ہوم << تنقید یا خود مذمتی؟ – معوذ اسد صدیقی
600x314

تنقید یا خود مذمتی؟ – معوذ اسد صدیقی

اب تو اتنی چیزیں ہیں کہ بولنے یا لکھنے کو دل نہیں چاہتا، لیکن بعض باتیں ایسی ہوتی ہیں جو بولنے یا لکھنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔ ہمارے ہاں ایک عجیب بیماری ہے، خود ملامتی۔ اس میں کچھ شک نہں کہ ہمارے اوپر قابض گروہ کی حرکات بھی ایسی ہیں اور ہم پر کچھ ایسے لوگ بھی سوار کر دیے گئے ہیں کہ ہر چیز پر خود کو ملامت کرنے کا دل چاہتا ہے۔

لیکن خود کو مکمل زیرو کر کے دوسروں کی خوشی میں خوش ہونا، خصوصاً ایک ایسی ریاست کی کامیابی پر جس سے ہمارا تاریخی اور سیاسی اختلاف ہے، یہ بھی ایک عجیب رویہ ہے۔ گزشتہ دنوں برکس کے حوالے سے بھارت میں ہونے والی کانفرنس میں دنیا کے دو بڑے رہنماؤں سمیت متعدد عالمی شخصیات کی شرکت یقیناً بھارت کے لیے ایک کامیابی ہے۔ اسے تسلیم کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ لیکن یہاں سے ایک خود ملامت، خود مذمت اور اپنے ہی سینے نوچنے والے گروہ کا رونا دھونا بھی شروع ہو جاتا ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ بھارت کی ترقی سے جلیں یا اس کی کسی کامیابی کو تسلیم نہ کریں، لیکن میں نے ایک چیز ضرور نوٹ کی ہے کہ بھارت کی کوئی اچھی خبر ان لوگوں کے لیے ایسی بڑی خوشخبری بن جاتی ہے کہ وہ اسے ثواب سمجھ کر شیئر کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ ایران اور امریکا سے لے کر پاکستان میں بیٹھے ہوئے سوشل میڈیا کے بعض خود ملامتی اور خود مذمتی عناصر فوراً طعنے، تشنے اور پاکستان کو کوسنے شروع کر دیتے ہیں۔

بھارت کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملانے کے بعد یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ پاکستان کتنا بدنام، ذلیل، رسوا اور گھٹیا ملک ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں حقیقی معنوں میں عوامی حکومت کا سوال اپنی جگہ موجود ہے، لیکن صورتحال ایسی بھی نہیں جیسی بعض لوگ تصویر بنانے کی کوشش کرتے ہیں کہ برکس کی ایک کانفرنس کے بعد پاکستان ذلیل و رسوا ہو گیا اور بھارت نے دنیا فتح کر لی۔مجھے حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ ایک گروہ بھارت کی ہر کامیابی کو چومنے، چاٹنے اور چوسنے لگتا ہے، لیکن اس کی ناکامیوں پر زبان بند ہو جاتی ہے۔اس کے ظلم و جبر پر لکھتے ہوئے ان کی انگلیاں ٹوٹ جاتی ہیں مئی کے واقعات میں جب پاکستان نے اپنی دفاعی صلاحیت کا مظاہرہ کیا اور انڈیا کو شکست فاش دی تو انہی لوگوں میں سے بعض نے اسے ماننے کے بجائے طرح طرح کے شکوک و شبہات پیدا کیے، کسی نے اسے ڈرامہ قرار دیا، کسی نے پاکستانی مؤقف کو جھوٹ قرار دیا۔ لیکن جب بات بھارت کے چاند تک پہنچنے کی ہو، عالمی رہنماؤں کی آمد کی ہو یا کسی بین الاقوامی کامیابی کی ہو تو یہی لوگ اچھلنے کودنے لگتے ہیں اور پاکستان کو کوسنا شروع کر دیتے ہیں۔

جب ترکی اور سعودی عرب سے پاکستان نے معاہدہ کیا تو اس کے کیڑے بھی خود مذمتی گروہ نے نکالے لیکن ان حضرات سے کوئی پوچھے کہ آپ حق کی بات کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں مگر کیا کبھی بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے، اس پر ان کی زبان کب کھلی؟میں شرط لگا کر کہتا ہوں کی فیض کی بیواؤں سے لے پاکستان کے ان عظیم دانشوروں نے ایک لفظ تک نہ لکھا ہوگا . بھارت کا سیکولر سے سیکولر مسلمان بھی آج اپنے مستقبل کے حوالے سے پریشان نظر آتا ہے۔ چند روز پہلے میں ایک مسلم رہنما کی پریس کانفرنس دیکھ رہا تھا، جو خود ہمیشہ پاکستان اور قائداعظم محمد علی جناح کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں اور یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ ہم اپنی مرضی سے بھارت میں رکے تھے۔ لیکن وہی رہنما اپنے ملک میں مسلمانوں کے مستقبل پر بات کرتے ہوئے آبدیدہ نظر آئے۔ان کا کہنا تھا کہ اب میں مسلمانوں کا کوئی مسقبل انڈیا میں نہں دیکھ رہا .

انہوں نے اپنی ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ گزشتہ دنوں بھارت میں دس ہزار سے زائد مساجد اور خانقاہوں کو بلڈوز کر دیا گیا، جبکہ سیکولرزم کے نام پر شرعی قوانین میں بھی مداخلت اور چھیڑ چھاڑ کی جا رہی ہے۔ گائے کے گوشت کے نام پر کئی مسلمان قتل ہو چکے ہیں۔ بھارت میں مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک، مساجد اور مذہبی مقامات سے متعلق تنازعات، اسلامی قوانین میں مداخلت کی کوششیں، مسلمانوں کے تعلیمی اداروں کو درپیش مسائل، گائے کے گوشت کے نام پر تشدد اور ہجومی کارروائیوں کی خبریں مسلسل سامنے آتی رہی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ بھارت کی ترقی پر خوشی منانے والے اس صورت حال پر کبھی اتنی ہی شدت سے کیوں نہیں بولتے؟
دنیا میں ایسے ممالک اور معاشرے ضرور موجود ہیں جہاں مذہبی تعصب پایا جاتا ہے، لیکن بھارت میں جس طرح مذہبی اور سیاسی تعصب کے بڑھتے ہوئے مظاہر ریاستی طور پر نظر آرہا ہے ایسا صرف اسرائیل میں نظر آتا ہے. کشمیر کے معاملے میں بھی ہمارا رویہ عجیب ہے۔ پاکستان میں ہونے والے مظاہروں اور کشمیریوں کے ردعمل کو ہم نے دیکھا اور یہ بھی دیکھا کہ بعض کشمیریوں نے پاکستان کے خلاف کھل کر اپنے غصے کا اظہار کیا۔ یہ حقیقت بھی ہمیں تسلیم کرنی چاہیے۔ان کے ساتھ زیادتی ہوئی مگر انہوں نے زبان تو کھولی.

لیکن دوسری طرف مقبوضہ کشمیر میں خوف کی فضا بھی کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اگر وہاں کیمرہ لے کر جائیں تو بہت سے لوگ کھل کر بات کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ بھارت کے خلاف ایک لفظ بولنے کے نتائج کے خوف کا اظہار خود کئی کشمیری کر چکے ہیں۔ یہی کیفیت دنیا کے مختلف ملکوں میں مقیم بعض بھارتی مسلمانوں اور کشمیریوں میں بھی نظر آتی ہے۔ کئی مرتبہ کیمرے کے سامنے آنے سے انکار کی وجہ بھی یہی خوف بتایا جاتا ہے کہ ان کے خاندان کو بھارت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔جس کا مجھے ذاتی تجربہ ہے. سکھ برادری کے ایک حصے نے البتہ کئی مواقع پر بھارت کے خلاف اپنے جذبات کا کھل کر اظہار کیا ہے۔ خالصتان تحریک سے وابستہ احتجاج، بھارتی پرچم جلانے اور بھارت کے خلاف کھلے مظاہرے اس کی مثالیں ہیں۔ اس کے برعکس پاکستان میں، پاکستان سے لے کر امریکا تک، بعض لوگ اپنی ناراضی کا اظہار کھل کر کرتے ہیں۔ پاکستان کی جنگ ہو یا کوئی کامیابی، پاکستان کو گالیاں دینا، اس کے خلاف طعنے دینا اور اپنے ہی ملک کو دنیا کے سامنے برا ثابت کرنے کی کوشش کرنا انہیں آسانی سے ممکن ہے۔

