صبح کا الارم بجتا ہے۔ ایک طالب علم چند سیکنڈ کے لیے آنکھیں کھولتا ہے، فون پر وقت دیکھتا ہے اور پھر ذہن میں پورے دن کی فہرست چلنے لگتی ہے؛ یونیورسٹی جانا ہے، آج اسائنمنٹ جمع کرانی ہے، پریزنٹیشن کی تیاری کرنی ہے، گھر سے بھی کچھ کام کہا گیا ہے، دوستوں کے ساتھ ایک ضروری میٹنگ ہے اور شام تک شاید کسی سوسائٹی کی سرگرمی بھی مکمل کرنی ہے۔ پھر وہ خود سے کہتا ہے، “آج سب کچھ مینیج کر لوں گا۔”
لیکن دن ختم ہونے تک اکثر سب کچھ “مینیج” نہیں ہو پاتا۔ کچھ کام اگلے دن کے لیے رہ جاتے ہیں، اسائنمنٹ رات دیر سے مکمل ہوتی ہے، دوستوں کو وقت نہیں مل پاتا اور سونے سے پہلے ایک اور احساس ساتھ ہوتا ہے کہ پورا دن مصروف رہنے کے باوجود بہت کچھ باقی رہ گیا۔ یہ صورتِ حال آج کے بہت سے یونیورسٹی طلبہ کے لیے غیر معمولی نہیں۔ یونیورسٹی کی زندگی کو اکثر ایک ایسے دور کے طور پر دیکھا جاتا ہے جہاں طالب علم کی بنیادی ذمہ داری صرف پڑھائی ہوتی ہے، لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ ایک یونیورسٹی طالب علم بیک وقت طالب علم، دوست، بیٹا یا بیٹی، گھر کا فرد، سوسائٹی ممبر اور کبھی کبھار جز وقتی ملازم بھی ہو سکتا ہے۔ ہر کردار اپنے ساتھ کچھ ذمہ داریاں لاتا ہے اور ان سب کے لیے اسی 24 گھنٹوں میں جگہ بنانا پڑتی ہے۔ اسی لیے وقت کے انتظام کا مسئلہ صرف یہ نہیں کہ طالب علم اپنا وقت صحیح طریقے سے تقسیم کرنا جانتا ہے یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ اس کے پاس موجود وقت پر کتنی ذمہ داریوں کا بوجھ ہے اور کتنے لوگوں کی توقعات اس سے وابستہ ہیں۔
پاکستان میں ہونے والی مختلف تحقیقات بھی اس مسئلے کی کئی نئی جہتیں سامنے لاتی ہیں۔ کراچی کی سہیل یونیورسٹی میں 250 انڈرگریجویٹ ہیلتھ سائنسز طلبہ پر ہونے والی ایک تحقیق میں تعلیمی ٹال مٹول کا جائزہ لیا گیا۔ تحقیق میں ٹال مٹول کو انڈرگریجویٹ طلبہ میں ایک قابلِ ذکر مسئلہ پایا گیا اور اس کے مختلف تعلیمی عوامل کے ساتھ تعلق کا جائزہ لیا گیا۔ اسی طرح کراچی کی جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کے 136 ڈینٹل طلبہ پر 2023 میں ہونے والی تحقیق میں تعلیمی ٹال مٹول اور خود اعتمادی کا جائزہ لیا گیا۔ تحقیق میں ٹال مٹول کے اسکورز تعلیمی سال کے لحاظ سے مختلف پائے گئے۔ محققین نے اس بات پر زور دیا کہ تعلیمی ماحول میں طلبہ کو اپنے دستیاب وقت کو بہتر انداز میں استعمال کرنے کے لیے مؤثر حکمتِ عملی فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔یہاں ٹال مٹول کو صرف “سستی” کہنا آسان ہے، لیکن حقیقت اتنی سادہ نہیں۔ کبھی طالب علم کام اس لیے نہیں ٹالتا کہ وہ کام نہیں کرنا چاہتا، بلکہ اس لیے کہ اسے ایک ساتھ بہت کچھ کرنا ہوتا ہے اور وہ فیصلہ نہیں کر پاتا کہ پہلے کیا کیا جائے۔ کبھی اسائنمنٹ مشکل محسوس ہوتی ہے، کبھی ناکامی کا خوف ہوتا ہے، کبھی مسلسل آنے والی اطلاعات توجہ توڑ دیتی ہیں اور کبھی ذہنی تھکن اتنی بڑھ جاتی ہے کہ انسان آسان کام بھی بعد کے لیے چھوڑ دیتا ہے۔
2025 میں خیبر میڈیکل کالج، پشاور کے 311 ایم بی بی ایس طلبہ پر ہونے والی ایک تحقیق میں اضطراب اور تعلیمی ٹال مٹول کے درمیان ایک نمایاں مگر کمزور مثبت تعلق پایا گیا۔ محققین نے یہ بھی لکھا کہ دونوں کے درمیان تعلق ممکنہ طور پر دو طرفہ ہو سکتا ہے؛ یعنی اضطراب ٹال مٹول میں اضافہ کر سکتا ہے اور ٹال مٹول بھی اضطراب کو بڑھا سکتی ہے۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر کام ٹالنے والا طالب علم اضطراب کا شکار ہے۔ تاہم، یہ سمجھنا ضروری ہے کہ آخری تاریخ قریب آنے پر پیدا ہونے والا دباؤ ہمیشہ صرف ناقص منصوبہ بندی کا نتیجہ نہیں ہوتا۔ اس کے پیچھے تعلیمی دباؤ، توقعات، غیر یقینی صورتِ حال اور ناکامی کا خوف بھی شامل ہو سکتا ہے۔ یونیورسٹی میں دوست بنانا، لوگوں سے ملنا اور غیر نصابی سرگرمیوں میں حصہ لینا بھی طالب علم کے تجربے کا اہم حصہ ہے۔ اگر کوئی طالب علم ہر وقت صرف کتابوں کے سامنے بیٹھا رہے تو ممکن ہے اس کی تعلیمی کارکردگی بہتر ہو، لیکن یونیورسٹی زندگی کا ایک اہم پہلو بھی اس سے چھوٹ جائے۔
دوسری طرف اگر سماجی سرگرمیاں اتنی بڑھ جائیں کہ اسائنمنٹس، کلاسز اور امتحانات مسلسل متاثر ہونے لگیں تو ایک نیا مسئلہ پیدا ہو جاتا ہے۔ یہاں اصل چیلنج توازن کا ہے، لیکن توازن کا مطلب یہ بھی نہیں کہ ہر کام کو برابر وقت دیا جائے۔ ہر دن کی ترجیحات مختلف ہو سکتی ہیں۔ امتحانات کے ہفتے میں پڑھائی کو زیادہ وقت دینا فطری ہے۔ گھر میں کسی کی طبیعت خراب ہو تو خاندانی ذمہ داری پہلے آ سکتی ہے۔ کسی سوسائٹی کا بڑا ایونٹ ہو تو چند دن اس کے لیے زیادہ وقت درکار ہو سکتا ہے۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب طالب علم ترجیحات طے کرنے کے بجائے ہر کام کو یکساں طور پر فوری اور ضروری سمجھنے لگتا ہے۔ اسی لیے وقت کا انتظام دراصل گھڑی کے انتظام سے زیادہ ترجیحات کے انتظام کا نام ہے۔ایک طالب علم کے لیے شاید سب سے مشکل جملہ “نہیں” کہنا ہوتا ہے۔دوست کہیں کہ آج ملنا ہے، سوسائٹی کی طرف سے کوئی کام آ جائے، گھر میں کوئی ذمہ داری نکل آئے اور اسی دوران اسائنمنٹ کی آخری تاریخ بھی قریب ہو تو ہر طرف سے آنے والی طلب کو پورا کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ ایسے میں ہر کام قبول کر لینا وقت کا بہتر استعمال نہیں، بلکہ اپنی حدود کو نظر انداز کرنا ہے۔
یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہر موقع میں شامل ہونا ضروری نہیں اور ہر ذمہ داری کو فوراً قبول کرنا بھی ضروری نہیں۔ اپنی ترجیحات کو سمجھنا اور ضرورت کے وقت کسی کام کو مؤخر کرنا بھی وقت کے بہتر انتظام کا حصہ ہے۔ گھر کی ذمہ داریاں اس معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہیں۔ ہر یونیورسٹی طالب علم ایک جیسے حالات میں نہیں رہتا۔ کچھ طلبہ کو گھر کے کاموں میں ہاتھ بٹانا پڑتا ہے، کچھ روزانہ طویل سفر کرتے ہیں اور کچھ مالی وجوہات کی بنا پر جز وقتی کام کرتے ہیں۔اس لیے ایک ایسے طالب علم سے، جسے یونیورسٹی کے بعد کئی گھنٹے سفر کرنا پڑتے ہیں، وہی شیڈول توقع کرنا جو ہاسٹل یا کیمپس کے قریب رہنے والے طالب علم کا ہے، حقیقت پسندانہ نہیں۔پاکستانی میڈیکل طلبہ پر ہونے والی ایک معیاری تحقیق میں بھی وقت کے انتظام کے ساتھ گھر کی ذمہ داریوں کو ان مسائل میں شامل کیا گیا جن کی وجہ سے طلبہ کو اپنی پڑھائی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ تحقیق میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ جذباتی اور خاندانی مسائل تعلیمی کارکردگی پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
آج کی یونیورسٹی زندگی میں ٹیکنالوجی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ موبائل فون نے طالب علم کی زندگی کو کئی حوالوں سے آسان بنایا ہے۔ لیکچر کے نوٹس چند سیکنڈز میں حاصل کیے جا سکتے ہیں، آن لائن کلاسز میں شرکت ممکن ہے، گروپ اسائنمنٹس واٹس ایپ کے ذریعے مربوط کی جا سکتی ہیں اور تحقیقی مواد گھر بیٹھے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ لیکن یہی فون مسلسل اطلاعات، سوشل میڈیا اور تفریح کا ذریعہ بھی بن جاتا ہے۔2026 میں شائع ہونے والی ایک طویل مدتی تحقیق میں اسلام آباد کی سرکاری اور نجی یونیورسٹیوں کے 929 طلبہ کا جائزہ لیا گیا۔ تحقیق میں ٹیکنالوجی سے پیدا ہونے والے دباؤ، سونے کے وقت کام ٹالنے اور نیند کے معیار کے درمیان تعلق کا جائزہ لیا گیا۔ محققین کے مطابق ابتدائی مرحلے میں ٹیکنالوجی سے پیدا ہونے والا دباؤ بعد کے مرحلے میں سونے کے وقت کام ٹالنے اور نیند کے معیار سے متعلق تھا۔ یعنی کبھی مسئلہ یہ نہیں ہوتا کہ طالب علم کے پاس دن میں وقت نہیں تھا۔ مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ دن کے اختتام پر اس کا ذہن اتنا بکھر چکا ہوتا ہے کہ وہ آرام کے وقت بھی فون سے الگ نہیں ہو پاتا۔ نتیجتاً سونے کا وقت آگے بڑھتا ہے، اگلی صبح تھکن محسوس ہوتی ہے اور نیا دن پہلے ہی کم توانائی کے ساتھ شروع ہوتا ہے۔
اس صورتِ حال کا حل صرف یہ نہیں کہ طلبہ کو “زیادہ نظم و ضبط اختیار کرنے” کا مشورہ دے دیا جائے۔ نظم و ضبط یقیناً اہم ہے، لیکن ماحول بھی اتنا ہی اہم ہے۔اگر مختلف مضامین کی اسائنمنٹس کی آخری تاریخیں ایک ہی ہفتے میں جمع ہو جائیں، مختلف اساتذہ کی ضروریات ایک ساتھ سامنے آ جائیں اور طالب علم کو گھر اور سفر کی ذمہ داریاں بھی پوری کرنی ہوں تو صرف ذاتی منصوبہ بندی کافی نہیں رہتی۔ اس کے ساتھ ادارہ جاتی ہم آہنگی بھی ضروری ہوتی ہے۔یونیورسٹیاں طلبہ کو وقت کے انتظام کے حوالے سے ورکشاپس، تعلیمی رہنمائی اور مشاورتی خدمات فراہم کر سکتی ہیں۔ اساتذہ بھی اسائنمنٹس اور تشخیصی سرگرمیوں کی آخری تاریخوں میں مناسب ہم آہنگی پیدا کر سکتے ہیں۔دوسری طرف طلبہ کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ اپنی صلاحیت اور دستیاب وقت کو سمجھیں۔ ہر سرگرمی میں شامل ہونے کے بجائے ان ذمہ داریوں کا انتخاب کریں جنہیں وہ واقعی مناسب وقت دے سکتے ہیں۔
وقت کے انتظام کا مطلب ہر گھنٹے کو کسی نہ کسی کام سے بھر دینا نہیں۔ کچھ وقت خالی چھوڑنا بھی اچھی منصوبہ بندی کا حصہ ہے۔ اگر پورا دن کلاسز، اسائنمنٹس، میٹنگز اور سرگرمیوں سے بھر دیا جائے تو ایک معمولی غیر متوقع کام بھی پورا شیڈول خراب کر سکتا ہے۔ اس لیے منصوبہ بندی میں کچھ لچکدار وقت رکھنا ضروری ہے۔ اسی طرح آرام کو وقت کا ضیاع سمجھنا بھی درست نہیں۔ نیند، مناسب خوراک، جسمانی سرگرمی، خاندان کے ساتھ وقت گزارنا اور کچھ دیر ذہنی سکون حاصل کرنا کارکردگی کے مخالف نہیں۔ مسلسل تھکا ہوا طالب علم شاید زیادہ گھنٹے کتاب کے سامنے بیٹھے، لیکن ضروری نہیں کہ وہ اتنا ہی مؤثر بھی ہو۔ آخرکار یونیورسٹی زندگی کا مقصد صرف اسائنمنٹس مکمل کرنا اور امتحانات پاس کرنا نہیں۔ یہ وہ وقت بھی ہے جب نوجوان اپنی شخصیت، تعلقات، ابلاغی صلاحیتوں، دلچسپیوں اور مستقبل کے کیریئر کے بارے میں سیکھتا ہے۔ اگر طالب علم ہر شعبے میں بہترین ہونے کی کوشش کرے گا تو ممکن ہے وہ ہر طرف سے تھک جائے اور کسی ایک جگہ بھی خود کو مطمئن محسوس نہ کرے۔ اس لیے طلبہ کو یہ سیکھنے کی ضرورت ہے کہ ہر کام آج ہی کرنا ضروری نہیں، ہر دعوت قبول کرنا ضروری نہیں اور ہر ذمہ داری اکیلے اٹھانا بھی ضروری نہیں۔
اسی طرح والدین، اساتذہ اور یونیورسٹیوں کو بھی یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ایک طالب علم صرف ایک رول نمبر یا GPA نہیں ہوتا۔ اس کی تعلیمی کارکردگی کے پیچھے اس کی روزمرہ زندگی، گھر کے حالات، سفر، مالی مسائل، سماجی تعلقات اور ذہنی کیفیت بھی موجود ہوتی ہے۔ وقت سب کے پاس 24 گھنٹے ہی ہے، لیکن سب کے حالات ایک جیسے نہیں۔ اسی لیے یونیورسٹی کے طالب علم سے صرف یہ پوچھنا کافی نہیں کہ “تم نے اپنا وقت کیسے مینیج کیا؟”
کبھی یہ بھی پوچھنے کی ضرورت ہے کہ:
“تمہارے وقت میں پہلے سے کتنی ذمہ داریاں موجود تھیں؟”
شاید ایک بہتر یونیورسٹی زندگی کا آغاز اسی فرق کو سمجھنے سے ہو سکتا ہے۔ وقت کم نہیں ہوتا، لیکن ذمہ داریاں واقعی زیادہ ہو سکتی ہیں۔ اور ایک بالغ طالب علم وہ نہیں جو ہر چیز ایک ساتھ کر لے، بلکہ وہ ہے جو جانتا ہو کہ اس وقت کیا ضروری ہے، کیا مؤخر کیا جا سکتا ہے، اور کہاں رک کر خود کو بھی وقت دینا ہے۔



تبصرہ لکھیے