26 اگست 2026 کی صبح اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز، پمز، کے ماں اور بچے کے ہسپتال (وارڈ) میں لگنے والی آگ نے چودہ نومولود بچوں کی زندگیاں چھین لیں(کچھ ذرائع اس تعداد کو تیس تک بھی بتا رہے ہیں)۔ یہ محض ایک ہسپتال میں آگ لگنے کا واقعہ نہیں تھا۔ یہ ہمارے نظامِ صحت، ہسپتال انتظامیہ، حفاظتی نگرانی، قانونی جواب دہی اور ریاستی اداروں کی اجتماعی ذمہ داری کا ایک ایسا امتحان ہے جس کے نتائج کسی ایک افسر کی معطلی یا چند افراد کے خلاف کارروائی سے کہیں آگے جاتے ہیں۔
ابتدائی خبروں میں کبھی ایئرکنڈیشنر میں دھماکے، کبھی برقی شارٹ سرکٹ، کبھی کسی طبی آلے اور کبھی آکسیجن کی موجودگی کو آگ کے تیزی سے پھیلنے کی وجہ بتایا گیا۔ لیکن وزیراعظم کی قائم کردہ تحقیقاتی کمیٹی نے زیادہ محتاط اور قانونی طور پر درست راستہ اختیار کیا۔ کمیٹی نے واضح کیا کہ آگ کے پہلے شعلے یا چنگاری کا حقیقی سبب ابھی حتمی طور پر ثابت نہیں ہوا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں جذباتی ردِعمل اور قانونی تجزیے میں فرق شروع ہوتا ہے۔ کسی بھی سنجیدہ تحقیق میں پہلا سوال یقیناً یہ ہوگا کہ آگ لگی کیسے؟ لیکن پمز کے معاملے میں اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ اگر ایک محدود جگہ پر آگ لگی تو وہ چند منٹوں میں چودہ نومولود بچوں کی موت کا سبب کیسے بن گئی؟
قانونِ غفلت میں صرف حادثے کی ابتدا نہیں دیکھی جاتی بلکہ یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ نقصان کو روکنے کے لیے کیا حفاظتی نظام موجود تھا۔ کسی ہسپتال سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ ہر برقی خرابی کو سو فیصد روک لے، لیکن اس سے یہ ضرور توقع کی جاتی ہے کہ اس کے پاس کام کرنے والا فائر الارم ہو، ایمرجنسی راستے قابلِ استعمال ہوں، متعلقہ عملہ تربیت یافتہ ہو، آکسیجن اور بجلی کو محفوظ انداز میں بند کرنے کا طریقہ معلوم ہو، آگ کی صورت میں واضح کمانڈ سسٹم موجود ہو اور بیرونی امدادی اداروں کو اطلاع دینے کا نظام چند افراد کی ذاتی صوابدید پر منحصر نہ ہو۔نوزائیدہ بچوں کا وارڈ کسی عام عمارت کا کمرہ نہیں ہوتا۔ وہاں موجود بچے خود بھاگ کر باہر نہیں نکل سکتے۔ ان میں سے بعض انکیوبیٹرز میں ہوتے ہیں، بعض آکسیجن یا دوسرے آلات سے منسلک ہوتے ہیں۔ ایسے وارڈ میں ایمرجنسی پلان کا مطلب صرف دیوار پر لگی ایک ہدایت یا کسی فائل میں رکھا ہوا SOP نہیں۔ عملے کو معلوم ہونا چاہیے کہ کون کس بچے کو نکالے گا، کون بجلی یا آکسیجن بند کرے گا، کون فائر بریگیڈ کو اطلاع دے گا، کون متبادل راستہ کھولے گا اور بچوں کو کس محفوظ مقام پر منتقل کیا جائے گا۔
یہی وہ پہلو ہے جو پمز سانحے کو عام طبی غفلت سے بڑھا کر ادارہ جاتی غفلت کے سوال میں تبدیل کرتا ہے۔ دستیاب سی سی ٹی وی مواد سے یہ بھی سامنے آیا کہ بعض ڈاکٹرز، نرسوں اور سکیورٹی اہلکاروں نے بچوں کو بچانے کی کوشش کی۔ ایک نرس نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر ایک نومولود کو نکالا۔ یہ حقیقت ہمارے قانونی تجزیے میں بہت اہم ہے۔ اگر پورا نظام ناکام ہوا ہو تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ حادثے کے وقت وہاں موجود ہر شخص مجرم تھا۔ کسی فرد کی بہادری اور کسی ادارے کی ناکامی ایک ہی وقت میں موجود ہو سکتی ہیں۔ یہاں اصل خطرہ یہ ہے کہ کسی بڑے سانحے کے بعد احتساب کا رخ ہمیشہ نیچے کی طرف نہ کر دیا جائے۔ یعنی جو شخص سب سے قریب موجود تھا اسے ذمہ دار ٹھہرا دیا جائے، جبکہ وہ افسران اور ادارے جو برسوں سے منصوبہ بندی، فائر سیفٹی، مرمت، تربیت، نگرانی اور معائنہ کے ذمہ دار تھے، پس منظر میں چلے جائیں۔قانون میں ذمہ داری عہدے کے نام یا جائے وقوعہ پر موجودگی سے نہیں بلکہ duty، control، knowledge، omission اور causation سے پیدا ہوتی ہے۔ کس شخص پر کیا ذمہ داری عائد تھی؟ کیا اسے خطرے کا علم تھا؟
کیا اس کے پاس اسے دور کرنے کا اختیار تھا؟ کیا اس نے ضروری اقدام نہیں کیا؟ اور کیا اس کوتاہی کا اموات سے قابلِ اثبات تعلق موجود ہے؟ اصل فوجداری قوانین اور سول قوانین کے سوالات یہی ہیں۔ پمز کے معاملے میں جولائی 2026 کا سابقہ آتش زدگی کا واقعہ خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ اگر چند ہفتے پہلے اسی ادارے میں آگ لگ چکی تھی، فائر سیفٹی کی خامیاں سامنے آ چکی تھیں اور اصلاحی اقدامات تجویز کیے گئے تھے تو اگست کا سانحہ محض ایک ناقابلِ پیش بینی حادثہ نہیں رہتا۔
قانونی زبان میں اسے foreseeability کہا جاتا ہے۔ ایک ایسا خطرہ جو پہلی مرتبہ اچانک سامنے آئے اور ایک ایسا خطرہ جس کے بارے میں ادارے کو پہلے ہی خبردار کیا جا چکا ہو، دونوں کا قانونی مقام یکساں نہیں ہوتا۔ اگر پہلے واقعے کے بعد رپورٹ تیار ہوئی، نقائص شناخت ہوئے، مگر ان پر عملدرآمد نہیں ہوا تو سوال یہ نہیں رہتا کہ رپورٹ بنی یا نہیں۔ سوال یہ بنتا ہے کہ رپورٹ کے بعد خطرہ ختم کیوں نہیں کیا گیا۔
سرکاری اداروں میں ہماری ایک پرانی بیماری یہی ہے۔ حادثے کے بعد کمیٹی بنتی ہے، رپورٹ آتی ہے، چند ہدایات جاری ہوتی ہیں اور پھر فائل بند ہو جاتی ہے۔ مگر patient safety میں فائل بند ہونے سے خطرہ بند نہیں ہوتا۔ خطرے کی نشاندہی کے بعد اس کے خاتمے، ذمہ دار افسر کے تعین، مدت مقرر کرنے اور پھر آزادانہ طور پر یہ تصدیق کرنے کی ضرورت ہوتی ہے کہ خامی واقعی دور ہوئی۔ پمز اسلام آباد میں واقع ہے، اس لیے Islamabad Healthcare Regulation Act 2018 کو اس سانحے کے قانونی جائزے سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ یہ قانون صحت کے اداروں کی رجسٹریشن، لائسنسنگ، معائنہ اور حفاظتی معیار سے متعلق باقاعدہ ریگولیٹری ڈھانچہ فراہم کرتا ہے۔ لہٰذا تحقیق صرف ہسپتال کے اندر موجود انتظامیہ تک محدود نہیں رہنی چاہیے۔ یہ بھی دیکھا جانا چاہیے کہ متعلقہ ریگولیٹری ادارے نے آخری معائنہ کب کیا؟ فائر سیفٹی کا جائزہ لیا گیا یا نہیں؟ نوزائیدہ وارڈ کے حفاظتی انتظامات کس معیار پر پرکھے گئے؟ اگر کوئی نقص سامنے آیا تو اس پر عملدرآمد کی نگرانی کس نے کی؟
یہ سوال اس لیے ضروری ہیں کہ ادارہ جاتی غفلت صرف ہسپتال کی چار دیواری کے اندر پیدا نہیں ہوتی۔ بعض اوقات regulatory failure بھی patient harm کا حصہ بن جاتا ہے۔اسی طرح “criminal negligence” کی اصطلاح بھی بہت احتیاط سے استعمال ہونی چاہیے۔ چودہ بچوں کی موت ایک ناقابلِ برداشت سانحہ ہے۔ عوامی غصہ فطری ہے۔ مگر قانون غم اور غصے کی شدت سے جرم ثابت نہیں کرتا۔ہر negligence جرم نہیں ہوتی۔سول negligence، professional misconduct، administrative failure اور criminal negligence چار الگ قانونی تصورات ہیں۔ پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 318، 319 اور 337-H بعض صورتوں میں لاپرواہی سے موت یا ضرر کے معاملے میں سامنے آ سکتی ہیں، لیکن فوجداری سزا کے لیے محض یہ دکھانا کافی نہیں کہ کوئی افسر اپنے عہدے پر موجود تھا۔ ثبوت یہ دکھائے کہ اس کی غفلت یا غیرقانونی omission سنگین تھی اور اس کا نتیجے سے قانونی causation قائم ہوتا ہے۔
پاکستانی عدالتی نظائر بھی طبی غفلت کے مقدمات میں اسی احتیاط پر زور دیتے ہیں۔ Muhammad Aslam v Dr Imtiaz Ali Mughal جیسے مقدمات میں یہ اصول سامنے آیا کہ فوجداری ذمہ داری کے لیے غفلت کا معیار عام سول negligence سے زیادہ بلند ہونا چاہیے۔ تقابلی طور پر Jacob Mathew v State of Punjab اور R v Adomako بھی یہی فرق واضح کرتے ہیں۔یہ اصول ڈاکٹروں یا افسران کو تحفظ دینے کے لیے نہیں، انصاف کو تحفظ دینے کے لیے ہے۔ جہاں قابلِ سزا غفلت ثابت ہو وہاں قانون پوری قوت سے حرکت میں آئے، لیکن کسی کو صرف اس لیے مجرم نہ بنا دیا جائے کہ عوام کسی فوری نام کی تلاش میں ہیں۔اسلامی قانون کے نقطۂ نظر سے بھی پمز کا واقعہ انتہائی معنی خیز ہے۔ حفظ النفس انسانی جان کی حفاظت کو شریعت کے بنیادی مقاصد میں شمار کرتا ہے۔ امانت کا اصول یہ تقاضا کرتا ہے کہ جس ادارے کے سپرد انسانی جان ہو وہ اپنی ذمہ داری احتیاط، اہلیت اور دیانت کے ساتھ انجام دے۔ اسی طرح تقصیر ضروری ذمہ داری میں کوتاہی کو ظاہر کرتی ہے۔
اسلامی قانون ہر ناموافق طبی نتیجے کو negligence قرار نہیں دیتا۔ موت ہو جانا خود بخود ڈاکٹر یا ادارے کی ذمہ داری ثابت نہیں کرتا۔ ذمہ داری کے لیے تقصیر، سببیت اور قابلِ نسبت ضرر کا تعلق قائم کرنا ضروری ہے۔ مگر یہ تصور بھی محض فرد تک محدود نہیں۔ جدید اسلامی فقہی مباحث میں institutional accidents کو تسلیم کیا گیا ہے، یعنی ایسے واقعات جن میں مختلف انتظامی اور عملی کمزوریاں مل کر نقصان پیدا کرتی ہیں۔پمز کا سانحہ اسی institutional failure کی ایک ممکنہ مثال ہے۔اسی طرح عالمی ادارۂ صحت کا patient safety framework ایک اہم سبق دیتا ہے۔ WHO کے مطابق مریضوں کی حفاظت صرف کسی ڈاکٹر کی انفرادی مہارت پر منحصر نہیں ہوتی۔ محفوظ علاج کے لیے محفوظ systems، reporting، learning، risk management، clinical governance اور institutional accountability ضروری ہیں۔یہاں جولائی کا واقعہ دوبارہ ہمارے سامنے آ جاتا ہے۔ اگر ایک ادارے نے پہلے آگ کا واقعہ دیکھا، خطرات شناخت کیے اور پھر چند ہفتے بعد زیادہ سنگین حادثہ ہو گیا تو WHO کے نقطۂ نظر سے بنیادی سوال یہ ہے کہ ادارے نے پہلے واقعے سے کیا سیکھا؟
اگر رپورٹ بنی مگر نظام نہ بدلا تو reporting ہوئی، learning نہیں۔اگر نقص لکھ دیا گیا لیکن ذمہ دار شخص اور deadline مقرر نہ ہوئی تو governance نہیں ہوئی۔اور اگر اصلاح کا دعویٰ کیا گیا مگر verification نہیں ہوئی تو accountability مکمل نہیں ہوئی۔حکومت نے متاثرہ خاندانوں کے لیے مالی امداد کا اعلان کیا۔ یہ ایک انسانی اور اخلاقی اقدام ہے، لیکن اسے قانونی جواب دہی کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔ کسی ماں یا باپ کے لیے پچاس لاکھ روپے ان کے نومولود بچے کی قیمت نہیں ہو سکتے۔ مالی امداد الگ چیز ہے، civil compensation الگ، professional accountability الگ، اور criminal responsibility الگ۔متاثرہ خاندانوں کا حق صرف مالی امداد نہیں۔ انہیں یہ جاننے کا حق بھی ہے کہ ان کے بچوں کے ساتھ اصل میں کیا ہوا، کون سا حفاظتی نظام ناکام ہوا، پہلے سے معلوم خطرات پر کارروائی کیوں نہیں ہوئی اور اب ایسا کیا بدلا جائے گا کہ آئندہ کسی اور NICU میں یہ سانحہ دوبارہ نہ ہو۔
پمز کا واقعہ ہماری طبی غفلت کی قانونی ساخت کا ایک بنیادی مسئلہ نمایاں کرتا ہے: ہمارے پاس قوانین اور ادارے تو موجود ہیں، مگر ان کے درمیان رابطہ کمزور ہے۔فوجداری قانون الگ، PMDC الگ، healthcare regulator الگ، سول عدالت الگ، انتظامی کارروائی الگ اور پارلیمانی نگرانی الگ ہے۔ یہی fragmentation ایک واضح اور مربوط patient-safety system کو جنم نہیں لینے دیتی۔اس سانحے کے بعد سب سے آسان کام چند افراد کو معطل کرنا ہے۔ سب سے مشکل کام پورے نظام سے یہ پوچھنا ہے کہ خطرہ پہلے کہاں پہچانا گیا، کس کو بتایا گیا، کس نے عمل نہیں کیا، کس ریگولیٹر نے نگرانی نہیں کی، کس افسر نے ذمہ داری آگے منتقل کر دی اور کس سطح پر ایک معلوم خطرہ دوبارہ ایک مہلک حادثے میں تبدیل ہو گیا۔چودہ نومولود بچے واپس نہیں آ سکتے۔ لیکن ان کی موت اگر ہمیں صرف ایک اور انکوائری رپورٹ دے کر چلی گئی تو یہ دوسری ناکامی ہوگی۔
اس سانحے کا اصل سبق یہ ہونا چاہیے کہ ہسپتال میں safety کسی فائر ایکسٹنگوشر یا فائل میں پڑے SOP کا نام نہیں۔ Safety ایک زندہ نظام ہے؛ خطرے کی شناخت، تربیت، فوری ردِعمل، قابلِ استعمال emergency exits، واضح کمانڈ، محفوظ بجلی اور آکسیجن، مسلسل معائنہ اور ہر معلوم خامی کے خاتمے کی تصدیق۔اور قانون کا مقصد بھی صرف یہ نہیں کہ حادثے کے بعد کسی ایک شخص کو سزا دے دی جائے۔قانون کا اصل مقصد یہ ہونا چاہیے کہ ذمہ داری وہاں پہنچے جہاں ثبوت اسے لے جائے، معلوم خطرے کو دوبارہ جان لینے کا موقع نہ ملے، اور ہسپتال واقعی ایسی جگہ بنے جہاں سب سے کمزور مریض بھی نظام کی غفلت سے محفوظ ہو۔پمز کے سانحے کے بعد شاید سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ کس کو معطل کیا گیا؟
اصل سوال یہ ہے:
کسے خطرے کا علم تھا، اسے دور کرنا کس کی ذمہ داری تھی، پہلے واقعے کے بعد کیا کیا گیا، نظام کیوں ناکام ہوا، اور اب ایسا کیا بدلا جائے گا کہ کسی اور ماں کو اپنے نومولود کو اسی طرح نہ کھونا پڑے؟



تبصرہ لکھیے