لیکن بھارت میں ایسا کرنا اتنا آسان نہیں۔ وہاں ریاستی دباؤ اور سماجی ردعمل کا خوف اپنی جگہ موجود ہے۔ کچھ پرانے سیاسی کارکن یا معروف شخصیات شاید کھل کر بات کر لیتے ہوں، لیکن عام آدمی کے لیے ایک سوال اٹھانا بھی بعض اوقات مشکل ہو جاتا ہے۔ حال ہی میں دو مسلم خواتین صحافیوں کے ساتھ پیش آنے والے واقعات بھی پوری دنیا نے دیکھے۔ لیکن حیرت ہے کہ خود کو انسانی حقوق، آزادیٔ اظہار اور جمہوریت کا علمبردار قرار دینے والے اس خود مذمتی گروہ کی طرف سے اس پر کوئی خاص آواز سنائی نہیں دی۔ اس خود مذمتی گروہ نے جنتر منتر میں انڈیا حکومت کی رواداری کا ذکر کیا ان کی اطلاح کے لئے عرض ہے اب پس پردہ ان بچوں کے ساتھ ریاستی جبر شروع ہوچکا ہے . میرا مسئلہ بھارت کی ترقی نہیں۔ بھارت ترقی کرے، اس کے عوام خوشحال ہوں، ہمیں اس پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم اپنی ہر ناکامی کا ذمہ دار پاکستان کو اور ہر کامیابی کا کریڈٹ بھارت کو دینے لگیں۔

تنقید ضرور کریں، لیکن تنقید میں انصاف بھی ہونا چاہیے۔ پاکستان کی غلطی غلطی ہے تو بھارت کی غلطی بھی غلطی ہونی چاہیے۔ پاکستان کی کامیابی کو کامیابی ماننے میں اگر ہمیں تکلیف ہوتی ہے تو بھارت کی کامیابی پر جشن منانے سے پہلے بھی ہمیں اپنے معیار پر غور کرنا چاہیے۔ اور آخر میں ان حضرات کے لیے ایک چھوٹی سی تجویز ہے جو آج کل مودی صاحب اور بھارت کی محبت میں ان کی تصویریں شیئر کر رہے ہیں: مودی صاحب سے درخواست کریں کہ اپنے ان مداحوں کو اپنے ملک میں پناہ دے دیں۔ آخر انہیں سیاسی پناہ کی سخت ضرورت ہے، کیونکہ جس ملک کی محبت کے وہ ڈونگے برسا رہے ہیں، شاید وہی ملک ان کے لیے سب سے محفوظ پناہ گاہ ثابت ہو۔

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

معوذ اسد صدیقی

معوذ اسد صدیقی 25 سال سے صحافت سے وابستہ ہیں۔ ہم نیوز امریکہ کے بیوروچیف ہیں۔ ان کا شمار امریکہ میں پاکستانی صحافت کے چند معروف صحافیوں میں ہوتا ہے۔ کراچی یونیورسٹی سے ماسٹرز کرنے کے بعد مختلف اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا کے ساتھ وابستہ رہے ہیں۔ ان کا تجزیہ ہمیشہ غیرجانبداری کا رنگ لیے ہوتا ہے۔ امریکہ کی پاکستانی کمیونٹی میں ان کی پہچان خدمتِ خلق ہے۔

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment