ہوم << بڑے عوامی مسائل، سیاسی جماعتوں کا پارلیمانی ردعمل چھوٹا – سلمان احمد قریشی
600x314

بڑے عوامی مسائل، سیاسی جماعتوں کا پارلیمانی ردعمل چھوٹا – سلمان احمد قریشی

پٹرول صرف گاڑی کا ایندھن نہیں بلکہ مہنگائی کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔ پٹرول مہنگا ہوتا ہے تو ٹرانسپورٹ، سبزی، آٹا، دودھ، صنعت، زراعت اور روزمرہ استعمال کی اشیا تک اس کے اثرات پہنچتے ہیں۔ اسی لیے پٹرولیم لیوی کا معاملہ محض ایک ٹیکس یا حکومتی آمدن کا معاملہ نہیں، بلکہ براہ راست عوام کی جیب کا مسئلہ ہے۔یہی وجہ ہے کہ جماعت اسلامی نے پٹرولیم لیوی کے خلاف ملک گیر احتجاج شروع کیا۔

دھرنے ہوئے، احتجاجی کیمپ لگے، سڑکوں پر آواز بلند ہوئی، حکومت سے مذاکرات ہوئے اور لیوی کے خاتمے کے لیے تجاویز بھی پیش کی گئیں۔ جماعت اسلامی کا مؤقف ہے کہ عوام کو فوری ریلیف دینے کے لیے حکومتی اخراجات اور مراعات میں کمی بھی کی جا سکتی ہے۔8 ستمبر کو سندھ اسمبلی میں جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر محمد فاروق نے پٹرولیم لیوی ختم کرنے کی قرارداد پیش کی اور سندھ اسمبلی نے اسے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔یہاں سے ایک بڑا سیاسی سوال جنم لیتا ہے۔اگر پٹرولیم لیوی عوام پر بوجھ ہے تو خیبرپختونخوا اسمبلی میں ایسی قرارداد کیوں نہیں آتی؟
خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے۔ وہاں اسے اپوزیشن میں بیٹھنے کی مجبوری نہیں۔ اسے حکومت بھی حاصل ہے اور اسمبلی میں عددی طاقت بھی رکھتی ہے۔ اگر پی ٹی آئی سمجھتی ہے کہ پٹرولیم لیوی عوام دشمن ہے تو وہ اپنی ہی صوبائی اسمبلی سے وفاق سے لیوی ختم کرنے کا مطالبہ کیوں نہیں کر سکتی؟

اور اس سے بھی بڑا سوال قومی اسمبلی کا ہے۔وفاقی قانون سازی میں پٹرولیم، ٹیکس اور بجٹ کے معاملات پارلیمان کے سامنے آتے ہیں۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ نے 2026 کے بجٹ میں پٹرولیم لیوی سمیت مختلف مالیاتی معاملات کا جائزہ لیا۔ قومی اسمبلی کے سرکاری ریکارڈ میں بھی پٹرولیم لیوی سے متعلق قانون سازی کا ذکر موجود ہے۔ تو پھر عوام یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ اس معاملے کو قومی اسمبلی میں ایک مستقل سیاسی مطالبے کے طور پر کیوں نہیں اٹھایا گیا؟
اسمبلی وہ جگہ ہے جہاں سیاسی جماعت قرارداد لا سکتی ہے، حکومت سے جواب مانگ سکتی ہے، قائمہ کمیٹی میں معاملہ اٹھا سکتی ہے، بجٹ میں ترامیم پیش کر سکتی ہے اور پارلیمانی دباؤ پیدا کر سکتی ہے۔پھر سوال صرف پی ٹی آئی سے نہیں، پوری پارلیمانی اپوزیشن سے ہے۔تو پھر عوامی سوال اپنی جگہ موجود ہے جماعت اسلامی کی سندھ اسمبلی میں ایک نشست ہے، لیکن وہ پٹرولیم لیوی کے خلاف قرارداد لے آتی ہے؛ قومی اسمبلی میں موجود بڑی اپوزیشن جماعتیں ایسا کیوں نہیں کرتیں؟

