اور جب تک تمہاری آواز کسی دل کو حوصلہ دے سکتی ہے، تمہاری مسکراہٹ کسی چہرے کو روشن کر سکتی ہے، تمہارا ہاتھ کسی ہاتھ کو تھام سکتا ہے، یا تمہاری خاموش موجودگی کسی کو یہ یقین دلا سکتی ہے کہ دنیا ابھی پوری طرح بے مہر نہیں ہوئی۔ تب تک تمہارا وجود محض زندہ نہیں، ضروری ہے۔عمر کا کمال جوان دکھائی دینا نہیں؛ عمر کا کمال یہ ہے کہ انسان وقت کے گزرنے کے باوجود اپنے اندر محبت کو مرنے نہ دے۔

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

نعیم اللہ باجوہ

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment