ارے! یہ کوئی ان ہونی بات نہیں کہ جگ سے منہ لگا کر پانی پی لیا۔ صدر صاحب کو جلدی تھی، انہیں گھر بھی جانا تھا اور بھی بہت سے کام تھے، اس لیے کون گلاس کا تکلف کرتا۔ میں نے کئی بار اپنی بڑی بوڑھیوں کو بڑے والے چمچ سے کھانا چکھتے بلکہ کھاتے دیکھا ہے۔ کئی شادیوں میں تو دیگ والے (شیف) دیگ کے دیوقامت چمچ سے نہ صرف کھاتے ہیں بلکہ ایک بڑی پلیٹ سے بریانی دیگ سے نکال نکال کر تقسیم کرتے ہیں۔
ہمارے ہوٹلوں میں لوگ کپ میں نہیں بلکہ طشتری میں چائے پیتے ہیں۔ اردگرد سے گزرنے والے اس بات سے اتنے مانوس ہوتے ہیں کہ اگر انہیں کوئی کپ میں چائے پیتا نظر آ جائے تو وہ اسے انگریز بول ڈالتے ہیں، کیونکہ انگریز ہی واحد قوم ہے جو طشتری کو کپ کا معاون سمجھتی ہے۔ ہم تو بھائی طشتری میں ہی چائے پینے پلانے والی مخلوق ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ ہم بڑے پتیلے میں آخر میں بچ جانے والے کھانے کو ہاتھ سے، بغیر کسی اور برتن کے تکلف کے کھاتے ہیں۔ کوئی روک نہیں سکتا۔
بھائی! جگ تو ابھی جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے ہیں آیا ہے۔ ہم تو گھڑے، وہ بھی صرائی والے سے، منہ لگا کر پانی پیتے تھے اور جب مہمان آ جاتے تو پھر چاندی کے کھلے منہ والے پیالے میں پانی دیتے۔ آج بیٹی کے صدر نے جگ سے منہ لگا کر خود کو مقامی سادہ لوح ثابت کیا ہے۔ اب صدر صاحب ہمارے چھوٹے قصبوں کے بڑے پیالے والے فالودے بھی کھا بلکہ پی سکتے ہیں جہاں چمچ کا تکلف نہیں ہوتا۔ اور حلیم اور میٹھے چول (گڑھ والے) بھی ہاتھ سے کھا سکتے ہیں۔



تبصرہ لکھیے