مرنے کے بعد میں نے دیکھا کہ کئی لوگ ہیں۔ جنھیں میں نے اپنی زندگی میں بھی دیکھا تھا۔ مگر سب سے زیادہ خوشی مجھے محترمہ بینظیر بھٹو کو دیکھ کر ہوئی۔ میں نے انہیں زندگی میں صرف ایک بار ہی دیکھا تھا جب وہ اسکول کے ایک بڑے ایونٹ میں آئی تھیں۔ ان کے سامنے میں اپنی ساتھیوں کے ساتھ اسکول بینڈ میں پرفارم کرتے ہوئے گزری۔ دو منٹ کی یہ یاد میری یاداشت کا انمول حصہ ہے۔
اس ایک یاد کے علاوہ اور کچھ نہیں تھا۔ مگر اب مرنے کے بعد وہ میرے بے حد قریب کھڑی تھیں، کوئی روکنے والا تھا۔ نہ کوئی ٹوکنے والا، سب سے بڑی بات یہ ہوئی کہ وہ مجھ سے مخاطب ہوئیں۔ جی ہاں، ملک کی پہلی خاتون وزیر اعظم، انتہائی قابل، پڑھی لکھی وزیراعظم کی بیٹی بغیر کسی وجہ کے مجھے غریب سے مخاطب ہوئیں۔ جن سے لوگ مخاطب ہونے، بات کرنے کو ترستے تھے، وہ مجھ سے مخاطب ہوئیں۔ مجھ پر تو سکتہ طاری ہوگیا۔ بی بی کے گلاب کی پنکھڑیوں جیسے لب وا ہوئے اور بولیں:
“راحیلہ خان، تم اتنی جلدی آگئیں؟ تمہاری عمر ابھی تو اتنی کم ہے۔ کچھ وقت اور رہتیں۔”
میں مسکرا کر بولی: “بس مجھے اتنی ہی دیر رہنا تھا۔ میرا وقت پورا ہوگیا تو آگئی۔”
پھر بولیں: “اچھا یہ بتاؤ، میرے ملک کا کیا حال ہے؟”
مجھے لگا وہ بلاول، آصفہ کا پوچھیں گی، کیونکہ ماں کا پہلا سوال بچوں کے متعلق ہی ہوتا ہے۔ مگر محترمہ ملک کے شہریوں کو اپنی اولاد سمجھتی تھیں، اس لیے فکر مند بھی ان کے متعلق زیادہ تھیں۔
میں نے جواب میں دیر کی( کیا بولوں سچ یا جھوٹ بول دو) تو انہوں نے دوبارہ پوچھا: “سب ٹھیک تو ہے نا پاکستان میں؟”
پھر میں نے نظر چرا کر کہا:
“نہیں بی بی، سب ٹھیک نہیں ہے۔ ملک میں غربت نے اپنے پنجے اتنے مضبوط گاڑ لیے ہیں کہ اب غربت ختم ہوتی نظر نہیں آتی، بے روزگاری، معاشی بدحالی، مہنگی بجلی، صحت کی ناکافی سہولیات، تعلیم کے عدم مواقع، سیاسی بحران اور تو اور ایک بالواسطہ مارشل لاء ہے جو نافذ ہے۔ عدلیہ محکوم ہے، میڈیا پابند ہے۔ تحریر و تقریر مشروط ہیں۔ موروثیت جنم در جنم لے رہی ہے۔ کرپشن اشرافیہ کا حق بن گئی ہے۔ لاء اینڈ آرڈر روز چیلنج کیا جاتا ہے۔پاکستانی پاسپورٹ دنیا میں بے توقیر ہے۔ نوجوان ملک سے باہر جانا چاہتے ہیں۔غریب غریب تر اور امیر مزید امیر ہوتا ہے۔ آپ کے زمانے میں صرف 22 اس امیر خاندان تھے اب کئی ہزار ہوگئی ہے جو کینسر کی طرح ملک میں ناسور بن گئے ہیں۔ عوام کو کاٹ کر ذمبی بنا دیا ہے۔”
محترمہ یہ سن کر افسردہ ہوئیں اور بولیں: “بلاول کیا کر رہا ہے؟” ان کے انداز میں وہی امید تھی جو کہ ہر ماں کو اپنی اولاد کے لئے ہوتی ہے چاہے اولاد کیسی ہی کیوں نہ ہو۔
اب میں افسردہ ہوئی اور بولی: “مجھے افسوس ہے بی، بلاول صاحب مقید ہیں۔ عوام سے کوسوں دور، اپنے شاہی لاؤ لشکر میں پھنسے ہوئے۔ کچھ تھوڑی بہت خبریں ان کو سوشل میڈیا سے مل جاتی ہیں بس اور ہمیں بھی۔
اور سنا ہے اگلے وزیراعظم وہی بنیں گے، جیسا کہ ہوتا آیا ہے۔ کسی غریب کا بچہ تو نہیں بن سکتا۔”
محترمہ بولیں: “بلاول بہت قابل ہے۔ تم فکر نہ کرو، وہ ضرور حالات بدل دے گا۔”
میں مسکرائی اور بولی: “بی بی، ملک کے حالات تو آپ بھی نہیں بدل سکیں تھیں۔ یہ حالات تو قومیں خود بدلتی ہیں۔ اور یہ اللہ کا قانون ہے کہ جب تک کوئی قوم خود نہ چاہے، حالات تبدیل نہیں ہوتے۔”



تبصرہ لکھیے