شہر کے آخری سرے پر ایک پُرانا سا گاؤں تھا۔ گاؤں کا نام ’’سَفینہ‘‘ تھا، مگر عجیب بات یہ تھی کہ وہاں نہ کوئی دریا تھا، نہ کشتی۔ بزرگ کہتے تھے کہ کبھی اس بستی کے لوگوں کے دل ایک دوسرے کے لیے کَشتی ہوا کرتے تھے؛ جو ڈوبتا، اُسے سہارا مل جاتا، جو تھکتا، اُسے کنارا نصیب ہو جاتا۔ پھر نہ جانے کب بستی پر ایک سایہ اُتر آیا۔اس سائے کا کوئی ایک نام نہ تھا۔ لوگ اسے کبھی ’’خوف‘‘ کہتے، کبھی ’’جَبَر‘‘، کبھی ’’طاقت‘‘ اور کبھی چپکے سے ’’ظلم‘‘۔
بستی کے بیچوں بیچ ایک بلند حویلی تھی۔ اس کی دیواریں اتنی اونچی تھیں کہ صبح کا سورج بھی اُن کے پیچھے ڈوبتا ہوا محسوس ہوتا۔ حویلی کا مالک ’’سردار سیاہ دل‘‘ کہلاتا تھا۔ اس کے پاس زمینیں تھیں، گودام تھے، نوکر تھے، پہرے دار تھے اور سب سے بڑھ کر لوگوں کے خوف کی ایک لمبی فہرست تھی۔ وہ جانتا تھا کہ کس کسان کے بیٹے کی فیس باقی ہے، کس مزدور کے گھر میں آٹا کم ہے، کس بیوہ کے پاس علاج کے پیسے نہیں، کس دکاندار نے قرض لیا ہے اور کس نوجوان کی کوئی کمزوری اُس کے پاس راز کی صورت محفوظ ہے۔ سردار سیاہ دل کے پاس تلوار کم، راز زیادہ تھے۔ وہ لوگوں کو قتل نہیں کرتا تھا؛ وہ اُن کے حوصلے قتل کرتا تھا۔ ایک دن گاؤں کا کسان ’’رحمو‘‘ اپنی گندم کا حساب لینے حویلی پہنچا۔
’’سردار صاحب!‘‘ اُس نے دھیمی آواز میں کہا، ’’میری فصل کا جو حصہ بنتا ہے، وہ مجھے دے دیجیے۔ میرے گھر میں تین دن سے چولہا ٹھنڈا ہے۔‘‘
سردار نے حساب کی کتاب بند کی اور مسکرایا۔’’رحمو! تم بہت سوال کرنے لگے ہو۔‘‘
’’سوال نہیں، اپنا حق مانگ رہا ہوں۔‘‘
سردار کی مسکراہٹ غائب ہوگئی۔
’’حق؟‘‘ وہ ہنسا، ’’یہ لفظ تمہیں کس نے سکھا دیا؟‘‘
رحمو نے سر اٹھایا۔ ’’بھوک نے۔‘‘
حویلی میں ایک لمحے کے لیے خاموشی چھا گئی۔
پھر سردار نے میز پر ہاتھ مارا۔’’اگر زیادہ بولے تو تمہاری زمین کا کاغذ بھی نہیں بچے گا اور تمہارا بیٹا بھی نہیں۔‘‘
رحمو کے ہونٹ کانپے۔ وہ خاموش ہوگیا۔
سردار نے فاتحانہ انداز میں کہا: ’’دیکھا! زبان کی قیمت جان سے زیادہ ہوتی ہے۔‘‘
رحمو باہر نکلا تو اُس کے قدم بھاری تھے۔ راستے میں اُس کی ملاقات مزدور ’’بشیر‘‘ سے ہوئی۔
بشیر نے پوچھا: ’’کیا ہوا؟‘‘
رحمو نے نظریں جھکا لیں۔ ’’کچھ نہیں۔‘‘
’’کچھ نہیں؟‘‘ ’’بس… حساب نہیں ملا۔‘‘
بشیر نے اُس کی آنکھوں میں دیکھا۔
’’حساب نہیں ملا یا حوصلہ نہیں ملا؟‘‘
رحمو نے جواب نہ دیا۔ دونوں آگے بڑھ گئے۔
اُسی رات گاؤں کی ایک کچی جھونپڑی میں بیوہ ’’زینب‘‘ اپنے بچوں کو دیکھ رہی تھی۔ چولہے میں آگ نہ تھی۔ بچے سو گئے تھے، مگر بھوک نے اُن کی آنکھوں سے نیند چھین لی تھی۔ زینب نے آسمان کی طرف دیکھا۔ ’’اے اللّہ!‘‘ اُس کی آواز آنسوؤں میں بھیگ گئی، ’’کیا میری آواز تجھ تک پہنچتی ہے؟‘‘
اچانک باہر سے ہوا کا ایک جھونکا آیا اور چراغ کی لو لرزنے لگی۔
زینب نے چراغ کو ہاتھ سے بچاتے ہوئے کہا: ’’لو بھی عجیب چیز ہے۔ ذرا سی ہوا اُسے بجھانے آتی ہے، مگر وہ پھر سیدھی ہو جاتی ہے۔‘‘
اُس کا چھوٹا بیٹا بولا: ’’امّی! کیا ہم بھی چراغ ہیں؟‘‘
زینب نے اُسے سینے سے لگا لیا۔ ’’ہاں بیٹا! مگر یاد رکھنا، چراغ کو اندھیرا نہیں مارتا، چراغ خود بجھ جائے تو اندھیرا جیت جاتا ہے۔‘‘
اگلی صبح گاؤں کے چوک میں ایک عجیب منظر تھا۔
رحمو، بشیر، زینب، بوڑھا استاد ’’حکیم الدین‘‘ اور کئی دوسرے لوگ جمع تھے۔
بوڑھے استاد نے کہا: ’’میں تم سب سے ایک سوال پوچھتا ہوں۔‘‘
بشیر بولا: ’’پوچھیے استاد جی۔‘‘
’’ظالم طاقتور کیوں ہے؟‘‘
ایک شخص نے جواب دیا: ’’اس کے پاس دولت ہے۔‘‘
دوسرے نے کہا: ’’اس کے پاس آدمی ہیں۔‘‘
تیسرے نے کہا: ’’اس کے پاس ہتھیار ہیں۔‘‘
استاد مسکرائے۔ ’’یہ سب طاقت کے ذرائع ہیں، طاقت کی اصل نہیں۔‘‘
رحمو نے پوچھا: ’’تو اصل طاقت کیا ہے؟‘‘
استاد نے زمین سے ایک خشک لکڑی اٹھائی۔ ’’یہ لکڑی دیکھو۔ ایک ہے، تو آسانی سے ٹوٹ جائے گی۔‘‘
انہوں نے دوسری لکڑی اٹھائی۔ ’’یہ بھی ایک ہے۔‘‘
پھر چند لکڑیاں جمع کرکے اُن کا گٹھا بنا دیا۔ ’’اب توڑو۔‘‘
بشیر نے پوری قوت لگائی، مگر گٹھا نہ ٹوٹا۔
استاد نے کہا: ’’ظالم کو ہماری انفرادی کمزوری سے طاقت ملتی ہے۔ اتحاد اُس کے ہاتھ سے یہ ہتھیار چھین لیتا ہے۔‘‘
زینب نے پہلی بار بلند آواز میں کہا: ’’لیکن ہم ڈرتے ہیں۔‘‘
استاد نے اُسے دیکھا۔ ’’ڈرنا انسانی فطرت ہے، بیٹی۔ مگر خوف کو اپنا مالک بنا لینا غلامی ہے۔‘‘
اسی وقت ہجوم کے پیچھے کھڑا ایک نوجوان بولا: ’’اگر ہم نے آواز اٹھائی تو سردار ہمیں تباہ کر دے گا۔‘‘
استاد نے کہا: ’’اور اگر آواز نہ اٹھائی تو؟‘‘
نوجوان خاموش ہوگیا۔
استاد نے آہستہ سے کہا: ’’بیٹا! کبھی کبھی انسان ظالم سے نہیں، اپنے خوف سے شکست کھاتا ہے۔‘‘
اسی شام سردار سیاہ دل نے گاؤں میں اپنا آدمی ’’کالا خان‘‘ بھیجا۔
کالا خان کی آواز میں دھمکی تھی۔
’’سردار کا حکم ہے کہ کل سے کوئی شخص اُس کی حویلی کے خلاف زبان نہیں کھولے گا۔ جو بولے گا، اُس کا حساب الگ ہوگا۔‘‘
بشیر نے آگے بڑھ کر پوچھا: ’’اور اگر ہم اپنا حق مانگیں؟‘‘
کالا خان ہنسا۔ ’’حق؟ تم لوگ حق مانگو گے؟‘‘
بشیر نے جواب دیا: ’’ہاں! مگر کسی کا حق چھین کر نہیں۔‘‘
کالا خان نے قریب آکر سرگوشی کی: ’’تمہارے گھر کی خبر ہے مجھے۔ تمہاری بیٹی شہر میں پڑھتی ہے نا؟‘‘ بشیر کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔
کالا خان مسکرایا۔ ’’سمجھ گئے؟‘‘
بشیر خاموش ہوگیا۔
اُس رات بشیر نے اپنی بیٹی کی تصویر ہاتھ میں لی اور دیر تک دیکھتا رہا۔ پھر اُس نے آئینے میں اپنا چہرہ دیکھا۔ ’’بشیر!‘‘ اُس نے خود سے کہا، ’’کیا تو اپنی بیٹی کو بچانے کے لیے پوری بستی کو غلام بنا دے گا؟‘‘ آئینے میں اُسے اپنا چہرہ نہیں، ایک جھکا ہوا آدمی نظر آیا۔ وہ گھبرا کر پیچھے ہٹا۔
اسی وقت دروازے پر دستک ہوئی۔
رحمو کھڑا تھا۔’’بشیر!‘‘ ’’آؤ۔‘‘ رحمو اندر آیا۔کچھ دیر دونوں خاموش بیٹھے رہے۔
پھر رحمو نے کہا: ’’آج مجھے بھی دھمکی دی گئی ہے۔‘‘ بشیر نے حیرت سے دیکھا۔ ’’تمہیں بھی؟‘‘ رحمو ہنس پڑا۔ ’’ہاں! معلوم ہوتا ہے ظالم کی فہرست میں ہم سب کے نام ہیں۔‘‘
بشیر نے پہلی بار مسکرا کر کہا: ’’تو پھر شاید یہی ہماری طاقت بھی بن سکتی ہے۔‘‘
اگلے دن گاؤں کے چوک میں ایک نیا منظر تھا۔ ایک کسان آیا۔ پھر ایک مزدور۔ پھر ایک دکاندار۔ پھر ایک بیوہ۔ پھر ایک استاد۔ پھر ایک چرواہا۔ پھر ایک بڑھئی۔
لوگ ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔
استاد حکیم الدین نے کہا: ’’آج ہم کسی شخص کے خلاف نہیں، ظلم کے خلاف جمع ہوئے ہیں۔‘‘
ایک نوجوان نے پوچھا: ’’اگر سردار حملہ کرے؟‘‘
استاد نے جواب دیا: ’’ہم قانون کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے۔‘‘
’’اگر قانون دیر کرے؟‘‘ ’’ہم دستاویز بنائیں گے، گواہ جمع کریں گے، پُرامن رہیں گے اور اپنی آواز مسلسل بلند کریں گے۔‘‘ ’’اگر وہ ہمیں خریدنے کی کوشش کرے؟‘‘
رحمو نے کہا: ’’تو ہم اپنا ضمیر نہیں بیچیں گے۔‘‘
زینب بولی: ’’اگر وہ ہمیں آپس میں لڑانے کی کوشش کرے؟‘‘
بشیر نے اُس کا ہاتھ تھام لیا۔ ’’تو ہم ایک دوسرے کا ہاتھ اور مضبوطی سے پکڑیں گے۔‘‘
اچانک ہجوم میں سے کسی نے بلند آواز میں کہا: ’’زندگی مرنے میں نہیں، ڈَرنے میں نہیں!‘‘ لوگ چونک گئے۔
پھر دوسرے شخص نے کہا: ’’ظلم نہیں کرنا، اپنا حق لینا ہے!‘‘
تیسرے نے کہا: ’’مظلوم کو تنہا نہیں چھوڑنا!‘‘
چوتھے نے کہا: ’’کسی کا حق نہیں چھیننا!‘‘
اور پھر پورا چوک ایک آواز بن گیا۔
’’ہم ظلم نہیں کریں گے!‘‘ ’’ہم ظلم سہنے کو تقدیر نہیں سمجھیں گے!‘‘
’’ہم ظالم کے دست و بازو نہیں بنیں گے!‘‘ ’’ہم مظلوم کا ہاتھ نہیں چھوڑیں گے!‘‘
حویلی کی کھڑکی سے سردار سیاہ دل یہ سب دیکھ رہا تھا۔ اُس کے چہرے پر پہلی بار خوف کا سایہ آیا۔
اُس نے کالا خان کو بلایا۔ ’’یہ لوگ اتنے اکٹھے کیسے ہوگئے؟‘‘
کالا خان نے نظریں جھکا لیں۔ ’’حضور! میں نے بہت کوشش کی۔‘‘
’’پھر؟‘‘ ’’پھر… اُنہوں نے ایک دوسرے سے بات کرنا شروع کر دی۔‘‘
سردار نے دانت پیسے۔ ’’بات؟‘‘ ’’جی!‘‘
سردار کچھ دیر خاموش رہا۔
پھر بولا: ’’مجھے ہمیشہ معلوم تھا کہ یہ لوگ بھوکے ہیں، مگر آج معلوم ہوا کہ یہ لوگ بیدار بھی ہو سکتے ہیں۔‘‘
چند دن بعد گاؤں کے لوگوں نے اپنے حقوق کے متعلق تمام دستاویزات جمع کیں۔ انہوں نے قانونی راستہ اختیار کیا، گواہ پیش کیے، ظلم کی تفصیل لکھی اور متعلقہ اداروں تک اپنی آواز پہنچائی۔
مگر سردار نے آخری چال چلنے کا فیصلہ کیا۔
اس نے گاؤں میں افواہ پھیلا دی: ’’رحمو نے تم لوگوں کا حق کھا لیا ہے۔‘‘ لوگ رحمو کے خلاف ہونے لگے۔
پھر افواہ پھیلی: ’’بشیر سردار سے خفیہ ملا ہوا ہے۔‘‘ کچھ لوگ بشیر سے دُور ہوگئے۔
پھر کہا گیا: ’’زینب نے لوگوں کو بھڑکایا ہے۔‘‘ زینب پر الزام لگنے لگا۔
گاؤں ایک بار پھر ٹوٹنے لگا۔ یہی وہ لمحہ تھا جس کا سردار انتظار کر رہا تھا۔
حویلی کی چھت پر کھڑے ہو کر اُس نے مسکرا کر کہا: ’’اب دیکھو! شکار خود ایک دوسرے کو نوچیں گے۔‘‘
مگر اس بار استاد حکیم الدین آگے بڑھے۔ انہوں نے چوک میں ایک گھنٹی بجائی۔ گھنٹی کی آواز دُور تک گئی۔ ’’سب لوگ جمع ہو جاؤ!‘‘
لوگ جمع ہوگئے۔
استاد نے کہا: ’’افواہ ظلم کی دوسری تلوار ہے۔‘‘
رحمو نے پوچھا: ’’ہم کیا کریں؟‘‘
استاد بولے: ’’ہر الزام کا ثبوت مانگو۔ ہر خبر کی تحقیق کرو۔ ہر اختلاف کو دشمنی نہ بناؤ۔‘‘
بشیر نے کہا: ’’تو پھر ہمیں ایک دوسرے پر اعتماد کرنا ہوگا۔‘‘
زینب بولی: ’’اور اگر کسی سے غلطی ہو جائے؟‘‘
استاد نے کہا: ’’تو انصاف کرو، انتقام نہیں۔‘‘
پھر انہوں نے سب کی طرف دیکھ کر کہا: ’’یاد رکھو! اگر ہم ظلم کے خلاف لڑتے ہوئے جھوٹ، تہمت، نفرت اور ناانصافی کو اپنا لیں تو ہم نے ظالم کو شکست نہیں دی؛ ہم نے صرف اُس کا لباس پہن لیا ہے۔‘‘
یہ جملہ لوگوں کے دلوں میں اتر گیا۔
رحمو نے آگے بڑھ کر بشیر کا ہاتھ پکڑا۔ ’’اگر میرے بارے میں کوئی الزام سنو تو پہلے مجھ سے پوچھنا۔‘‘
بشیر نے کہا: ’’اور اگر میرے بارے میں سنو تو پہلے مجھے سننا۔‘‘
زینب نے دونوں کے ہاتھوں پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔ ’’اور اگر میرے بارے میں کچھ سنو تو میرے بچوں کی آنکھوں میں دیکھ لینا؛ شاید سچ وہاں مل جائے۔‘‘
لوگوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ پھر چوک میں خاموشی کے بعد ایک آواز اُبھری: ’’ہم ایک دوسرے کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔‘‘
وقت گزرتا گیا۔قانونی کارروائی آگے بڑھی۔ کچھ زمینیں واپس ہوئیں۔
کچھ مزدوروں کے واجبات ادا ہوئے۔
کچھ جھوٹے کاغذات سامنے آئے۔
اور پھر ایک دن سردار سیاہ دل کی حویلی کے بڑے دروازے پر سرکاری مہر لگ گئی۔
لوگ چوک میں کھڑے تھے۔ کسی نے نعرہ لگایا: ’’ظالم ہار گیا!‘‘
استاد نے ہاتھ اٹھا کر اسے روک دیا۔
’’نہیں!‘‘
سب خاموش ہوگئے۔
استاد نے کہا: ’’آج صرف ایک ظالم کا زور ٹوٹا ہے۔ ظلم ابھی دنیا سے ختم نہیں ہوا۔‘‘
رحمو نے پوچھا: ’’تو پھر اصل فتح کیا ہے؟‘‘
استاد مسکرائے۔ ’’اصل فتح یہ ہے کہ تم نے ظلم کے مقابلے میں کھڑے ہو کر خود ظالم بننے سے انکار کیا۔‘‘
اسی لمحے زینب کی آنکھ سے ایک آنسو نکلا۔ وہ زمین پر گرا۔ مگر اس بار وہ آنسو بے بسی کا نہ تھا۔ وہ شکر کا تھا۔
بشیر نے آسمان کی طرف دیکھا۔بادل چھٹ رہے تھے۔
سورج کی ایک کرن حویلی کی بلند دیوار پر پڑی اور پھر آہستہ آہستہ نیچے اترتی ہوئی گاؤں کے چوک تک پہنچ گئی۔
بوڑھے استاد نے کہا: ’’دیکھو! روشنی نے کسی سے بدلہ نہیں لیا۔ اُس نے صرف اندھیرے کی جگہ لے لی ہے۔‘‘
رحمو نے کہا: ’’تو کیا مظلوم کی آہ سنی گئی؟‘‘
استاد نے جواب دیا: ’’مظلوم کی آہ کبھی ضائع نہیں جاتی۔ مگر انسان کو بھی اپنے حصے کا کام کرنا ہوتا ہے۔ آنسو کے ساتھ قدم بھی اٹھانا پڑتا ہے، دُعا کے ساتھ تدبیر بھی کرنی پڑتی ہے، حق کے ساتھ حکمت بھی رکھنی پڑتی ہے۔‘‘
پھر انہوں نے چوک کے بیچ کھڑے ہو کر کہا:
’’یاد رکھو! ظالم کی سب سے بڑی طاقت اُس کا بازو نہیں، ہماری خاموشی ہے۔ اور مظلوم کی سب سے بڑی طاقت اُس کا غصہ نہیں، اُس کا شعور، اتحاد، صبر اور حق پر قائم رہنا ہے۔‘‘
رحمو نے آسمان کی طرف دیکھا۔
’’اور اگر پھر کبھی کوئی ظالم پیدا ہوگیا؟‘‘
استاد نے مسکرا کر کہا: ’’تو اُسے یاد دلانا کہ یہ وہی سَفینہ ہے جہاں کبھی لوگ الگ الگ ڈرتے تھے، مگر اب ایک دوسرے کا ہاتھ تھامنا سیکھ چکے ہیں۔‘‘
اچانک دور کسی مسجد سے اذان کی آواز بلند ہوئی۔ لوگ خاموش ہوگئے۔
سورج پوری آب و تاب سے نکل آیا۔
اور گاؤں کی گلیوں میں پہلی بار ایسا محسوس ہوا جیسے ہوا بھی کہہ رہی ہو: ’’ظلم کتنا ہی بلند کیوں نہ ہو، اُسے ایک دن انصاف کے سامنے جھکنا پڑتا ہے؛ شرط یہ ہے کہ مظلوم خوف کے سامنے نہ جھکے۔‘‘
اس دن سَفینہ کے لوگوں نے ایک عہد کیا: ’’ہم ظلم نہیں کریں گے۔ ہم ظلم کو معمول نہیں بنائیں گے۔ ہم مظلوم کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ ہم ظالم کے دست و بازو نہیں بنیں گے۔ ہم اپنا حق لیں گے، مگر کسی کا حق نہیں چھینیں گے۔ ہم اختلاف کریں گے، مگر ایک دوسرے کی انسانیت نہیں چھینیں گے۔ ہم آواز اٹھائیں گے، مگر قانون اور اخلاق کی حدود نہیں توڑیں گے۔ اور سب سے بڑھ کر… ہم انسان رہیں گے۔‘‘
اور شاید یہی اُس گاؤں کی اصل فتح تھی۔کیونکہ ظالم کو شکست دینا بڑی بات نہیں؛ اصل کمال یہ ہے کہ ظلم کے خلاف کھڑے ہوتے ہوئے انسان اپنے اندر کا انسان زندہ رکھے۔مظلوم کی آہ کب تک؟
جب تک اُس کی آواز اکیلی ہے۔اور مظلوم کی فریاد کون سنتا ہے؟
وہ معاشرہ، جو خاموشی کی دیوار توڑ کر اُس کے ساتھ کھڑا ہو جائے۔تب ایک آہ صرف آہ نہیں رہتی۔وہ شعور بن جاتی ہے۔ شعور اتحاد بن جاتا ہے۔ اتحاد حوصلہ بن جاتا ہے۔اور حوصلہ… ظلم کے سب سے اونچے ایوان کی بنیادیں ہلا دیتا ہے۔



تبصرہ لکھیے