ظلم و غداری کا انجام اور اوقافِ القدس کی حفاظت
کسی معاشرے کے اخلاق و کردار کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ وہاں کمزور کا حق کتنا محفوظ ہے۔ جہاں طاقت ور ظلم کرے اور مظلوم کی فریاد سننے والا کوئی نہ ہو، وہاں اجتماعی ضمیر کو جھنجھوڑنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ معاملہ اس وقت اور بھی سنگین ہو جاتا ہے جب دست درازی ان امانتوں تک پہنچ جائے جنہیں بزرگوں نے آنے والی نسلوں کی بھلائی کے لیے وقف کیا تھا۔ اس لیے کمزوروں کی داد رسی اور مشترکہ امانتوں کی حفاظت، دونوں عدل کے بنیادی تقاضے ہیں۔
مسجد اقصیٰ کے خطیب، الشیخ خالد ابو جمعہ حفظہ اللہ، نے اپنے خطبۂ جمعہ میں ظلم، عہد شکنی اور غداری کے انجام سے خبردار کیا اور القدس کے اسلامی اوقاف کی حفاظت پر زور دیا۔ انہوں نے اللہ کی عظمت یاد دلاتے ہوئے کہا کہ انسان دل، زبان اور عمل سے اپنے رب کی بڑائی تسلیم کرے: دل اسی سے وابستہ ہوں، زبانیں اس کے ذکر سے تر رہیں اور جسم اس کی اطاعت میں مصروف رہیں۔ اسی نے مخلوق کو پیدا کیا، رزق دیا اور زندگی و موت کے فیصلے فرمائے؛ آخرکار سب کو اسی کے حضور حاضر ہونا ہے۔ دنیا کی کوئی طاقت اور کوئی اقتدار انسان کو اللہ کی گرفت سے نہیں بچا سکتا۔ عاد، ثمود، قومِ نوح اور قومِ لوط کا انجام ہمیں اپنی حدود پہچاننے کی دعوت دیتا ہے۔ افراد ہوں یا جماعتیں، قومیں ہوں یا حکومتیں، سب اللہ ہی کے اختیار میں ہیں۔ وہ چاہے تو ان کی جگہ دوسروں کو لے آئے تو کوئی اسے روک نہیں سکتا۔ اس حقیقت کا شعور انسان کو غرور سے بچاتا ہے اور اپنے اعمال کی جواب دہی کا احساس دلاتا ہے۔
اسی جواب دہی کو سمجھنے کے لیے سیرتِ نبویؐ میں مکمل رہنمائی موجود ہے۔ اس میں رحمت و شفقت بھی ہے اور اجتماعی معاملات کو حکمت سے سنبھالنے کی رہنمائی بھی۔ سیرت کے واقعات کا مقصد یہی ہے کہ ہم اپنے رویوں کو درست کریں۔ خطیبِ محترم نے اسی ضمن میں حبشہ سے واپس آنے والے مہاجرین کا ایک واقعہ بیان کیا، جس میں ایک بے بس عورت کی خودداری اور عدلِ الٰہی پر اس کا پختہ یقین نمایاں ہے۔ رسول اللہؐ نے ان مہاجرین سے پوچھا: کیا تم حبشہ میں پیش آنے والا کوئی عجیب واقعہ ہمیں نہیں سناؤ گے؟ چند نوجوانوں نے عرض کیا کہ ایک روز ہم بیٹھے ہوئے تھے۔ وہاں کی ایک بوڑھی راہبہ سر پر پانی کا مٹکا اٹھائے ہمارے پاس سے گزری تو ایک نوجوان نے اس کے کندھوں کے درمیان ہاتھ رکھ کر اسے دھکا دے دیا۔ وہ گھٹنوں کے بل گری اور اس کا مٹکا ٹوٹ گیا۔ عورت اٹھی، نوجوان کی طرف مڑی اور کہا: اے دغا باز! جب اللہ عدالت قائم کرے گا، پہلے اور بعد کے سب لوگوں کو جمع کرے گا اور ہاتھ پاؤں اپنے اعمال کی گواہی دیں گے، تب تجھے معلوم ہوگا کہ میرے اور تیرے معاملے کا فیصلہ کیسے ہوتا ہے۔ رسول اللہؐ نے اس کی بات کی تصدیق فرمائی اور ارشاد کیا:
اللہ اس قوم کو پاکیزگی کیسے عطا کرے جس میں کمزور کو طاقت ور سے اس کا حق نہ دلوایا جائے؟
یہ واقعہ مہاجرین کے ذہنوں پر نقش ہوگیا۔ ایک طرف شرارت کرنے والا نوجوان تھا اور دوسری طرف ایک عمر رسیدہ عورت، جس میں اپنے دفاع کی جسمانی طاقت نہ تھی۔ وہ گری اور اس کا مٹکا ٹوٹ گیا، مگر اس کا حوصلہ قائم رہا۔ وہ وقار کے ساتھ اٹھی اور ظالم کو اس عدالت کی یاد دلا دی جہاں کسی کا حق ضائع نہیں ہوتا۔ عدلِ الٰہی پر یقین نے اسے بے بسی میں بھی ثابت قدم رکھا۔ یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ مسلمانوں نے خود بھی ظلم سے بچنے کے لیے حبشہ کا رخ کیا تھا۔ رسول اللہؐ نے انہیں ایسے بادشاہ کے ملک جانے کی ہدایت دی تھی جس کے ہاں کسی پر ظلم نہیں ہوتا تھا۔ اسی پس منظر میں بوڑھی عورت کا واقعہ عدل کی اہمیت کو مزید نمایاں کرتا ہے۔ کمزور کو تحفظ دینا اور طاقت ور کو زیادتی سے روکنا پورے معاشرے کی ذمہ داری ہے۔ ظالم سے درگزر کے نام پر مظلوم کو بے سہارا چھوڑ دینا دراصل اس ذمہ داری سے منہ موڑنا ہے۔
یہ واقعہ کمزور کو حقیر سمجھنے اور اس کے مال و عزت پر دست درازی کی مذمت کرتا ہے، ساتھ ہی اللہ کے انصاف پر یقین کا سبق بھی دیتا ہے۔ ظلم کے اثرات کسی ایک فرد تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورا معاشرہ ان کی لپیٹ میں آتا ہے۔ اس کا انجام صرف آخرت میں نہیں، دنیا میں بھی سامنے آتا ہے۔ ظالم لوگوں کا سکون چھین لیتے ہیں اور مخلوق ان سے بیزار ہو جاتی ہے، یہاں تک کہ ان کی موت پر لوگ اور دھرتی سکھ کا سانس لیتے ہیں۔ اسی طرح عہد شکنی اور غداری دونوں بزدلی اور آخرت سے غفلت کی نشانیاں ہیں۔ بوڑھی عورت کی تنبیہ ہر اس شخص کے لیے ہے جو اپنی امت سے غداری کرے، بے گناہوں پر ظلم ڈھائے، لوگوں کو گھروں سے نکالے، ان کے مال چھینے یا انہیں خوف میں مبتلا کرے۔ دنیا میں سزا سے بچ نکلنا آخرت کی گرفت سے نجات نہیں۔ وہاں ظالم کو ان تمام لوگوں کے حقوق کا جواب دینا ہوگا جنہیں اس نے طاقت کے بل پر پامال کیا تھا۔
قرآن یاد دلاتا ہے کہ اللہ ظالموں کے اعمال سے غافل نہیں۔ انہیں صرف اس ہولناک دن تک مہلت دی جا رہی ہے جب خوف سے آنکھیں پھٹی رہ جائیں گی۔ اس روز نہ ان کے عذر کام آئیں گے اور نہ پچھتاوا انہیں بچا سکے گا۔ رسول اللہؐ نے بھی بتایا کہ قیامت کے دن ہر غدار کے لیے ایک جھنڈا نصب کیا جائے گا اور اعلان ہوگا کہ یہ فلاں شخص کی غداری ہے۔ یوں آج کی چھپی ہوئی عہد شکنی کل سب کے سامنے رسوائی بن جائے گی۔ خطبے کے دوسرے حصے میں اسی امانت و جواب دہی کے اصول کو القدس کے اسلامی اوقاف سے جوڑا گیا۔ خطیب نے اوقاف کو مقدس شہر کی فصیل، اس کا حفاظتی حصار اور وہاں مسلمانوں کی موجودگی برقرار رکھنے کا اہم ذریعہ قرار دیا۔ اوقاف کے تحت املاک کو مستقل رفاہی کاموں کے لیے محفوظ کر دیا جاتا ہے تاکہ ان کا فائدہ نسل در نسل جاری رہے۔ القدس میں یہی نظام اسلامی شناخت اور مسلم معاشرے کے تسلسل کو سہارا دیتا ہے۔ ہمارے اسلاف نے رسول اللہؐ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے اپنی املاک وقف کیں۔ انہوں نے مدارس قائم کیے، کنویں کھدوائے، درخت لگائے، رہائشی عمارتیں تعمیر کرائیں اور مساجد، کتب خانوں اور دیگر خیراتی اداروں کا انتظام کیا۔ ان کی خواہش تھی کہ انہیں مسلسل اجر ملتا رہے اور آنے والی نسلیں بھی ان وسائل سے فائدہ اٹھائیں۔
یوں اوقاف نے مسلمانوں کی تعلیمی، سماجی، معاشی اور ثقافتی زندگی کو سہارا دیا۔ القدس میں مسجد اقصیٰ کی دیکھ بھال اور اسلامی وجود کے تحفظ میں بھی اوقاف کا بنیادی کردار ہے۔ ان اوقاف پر قبضہ کرنا یا ان کی اصل حیثیت چھپانا پوری ملت کی امانت کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔ جس مال سے آنے والی نسلوں کو فائدہ پہنچنا تھا، اسے ذاتی مفاد کے لیے ہتھیانا ان کے حقوق پر بھی دست درازی ہے۔ خطیبِ محترم نے واضح کیا کہ وقف کی اصل جائیداد نہ فروخت کی جا سکتی ہے، نہ تحفے میں دی جا سکتی ہے اور نہ وراثت میں تقسیم ہوتی ہے۔ انہوں نے دستاویزات میں تحریف یا جعل سازی کرکے وقف کی حیثیت چھپانے اور اسے بیچنے یا ہتھیانے والوں کو سختی سے خبردار کیا۔ اس ضمن میں رسول اللہؐ کی یہ وعید بھی سنائی کہ جو شخص زمین کا کوئی حصہ ناحق لے گا، قیامت کے دن اسے سات زمینوں تک دھنسا دیا جائے گا۔
یوں بوڑھی عورت کا ٹوٹا ہوا مٹکا ہو یا القدس کی وقف شدہ زمین، دونوں ہمیں دوسروں کے حقوق کی حرمت یاد دلاتے ہیں۔
کسی کی کمزوری ظلم کی اجازت نہیں دیتی اور کسی امانت کی نگرانی اسے ذاتی ملکیت نہیں بنا دیتی۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ مظلوم کو اس کا حق دلوائیں، عہد پورا کریں اور اوقاف کی حفاظت کریں۔ اللہ ہمیں ان امانتوں کا حق ادا کرنے کی توفیق دے، مسجد اقصیٰ اور اس کے محافظوں کی حفاظت فرمائے اور ہمیں فتنوں سے محفوظ رکھتے ہوئے امانت داری پر قائم رکھے۔



تبصرہ لکھیے