یہ سوال پی ٹی آئی سے بھی بنتا ہے، کیونکہ پی ٹی آئی کے ارکان قومی اسمبلی میں موجود ہیں، تنخواہیں اور پارلیمانی مراعات لیتے ہیں، قائمہ کمیٹیوں کا حصہ ہیں اور عوام کے ووٹ سے ایوان میں پہنچے ہیں۔اگر عوام کا بجلی کا بل بڑھ رہا ہے تو اسمبلی میں آواز چاہیے۔اگر پٹرول مہنگا ہو رہا ہے تو پارلیمانی دباؤ چاہیے۔اگر ٹیکس بڑھ رہا ہے تو متبادل تجاویز چاہیے۔اگر مہنگائی بڑھ رہی ہے تو قانون سازی اور پالیسی کی سطح پر مزاحمت چاہیے۔صرف سوشل میڈیا پر حکومت کو برا کہنا یا جلسوں میں مہنگائی کا ذکر کرنا پارلیمانی سیاست کا مکمل متبادل نہیں ہو سکتا۔اگر حکومت غلط قانون بنا رہی ہے تو اس کے خلاف ووٹ دیں۔ اگر بجٹ عوام دشمن ہے تو ایوان میں موجود رہ کر ہر متعلقہ شق کے خلاف ووٹ دیں۔ اگر حکومت کا بل روکنا ہے تو کورم کی طاقت استعمال کریں۔ اگر قیمتوں کے خلاف عوامی آواز بننا ہے تو قرارداد لائیں، سوال اٹھائیں، کمیٹی میں جائیں اور عوام کو بتائیں کہ کس حکومتی فیصلے کو کس قانونی طریقے سے چیلنج کیا گیا۔واک آؤٹ سیاسی احتجاج ہے مگر ووٹ پارلیمانی فیصلہ ہوتا ہے۔پاکستان میں اپوزیشن کو صرف حکومت گرانے کی سیاست نہیں، قانون سازی کو متاثر کرنے کی سیاست بھی سیکھنا ہوگی۔

کیونکہ ووٹر نے اپنے نمائندے کو اسمبلی میں صرف اس لیے نہیں بھیجا کہ وہ حکومت کو برا بھلا کہے، بلکہ اس لیے بھیجا ہے کہ جب اس کی جیب پر بوجھ ڈالنے والا فیصلہ آئے تو وہ ایوان میں کھڑا ہو کر کہے”یہ شق عوام کے خلاف ہے، میں اس کے خلاف ووٹ دیتا ہوں۔“اور اگر وہ ووٹ نہیں دیتا، ایوان سے باہر نکل جاتا ہے یا کارروائی کے وقت موجود ہی نہیں ہوتا تو پھر عوام کو یہ سوال پوچھنے کا بھی حق ہے کہ پارلیمانی سیاست کی ذمہ داری کس کی ہے؟جمہوریت میں حکومت کی غلطی قابلِ گرفت ہے لیکن مؤثر اپوزیشن کی خاموشی، غیر حاضری یا محض علامتی احتجاج بھی سوال سے بالاتر نہیں ہو سکتا۔آخرکار عوام کو نعرہ نہیں، اپنے ووٹ کا نتیجہ قانون سازی میں نظر آنا چاہیے۔ بانی کی رہائی کا مطالبہ پی ٹی آئی کا سیاسی مطالبہ ہے۔ اس پر بات کرنا، احتجاج کرنا اور پارلیمان میں آواز اٹھانا اس کا حق ہے۔ لیکن کیا عوام کے باقی تمام مسائل بھی اسی ایک مطالبے میں ضم ہو جائیں؟

کیا پٹرول کی قیمت،بجلی کے بل کا جواب بھی ”بانی“ ہے؟
کیا مہنگائی، بے روزگاری، گیس، ٹیکس اور روزمرہ اخراجات کا جواب بھی صرف ”بانی“ ہے؟
اگر ایک عام موٹر سائیکل سوار پٹرول کی قیمت سے پریشان ہے تو اسے سیاسی جماعت سے اپنے معاشی مسئلے کا جواب چاہیے، صرف سیاسی نعرہ نہیں۔یہاں جماعت اسلامی کے دھرنے پر پی ٹی آئی کے بعض حلقوں کی تنقید یا مذاق بھی ایک الگ سوال پیدا کرتا ہے۔ کسی جماعت کے سیاسی طریقہ کار سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، دھرنے کی حکمت عملی پر تنقید بھی کی جا سکتی ہے، لیکن عوامی ریلیف کے مطالبے کا مذاق اڑانا سیاسی طور پر ایک عجیب رویہ ہے۔خاص طور پر اس وقت جب خود پی ٹی آئی یہ مؤقف رکھتی ہے کہ عوام مہنگائی، بجلی اور پٹرول کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔

جمہوریت میں احتجاج بھی ضروری ہے اور پارلیمان بھی اہم ہے۔سڑک پر دھرنا عوامی دباؤ پیدا کرتا ہے، لیکن اسمبلی میں قرارداد اس مطالبے کو ریاستی ریکارڈ کا حصہ بناتی ہے۔دھرنا حکومت کو سیاسی دباؤ دیتا ہے لیکن قانون سازی میں ترمیم حکومت کو قانونی اور پارلیمانی جواب دینے پر مجبور کرتی ہے۔اسی لیے جماعت اسلامی کے دھرنے کا مذاق اڑانے کے بجائے بہتر راستہ یہ تھا کہ پی ٹی آئی کہتی
”ہم دھرنے کے طریقہ کار سے اختلاف رکھتے ہیں مگر پٹرولیم لیوی ختم کرنے کے مطالبے کی حمایت کرتے ہیں اور اسے خیبرپختونخوا اسمبلی اور قومی اسمبلی دونوں میں لے کر جائیں گے۔“
پارلیمان کی کرسی صرف تقریر، احتجاج اور مراعات کے لیے نہیں ہوتی۔ اس کرسی کے ساتھ عوام کے مسائل کو قانون، پالیسی اور ووٹ میں تبدیل کرنے کی ذمہ داری بھی آتی ہے۔پاکستان کے عوام اب شاید یہ سوال پوچھنے کا حق رکھتے ہیں کہ حکومت عوام سے ریلیف کیوں نہیں دے رہی؟

یہ سوال تو سب پوچھ رہے ہیں۔لیکن اس کے ساتھ ایک اور سوال بھی پوچھا جانا چاہیے جو اپوزیشن عوام کے نام پر ووٹ لے کر اسمبلی میں پہنچی ہے، وہ عوام کے لیے پارلیمان کے اندر کیا کر رہی ہے؟اگر جواب ہر مسئلے پر صرف ایک سیاسی نعرہ ہے تو پھر سوال یہ نہیں کہ حکومت عوام کو ریلیف کیوں نہیں دے رہی سوال یہ بھی ہے کہ اپوزیشن عوام کے معاشی مسائل کو اپنی پارلیمانی طاقت کا مسئلہ کیوں نہیں بناتی؟
جمہوریت میں بانی بھی اہم ہو سکتا ہے، پارٹی بھی اہم ہو سکتی ہے مگر عوام سب سے اہم ہیں۔سیاست اپنی جگہ مگر جب معاملہ عوام کی جیب اور روزمرہ زندگی کا ہو تو کیا عوام کے درد کی کوئی سیاسی وابستگی ہونی چاہیے؟
سیاست میں اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے۔ حکومت اپنی پالیسی بناتی ہے، اپوزیشن اس پر تنقید کرتی ہے، احتجاج کرتی ہے، سوال اٹھاتی ہے اور جہاں ضرورت ہو وہاں قانون سازی کے عمل میں مخالفت کا ووٹ بھی دیتی ہے۔ یہی پارلیمانی جمہوریت کا بنیادی حسن ہے۔

لیکن سوال اس وقت پیدا ہوتا ہے جب عوام کے مسائل بہت بڑے ہوں اور سیاسی جماعتوں کا پارلیمانی ردعمل بہت چھوٹا دکھائی دینے لگے۔اب سوال یہ ہے کہ عوام کو درپیش مہنگے پٹرول اور لیوی کے بوجھ پر مزید واضح اور دوٹوک مؤقف اختیار کرنے میں رکاوٹ کیا ہے؟

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

سلمان احمد قریشی

سلمان احمد قریشی اوکاڑہ سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی، کالم نگار، مصنف اور تجزیہ نگار ہیں۔ تین دہائیوں سے صحافت کے میدان میں سرگرم ہیں۔ 25 برس سے "اوکاڑہ ٹاک" کے نام سے اخبار شائع کر رہے ہیں۔ نہ صرف حالاتِ حاضرہ پر گہری نظر رکھتے ہیں بلکہ اپنے تجربے و بصیرت سے سماجی و سیاسی امور پر منفرد زاویہ پیش کرکے قارئین کو نئی فکر سے روشناس کراتے ہیں۔ تحقیق، تجزیے اور فکر انگیز مباحث پر مبنی چار کتب شائع ہو چکی ہیں

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment